Loading...

Loading...
کتب
۱۷۱ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ درہم کو درہم سے، اور دینار کو دینار سے برابر برابر بیچنا چاہیئے، تو میں نے ان سے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کچھ اور کہتے سنا ہے، ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جا کر ملا، اور میں نے ان سے کہا: آپ بیع صرف کے متعلق جو کہتے ہیں مجھے بتائیے، کیا آپ نے کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ کتاب اللہ ( قرآن ) میں اس سلسلہ میں آپ کو کوئی چیز ملی ہے؟ اس پر وہ بولے: نہ تو میں نے اس کو کتاب اللہ ( قرآن ) میں پایا ہے، اور نہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے سنا ہے، البتہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: سود صرف ادھار میں ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال سمعت ابا سعيد الخدري، يقول الدرهم بالدرهم والدينار بالدينار . فقلت اني سمعت ابن عباس يقول غير ذلك . قال اما اني لقيت ابن عباس فقلت اخبرني عن هذا الذي تقول في الصرف اشىء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم ام شىء وجدته في كتاب الله . فقال ما وجدته في كتاب الله ولا سمعته من رسول الله ولكن اخبرني اسامة بن زيد ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انما الربا في النسيية
ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بیع صرف کے جواز کا حکم دیتے سنا، اور لوگ ان سے یہ حدیث روایت کرتے تھے، پھر مجھے یہ خبر پہنچی کہ انہوں نے اس سے رجوع کر لیا ہے، تو میں ان سے مکہ میں ملا، اور میں نے کہا: مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اس سے رجوع کر لیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، وہ میری رائے تھی، اور یہ ابوسعید رضی اللہ عنہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع صرف سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا احمد بن عبدة، انبانا حماد بن زيد، عن سليمان بن علي الربعي، عن ابي الجوزاء، قال سمعته يامر، بالصرف - يعني ابن عباس - ويحدث ذلك عنه ثم بلغني انه رجع عن ذلك فلقيته بمكة فقلت انه بلغني انك رجعت . قال نعم انما كان ذلك رايا مني وهذا ابو سعيد يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه نهى عن الصرف
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے کو چاندی سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ میں نے سفیان بن عیینہ کو کہتے سنا: یاد رکھو کہ سونے کو چاندی سے یعنی باوجود اختلاف جنس کے ادھار بیچنا «ربا» ( سود ) ہے
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، سمع مالك بن اوس بن الحدثان، يقول سمعت عمر، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الذهب بالورق ربا الا هاء وهاء " . قال ابو بكر بن ابي شيبة سمعت سفيان يقول الذهب بالورق احفظوا
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ میں یہ کہتے ہوئے آیا کہ کون درہم کی بیع صرف کرتا ہے؟ یہ سن کر طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بولے، اور وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے: لاؤ مجھے اپنا سونا دکھاؤ، اور دے جاؤ، پھر ذرا ٹھہر کے آنا، جب ہمارا خزانچی آ جائے گا تو ہم تمہیں درہم دے دیں گے، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! یا تو اس کی چاندی دے دو، یا اس کا سونا اسے لوٹا دو، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: چاندی کو سونے سے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو ۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، عن مالك بن اوس بن الحدثان، قال اقبلت اقول من يصطرف الدراهم فقال طلحة بن عبيد الله وهو عند عمر بن الخطاب ارنا ذهبك ثم ايتنا اذا جاء خازننا نعطك ورقك . فقال عمر كلا والله لتعطينه ورقه او لتردن اليه ذهبه فان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الورق بالذهب ربا الا هاء وهاء
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دینار کو دینار سے، اور درہم کو درہم سے بیچو ان میں کمی بیشی نہ ہو، اور جس کو چاندی کی حاجت ہو تو وہ اس کو سونے سے بھنا لے، اور جس کو سونے کی حاجت ہو اس کو چاندی سے بھنا لے، لیکن یہ نقدا نقد ہو، ایک ہاتھ سے لے دوسرے ہاتھ سے دے ۔
حدثنا ابو اسحاق الشافعي، ابراهيم بن محمد بن العباس حدثني ابي، عن ابيه العباس بن عثمان بن شافع، عن عمر بن محمد بن علي بن ابي طالب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الدينار بالدينار والدرهم بالدرهم لا فضل بينهما فمن كانت له حاجة بورق فليصطرفها بذهب ومن كانت له حاجة بذهب فليصطرفها بالورق والصرف هاء وهاء
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اونٹ بیچا کرتا تھا، تو میں چاندی ( جو قیمت میں ٹھہرتی ) کے بدلے سونا لے لیتا، اور سونا ( جو قیمت میں ٹھہرتا ) کے بدلے چاندی لے لیتا، اور دینار درہم کے بدلے، اور درہم دینار کے بدلے لے لیتا تھا، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں پوچھا کہ ایسا کرنا کیسا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم دونوں میں سے ایک لے لو اور دوسرا دیدے تو اپنے ساتھی سے اس وقت تک جدا نہ ہو جب تک کہ حساب صاف نہ ہو جائے ۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم بن حبيب، وسفيان بن وكيع، ومحمد بن عبيد بن ثعلبة الحماني، قالوا حدثنا عمر بن عبيد الطنافسي، حدثنا عطاء بن السايب، او سماك - ولا اعلمه الا سماكا - عن سعيد بن جبير عن ابن عمر قال كنت ابيع الابل فكنت اخذ الذهب من الفضة والفضة من الذهب والدنانير من الدراهم والدراهم من الدنانير . فسالت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اذا اخذت احدهما واعطيت الاخر فلا تفارق صاحبك وبينك وبينه لبس " . حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا يعقوب بن اسحاق، انبانا حماد بن سلمة، عن سماك بن حرب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر ضرورت مسلمانوں کے رائج سکہ کو توڑنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وسويد بن سعيد، وهارون بن اسحاق، قالوا انبانا المعتمر بن سليمان، عن محمد بن فضاء، عن ابيه، عن علقمة بن عبد الله، عن ابيه، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كسر سكة المسلمين الجايزة بينهم الا من باس
بنی زہرۃ کے غلام زید ابوعیاش کہتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے پوچھا: سالم جَو کو چھلکا اتارے ہوئے جَو کے بدلے خریدنا کیسا ہے؟ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: دونوں میں سے کون بہتر ہے؟ کہا: سالم جو، تو سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے اس سے روکا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب تر کھجور کو خشک کھجور سے بیچنے کے بارے میں پوچھا گیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کیا تر کھجور سوکھ جانے کے بعد ( وزن میں ) کم ہو جاتی ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، واسحاق بن سليمان، قالا حدثنا مالك بن انس، عن عبد الله بن يزيد، مولى الاسود بن سفيان ان زيدا ابا عياش، - مولى لبني زهرة - اخبره انه، سال سعد بن ابي وقاص عن اشتراء البيضاء، بالسلت فقال له سعد ايتهما افضل قال البيضاء . فنهاني عنه وقال اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل عن اشتراء الرطب بالتمر فقال " اينقص الرطب اذا يبس " . قالوا نعم . فنهى عن ذلك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، مزابنہ یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ کی کھجور کو جو درختوں پر ہو خشک کھجور کے بدلے ناپ کر بیچے، یا انگور کو جو بیل پر ہو کشمش کے بدلے ناپ کر بیچے، اور اگر کھیتی ہو تو کھیت میں کھڑی فصل سوکھے ہوئے اناج کے بدلے ناپ کر بیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب سے منع کیا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المزابنة . والمزابنة ان يبيع الرجل تمر حايطه ان كانت نخلا بتمر كيلا وان كانت كرما ان يبيعه بزبيب كيلا وان كانت زرعا ان يبيعه بكيل طعام نهى عن ذلك كله
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے
حدثنا ازهر بن مروان، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابي الزبير، وسعيد بن ميناء، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن المحاقلة والمزابنة
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو الاحوص، عن طارق بن عبد الرحمن، عن سعيد بن المسيب، عن رافع بن خديج، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المحاقلة والمزابنة
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کی بیع میں رخصت دی ہے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، حدثني زيد بن ثابت، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رخص في العرايا
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی بیع میں اجازت دی ہے کہ اندازہ سے اس کے برابر خشک کھجور کے بدلے خرید و فروخت کی جائے۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ عریہ یہ ہے کہ ایک آدمی کھجور کے کچھ درخت اپنے گھر والوں کے کھانے کے لیے اندازہ کر کے اس کے برابر خشک کھجور کے بدلے خریدے۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن يحيى بن سعيد، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، انه قال حدثني زيد بن ثابت، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ارخص في بيع العرية بخرصها تمرا . قال يحيى العرية ان يشتري الرجل ثمر النخلات بطعام اهله رطبا بخرصها تمرا
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیوان کو حیوان کے بدلے ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا عبدة بن سليمان، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الحيوان بالحيوان نسيية
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک حیوان کو دو حیوان کے بدلے نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ادھار بیچنے کو ناپسند کیا ۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا حفص بن غياث، وابو خالد عن حجاج، عن ابي الزبير، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا باس الحيوان بالحيوان واحدا باثنين يدا بيد " . وكرهه نسيية
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کو سات غلام کے بدلے خریدا ۱؎۔ عبدالرحمٰن بن مہدی نے کہا: دحیہ کلبی سے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا الحسين بن عروة، ح وحدثنا ابو عمر، حفص بن عمرو حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قالا حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم اشترى صفية بسبعة اروس . قال عبد الرحمن من دحية الكلبي
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معراج کی رات میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے پیٹ مکانوں کے مانند تھے، ان میں باہر سے سانپ دکھائی دیتے تھے، میں نے کہا: جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ سود خور ہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا الحسن بن موسى، عن حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن ابي الصلت، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتيت ليلة اسري بي على قوم بطونهم كالبيوت فيها الحيات ترى من خارج بطونهم فقلت من هولاء يا جبراييل قال هولاء اكلة الربا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سود ستر گناہوں کے برابر ہے جن میں سے سب سے چھوٹا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے نکاح کرے ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن ابي معشر، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الربا سبعون حوبا ايسرها ان ينكح الرجل امه
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سود کے تہتر دروازے ہیں ۔
حدثنا عمرو بن علي الصيرفي ابو حفص، حدثنا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن زبيد، عن ابراهيم، عن مسروق، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الربا ثلاثة وسبعون بابا
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آخری آیت جو نازل ہوئی، وہ سود کی حرمت والی آیت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر ہم سے بیان نہیں کی، لہٰذا سود کو چھوڑ دو، اور جس میں سود کا شبہ ہو اسے بھی ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن عمر بن الخطاب، قال ان اخر ما نزلت اية الربا وان رسول الله صلى الله عليه وسلم قبض ولم يفسرها لنا فدعوا الربا والريبة