Loading...

Loading...
کتب
۱۷۱ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا سب سے عمدہ کھانا وہ ہے جو اس کی اپنی کمائی کا ہو، اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، واسحاق بن ابراهيم بن حبيب، قالوا حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اطيب ما اكل الرجل من كسبه وان ولده من كسبه
مقدام بن معدیکرب زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی کوئی کمائی اس کمائی سے بہتر نہیں جسے اس نے اپنی محنت سے کمایا ہو، اور آدمی اپنی ذات، اپنی بیوی، اپنے بچوں اور اپنے خادم پر جو خرچ کرے وہ صدقہ ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن بحير بن سعد، عن خالد بن معدان، عن المقدام بن معديكرب الزبيدي، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما كسب الرجل كسبا اطيب من عمل يده وما انفق الرجل على نفسه واهله وولده وخادمه فهو صدقة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سچا، امانت دار مسلمان تاجر قیامت کے دن شہداء کے ساتھ ہو گا ۱؎۔
حدثنا احمد بن سنان، حدثنا كثير بن هشام، حدثنا كلثوم بن جوشن القشيري، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " التاجر الامين الصدوق المسلم مع الشهداء يوم القيامة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوہ عورتوں اور مسکینوں کے لیے محنت و کوشش کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے مانند ہے، اور اس شخص کے مانند ہے جو رات بھر قیام کرتا، اور دن کو روزہ رکھتا ہے ۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا عبد العزيز الدراوردي، عن ثور بن زيد الديلي، عن ابي الغيث، مولى ابن مطيع عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الساعي على الارملة والمسكين كالمجاهد في سبيل الله وكالذي يقوم الليل ويصوم النهار
عبداللہ بن خبیب کے چچا سے روایت ہے ہم ایک مجلس میں تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں اچانک تشریف لے آئے، آپ کے سر مبارک پر پانی کا اثر تھا، ہم میں سے ایک آدمی نے آپ سے عرض کیا: آپ کو ہم آج بہت خوش دل پا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، بحمداللہ خوش ہوں ، پھر لوگوں نے مالداری کا ذکر چھیڑ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل تقویٰ کے لیے مالداری کوئی حرج کی بات نہیں، اور تندرستی متقی کے لیے مالداری سے بہتر ہے، اور خوش دلی بھی ایک نعمت ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا عبد الله بن سليمان، عن معاذ بن عبد الله بن خبيب، عن ابيه، عن عمه، قال كنا في مجلس فجاء النبي صلى الله عليه وسلم وعلى راسه اثر ماء فقال له بعضنا نراك اليوم طيب النفس . فقال " اجل والحمد لله " . ثم افاض القوم في ذكر الغنى فقال " لا باس بالغنى لمن اتقى والصحة لمن اتقى خير من الغنى وطيب النفس من النعم
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا کی طلب میں اعتدال کا طریقہ اپناؤ اس لیے کہ جس چیز کے لیے آدمی پیدا کیا گیا ہے وہ اسے مل کر رہے گی ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن عمارة بن غزية، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن عبد الملك بن سعيد الانصاري، عن ابي حميد الساعدي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اجملوا في طلب الدنيا فان كلا ميسر لما خلق له
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ فکرمندی اس مومن کو ہوتی ہے جسے دنیا کی بھی فکر ہو اور آخرت کی بھی ۔ ابوعبداللہ ( ابن ماجہ ) کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اس لیے کہ اسماعیل اس کی روایت میں منفرد ہیں۔
حدثنا اسماعيل بن بهرام، حدثنا الحسن بن محمد بن عثمان، زوج بنت الشعبي حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن يزيد الرقاشي، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اعظم الناس هما المومن الذي يهم بامر دنياه وامر اخرته " . قال ابو عبد الله هذا حديث غريب تفرد به اسماعيل
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اللہ سے ڈرو، اور دنیا طلبی میں اعتدال کا راستہ اختیار کرو، اس لیے کہ کوئی اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اپنی روزی پوری نہ کر لے گو اس میں تاخیر ہو، لہٰذا اللہ سے ڈرو، اور روزی کی طلب میں اعتدال کا راستہ اختیار کرو، صرف وہی لو جو حلال ہو، اور جو حرام ہو اسے چھوڑ دو ۔
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايها الناس اتقوا الله واجملوا في الطلب فان نفسا لن تموت حتى تستوفي رزقها وان ابطا عنها فاتقوا الله واجملوا في الطلب خذوا ما حل ودعوا ما حرم
قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں «سماسرہ» ( دلال ) کہے جاتے تھے، ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمارے پاس سے گزر ہوا، تو آپ نے ہمارا ایک ایسا نام رکھا جو اس سے اچھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! خرید و فروخت میں قسمیں اور لغو باتیں بھی ہوتی رہتی ہیں، تو تم اس میں صدقہ ملا دیا کرو ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق، عن قيس بن ابي غرزة، قال كنا نسمى في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم السماسرة فمر بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمانا باسم هو احسن منه فقال " يا معشر التجار ان البيع يحضره الحلف واللغو فشوبوه بالصدقة
رفاعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ اچانک کچھ لوگ صبح کے وقت خرید و فروخت کرتے نظر آئے، آپ نے ان کو پکارا: اے تاجروں کی جماعت! جب ان لوگوں نے اپنی نگاہیں اونچی اور گردنیں لمبی کر لیں ۱؎ تو آپ نے فرمایا: تاجر قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے جائیں گے کہ وہ فاسق و فاجر ہوں گے، سوائے ان کے جو اللہ سے ڈریں، اور نیکوکار اور سچے ہوں ۱؎۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا يحيى بن سليم الطايفي، عن عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن اسماعيل بن عبيد بن رفاعة، عن ابيه، عن جده، رفاعة قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذا الناس يتبايعون بكرة فناداهم " يا معشر التجار " . فلما رفعوا ابصارهم ومدوا اعناقهم قال " ان التجار يبعثون يوم القيامة فجارا الا من اتقى الله وبر وصدق
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے روزی کا کوئی ذریعہ مل جائے، تو چاہیئے کہ وہ اسے پکڑے رہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن عبد الله، حدثنا فروة ابو يونس، عن هلال بن جبير، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اصاب من شىء فليلزمه
نافع کہتے ہیں کہ میں اپنا سامان تجارت شام اور مصر بھیجا کرتا تھا، پھر میں نے عراق کی طرف بھیج دیا، پھر میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، اور ان سے کہا کہ میں اپنا سامان تجارت شام بھیجا کرتا تھا، لیکن اس بار میں نے عراق بھیج دیا ہے، تو انہوں نے کہا: ایسا نہ کرو، تمہاری پہلی تجارت گاہ کو کیا ہوا کہ اس کو چھوڑ کر تم نے دوسری اختیار کر لی؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اللہ تعالیٰ جب تم میں سے کسی کے لیے روزی کا کوئی ذریعہ پیدا کر دے، تو وہ اسے نہ چھوڑے یہاں تک کہ وہ بدل جائے، یا بگڑ جائے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو عاصم، اخبرني ابي، عن الزبير بن عبيد، عن نافع، قال كنت اجهز الى الشام والى مصر فجهزت الى العراق فاتيت عايشة ام المومنين فقلت لها يا ام المومنين كنت اجهز الى الشام فجهزت الى العراق . فقالت لا تفعل مالك ولمتجرك فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا سبب الله لاحدكم رزقا من وجه فلا يدعه حتى يتغير له او يتنكر له
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جتنے بھی نبی بھیجے ہیں، سب نے بکریاں چرائی ہیں ، اس پر آپ کے صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے بھی؟ فرمایا: میں بھی چند قیراط پر اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا ۱؎۔ سوید کہتے ہیں کہ ہر بکری پر ایک قیراط ملتا تھا۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا عمرو بن يحيى بن سعيد القرشي، عن جده، سعيد بن ابي احيحة عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما بعث الله نبيا الا راعي غنم " . قال له اصحابه وانت يا رسول الله . قال " وانا كنت ارعاها لاهل مكة بالقراريط " . قال سويد يعني كل شاة بقيراط
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زکریا علیہ السلام ( یحییٰ علیہ السلام کے والد ) بڑھئی تھے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن عبد الله الخزاعي، والحجاج، والهيثم بن جميل، قالوا حدثنا حماد، عن ثابت، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " كان زكريا نجارا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، اور ان سے کہا جائے گا جن کو تم نے بنایا ہے، ان میں جان ڈالو ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، حدثنا الليث بن سعد، عن نافع، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان اصحاب الصور يعذبون يوم القيامة يقال لهم احيوا ما خلقتم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹے رنگ ریز اور سنار ہوتے ہیں ۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا عمر بن هارون، عن همام، عن فرقد السبخي، عن يزيد بن عبد الله بن الشخير، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اكذب الناس الصباغون والصواغون
عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جلب» کرنے والا روزی پاتا ہے اور ( ذخیرہ اندوزی ) کرنے والا ملعون ہے ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا ابو احمد، حدثنا اسراييل، عن علي بن سالم بن ثوبان، عن علي بن زيد بن جدعان، عن سعيد بن المسيب، عن عمر بن الخطاب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الجالب مرزوق والمحتكر ملعون
معمر بن عبداللہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذخیرہ اندوزی صرف خطاکار کرتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن ابراهيم، عن سعيد بن المسيب، عن معمر بن عبد الله بن نضلة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يحتكر الا خاطي
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو مسلمانوں کے کھانے کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے جذام ( کوڑھ ) یا افلاس ( فقر ) میں مبتلا کر دے گا ۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا ابو بكر الحنفي، حدثنا الهيثم بن رافع، حدثني ابو يحيى المكي، عن فروخ، مولى عثمان بن عفان عن عمر بن الخطاب، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من احتكر على المسلمين طعامهم ضربه الله بالجذام والافلاس
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم تیس سواروں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ ( فوجی ٹولی ) میں بھیجا، ہم ایک قبیلہ میں اترے، اور ہم نے ان سے اپنی مہمان نوازی کا مطالبہ کیا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا پھر ایسا ہوا کہ ان کے سردار کو بچھو نے ڈنک مار دیا، چنانچہ وہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے: کیا آپ لوگوں میں کوئی بچھو کے ڈسنے پر جھاڑ پھونک کرتا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، میں کرتا ہوں لیکن میں اس وقت تک نہیں کر سکتا جب تک تم ہمیں کچھ بکریاں نہ دے دو، انہوں نے کہا: ہم آپ کو تیس بکریاں دیں گے، ہم نے اسے قبول کر لیا، اور میں نے سات مرتبہ سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا تو وہ اچھا ہو گیا، اور ہم نے وہ بکریاں لے لیں، پھر ہمیں اس میں کچھ تردد محسوس ہوا ۱؎ تو ہم نے ( اپنے ساتھیوں سے ) کہا ( ان کے کھانے میں ) جلد بازی نہ کرو، یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ جائیں، ( اور آپ سے ان کے بارے میں پوچھ لیں ) پھر جب ہم ( مدینہ ) آئے تو میں نے جو کچھ کیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ سورۃ فاتحہ جھاڑ پھونک ہے؟ انہیں آپس میں بانٹ لو، اور اپنے ساتھ میرا بھی ایک حصہ لگاؤ ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن جعفر بن اياس، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، قال بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثين راكبا في سرية فنزلنا بقوم فسالناهم ان يقرونا فابوا فلدغ سيدهم فاتونا فقالوا افيكم احد يرقي من العقرب فقلت نعم انا ولكن لا ارقيه حتى تعطونا غنما . قالوا فانا نعطيكم ثلاثين شاة . فقبلناها فقرات عليه ( الحمد ) سبع مرات فبري وقبضنا الغنم فعرض في انفسنا منها شىء فقلنا لا تعجلوا حتى ناتي النبي صلى الله عليه وسلم فلما قدمنا ذكرت له الذي صنعت فقال " او ما علمت انها رقية اقتسموها واضربوا لي معكم سهما " . حدثنا ابو كريب، حدثنا هشيم، حدثنا ابو بشر، عن ابي المتوكل، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن ابي بشر، عن ابي المتوكل، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه . قال ابو عبد الله والصواب هو ابو المتوكل ان شاء الله