Loading...

Loading...
کتب
۱۷۱ احادیث
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کے کھانے والے پر، کھلانے والے پر، اس کی گواہی دینے والے پر، اور اس کا حساب لکھنے والے پر لعنت بھیجی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، حدثنا سماك بن حرب، قال سمعت عبد الرحمن بن عبد الله، يحدث عن عبد الله بن مسعود، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن اكل الربا وموكله وشاهديه وكاتبه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کوئی ایسا نہ بچے گا جس نے سود نہ کھایا ہو، جو نہیں کھائے گا اسے بھی اس کا غبار لگ جائے گا ۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا اسماعيل ابن علية، حدثنا داود بن ابي هند، عن سعيد بن ابي خيرة، عن الحسن، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لياتين على الناس زمان لا يبقى منهم احد الا اكل الربا فمن لم ياكل اصابه من غباره
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بھی سود سے مال بڑھایا، اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ اس کا مال گھٹ جاتا ہے ۱؎۔
حدثنا العباس بن جعفر، حدثنا عمرو بن عون، حدثنا يحيى بن ابي زايدة، عن اسراييل، عن ركين بن الربيع بن عميلة، عن ابيه، عن ابن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما احد اكثر من الربا الا كان عاقبة امره الى قلة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، اس وقت اہل مدینہ دو سال اور تین سال کی قیمت پہلے ادا کر کے کھجور کی بیع سلف کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کھجور میں بیع سلف کرے یعنی قیمت پیشگی ادا کر دے تو اسے چاہیئے کہ یہ بیع متعین ناپ تول اور مقررہ میعاد پر کرے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابن ابي نجيح، عن عبد الله بن كثير، عن ابي المنهال، عن ابن عباس، قال قدم النبي صلى الله عليه وسلم وهم يسلفون في التمر السنتين والثلاث فقال " من اسلف في تمر فليسلف في كيل معلوم ووزن معلوم الى اجل معلوم
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس نے آ کر عرض کیا: فلاں قبیلہ کے یہودی مسلمان ہو گئے ہیں، اور وہ بھوک میں مبتلا ہیں، مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ مرتد نہ ہو جائیں، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کے پاس کچھ نقدی ہے ( کہ وہ ہم سے بیع سلم کرے ) ؟ ایک یہودی نے کہا: میرے پاس اتنا اور اتنا ہے، اس نے کچھ رقم کا نام لیا، میرا خیال ہے کہ اس نے کہا: میرے پاس تین سو دینار ہیں، اس کے بدلے میں بنی فلاں کے باغ اور کھیت سے اس اس قیمت سے غلہ لوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیمت اور مدت کی تعیین تو منظور ہے لیکن فلاں کے باغ اور کھیت کی جو شرط تم نے لگائی ہے وہ منظور نہیں ۱؎۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا الوليد بن مسلم، عن محمد بن حمزة بن يوسف بن عبد الله بن سلام، عن ابيه، عن جده عبد الله بن سلام، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ان بني فلان اسلموا - لقوم من اليهود - وانهم قد جاعوا فاخاف ان يرتدوا . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " من عنده " . فقال رجل من اليهود عندي كذا وكذا - لشىء قد سماه اراه قال ثلاثماية دينار بسعر كذا وكذا من حايط بني فلان . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بسعر كذا وكذا الى اجل كذا وكذا وليس من حايط بني فلان
عبداللہ بن ابی مجالد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن شداد اور ابوبرزہ رضی اللہ عنہما کے درمیان بیع سلم کے سلسلہ میں جھگڑا ہو گیا، انہوں نے مجھے عبداللہ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، میں نے جا کر ان سے اس کے سلسلے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اور ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کے عہد میں گیہوں، جو، کشمش اور کھجور میں ایسے لوگوں سے بیع سلم کرتے تھے جن کے پاس اس وقت مال نہ ہوتا، پھر میں نے ابن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، تو انہوں نے بھی ایسے ہی کہا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، وعبد الرحمن بن مهدي، قالا حدثنا شعبة، - قال يحيى عن عبد الله بن ابي المجالد، وقال عبد الرحمن، عن ابن ابي المجالد، - قال امترى عبد الله بن شداد وابو بردة في السلم فارسلوني الى عبد الله بن ابي اوفى فسالته فقال كنا نسلم على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وعهد ابي بكر وعمر في الحنطة والشعير والزبيب والتمر عند قوم ما عندهم . فسالت ابن ابزى فقال مثل ذلك
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی چیز میں بیع سلف کرو تو اسے کسی اور چیز کی طرف نہ پھیرو ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا شجاع بن الوليد، حدثنا زياد بن خيثمة، عن سعد، عن عطية، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اسلفت في شىء فلا تصرفه الى غيره " . حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا شجاع بن الوليد، عن زياد بن خيثمة، عن عطية، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر مثله ولم يذكر سعدا
نجرانی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا میں کسی درخت کے کھجور کی ان کے پھلنے سے پہلے بیع سلم کروں؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: کیوں؟ کہا: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کھجور کے ایک باغ کے پھلوں میں ان کے پھلنے سے پہلے بیع سلم کی، لیکن اس سال کھجور کے درخت میں پھل آیا ہی نہیں، تو خریدار نے کہا: یہ درخت میرے رہیں گے جب تک ان میں کھجور نہ پھلے، اور بیچنے والے نے کہا: میں نے تو صرف اسی سال کا کھجور تیرے ہاتھ بیچا تھا، چنانچہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں معاملہ لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے کہا: کیا اس نے تمہارے کھجور کے درختوں سے کچھ پھل لیے ؟ وہ بولا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرو گے، جو تم نے اس سے لیا ہے، اسے واپس کرو اور آئندہ کھجور کے درختوں میں بیع سلم اس وقت تک نہ کرو جب تک اس کے پھل استعمال کے لائق نہ ہو جائیں ۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن النجراني، قال قلت لعبد الله بن عمر اسلم في نخل قبل ان يطلع قال لا . قلت لم قال ان رجلا اسلم في حديقة نخل في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل ان يطلع النخل فلم يطلع النخل شييا ذلك العام فقال المشتري هو لي حتى يطلع . وقال البايع انما بعتك النخل هذه السنة . فاختصما الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال للبايع " اخذ من نخلك شييا " . قال لا . قال " فبم تستحل ماله اردد عليه ما اخذت منه ولا تسلموا في نخل حتى يبدو صلاحه
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے ایک جوان اونٹ کی بیع سلم کی یعنی اسے قرض کے طور پر لیا، اور فرمایا: جب صدقہ کے اونٹ آئیں گے تو ہم تمہارا اونٹ کا قرض ادا کر دیں گے ، چنانچہ جب صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابورافع! اس کے اونٹ کا قرض ادا کر دو ، ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ڈھونڈا تو مجھے ویسا اونٹ نہیں ملا، سوائے ایک ایسے اونٹ کے جس نے اپنے سامنے کے چاروں دانت گرا رکھے تھے، جو اس کے اونٹ سے بہتر تھا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی کو دے دو کیونکہ لوگوں میں بہتر وہ ہے جو اپنے قرض کی ادائیگی میں بہتر ہو ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا مسلم بن خالد، حدثنا زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي رافع، ان النبي صلى الله عليه وسلم استسلف من رجل بكرا وقال " اذا جاءت ابل الصدقة قضيناك " . فلما قدمت قال " يا ابا رافع اقض هذا الرجل بكره " . فلم اجد الا رباعيا فصاعدا فاخبرت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اعطه فان خير الناس احسنهم قضاء
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا معاوية بن صالح، حدثني سعيد بن هاني، قال سمعت العرباض بن سارية، يقول كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال اعرابي اقضني بكري . فاعطاه بعيرا مسنا فقال الاعرابي يا رسول الله هذا اسن من بعيري . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير الناس خيرهم قضاء
سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! زمانہ جاہلیت میں آپ میرے شریک تھے، تو آپ بہت بہترین شریک ثابت ہوئے نہ آپ میری مخالفت کرتے تھے نہ جھگڑتے تھے ۱؎۔
حدثنا عثمان، وابو بكر ابنا ابي شيبة قالا حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان، عن ابراهيم بن مهاجر، عن مجاهد، عن قايد السايب، عن السايب، قال للنبي صلى الله عليه وسلم كنت شريكي في الجاهلية فكنت خير شريك كنت لا تداريني وكنت لا تماريني
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سعد اور عمار تینوں بدر کے دن مال غنیمت میں شریک ہوئے، تو مجھ کو اور عمار کو کچھ نہ ملا، البتہ سعد کافروں کے دو آدمی پکڑ لائے۔
حدثنا ابو السايب، سلم بن جنادة حدثنا ابو داود الحفري، عن سفيان، عن ابي اسحاق، عن ابي عبيدة، عن عبد الله، قال اشتركت انا وسعد، وعمار، يوم بدر فيما نصيب فلم اجي انا ولا عمار بشىء وجاء سعد برجلين
صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں میں برکت ہے: پہلی یہ کہ مقررہ مدت کے وعدے پر بیع کرنے میں، دوسری: مضاربت میں، تیسری: گیہوں اور جو ملانے میں جو کہ گھر کے کھانے کے لیے ہو، نہ کہ بیچنے کے لیے ۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا بشر بن ثابت البزار، حدثنا نصر بن القاسم، عن عبد الرحمن بن داود، عن صالح بن صهيب، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاث فيهن البركة البيع الى اجل والمقارضة واخلاط البر بالشعير للبيت لا للبيع
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے کھانوں میں سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے جو تمہارے ہاتھ کی کمائی کا ہو، اور تمہاری اولاد بھی تمہاری ایک قسم کی کمائی ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابن ابي زايدة، عن الاعمش، عن عمارة بن عمير، عن عمته، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اطيب ما اكلتم من كسبكم وان اولادكم من كسبكم
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس مال اور اولاد دونوں ہیں، اور میرے والد میرا مال ختم کرنا چاہتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اور تمہارا مال دونوں تمہارے والد کے ہیں ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا يوسف بن اسحاق، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، ان رجلا، قال يا رسول الله ان لي مالا وولدا وان ابي يريد ان يجتاح مالي فقال " انت ومالك لابيك
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میرے والد نے میری دولت ختم کر دی ( اس کے بارے میں فرمائیں؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اور تمہاری دولت دونوں تمہارے والد کے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی ہے لہٰذا تم ان کے مال میں سے کھاؤ ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، ويحيى بن حكيم، قالا حدثنا يزيد بن هارون، انبانا حجاج، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ان ابي اجتاح مالي . فقال " انت ومالك لابيك " . وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اولادكم من اطيب كسبكم فكلوا من اموالهم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہند رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوسفیان بخیل آدمی ہیں، مجھے اتنا نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کے لیے کافی ہو سوائے اس کے جو میں ان کی لاعلمی میں ان کے مال میں سے لے لوں ( اس کے بارے میں فرمائیں؟ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مناسب انداز سے اتنا لے لو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کے لیے کافی ہو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، وابو عمر الضرير قالوا حدثنا وكيع، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت جاءت هند الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ان ابا سفيان رجل شحيح ولا يعطيني ما يكفيني وولدي الا ما اخذت من ماله وهو لا يعلم . فقال " خذي ما يكفيك وولدك بالمعروف
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے خرچ کرے ( کی روایت میں خرچ کرے کے بجائے جب عورت کھلائے ہے ) اور اس کی نیت مال برباد کرنے کی نہ ہو تو اس کے لیے اجر ہو گا، اور شوہر کو بھی اس کی کمائی کی وجہ سے اتنا ہی اجر ملے گا، اور عورت کو خرچ کرنے کی وجہ سے، اور خازن کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کچھ کمی ہو ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابي وابو معاوية عن الاعمش، عن ابي وايل، عن مسروق، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا انفقت المراة - وقال ابي في حديثه اذا اطعمت المراة - من بيت زوجها غير مفسدة كان لها اجرها وله مثله بما اكتسب ولها بما انفقت وللخازن مثل ذلك من غير ان ينقص من اجورهم شييا
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: عورت اپنے گھر میں سے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کھانا بھی کسی کو نہ دے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، کھانا بھی نہ دے، یہ تو ہمارے مالوں میں سب سے بہتر مال ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثني شرحبيل بن مسلم الخولاني، قال سمعت ابا امامة الباهلي، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تنفق المراة من بيتها شييا الا باذن زوجها " . قالوا يا رسول الله ولا الطعام قال " ذلك افضل اموالنا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلام کی دعوت قبول کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا سفيان، ح وحدثنا عمرو بن رافع، حدثنا جرير، عن مسلم الملايي، سمع انس بن مالك، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجيب دعوة المملوك