Loading...

Loading...
کتب
۶۷ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور ( مدعی کی ) قسم سے فیصلہ فرمایا ۱؎۔
حدثنا ابو مصعب المديني، احمد بن عبد الله الزهري ويعقوب بن ابراهيم الدورقي قالا حدثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى باليمين مع الشاهد
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور ( مدعی کی ) قسم سے فیصلہ فرمایا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قضى باليمين مع الشاهد
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور ( مدعی کی ) قسم سے فیصلہ فرمایا
حدثنا ابو اسحاق الهروي، ابراهيم بن عبد الله بن حاتم حدثنا عبد الله بن الحارث المخزومي، حدثنا سيف بن سليمان المكي، اخبرني قيس بن سعد، عن عمرو بن دينار، عن ابن عباس، قال قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالشاهد واليمين
سرق (ابن اسد جہنی) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی کی قسم کے ساتھ ایک شخص کی گواہی کو جائز رکھا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا جويرية بن اسماء، حدثنا عبد الله بن يزيد، - مولى المنبعث - عن رجل، من اهل مصر عن سرق، ان النبي صلى الله عليه وسلم اجاز شهادة الرجل ويمين الطالب
خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی، جب فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے ، یہ جملہ آپ نے تین بار دہرایا، پھر آیت کریمہ: «واجتنبوا قول الزور حنفاء لله غير مشركين به» جھوٹ بولنے سے بچو، اللہ کے لیے سیدھے چلو، اس کے ساتھ شرک نہ کرو ( سورة الحج: ۳۰-۳۱ ) کی تلاوت فرمائی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا سفيان العصفري، عن ابيه، عن حبيب بن النعمان الاسدي، عن خريم بن فاتك الاسدي، قال صلى النبي صلى الله عليه وسلم الصبح فلما انصرف قام قايما فقال " عدلت شهادة الزور بالاشراك بالله " . ثلاث مرات ثم تلا هذه الاية {واجتنبوا قول الزور حنفاء لله غير مشركين به}
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھوٹی گواہی دینے والے کے پاؤں ( قیامت کے دن ) نہیں ٹلیں گے، جب تک اللہ اس کے لیے جہنم کو واجب نہ کر دے ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا محمد بن الفرات، عن محارب بن دثار، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم {لن تزول قدم شاهد الزور حتى يوجب الله له النار}
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب کی آپس میں ایک دوسرے کے خلاف گواہی کو جائز رکھا ہے۔
حدثنا محمد بن طريف، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن مجالد، عن عامر، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اجاز شهادة اهل الكتاب بعضهم على بعض