احادیث
#2348
سنن ابن ماجہ - Rulings
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جب یمن میں تھے، تو ان کے پاس یہ مقدمہ آیا کہ تین آدمیوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں صحبت کی تھی، تو انہوں نے پہلے دو آدمیوں سے پوچھا: کیا تم دونوں اس بات کا اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے؟ ان دونوں نے کہا: نہیں، پھر دو کو الگ کیا، اور ان سے پوچھا: کیا تم دونوں اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے؟ اس طرح جب وہ دو دو سے پوچھتے کہ تم اس لڑکے کو تیسرے کا کہتے ہو؟ تو وہ انکار کرتے، آخر انہوں نے قرعہ اندازی کی، اور جس کے نام قرعہ نکلا وہ لڑکا اس کو دلایا، اور دو تہائی کی دیت اس پر لازم کر دی، اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ ہنسے، یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت ظاہر ہو گئے ۱؎۔
حدثنا اسحاق بن منصور، انبانا عبد الرزاق، انبانا الثوري، عن صالح الهمداني، عن الشعبي، عن عبد خير الحضرمي، عن زيد بن ارقم، قال اتي علي بن ابي طالب وهو باليمن في ثلاثة قد وقعوا على امراة في طهر واحد فسال اثنين فقال اتقران لهذا بالولد فقالا لا . ثم سال اثنين فقال اتقران لهذا بالولد فقالا لا . فجعل كلما سال اثنين اتقران لهذا بالولد قالا لا . فاقرع بينهم والحق الولد بالذي اصابته القرعة وجعل عليه ثلثى الدية فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فضحك حتى بدت نواجذه
Metadata
- Edition
- سنن ابن ماجہ
- Book
- Rulings
- Hadith Index
- #2348
- Book Index
- 41
Grades
- Al-AlbaniSahih
- Muhammad Fouad Abd al-BaqiSahih
- Zubair Ali ZaiHasan
