Loading...

Loading...
کتب
۴۰۰ احادیث
حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں استحاضہ ہو گیا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور عرض کیا: مجھے بری طرح سے سخت استحاضہ ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: شرمگاہ کے اندر تھوڑی روئی رکھ لو ، وہ بولیں: وہ اس سے زیادہ سخت ہے، بہت تیز بہہ رہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک لنگوٹ کی طرح کس لو، اور اللہ کے علم کے موافق ہر مہینہ میں چھ یا سات روز حیض کے شمار کر لو، پھر غسل کر کے تیئس یا چوبیس دن تک نماز پڑھو اور روزہ رکھو، ( آسانی کے لیے ) ظہر میں دیر اور عصر میں جلدی کر کے دونوں نمازوں کے لیے ایک غسل کر لو، اسی طرح مغرب میں دیر اور عشاء میں جلدی کر کے دونوں کے لیے ایک غسل کر لو، ۱؎ اور مجھے ان دونوں طریقوں میں سے یہ زیادہ پسند ہے ۲؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا شريك، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن ابراهيم بن محمد بن طلحة، عن عمه، عمران بن طلحة عن امه، حمنة بنت جحش انها استحيضت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت اني استحضت حيضة منكرة شديدة . قال لها " احتشي كرسفا " . قالت له انه اشد من ذلك اني اثج ثجا . قال " تلجمي وتحيضي في كل شهر في علم الله ستة ايام او سبعة ايام ثم اغتسلي غسلا فصلي وصومي ثلاثة وعشرين او اربعة وعشرين واخري الظهر وقدمي العصر واغتسلي لهما غسلا واخري المغرب وعجلي العشاء واغتسلي لهما غسلا وهذا احب الامرين الى
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑوں میں لگ جانے والے حیض کے خون کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کی پتی سے دھو ڈالو، اور اسے کھرچ ڈالو، اگرچہ لکڑی ہی سے سہی ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، وعبد الرحمن بن مهدي، قالا حدثنا سفيان، عن ثابت بن هرمز ابي المقدام، عن عدي بن دينار، عن ام قيس بنت محصن، قالت سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن دم الحيض يصيب الثوب قال " اغسليه بالماء والسدر وحكيه ولو بضلع
اسماء بنت ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑے میں حیض کا خون لگ جانے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے انگلیوں سے رگڑو اور پانی سے دھو ڈالو، پھر اس میں نماز پڑھو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن هشام بن عروة، عن فاطمة بنت المنذر، عن اسماء بنت ابي بكر الصديق، قالت سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن دم الحيض يكون في الثوب قال " اقرصيه واغسليه وصلي فيه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم میں سے جب کسی کو حیض آتا تو حیض سے پاک ہونے کے وقت وہ اپنے کپڑے میں لگے ہوئے حیض کے خون کو کھرچ کر دھو لیتی اور باقی حصہ پر پانی چھڑک دیتی، پھر اسے پہن کر نماز پڑھتی۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا ابن وهب، اخبرني عمرو بن الحارث، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت ان كانت احدانا لتحيض ثم تقتنص الدم من ثوبها عند طهرها فتغسله وتنضح على سايره ثم تصلي فيه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے ان سے پوچھا: کیا حائضہ نماز کی قضاء کرے گی؟ انہوں نے کہا: کیا تو حروریہ ( خارجیہ ) ہے؟ ۱؎ ہمیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حیض آتا تھا، پھر ہم پاک ہو جاتے تھے، آپ ہمیں نماز کی قضاء کا حکم نہیں دیتے تھے ۲؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن معاذة العدوية، عن عايشة، ان امراة، سالتها اتقضي الحايض الصلاة قالت لها عايشة احرورية انت قد كنا نحيض عند النبي صلى الله عليه وسلم ثم نطهر ولم يامرنا بقضاء الصلاة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا کر دے دو ، میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے حیض کی گندگی تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن البهي، عن عايشة، قالت قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " ناوليني الخمرة من المسجد " . فقلت اني حايض . فقال " ليست حيضتك في يدك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں حیض کی حالت میں ہوتی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف ہوتے، تو آپ اپنا سر مبارک میری طرف بڑھا دیتے، میں آپ کا سر دھو کر کنگھا کر دیتی
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يدني راسه الى وانا حايض وهو مجاور - تعني معتكفا - فاغسله وارجله
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں اپنا سر مبارک رکھتے، اور قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تھے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا سفيان، عن منصور ابن صفية، عن امه، عن عايشة، قالت لقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يضع راسه في حجري وانا حايض ويقرا القران
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم ( ازواج مطہرات ) میں سے جب کوئی حیض سے ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے حیض کی تیزی کے دنوں میں تہبند باندھنے کا حکم دیتے، پھر اس کے ساتھ لیٹتے، اور تم میں سے کس کو اپنی خواہش نفس پر ایسا اختیار ہے جیسا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تھا؟ ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن الجراح، حدثنا ابو الاحوص، عن عبد الكريم، ح وحدثنا ابو سلمة، يحيى بن خلف حدثنا عبد الاعلى، عن محمد بن اسحاق، ح وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، عن الشيباني، جميعا عن عبد الرحمن بن الاسود، عن ابيه، عن عايشة، قالت كانت احدانا اذا كانت حايضا امرها النبي صلى الله عليه وسلم ان تاتزر في فور حيضتها ثم يباشرها وايكم يملك اربه كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يملك اربه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم میں سے جب کوئی حیض سے ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے تہبند باندھنے کا حکم دیتے پھر آپ اس کے ساتھ لیٹتے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كانت احدانا اذا حاضت امرها النبي صلى الله عليه وسلم ان تاتزر بازار ثم يباشرها
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے لحاف میں تھی، تو مجھے حیض کا احساس ہوا جو عورتیں محسوس کرتی ہیں، تو میں لحاف سے کھسک گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم کو حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا: مجھے وہی حیض محسوس ہوا جو عورتیں محسوس کیا کرتی ہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ چیز تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے ، تو میں لحاف سے کھسک کر نکل گئی اور اپنی حالت ٹھیک کر کے واپس آ گئی، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آؤ میرے ساتھ لحاف میں داخل ہو جاؤ تو میں آپ کے ساتھ لحاف میں داخل ہو گئی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا محمد بن عمرو، حدثنا ابو سلمة، عن ام سلمة، قالت كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في لحافه فوجدت ما تجد النساء من الحيضة فانسللت من اللحاف فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انفست " . قلت وجدت ما تجد النساء من الحيضة . قال " ذلك ما كتب الله على بنات ادم " . قالت فانسللت فاصلحت من شاني ثم رجعت فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " تعالى فادخلي معي في اللحاف " . قالت فدخلت معه
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حالت حیض میں کیسے کرتی تھیں؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم میں سے جسے حیض آتا وہ اپنے حیض کے شروع میں جس وقت وہ پورے جوش پر ہوتا ہے، اپنی ران کے نصف تک تہ بند باندھ لیتی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیٹتی ۱؎۔
حدثنا الخليل بن عمرو، حدثنا ابن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن يزيد بن ابي حبيب، عن سويد بن قيس، عن معاوية بن حديج، عن معاوية بن ابي سفيان، عن ام حبيبة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قال سالتها كيف كنت تصنعين مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في الحيضة قالت كانت احدانا في فورها اول ما تحيض تشد عليها ازارا الى انصاف فخذيها ثم تضطجع مع رسول الله صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حائضہ کے پاس آئے ( یعنی اس سے جماع کرے ) یا عورت کے پچھلے حصے میں جماع کرے، یا کاہن کے پاس جائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کرے، تو اس نے ان چیزوں کا انکار کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی ہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا حماد بن سلمة، عن حكيم الاثرم، عن ابي تميمة الهجيمي، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اتى حايضا او امراة في دبرها او كاهنا فصدقه بما يقول فقد كفر بما انزل على محمد
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں مجامعت کرے، وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، ومحمد بن جعفر، وابن ابي عدي، عن شعبة، عن الحكم، عن عبد الحميد، عن مقسم، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم في الذي ياتي امراته وهي حايض قال " يتصدق بدينار او بنصف دينار
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب وہ حالت حیض میں تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے بال کھول لو، اور غسل کرو ۱؎، علی بن محمد نے اپنی حدیث میں کہا: اپنا سر کھول لو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لها وكانت حايضا " انقضي شعرك واغتسلي " . قال علي في حديثه " انقضي راسك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اسماء بنت شکل انصاریہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل حیض کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی عورت بیر کی پتی ملا ہوا پانی لے، پھر وہ طہارت حاصل کرے ( یعنی شرمگاہ دھوئے ) اور خوب اچھی طرح طہارت کرے یا طہارت میں مبالغہ کرے، پھر اپنے سر پر پانی ڈالے اور اسے خوب اچھی طرح ملے، یہاں تک کہ سر کے سارے بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچ جائے، پھر اس پر پانی ڈالے، پھر خوشبو کو ( کپڑے یا روئی کے ) ایک ٹکڑے میں بھگو کر اس سے ( شرمگاہ کی ) صفائی کرے ، اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اس سے کیسے صفائی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: سبحان اللہ! اس سے صفائی کرو ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے چپکے سے کہا: اس کو خون کے نشان ( یعنی شرمگاہ ) پر پھیرو۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے غسل جنابت کے بارے میں بھی آپ سے پوچھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی عورت پانی لے اور طہارت کرے اور اچھی طرح کرے یا پاکی میں مبالغہ کرے، پھر سر پر پانی ڈالے اور اسے خوب ملے یہاں تک کہ سر کی جڑوں تک پانی پہنچ جائے، پھر اپنے پورے جسم پہ پانی بہائے ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما نے کہا: انصارکی عورتیں کتنی اچھی ہیں، انہیں دین کی سمجھ حاصل کرنے سے شرم و حیاء نہیں روکتی ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن ابراهيم بن مهاجر، قال سمعت صفية، تحدث عن عايشة، ان اسماء، سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الغسل من المحيض فقال " تاخذ احداكن ماءها وسدرها فتطهر فتحسن الطهور او تبلغ في الطهور ثم تصب على راسها فتدلكه دلكا شديدا حتى تبلغ شيون راسها ثم تصب عليها الماء ثم تاخذ فرصة ممسكة فتطهر بها " . قالت اسماء كيف اتطهر بها قال " سبحان الله تطهري بها " . قالت عايشة - كانها تخفي ذلك - تتبعي بها اثر الدم . قالت وسالته عن الغسل من الجنابة . فقال " تاخذ احداكن ماءها فتطهر فتحسن الطهور او تبلغ في الطهور حتى تصب الماء على راسها فتدلكه حتى تبلغ شيون راسها ثم تفيض الماء على جسدها . فقالت عايشة نعم النساء نساء الانصار لم يمنعهن الحياء ان يتفقهن في الدين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں حالت حیض میں ہڈی چوستی تھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لیتے اور اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا تھا، اور میں برتن سے پانی پیتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لیتے اور اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا تھا، حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن المقدام بن شريح بن هاني، عن ابيه، عن عايشة، قالت كنت اتعرق العظم وانا حايض، فياخذه رسول الله صلى الله عليه وسلم فيضع فمه حيث كان فمي واشرب من الاناء فياخذه رسول الله صلى الله عليه وسلم فيضع فمه حيث كان فمي وانا حايض
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہود حائضہ عورتوں کے ساتھ نہ تو گھر میں بیٹھتے، نہ ان کے ساتھ کھاتے پیتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض» لوگ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے: وہ ایک گندگی ہے لہٰذا تم عورتوں سے حیض کی حالت میں الگ رہو ( سورة البقرہ: ۲۲۲ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماع کے سوا عورتوں سے حیض کی حالت میں سب کچھ کرو ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو الوليد، حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن انس، ان اليهود، كانوا لا يجلسون مع الحايض في بيت ولا ياكلون ولا يشربون . قال فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فانزل الله {ويسالونك عن المحيض قل هو اذى فاعتزلوا النساء في المحيض} فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اصنعوا كل شىء الا الجماع
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد کے صحن میں داخل ہوئے اور بآواز بلند اعلان کیا: مسجد کسی حائضہ اور جنبی کے لیے حلال نہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن يحيى، قالا حدثنا ابو نعيم، حدثنا ابن ابي غنية، عن ابي الخطاب الهجري، عن محدوج الذهلي، عن جسرة، قالت اخبرتني ام سلمة، قالت دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم صرحة هذا المسجد فنادى باعلى صوته " ان المسجد لا يحل لجنب ولا لحايض
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں جو پاکی کے بعد ایسی چیز دیکھے جو اسے شبہ میں مبتلا کرے، فرمایا: وہ تو رگوں سے خارج ہونے والا مادہ ہے ( نہ کہ حیض ) ۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: پاکی کے بعد سے مراد غسل کے بعد ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن شيبان النحوي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ام بكر، انها اخبرت ان عايشة قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في المراة ترى ما يريبها بعد الطهر قال " انما هي عرق او عروق " . قال محمد بن يحيى يريد بعد الطهر بعد الغسل