Loading...

Loading...
کتب
۱۷۱ احادیث
عمیر مولی آبی اللحم رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے مالک مجھے کوئی چیز دیتے تو میں اس میں سے اوروں کو بھی کھلا دیتا تھا تو انہوں نے مجھ کو ایسا کرنے سے روکا یا کہا: انہوں نے مجھے مارا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا اسی مالک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں نے عرض کیا: میں اس سے باز نہیں آ سکتا، یا میں اسے چھوڑ نہیں سکتا ( کہ مسکین کو کھانا نہ کھلاؤں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کو اس کا اجر ملے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا حفص بن غياث، عن محمد بن زيد، عن عمير، - مولى ابي اللحم - قال كان مولاى يعطيني الشىء فاطعم منه فمنعني - او قال فضربني - فسالت النبي صلى الله عليه وسلم او ساله فقلت لا انتهي او لا ادعه . فقال " الاجر بينكما
ابوبشر جعفر بن أبی ایاس کہتے ہیں میں نے عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ جو بنی غبر کے ایک فرد ہیں کو کہتے سنا کہ ایک سال قحط ہوا تو میں مدینہ آیا، وہاں اس کے باغوں میں سے ایک باغ میں گیا، اور اناج کی ایک بالی اٹھا لی، اور مل کر اس میں سے کچھ کھایا، اور کچھ اپنے کپڑے میں رکھ لیا، اتنے میں باغ کا مالک آ گیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باغ والے سے کہا: تم نے اس کو کھانا نہیں کھلایا جبکہ یہ بھوکا تھا، اور نہ تم نے اس کو تعلیم دی جبکہ یہ جاہل تھا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کپڑے واپس کرنے اور ساتھ ہی ایک وسق یا نصف وسق غلہ دینے کا حکم دیا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شبابة بن سوار، ح وحدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن الوليد، قالا حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن ابي بشر، جعفر بن اياس قال سمعت عباد بن شرحبيل، - رجلا من بني غبر - قال اصابنا عام مخمصة فاتيت المدينة فاتيت حايطا من حيطانها فاخذت سنبلا ففركته واكلته وجعلته في كسايي فجاء صاحب الحايط فضربني واخذ ثوبي فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرته فقال للرجل " ما اطعمته اذ كان جايعا او ساغبا ولا علمته اذ كان جاهلا " . فامره النبي صلى الله عليه وسلم فرد اليه ثوبه وامر له بوسق من طعام او نصف وسق
رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور ایک لڑکا دونوں مل کر اپنے یا انصار کے کھجور کے درخت پر پتھر مار رہے تھے، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکے! ( ابن کاسب کا قول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: میرے بیٹے! ) تم کیوں کھجور کے درختوں پر پتھر مارتے ہو ؟، رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں ( کھجور ) کھاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: درختوں پر پتھر نہ مارو جو نیچے گرے ہوں انہیں کھاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اے اللہ! اسے آسودہ کر دے ۔
حدثنا محمد بن الصباح، ويعقوب بن حميد بن كاسب، قالا حدثنا معتمر بن سليمان، قال سمعت ابن ابي الحكم الغفاري، قال حدثتني جدتي، عن عم، ابيها رافع بن عمرو الغفاري قال كنت وانا غلام، ارمي نخلنا - او قال نخل الانصار - فاتي بي النبي صلى الله عليه وسلم فقال " يا غلام - وقال ابن كاسب فقال يا بنى - لم ترمي النخل " . قال قلت اكل . قال " فلا ترمي النخل وكل مما يسقط في اسافلها " . قال ثم مسح راسي وقال " اللهم اشبع بطنه
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی چرواہے کے پاس آؤ تو تین بار اسے آواز دو، اگر وہ جواب دے تو بہتر، ورنہ اپنی ضرورت کے مطابق بغیر خراب کئے دودھ دوہ کر پی لو، اور جب تم کسی باغ میں آؤ تو باغ والے کو تین بار آواز دو، اگر وہ جواب دے تو بہتر، ورنہ اپنی ضرورت کے مطابق پھل توڑ کر کھا لو، البتہ خراب مت کرو ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا الجريري، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اتيت على راع فناده ثلاث مرار فان اجابك والا فاشرب في غير ان تفسد واذا اتيت على حايط بستان فناد صاحب البستان ثلاث مرات فان اجابك والا فكل في ان لا تفسد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی باغ سے گزرے تو ( پھل ) کھائے، اور کپڑے میں نہ باندھے ۱؎۔
حدثنا هدية بن عبد الوهاب، وايوب بن حسان الواسطي، وعلي بن سلمة، قالوا حدثنا يحيى بن سليم الطايفي، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا مر احدكم بحايط فلياكل ولا يتخذ خبنة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: کوئی کسی کے جانور کا دودھ بغیر اس کی اجازت کے نہ دوہے، کیا کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے بالاخانہ میں کوئی جائے، اور اس کے غلہ کی کوٹھری کا دروازہ توڑ کر غلہ نکال لے جائے؟ ایسے ہی ان کے جانوروں کے تھن ان کے غلہ کی کوٹھریاں ہیں، تو کوئی کسی کے جانور کو اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے ۔
حدثنا محمد بن رمح، قال انبانا الليث بن سعد، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قام فقال " لا يحتلبن احدكم ماشية رجل بغير اذنه ايحب احدكم ان توتى مشربته فيكسر باب خزانته فينتثل طعامه فانما تخزن لهم ضروع مواشيهم اطعماتهم فلا يحتلبن احدكم ماشية امري بغير اذنه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ اتنے میں ہم نے خاردار درختوں کی آڑ میں ایک اونٹنی دیکھی، جس کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے تو اس ہم ( کا دودھ دوہنے کے لیے ) اس کی طرف لپکے، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو آواز دی تو ہم آپ کی طرف پلٹ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اونٹنی کسی مسلمان گھرانے کی ہے، اور یہی ان کی روزی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے بعد یہی ان کے لیے خیر و برکت کی چیز ہے، کیا تم اس بات کو پسند کرو گے کہ تم اپنے توشہ دانوں کے پاس واپس آؤ تو جو کچھ ان میں ہے اس سے ان کو خالی پاؤ، کیا تم اس کو انصاف سمجھو گے ؟ لوگوں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس یہ بھی ایسا ہی ہے ، ہم نے عرض کیا: اگر ہم کھانے پینے کے حاجت مند ہوں تو کیا تب بھی یہی حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( ایسی حالت میں ) کھا پی لو لیکن اٹھا کر نہ لے جاؤ ۱؎۔
حدثنا اسماعيل بن بشر بن منصور، حدثنا عمر بن علي، عن حجاج، عن سليط بن عبد الله الطهوي، عن ذهيل بن عوف بن شماخ الطهوي، حدثنا ابو هريرة، قال بينما نحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر اذ راينا ابلا مصرورة بعضاه الشجر فثبنا اليها فنادانا رسول الله صلى الله عليه وسلم فرجعنا اليه فقال " ان هذه الابل لاهل بيت من المسلمين هو قوتهم ويمنهم بعد الله ايسركم لو رجعتم الى مزاودكم فوجدتم ما فيها قد ذهب به اترون ذلك عدلا " . قالوا لا . قال " فان هذا كذلك " . قلنا افرايت ان احتجنا الى الطعام والشراب فقال " كل ولا تحمل واشرب ولا تحمل
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم بکریاں پالو، اس لیے کہ ان میں برکت ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن ام هاني، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لها " اتخذي غنما فان فيها بركة
عروہ بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اونٹ ان کے مالکوں کے لیے قوت کی چیز ہے، اور بکریاں باعث برکت ہیں، اور گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لیے بھلائی بندھی ہے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن حصين، عن عامر، عن عروة البارقي، يرفعه قال " الابل عز لاهلها والغنم بركة والخير معقود في نواصي الخيل الى يوم القيامة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بکری تو جنت کے جانوروں میں سے ہے ۔
حدثنا عصمة بن الفضل النيسابوري، ومحمد بن فراس ابو هريرة الصيرفي، قالا حدثنا حرمي بن عمارة، حدثنا زربي، امام مسجد هشام بن حسان حدثنا محمد بن سيرين، عن ابن عمر، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الشاة من دواب الجنة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالدار لوگوں کو بکریاں اور محتاج لوگوں کو مرغیاں رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا ہے: جب مالدار مرغیاں پالنے لگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس بستی کو تباہ کرنے کا حکم دیتا ہے ۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا عثمان بن عبد الرحمن، حدثنا علي بن عروة، عن المقبري، عن ابي هريرة، رضى الله عنه قال امر رسول الله صلى الله عليه وسلم الاغنياء باتخاذ الغنم وامر الفقراء باتخاذ الدجاج وقال " عند اتخاذ الاغنياء الدجاج ياذن الله بهلاك القرى