Loading...

Loading...
کتب
۴۰۰ احادیث
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم حیض سے ( پاکی کے بعد ) زرد یا گدلے مادہ کو کچھ بھی نہیں سمجھتے تھے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن ايوب، عن ابن سيرين، عن ام عطية، قالت لم نكن نرى الصفرة والكدرة شييا . قال محمد بن يحيى حدثنا محمد بن عبد الله الرقاشي، حدثنا وهيب، عن ايوب، عن حفصة، عن ام عطية، قالت كنا لا نعد الصفرة والكدرة شييا . قال محمد بن يحيى وهيب اولاهما عندنا بهذا
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نفاس والی عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چالیس دن نماز اور روزے سے رکی رہتی تھیں، اور ہم اپنے چہرے پہ جھائیں کی وجہ سے «ورس» ملا کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا شجاع بن الوليد، عن علي بن عبد الاعلى، عن ابي سهل، عن مسة الازدية، عن ام سلمة، قالت كانت النفساء على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم تجلس اربعين يوما وكنا نطلي وجوهنا بالورس من الكلف
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفاس والی عورتوں کے لیے مدت نفاس کی چالیس دن مقرر کی مگر یہ کہ وہ اس سے پہلے پاکی دیکھ لیں۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا المحاربي، عن سلام بن سليم، - او سلم شك ابو الحسن واظنه هو ابو الاحوص - عن حميد، عن انس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم وقت للنفساء اربعين يوما الا ان ترى الطهر قبل ذلك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص حیض کی حالت میں بیوی سے جماع کر لیتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے آدھا دینار صدقہ کرنے کا حکم دیتے۔
حدثنا عبد الله بن الجراح، حدثنا ابو الاحوص، عن عبد الكريم، عن مقسم، عن ابن عباس، قال كان الرجل اذا وقع على امراته وهي حايض امره النبي صلى الله عليه وسلم ان يتصدق بنصف دينار
عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے متعلق پوچھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ کھاؤ ۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن معاوية بن صالح، عن العلاء بن الحارث، عن حرام بن حكيم، عن عمه عبد الله بن سعد، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن مواكلة الحايض فقال " واكلها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرتے تھے، اور میں حیض کی حالت میں آپ کے پہلو میں ہوتی تھی، اور میرے اوپر ایک چادر ہوتی جس کا کچھ حصہ آپ پر ہوتا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن طلحة بن يحيى، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي وانا الى جنبه وانا حايض وعلى مرط لي وعليه بعضه
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر اوڑھ کر نماز پڑھی، اس چادر کا کچھ حصہ آپ پر تھا، اور کچھ مجھ پر تھا اور میں حیض کی حالت میں تھی۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، حدثنا سفيان بن عيينة، حدثنا الشيباني، عن عبد الله بن شداد، عن ميمونة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى وعليه مرط عليه بعضه وعليها بعضه وهي حايض
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو ان کی لونڈی چھپ گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ بالغ ہو گئی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمامہ سے ٹکڑا پھاڑ کر دیا اور فرمایا: اس کو اوڑھنی بنا لو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الكريم، عن عمرو بن سعيد، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليها فاختبات مولاة لها فقال النبي صلى الله عليه وسلم " حاضت " . فقالت نعم . فشق لها من عمامته فقال " اختمري بهذا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی بالغ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں فرماتا ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو الوليد، وابو النعمان، قالا حدثنا حماد بن سلمة، عن قتادة، عن محمد بن سيرين، عن صفية بنت الحارث، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يقبل الله صلاة حايض الا بخمار
معاذہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا حائضہ مہندی لگا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مہندی لگاتے تھے، لیکن آپ ہمیں منع نہ فرماتے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا حجاج، حدثنا يزيد بن ابراهيم، حدثنا ايوب، عن معاذة، . ان امراة، سالت عايشة قالت تختضب الحايض فقالت قد كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم ونحن نختضب فلم يكن ينهانا عنه
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری ایک کلائی ٹوٹ گئی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا؟، تو آپ نے مجھے پٹیوں پر مسح کرنے کا حکم دیا
حدثنا محمد بن ابان البلخي، حدثنا عبد الرزاق، انبانا اسراييل، عن عمرو بن خالد، عن زيد بن علي، عن ابيه، عن جده، عن علي بن ابي طالب، قال انكسرت احدى زندى فسالت النبي صلى الله عليه وسلم فامرني ان امسح على الجباير . قال ابو الحسن بن سلمة انبانا الدبري، عن عبد الرزاق، نحوه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے، اور ان کا لعاب آپ کے اوپر بہہ رہا تھا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن حماد بن سلمة، عن محمد بن زياد، عن ابي هريرة، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم حامل الحسين بن علي على عاتقه ولعابه يسيل عليه
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کی خدمت میں ( پانی کا ) ڈول حاضر کیا گیا، آپ نے اس میں سے پانی لے کر کلی کی، پھر ڈول میں کلی کی جو کستوری کی طرح یا کستوری سے پاکیزہ تر تھی اور آپ نے ڈول سے باہر ناک صاف کی۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا سفيان بن عيينة، عن مسعر، ح وحدثنا محمد بن عثمان بن كرامة، حدثنا ابو اسامة، عن مسعر، عن عبد الجبار بن وايل، عن ابيه، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم اتي بدلو فمضمض منه فمج فيه مسكا او اطيب من المسك واستنثر خارجا من الدلو
محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کو وہ کلی یاد ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈول میں کی تھی جس کا پانی ان کے کنوئیں سے بھرا گیا تھا
حدثنا ابو مروان، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن الزهري، عن محمود بن الربيع، وكان، قد عقل مجة مجها رسول الله صلى الله عليه وسلم في دلو من بير لهم
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت عورت کے اور مرد مرد کے ستر کو نہ دیکھے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا زيد بن الحباب، عن الضحاك بن عثمان، حدثنا زيد بن اسلم، عن عبد الرحمن بن ابي سعيد الخدري، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تنظر المراة الى عورة المراة ولا ينظر الرجل الى عورة الرجل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرمگاہ کبھی نہیں دیکھی۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں: ابونعیم «عن مولاة لعائشة» کہتے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن منصور، عن موسى بن عبد الله بن يزيد، عن مولى، لعايشة عن عايشة، قالت ما نظرت - او ما رايت - فرج رسول الله صلى الله عليه وسلم قط . قال ابو بكر كان ابو نعيم يقول عن مولاة لعايشة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کیا تو معمولی سی جگہ خشکی دیکھی، تو اپنے بالوں سے اس مقام کو تر کر دیا۔ اسحاق بن منصور نے اپنی حدیث میں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنے بالوں کو نچوڑ کر تر کر دیا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، واسحاق بن منصور، قالا حدثنا يزيد بن هارون، انبانا مستلم بن سعيد، عن ابي علي الرحبي، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم اغتسل من جنابة فراى لمعة لم يصبها الماء فقال بجمته فبلها عليها . قال اسحاق في حديثه فعصر شعره عليها
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا کہ میں نے غسل جنابت کیا، اور فجر کی نماز پڑھی پھر جب صبح ہوئی تو میں نے دیکھا کہ بدن کے ایک حصہ میں ناخن کے برابر پانی نہیں پہنچا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس پر اپنا گیلا ہاتھ پھیر دیتے تو کافی ہوتا ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا ابو الاحوص، عن محمد بن عبيد الله، عن الحسن بن سعد، عن ابيه، عن علي، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اني اغتسلت من الجنابة وصليت الفجر ثم اصبحت فرايت قدر موضع الظفر لم يصبه الماء . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو كنت مسحت عليه بيدك اجزاك
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی وضو کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے ناخن کی مقدار خشک جگہ چھوڑ دی تھی، جہاں پانی نہیں پہنچا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جاؤ دوبارہ اچھی طرح وضو کرو ۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثنا جرير بن حازم، عن قتادة، عن انس، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم وقد توضا وترك موضع الظفر لم يصبه الماء فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " ارجع فاحسن وضوءك
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، جس نے وضو کیا اور اپنے پاؤں پر ناخن برابر جگہ خشک چھوڑ دی، تو آپ نے اسے وضو اور نماز دونوں کو دوہرانے کا حکم دیا، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس نے دوبارہ وضو کیا، اور نماز پڑھی۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا ابن وهب، ح وحدثنا ابن حميد، حدثنا زيد بن الحباب، قالا حدثنا ابن لهيعة، عن ابي الزبير، عن جابر، عن عمر بن الخطاب، قال راى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا توضا فترك موضع الظفر على قدمه فامره ان يعيد الوضوء والصلاة . قال فرجع