Loading...

Loading...
کتب
۶۷ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص لوگوں کا قاضی ( فیصلہ کرنے والا ) بنایا گیا تو وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا معلى بن منصور، عن عبد الله بن جعفر، عن عثمان بن محمد، عن المقبري، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من جعل قاضيا بين الناس فقد ذبح بغير سكين
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عہدہ قضاء کا مطالبہ کیا، وہ اپنے نفس کے حوالہ کر دیا جاتا ہے، اور جو اس کے لیے مجبور کیا جائے تو اس کے لیے ایک فرشتہ اترتا ہے جو اسے درست بات کی رہنمائی کرتا ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، ومحمد بن اسماعيل، قالا حدثنا وكيع، حدثنا اسراييل، عن عبد الاعلى، عن بلال بن ابي موسى، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سال القضاء وكل الى نفسه ومن جبر عليه نزل اليه ملك فسدده
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے ( قاضی بنا کر ) یمن بھیج رہے ہیں، اور میں ( جوان ) ہوں، لوگوں کے درمیان مجھے فیصلے کرنے ہوں گے، اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ فیصلہ کیا ہوتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا پھر فرمایا: اے اللہ! اس کے دل کو ہدایت فرما، اور اس کی زبان کو ثابت رکھ ، پھر اس کے بعد مجھے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں کبھی کوئی تردد اور شک نہیں ہوا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا يعلى، وابو معاوية عن الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن ابي البختري، عن علي، قال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم الى اليمن فقلت يا رسول الله تبعثني وانا شاب اقضي بينهم ولا ادري ما القضاء قال فضرب في صدري بيده ثم قال " اللهم اهد قلبه وثبت لسانه " . قال فما شككت بعد في قضاء بين اثنين
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو حاکم بھی لوگوں کے درمیان فیصلے کرتا ہے، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ ایک فرشتہ اس کی گدی پکڑے ہوئے ہو گا، پھر وہ فرشتہ اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائے گا، اگر حکم ہو گا کہ اس کو پھینک دو، تو وہ اسے ایک ایسی کھائی میں پھینک دے گا جس میں وہ چالیس برس تک گرتا چلا جائے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثنا يحيى بن سعيد القطان، حدثنا مجالد، عن عامر، عن مسروق، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من حاكم يحكم بين الناس الا جاء يوم القيامة وملك اخذ بقفاه ثم يرفع راسه الى السماء فان قال القه القاه في مهواة اربعين خريفا
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی مدد قاضی ( فیصلہ کرنے والے ) کے ساتھ اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے، جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے نفس کے حوالے کر دیتا ہے ۔
حدثنا احمد بن سنان، حدثنا محمد بن بلال، عن عمران القطان، عن حسين، - يعني ابن عمران - عن ابي اسحاق الشيباني، عن عبد الله بن ابي اوفى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله مع القاضي ما لم يجر فاذا جار وكله الى نفسه
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا ابن ابي ذيب، عن خاله الحارث بن عبد الرحمن، عن ابي سلمة، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لعنة الله على الراشي والمرتشي
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب حاکم فیصلہ اجتہاد سے کرے اور صحیح بات تک پہنچ جائے تو اس کو دہرا اجر ملے گا، اور جب فیصلہ کی کوشش کرے اور اجتہاد میں غلطی کرے، تو اس کو ایک اجر ملے گا ۔ یزید بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو ابوبکر بن عمرو بن حزم سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اسی طرح اس کو مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا ہے، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي، حدثنا يزيد بن عبد الله بن الهاد، عن محمد بن ابراهيم التيمي، عن بسر بن سعيد، عن ابي قيس، - مولى عمرو بن العاص - عن عمرو بن العاص، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا حكم الحاكم فاجتهد فاصاب فله اجران واذا حكم فاجتهد فاخطا فله اجر " . قال يزيد فحدثت به ابا بكر بن عمرو بن حزم، فقال هكذا حدثنيه ابو سلمة، عن ابي هريرة
ابوہاشم کہتے ہیں کہ اگر ابن بریدہ کی یہ روایت نہ ہوتی جو انہوں نے اپنے والد ( بریدہ رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ہے، اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاضی تین طرح کے ہیں: ان میں سے دو جہنمی ہیں اور ایک جنتی، ایک وہ جس نے حق کو معلوم کیا اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا، تو وہ جنت میں جائے گا، دوسرا وہ جس نے لوگوں کے درمیان بغیر جانے بوجھے فیصلہ دیا، تو وہ جہنم میں جائے گا، تیسرا وہ جس نے فیصلہ کرنے میں ظلم کیا ( یعنی جان کر حق کے خلاف فیصلہ دیا ) تو وہ بھی جہنمی ہو گا ( اگر یہ حدیث نہ ہوتی ) تو ہم کہتے کہ جب قاضی فیصلہ کرنے میں اجتہاد کرے تو وہ جنتی ہے۔
حدثنا اسماعيل بن توبة، حدثنا خلف بن خليفة، حدثنا ابو هاشم، قال لولا حديث ابن بريدة عن ابيه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " القضاة ثلاثة اثنان في النار وواحد في الجنة رجل علم الحق فقضى به فهو في الجنة ورجل قضى للناس على جهل فهو في النار ورجل جار في الحكم فهو في النار " . لقلنا ان القاضي اذا اجتهد فهو في الجنة
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاضی غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے ۱؎۔ ہشام کی روایت کے الفاظ ہیں: حاکم کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرے ۔
حدثنا هشام بن عمار، ومحمد بن عبد الله بن يزيد، واحمد بن ثابت الجحدري، قالوا حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الملك بن عمير، انه سمع عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يقضي القاضي بين اثنين وهو غضبان " . قال هشام لا ينبغي للحاكم ان يقضي بين اثنين وهو غضبان
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے پاس جھگڑے اور اختلافات لاتے ہو اور میں تو ایک انسان ہی ہوں، ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چالاک ہو، اور میں اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جو تم سے سنتا ہوں، لہٰذا اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا کوئی حق دلا دوں تو وہ اس کو نہ لے، اس لیے کہ میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا دلاتا ہوں جس کو وہ قیامت کے دن لے کر آئے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن زينب بنت ام سلمة، عن ام سلمة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انكم تختصمون الى وانما انا بشر ولعل بعضكم ان يكون الحن بحجته من بعض وانما اقضي بينكم على نحو مما اسمع منكم فمن قضيت له من حق اخيه شييا فلا ياخذه فانما اقطع له قطعة من النار ياتي بها يوم القيامة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو ایک انسان ہی ہوں، ہو سکتا ہے تم میں کوئی اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چالاک ہو، تو جس کے لیے میں اس کے بھائی کے حق میں سے کوئی ٹکڑا کاٹوں تو گویا میں اس کے لیے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا محمد بن عمرو، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما انا بشر ولعل بعضكم ان يكون الحن بحجته من بعض فمن قطعت له من حق اخيه قطعة فانما اقطع له قطعة من النار
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو کسی ایسی چیز پر دعویٰ کرے جو اس کی نہیں ہے، تو وہ ہم میں سے نہیں، اور اسے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لینا چاہیئے ۔
حدثنا عبد الوارث بن عبد الصمد بن عبد الوارث بن سعيد ابو عبيدة، حدثني ابي قال، حدثني ابي، حدثني الحسين بن ذكوان، عن عبد الله بن بريدة، قال حدثني يحيى بن يعمر، ان ابا الاسود الديلي، حدثه عن ابي ذر، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من ادعى ما ليس له فليس منا وليتبوا مقعده من النار
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی جھگڑے میں کسی کی ناحق مدد کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس سے ناراض رہے گا یہاں تک کہ وہ ( اس سے ) باز آ جائے ۱؎۔
حدثنا محمد بن ثعلبة بن سواء، حدثني عمي، محمد بن سواء عن حسين المعلم، عن مطر الوراق، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اعان على خصومة بظلم - او يعين على ظلم - لم يزل في سخط الله حتى ينزع
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ کے مطابق دے دیا جائے، تو لوگ دوسروں کی جان اور مال کا ( ناحق ) دعویٰ کر بیٹھیں گے، لیکن مدعیٰ علیہ کو قسم کھانا چاہیئے ۱؎۔
حدثنا حرملة بن يحيى المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، انبانا ابن جريج، عن ابن ابي مليكة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لو يعطى الناس بدعواهم ادعى ناس دماء رجال واموالهم ولكن اليمين على المدعى عليه
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، اس نے میرے حصہ کا انکار کر دیا، تو میں اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس گواہ ہیں ؟ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے کہا: تم قسم کھاؤ ، میں نے عرض کیا: تب تو وہ قسم کھا لے گا اور میرا مال ہڑپ کر جائے گا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ( سورة آل عمران: 77 ) جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑا مال لیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بات تک نہیں کرے گا، نہ قیامت کے دن ان پر رحمت کی نگاہ ڈالے گا، نہ گناہوں سے ان کو پاک کرے گا، اور ان کو نہایت درد ناک عذاب ہوتا رہے گا ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، وابو معاوية قالا حدثنا الاعمش، عن شقيق، عن الاشعث بن قيس، قال كان بيني وبين رجل من اليهود ارض فجحدني فقدمته الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل لك بينة " . قلت لا . قال لليهودي " احلف " . قلت اذا يحلف فيذهب بمالي . فانزل الله سبحانه {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا} الى اخر الاية
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی چیز کے لیے قسم کھائے اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہو، اور اس کے ذریعہ وہ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر لے، تو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا وكيع، وابو معاوية قالا حدثنا الاعمش، عن شقيق، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين وهو فيها فاجر يقتطع بها مال امري مسلم لقي الله وهو عليه غضبان
ابوامامہ حارثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص بھی قسم کے ذریعہ کسی مسلمان آدمی کا حق مارے گا، تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا، اور جہنم کو اس کے لیے واجب کر دے گا، لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، خواہ وہ پیلو کی ایک مسواک ہی ہو
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن الوليد بن كثير، عن محمد بن كعب، انه سمع اخاه عبد الله بن كعب، ان ابا امامة الحارثي، حدثه انه، سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يقتطع رجل حق امري مسلم بيمينه الا حرم الله عليه الجنة واوجب له النار " . فقال رجل من القوم يا رسول الله وان كان شييا يسيرا قال " وان كان سواكا من اراك
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے، خواہ وہ ایک ہری مسواک ہی کے لیے ہو ۱؎۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا مروان بن معاوية، ح وحدثنا احمد بن ثابت الجحدري، حدثنا صفوان بن عيسى، قالا حدثنا هاشم بن هاشم، عن عبد الله بن نسطاس، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف بيمين اثمة عند منبري هذا فليتبوا مقعده من النار ولو على سواك اخضر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس منبر کے پاس کوئی غلام یا لونڈی جھوٹی قسم نہیں کھاتا، اگرچہ وہ قسم ایک تازہ مسواک ہی کے لیے ہو، مگر جہنم کی آگ اس پر واجب ہو جاتی ہے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، وزيد بن اخزم، قالا حدثنا الضحاك بن مخلد، حدثنا الحسن بن يزيد بن فروخ، - قال محمد بن يحيى وهو ابو يونس القوي - قال سمعت ابا سلمة، يقول سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يحلف عند هذا المنبر عبد ولا امة على يمين اثمة ولو على سواك رطب الا وجبت له النار
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی عالم کو بلایا، اور فرمایا: میں تم کو اس ذات کی قسم دلاتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات اتاری ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن البراء بن عازب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دعا رجلا من علماء اليهود فقال " انشدك بالله الذي انزل التوراة على موسى