Loading...

Loading...
کتب
۶۷ احادیث
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یہودیوں سے فرمایا: میں تم دونوں کو اس اللہ کی قسم دلاتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات اتاری ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو اسامة، عن مجالد، انبانا عامر، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ليهوديين " نشدتكما بالله الذي انزل التوراة على موسى عليه السلام
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ذکر کیا کہ ایک جانور پر دو آدمیوں نے دعویٰ کیا، اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس گواہ نہیں تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم پر قرعہ اندازی کا حکم دیا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن خلاس، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، انه ذكر ان رجلين، ادعيا دابة ولم يكن بينهما بينة فامرهما النبي صلى الله عليه وسلم ان يستهما على اليمين
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی جھگڑا لے کر آئے، اور ان دونوں کے درمیان ایک جانور تھا ( جس پر دونوں اپنا اپنا دعویٰ کر رہے تھے ) اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہ تھا، تو آپ نے اسے دونوں کو آدھا آدھا بانٹ دیا۔
حدثنا اسحاق بن منصور، ومحمد بن معمر، وزهير بن محمد، قالوا حدثنا روح بن عبادة، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن سعيد بن ابي بردة، عن ابيه، عن ابي موسى، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اختصم اليه رجلان بينهما دابة وليس لواحد منهما بينة فجعلها بينهما نصفين
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی کا کوئی سامان کھو جائے یا چوری ہو جائے، پھر وہ کسی آدمی کو اسے بیچتے ہوئے پائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے، اور جس نے خریدا وہ اس کے بیچنے والے سے قیمت واپس لے لے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، حدثنا حجاج، عن سعيد بن عبيد بن زيد بن عقبة، عن ابيه، عن سمرة بن جندب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا ضاع للرجل متاع او سرق له متاع فوجده في يد رجل يبيعه فهو احق به ويرجع المشتري على البايع بالثمن
ابن محیصہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ براء رضی اللہ عنہ کی ایک اونٹنی کو لوگوں کا کھیت چرنے کی عادی تھی، وہ لوگوں کے باغ میں چلی گئی، اور اسے نقصان پہنچا دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ دن کو اپنے مال کی حفاظت کی ذمہ داری مال والوں کی ہے، اور رات کو جانور جو نقصان پہنچا جائیں اسے جانوروں کے مالکوں کو دینا ہو گا ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح المصري، انبانا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، ان ابن محيصة الانصاري، اخبره ان ناقة للبراء كانت ضارية دخلت في حايط قوم فافسدت فيه فكلم رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها فقضى ان حفظ الاموال على اهلها بالنهار وعلى اهل المواشي ما اصابت مواشيهم بالليل . حدثنا الحسن بن علي بن عفان، حدثنا معاوية بن هشام، عن سفيان، عن عبد الله بن عيسى، عن الزهري، عن حرام بن محيصة، عن البراء بن عازب، ان ناقة، لال البراء افسدت شييا فقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بمثله
قبیلہ بنی سوءۃ کے ایک شخص کا بیان ہے کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا حال بیان کیجئیے، تو وہ بولیں: کیا تم قرآن ( کی آیت ) : «وإنك لعلى خلق عظيم» یقیناً آپ بڑے اخلاق والے ہیں نہیں پڑھتے؟ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے، میں نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا، اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ کے لیے کھانا تیار کیا، حفصہ رضی اللہ عنہا مجھ سے پہلے کھانا لے آئیں، میں نے اپنی لونڈی سے کہا: جاؤ ان کے کھانے کا پیالہ الٹ دو، وہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، اور جب انہوں نے اپنا پیالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھنا چاہا، تو اس نے اسے الٹ دیا جس سے پیالہ ٹوٹ گیا، اور کھانا بکھر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گرے ہوئے کھانے کو اور پیالہ میں جو بچا تھا سب کو دستر خوان پر اکٹھا کیا، اور سب نے اسے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا پیالہ اٹھایا، اور اسے حفصہ کو دے دیا، اور فرمایا: اپنے برتن کے بدلے میں برتن لے لو ، اور جو کھانا اس میں ہے وہ کھا لو، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر اس کا کوئی اثر نہیں دیکھا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شريك بن عبد الله، عن قيس بن وهب، عن رجل، من بني سواءة قال قلت لعايشة اخبريني عن خلق، رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالت اوما تقرا القران {وانك لعلى خلق عظيم} قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم مع اصحابه فصنعت له طعاما وصنعت حفصة له طعاما . قالت فسبقتني حفصة فقلت للجارية انطلقي فاكفيي قصعتها فلحقتها وقد هوت ان تضع بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاكفاتها فانكسرت القصعة وانتشر الطعام . قالت فجمعها رسول الله صلى الله عليه وسلم وما فيها من الطعام على النطع فاكلوا ثم بعث بقصعتي فدفعها الى حفصة فقال " خذوا ظرفا مكان ظرفكم " . قالت فما رايت ذلك في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن میں سے ایک کے پاس تھے، آپ کی کسی دوسری بیوی نے ایک کھانے کا پیالہ بھیجا، پہلی بیوی نے ( غصہ سے کھانا لانے والے ) کے ہاتھ پر مارا، اور پیالہ گر کر ٹوٹ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا کر ایک کو دوسرے سے جوڑا اور اس میں کھانا اکٹھا کرنے لگے اور فرماتے جاتے تھے: تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے ( کہ میرے گھر اس نے کھانا کیوں بھیجا ) ، تم کھانا کھاؤ، لوگوں نے کھایا، پھر جن کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اپنا پیالہ لائیں، تو آپ نے یہ صحیح سالم پیالہ قاصد کو عنایت کر دیا، اور ٹوٹا ہوا پیالہ اس بیوی کے گھر میں رکھ چھوڑا جس نے اسے توڑا تھا۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا حميد، عن انس بن مالك، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم عند احدى امهات المومنين فارسلت اخرى بقصعة فيها طعام فضربت يد الرسول فسقطت القصعة فانكسرت فاخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم الكسرتين فضم احداهما الى الاخرى فجعل يجمع فيها الطعام ويقول " غارت امكم كلوا " . فاكلوا حتى جاءت بقصعتها التي في بيتها فدفع القصعة الصحيحة الى الرسول وترك المكسورة في بيت التي كسرتها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی سے اس کا پڑوسی اس کی دیوار پر شہ تیر ( دھرن یا کڑی ) رکھنے کی اجازت مانگے، تو اس کو منع نہ کرے ، جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث لوگوں سے بیان کی تو لوگوں نے اپنے سروں کو جھکا لیا، یہ دیکھ کر ابوہریرہ رضی اللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیوں، کیا ہوا؟ میں دیکھتا ہوں کہ تم اس حدیث سے منہ پھیر رہے ہو، اللہ کی قسم! میں تو اس کو تمہارے شانوں کے درمیان مار کر رہوں گا ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عبد الرحمن الاعرج، قال سمعت ابا هريرة، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا استاذن احدكم جاره ان يغرز خشبة في جداره فلا يمنعه " . فلما حدثهم ابو هريرة طاطيوا رءوسهم فلما راهم قال مالي اراكم عنها معرضين والله لارمين بها بين اكتافكم
عکرمہ بن سلمہ کہتے ہیں بلمغیرہ ( بنی مغیرہ ) کے دو بھائیوں میں سے ایک نے یہ شرط لگائی کہ اگر میری دیوار میں تم دھرن لگاؤ تو میرا غلام آزاد ہے، پھر مجمع بن یزید رضی اللہ عنہ اور بہت سے انصار آئے اور کہنے لگے: ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی ( دھرن ) گاڑنے سے منع نہ کرے ، یہ سن کر وہ کہنے لگا: میرے بھائی! شریعت کا فیصلہ تمہارے موافق نکلا لیکن چونکہ میں قسم کھا چکا ہوں اس لیے تم میری دیوار کے ساتھ ایک ستون کھڑا کر کے اس پر لکڑی رکھ لو ۱؎۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن عمرو بن دينار، ان هشام بن يحيى، اخبره ان عكرمة بن سلمة اخبره ان اخوين من بلمغيرة اعتق احدهما ان لا يغرز خشبا في جداره فاقبل مجمع بن يزيد ورجال كثير من الانصار فقالوا نشهد ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يمنع احدكم جاره ان يغرز خشبة في جداره " . فقال يا اخي انك مقضي لك على وقد حلفت فاجعل اسطوانا دون حايطي او جداري فاجعل عليه خشبك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی ( دھرن ) گاڑنے سے منع نہ کرے ۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني ابن لهيعة، عن ابي الاسود، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يمنع احدكم جاره ان يضع خشبة على جداره
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راستہ کو سات ہاتھ رکھو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، حدثنا مثنى بن سعيد الضبعي، عن قتادة، عن بشير بن كعب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اجعلوا الطريق سبعة اذرع
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم راستے کے سلسلہ میں اختلاف کرو تو اسے سات ہاتھ کا کر دو ۔
حدثنا محمد بن يحيى، ومحمد بن عمر بن هياج، قالا حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اختلفتم في الطريق فاجعلوه سبعة اذرع
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: کسی کو نقصان پہنچانا جائز نہیں نہ ابتداء ً نہ مقابلۃ ً ۱؎۔
حدثنا عبد ربه بن خالد النميري ابو المغلس، حدثنا فضيل بن سليمان، حدثنا موسى بن عقبة، حدثنا اسحاق بن يحيى بن الوليد، عن عبادة بن الصامت، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى ان " لا ضرر ولا ضرار
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کو نقصان پہنچانا جائز نہیں نہ ابتداء ً نہ مقابلۃ ً ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن جابر الجعفي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ضرر ولا ضرار
ابوصرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی کو نقصان پہنچائے گا اللہ تعالیٰ اسے نقصان پہنچائے گا، اور جو کسی پر سختی کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر سختی کرے گا ۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن لولوة، عن ابي صرمة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من ضار اضر الله به ومن شاق شق الله عليه
جاریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ ایک جھونپڑی کے متعلق جو ان کے بیچ میں تھی جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بھیجا، انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جھونپڑی ان کی ہے جن سے رسی قریب ہے، پھر جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے، اور انہیں بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک اور اچھا فیصلہ کیا ۔
حدثنا محمد بن الصباح، وعمار بن خالد الواسطي، قالا حدثنا ابو بكر بن عياش، عن دهثم بن قران، عن نمران بن جارية، عن ابيه، ان قوما، اختصموا الى النبي صلى الله عليه وسلم في خص كان بينهم فبعث حذيفة يقضي بينهم فقضى للذين يليهم القمط فلما رجع الى النبي صلى الله عليه وسلم اخبره فقال " اصبت واحسنت
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مال دو آدمیوں کے ہاتھ بیچا جائے تو وہ مال اس شخص کا ہو گا جس نے پہلے خریدا ۱؎۔ ابوالولید کہتے ہیں کہ اس حدیث سے خلاصی کی شرط باطل ہوتی ہے۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا ابو الوليد، حدثنا همام، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا بيع البيع من رجلين فالبيع للاول " . قال ابو الوليد في هذا الحديث ابطال الخلاص
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص کے چھ غلام تھے، ان غلاموں کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، مرتے وقت اس نے ان سب کو آزاد کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حصے کئے ( دو دو کے تین حصے ) ( اور قرعہ اندازی کر کے ) دو کو ( جن کے نام قرعہ نکلا ) آزاد کر دیا، اور چار کو بدستور غلام رکھا ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا عبد الاعلى، حدثنا خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن ابي المهلب، عن عمران بن حصين، ان رجلا، كان له ستة مملوكين ليس له مال غيرهم فاعتقهم عند موته فجزاهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعتق اثنين وارق اربعة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بیع کے متعلق دو آدمیوں نے جھگڑا کیا، اور ان میں کسی کے پاس گواہ نہیں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈالنے کا حکم دیا خواہ انہیں یہ فیصلہ پسند ہو یا ناپسند۔
حدثنا جميل بن الحسن العتكي، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن خلاس، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، ان رجلين، تدارءا في بيع ليس لواحد منهما بينة فامرهما رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يستهما على اليمين احبا ذلك ام كرها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جاتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن يمان، عن معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا سافر اقرع بين نسايه