Loading...

Loading...
کتب
۶۷ احادیث
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جب یمن میں تھے، تو ان کے پاس یہ مقدمہ آیا کہ تین آدمیوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں صحبت کی تھی، تو انہوں نے پہلے دو آدمیوں سے پوچھا: کیا تم دونوں اس بات کا اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے؟ ان دونوں نے کہا: نہیں، پھر دو کو الگ کیا، اور ان سے پوچھا: کیا تم دونوں اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے؟ اس طرح جب وہ دو دو سے پوچھتے کہ تم اس لڑکے کو تیسرے کا کہتے ہو؟ تو وہ انکار کرتے، آخر انہوں نے قرعہ اندازی کی، اور جس کے نام قرعہ نکلا وہ لڑکا اس کو دلایا، اور دو تہائی کی دیت اس پر لازم کر دی، اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ ہنسے، یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت ظاہر ہو گئے ۱؎۔
حدثنا اسحاق بن منصور، انبانا عبد الرزاق، انبانا الثوري، عن صالح الهمداني، عن الشعبي، عن عبد خير الحضرمي، عن زيد بن ارقم، قال اتي علي بن ابي طالب وهو باليمن في ثلاثة قد وقعوا على امراة في طهر واحد فسال اثنين فقال اتقران لهذا بالولد فقالا لا . ثم سال اثنين فقال اتقران لهذا بالولد فقالا لا . فجعل كلما سال اثنين اتقران لهذا بالولد قالا لا . فاقرع بينهم والحق الولد بالذي اصابته القرعة وجعل عليه ثلثى الدية فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فضحك حتى بدت نواجذه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش خوش تشریف لائے، آپ فرما رہے تھے: عائشہ! کیا تم نے دیکھا نہیں کہ مجزز مدلجی میرے پاس آیا، اس نے اسامہ اور زید بن حارثہ کو ایک چادر میں سویا ہوا دیکھا، وہ دونوں اپنے سر چھپائے ہوئے تھے، اور دونوں کے پیر کھلے تھے، تو کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وهشام بن عمار، ومحمد بن الصباح، قالوا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم مسرورا وهو يقول " يا عايشة الم ترى ان مجززا المدلجي دخل على فراى اسامة وزيدا عليهما قطيفة قد غطيا رءوسهما وقد بدت اقدامهما فقال " ان هذه الاقدام بعضها من بعض
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے ایک کاہنہ کے پاس آ کرکہا: ہمیں بتاؤ کہ ہم میں سے کون مقام ابراہیم کے صاحب ( ابراہیم علیہ السلام ) سے زیادہ مشابہ ہے؟، وہ بولی: اگر تم ایک کمبل لے کر اسے اس نرم اور ہموار زمین پر گھسیٹو پھر اس پر چلو تو میں بتاؤں، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے کمبل کو زمین پر پھیرا ( تاکہ زمین کے نشانات مٹ جائیں ) پھر لوگ اس پر چلے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کے نشانات دیکھے، تو بولی: یہ شخص تم میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ ہے، پھر اس واقعہ پر بیس سال یا جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا گزرے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا کی
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا اسراييل، حدثنا سماك بن حرب، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان قريشا، اتوا امراة كاهنة فقالوا لها اخبرينا اشبهنا اثرا بصاحب المقام . فقالت ان انتم جررتم كساء على هذه السهلة ثم مشيتم عليها انباتكم . قال فجروا كساء ثم مشى الناس عليها فابصرت اثر رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقالت هذا اقربكم اليه شبها . ثم مكثوا بعد ذلك عشرين سنة او ما شاء الله ثم بعث الله محمدا صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑکے کو اختیار دیا کہ وہ اپنے باپ کے پاس رہے یا ماں کے پاس اور فرمایا: بچے! یہ تیری ماں ہے اور یہ تیرا باپ ہے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن زياد بن سعد، عن هلال بن ابي ميمونة، عن ابي ميمونة، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم خير غلاما بين ابيه وامه وقال " يا غلام هذه امك وهذا ابوك
رافع بن سنان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے ماں اور باپ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے، ان میں سے ایک کافر تھے اور ایک مسلمان، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( رافع ) کو اختیار دیا ( کہ جس کے ساتھ جانا چاہیں جا سکتے ہیں ) وہ کافر کی طرف متوجہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! اس کو ہدایت دے ، پھر وہ مسلمان کی طرف متوجہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی ( مسلمان ) کے پاس ان کے رہنے کا فیصلہ فرما دیا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن عثمان البتي، عن عبد الحميد بن سلمة، عن ابيه، عن جده، ان ابويه، اختصما الى النبي صلى الله عليه وسلم احدهما كافر والاخر مسلم فخيره فتوجه الى الكافر فقال " اللهم اهده " . فتوجه الى المسلم فقضى له به
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مسلمانوں کے مابین صلح جائز ہے، سوائے ایسی صلح کے جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف، عن ابيه، عن جده، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الصلح جايز بين المسلمين الا صلحا حرم حلالا او احل حراما
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کچھ کم عقل تھا، اور وہ خرید و فروخت کرتا تھا تو اس کے گھر والے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کو اپنے مال میں تصرف سے روک دیجئیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا، اور اس کو خرید و فروخت کرنے سے منع کیا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ خرید و فروخت نہ کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا جب خرید و فروخت کرو تو یہ کہہ لیا کرو کہ دھوکا دھڑی کی بات نہیں چلے گی ۱؎۔
حدثنا ازهر بن مروان، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك، ان رجلا، كان في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في عقدته ضعف وكان يبايع وان اهله اتوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا يا رسول الله احجر عليه . فدعاه النبي صلى الله عليه وسلم فنهاه عن ذلك فقال يا رسول الله اني لا اصبر عن البيع . فقال " اذا بايعت فقل ها ولا خلابة
محمد بن یحییٰ بن حبان کہتے ہیں کہ میرے دادا منقذ بن عمرو ہیں، ان کے سر میں ایک زخم لگا تھا جس سے ان کی زبان بگڑ گئی تھی، اس پر بھی وہ تجارت کرنا نہیں چھوڑتے تھے، اور ہمیشہ ٹھگے جاتے تھے، بالآخر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب تم کوئی چیز بیچو تو یوں کہہ دیا کرو: دھوکا دھڑی نہیں چلے گی، پھر تمہیں ہر اس سامان میں جسے تم خریدتے ہو تین دن کا اختیار ہو گا، اگر تمہیں پسند ہو تو رکھ لو اور اگر پسند نہ آئے تو اسے اس کے مالک کو واپس کر دو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الاعلى، عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن يحيى بن حبان، قال هو جدي منقذ بن عمرو وكان رجلا قد اصابته امة في راسه فكسرت لسانه وكان لا يدع على ذلك التجارة وكان لا يزال يغبن فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال له " اذا انت بايعت فقل لا خلابة . ثم انت في كل سلعة ابتعتها بالخيار ثلاث ليال فان رضيت فامسك وان سخطت فارددها على صاحبها
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک شخص کو اس کے خریدے ہوئے پھلوں میں گھاٹا ہوا، اور وہ بہت زیادہ مقروض ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: تم لوگ اسے صدقہ دو چنانچہ لوگوں نے اسے صدقہ دیا، لیکن اس سے اس کا قرض پورا ادا نہ ہو سکا، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مل گیا وہ لے لو، اس کے علاوہ تمہارے لیے کچھ نہیں ہے یعنی قرض خواہوں کے لیے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شبابة، حدثنا الليث بن سعد، عن بكير بن عبد الله بن الاشج، عن عياض بن عبد الله بن سعد، عن ابي سعيد الخدري، قال اصيب رجل في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثمار ابتاعها فكثر دينه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تصدقوا عليه " . فتصدق الناس عليه فلم يبلغ ذلك وفاء دينه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خذوا ما وجدتم وليس لكم الا ذلك " . يعني الغرماء
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ان کے قرض خواہوں سے چھٹکارا دلوایا، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کا عامل بنا دیا، معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: دیکھو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے مال کے ذریعہ مجھے میرے قرض خواہوں سے چھٹکارا دلوایا، پھر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامل بھی بنا دیا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عاصم، حدثنا عبد الله بن مسلم بن هرمز، عن سلمة المكي، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خلع معاذ بن جبل من غرمايه ثم استعمله على اليمن فقال معاذ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم استخلصني بمالي ثم استعملني
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بعینہ اپنا مال اس شخص کے پاس پا لیا جو مفلس ( دیوالیہ ) ہو گیا ہو، تو وہ دوسرے قرض خواہوں سے اس مال کا زیادہ حقدار ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، ح وحدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، جميعا عن يحيى بن سعيد، عن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن عمر بن عبد العزيز، عن ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من وجد متاعه بعينه عند رجل قد افلس فهو احق به من غيره
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کوئی سامان بیچا پھر اس نے اس کو بعینہ اس ( مشتری ) کے پاس پایا جو دیوالیہ ہو گیا ہے، اور بائع کو ابھی تک اس کی قیمت میں سے کچھ نہیں ملا تھا، تو وہ سامان بائع کو ملے گا، اور اگر وہ اس کی قیمت میں سے کچھ لے چکا ہے تو وہ دیگر قرض خواہوں کے مانند ہو گا ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن موسى بن عقبة، عن الزهري، عن ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ايما رجل باع سلعة فادرك سلعته بعينها عند رجل وقد افلس ولم يكن قبض من ثمنها شييا فهي له . وان كان قبض من ثمنها شييا فهو اسوة الغرماء
ابن خلدہ زرقی (وہ مدینہ کے قاضی تھے) کہتے ہیں کہ ہم اپنے ایک ساتھی کے سلسلے میں جس کا دیوالیہ ہو گیا تھا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو انہوں نے کہا: ایسے ہی شخص کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا تھا: جو شخص مر جائے یا جس کا دیوالیہ ہو جائے، تو سامان کا مالک ہی اپنے سامان کا زیادہ حقدار ہے، جب وہ اس کو بعینہ اس کے پاس پائے ۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، وعبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، قالا حدثنا ابن ابي فديك، عن ابن ابي ذيب، عن ابي المعتمر بن عمرو بن رافع، عن ابن خلدة الزرقي، وكان، قاضيا بالمدينة قال جينا ابا هريرة في صاحب لنا قد افلس فقال هذا الذي قضى فيه النبي صلى الله عليه وسلم " ايما رجل مات او افلس فصاحب المتاع احق بمتاعه اذا وجده بعينه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مر جائے، اور اس کے پاس کسی کا مال بعینہ موجود ہو، خواہ اس کی قیمت سے کچھ وصول کیا ہو یا نہیں، وہ ہر حال میں دوسرے قرض خواہوں کے مانند ہو گا۔
حدثنا عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، حدثنا اليمان بن عدي، حدثني الزبيدي، محمد بن عبد الرحمن عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايما امري مات وعنده مال امري بعينه اقتضى منه شييا او لم يقتض فهو اسوة الغرماء
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سے لوگ بہتر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے زمانہ والے، پھر جو لوگ ان سے نزدیک ہوں، پھر وہ جو ان سے نزدیک ہوں، پھر ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کی گواہی ان کی قسم سے اور قسم گواہی سے سبقت کر جائے گی ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، وعمرو بن رافع، قالا حدثنا جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن عبيدة السلماني، قال قال عبد الله بن مسعود سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم اى الناس خير قال " قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يجيء قوم تبدر شهادة احدهم يمينه ويمينه شهادته
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مقام جابیہ میں خطبہ دیا، اس خطبہ میں انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بیچ کھڑے ہوئے جیسے میں تمہارے بیچ کھڑا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کی شان کے سلسلے میں میرا خیال رکھو پھر ان لوگوں کی شان کے سلسلے میں جو ان کے بعد ہوں، پھر جو ان کے بعد ہوں، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا یہاں تک کہ ایک شخص گواہی دے گا اور کوئی اس سے گواہی نہ چاہے گا، اور قسم کھائے گا اور کوئی اس سے قسم نہ چاہے گا ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن الجراح، حدثنا جرير، عن عبد الملك بن عمير، عن جابر بن سمرة، قال خطبنا عمر بن الخطاب بالجابية فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قام فينا مثل مقامي فيكم فقال " احفظوني في اصحابي ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يفشو الكذب حتى يشهد الرجل وما يستشهد ويحلف وما يستحلف
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بہتر گواہ وہ ہے جو پوچھے جانے سے پہلے گواہی دیدے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، ومحمد بن عبد الرحمن الجعفي، قالا حدثنا زيد بن الحباب العكلي، اخبرني ابى بن عباس بن سهل بن سعد الساعدي، حدثني ابو بكر بن عمرو بن حزم، حدثني محمد بن عبد الله بن عمرو بن عثمان بن عفان، حدثني خارجة بن زيد بن ثابت، اخبرني عبد الرحمن بن ابي عمرة الانصاري، انه سمع زيد بن خالد الجهني، يقول انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " خير الشهود من ادى شهادته قبل ان يسالها
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے آیت کریمہ: «يا أيها الذين آمنوا إذا تداينتم بدين إلى أجل مسمى» کی تلاوت کی، یہاں تک کہ «فإن أمن بعضكم بعضا» یعنی اے ایمان والو! جب تم آپس میں ایک دوسرے سے میعاد مقرر پر قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو، اور لکھنے والے کو چاہیئے کہ تمہارا آپس کا معاملہ عدل سے لکھے، کاتب کو چاہیئے کہ لکھنے سے انکار نہ کرے جیسے اللہ تعالیٰ نے اسے سکھایا ہے، پس اسے بھی لکھ دینا چاہیئے اور جس کے ذمہ حق ہو وہ لکھوائے اور اپنے اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے، اور حق میں سے کچھ گھٹائے نہیں، ہاں جس شخص کے ذمہ حق ہے وہ اگر نادان ہو یا کمزور ہو یا لکھوانے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا ولی عدل کے ساتھ لکھوا دے، اور اپنے میں سے دو مرد گواہ رکھ لو، اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنہیں تم گواہوں میں سے پسند کر لو، تاکہ ایک کی بھول چوک کو دوسری یاد دلا دے، اور گواہوں کو چاہیئے کہ وہ جب بلائے جائیں تو انکار نہ کریں اور قرض کو جس کی مدت مقرر ہے خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو لکھنے میں کاہلی نہ کرو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات بہت انصاف والی ہے اور گواہی کو بھی درست رکھنے والی اور شک و شبہ سے بھی زیادہ بچانے والی ہے، ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ معاملہ نقد تجارت کی شکل میں ہو جو آپس میں تم لین دین کر رہے ہو تو تم پر اس کے نہ لکھنے میں کوئی گناہ نہیں، خرید و فروخت کے وقت بھی گواہ مقرر کر لیا کرو، اور ( یاد رکھو کہ ) نہ تو لکھنے والے کو نقصان پہنچایا جائے نہ گواہ کو اور اگر تم یہ کرو گے تو یہ تمہاری کھلی نافرمانی ہے، اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے والا نہ پاؤ تو رہن قبضہ میں رکھ لیا کرو، ہاں اگر آپس میں ایک دوسرے سے مطمئن ہو تو جیسے امانت دی گئی ہے وہ اسے ادا کر دے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے جو اس کا رب ہے، اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو اسے چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ( سورۃ البقرہ: ۲۸۲، ۲۸۳ ) تک پہنچے تو فرمایا: اس آیت نے اس پہلی والی آیت کو منسوخ کر دیا ہے۔
حدثنا عبيد الله بن يوسف الجبيري، وجميل بن الحسن العتكي، قالا حدثنا محمد بن مروان العجلي، حدثنا عبد الملك بن ابي نضرة، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، قال تلا هذه الاية {يا ايها الذين امنوا اذا تداينتم بدين الى اجل مسمى } حتى بلغ {فان امن بعضكم بعضا} فقال هذه نسخت ما قبلها
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ خائن مرد کی گواہی جائز ہے اور نہ خائن عورت کی، اور نہ اس کی جس پر اسلام میں حد نافذ ہوئی ہو، اور نہ اس کی جو اپنے بھائی کے خلاف کینہ و عداوت رکھے ۔
حدثنا ايوب بن محمد الرقي، حدثنا معمر بن سليمان، ح وحدثنا محمد بن يحيى، حدثنا يزيد بن هارون، قالا حدثنا حجاج بن ارطاة، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تجوز شهادة خاين ولا خاينة ولا محدود في الاسلام ولا ذي غمر على اخيه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بدوی ( دیہات میں رہنے والے ) کی گواہی شہری ( بستی میں رہنے والے ) کے خلاف جائز نہیں ۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني نافع بن يزيد، عن ابن الهاد، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تجوز شهادة بدوي على صاحب قرية