Loading...

Loading...
کتب
۱۷۱ احادیث
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اہل صفہ میں سے کئی لوگوں کو قرآن پڑھنا اور لکھنا سکھایا، تو ان میں سے ایک شخص نے مجھے ایک کمان ہدیے میں دی، میں نے اپنے جی میں کہا: یہ تو مال نہیں ہے، یہ اللہ کے راستے میں تیر اندازی کے لیے میرے کام آئے گا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم کو یہ اچھا لگے کہ اس کمان کے بدلے تم کو آگ کا ایک طوق پہنایا جائے تو اس کو قبول کر لو ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، ومحمد بن اسماعيل، قالا حدثنا وكيع، حدثنا مغيرة بن زياد الموصلي، عن عبادة بن نسى، عن الاسود بن ثعلبة، عن عبادة بن الصامت، قال علمت ناسا من اهل الصفة القران والكتابة فاهدى الى رجل منهم قوسا فقلت ليست بمال وارمي عنها في سبيل الله فسالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عنها فقال " ان سرك ان تطوق بها طوقا من نار فاقبلها
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو قرآن پڑھنا سکھایا تو اس نے مجھے ایک کمان ہدیے میں دی، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے یہ لی تو آگ کی ایک کمان لی ، اس وجہ سے میں نے اس کو واپس کر دیا۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ثور بن يزيد، حدثنا خالد بن معدان، حدثني عبد الرحمن بن سلم، عن عطية الكلاعي، عن ابى بن كعب، قال علمت رجلا القران فاهدى الى قوسا فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ان اخذتها اخذت قوسا من نار " . فرددتها
ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی اور کاہن کی اجرت سے منع فرمایا ہے۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن ابي بكر بن عبد الرحمن، عن ابي مسعود، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن ثمن الكلب ومهر البغي وحلوان الكاهن
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، اور نر سے جفتی کرانے کے معاوضہ سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، ومحمد بن طريف، قالا حدثنا محمد بن فضيل، حدثنا الاعمش، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ثمن الكلب وعسب الفحل
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کی قیمت سے منع کیا ہے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد، انبانا ابن لهيعة، عن ابي الزبير، عن جابر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ثمن السنور
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا، اور حجام ( پچھنا لگانے والے ) کو اس کی اجرت دی۔ ابن ماجہ کا قول ہے کہ ابن ابی عمر اس حدیث کی روایت میں منفرد ہیں۔
حدثنا محمد بن ابي عمر العدني، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم احتجم واعطاه اجره . قال ابن ماجه تفرد به ابن ابي عمر وحده
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا، اور مجھے حکم دیا تو میں نے حجام ( پچھنا لگانے والے ) کو اس کی اجرت دی۔
حدثنا عمرو بن علي ابو حفص الصيرفي، حدثنا ابو داود، ح وحدثنا محمد بن عبادة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، قالا حدثنا ورقاء، عن عبد الاعلى، عن ابي جميلة عن علي، قال احتجم رسول الله صلى الله عليه وسلم وامرني فاعطيت الحجام اجره
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور حجام ( پچھنا لگانے والے ) کو اس کی اجرت دی۔
حدثنا عبد الحميد بن بيان الواسطي، حدثنا خالد بن عبد الله، عن يونس، عن ابن سيرين، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم احتجم واعطى الحجام اجره
ابومسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجام ( پچھنا لگانے والے ) کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا يحيى بن حمزة، حدثني الاوزاعي، عن الزهري، عن ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن ابي مسعود، عقبة بن عمرو قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كسب الحجام
محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حجام ( پچھنا لگانے والے ) کی کمائی کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس سے منع فرمایا، انہوں نے اس کی ضرورت بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے پانی لانے والے اونٹوں کو اسے کھلا دو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شبابة بن سوار، عن ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن حرام بن محيصة، عن ابيه، انه سال النبي صلى الله عليه وسلم عن كسب الحجام فنهاه عنه فذكر له الحاجة فقال " اعلفه نواضحك
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال جب کہ آپ مکہ میں تھے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے، اس وقت آپ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے بارے میں ہمیں بتائیے اس کا کیا حکم ہے؟ اس سے کشتیوں اور کھالوں کو چکنا کیا جاتا ہے، اور اس سے لوگ چراغ جلاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ( یہ بھی جائز نہیں ) یہ سب چیزیں حرام ہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کرے، اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی حرام کی تو انہوں نے ( حیلہ یہ کیا کہ ) پگھلا کر اس کی شکل بدل دی، پھر اس کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی ۱؎۔
حدثنا عيسى بن حماد المصري، انبانا الليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، انه قال قال عطاء بن ابي رباح سمعت جابر بن عبد الله، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح وهو بمكة " ان الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير والاصنام " . فقيل له عند ذلك يا رسول الله ارايت شحوم الميتة فانه يدهن بها السفن ويدهن بها الجلود ويستصبح بها الناس قال " لا هن حرام " . ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قاتل الله اليهود ان الله حرم عليهم الشحوم فاجملوه ثم باعوه فاكلوا ثمنه
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغنیہ ( گانے والی عورتوں ) کی خرید و فروخت، ان کی کمائی اور ان کی قیمت کھانے سے منع کیا ہے
حدثنا احمد بن محمد بن يحيى بن سعيد القطان، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا ابو جعفر الرازي، عن عاصم، عن ابي المهلب، عن عبيد الله الافريقي، عن ابي امامة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع المغنيات وعن شرايهن وعن كسبهن وعن اكل اثمانهن
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بیع سے منع کیا ہے: ایک بیع ملامسہ سے، دوسری بیع منابذہ سے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، وابو اسامة عن عبيد الله بن عمر، عن خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين عن الملامسة والمنابذة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ و منابذہ سے منع کیا ہے۔ سہل نے اتنا مزید کہا ہے کہ سفیان نے کہا کہ ملامسہ یہ ہے کہ آدمی ایک چیز کو ہاتھ سے چھوئے اور اسے دیکھے نہیں، ( اور بیع ہو جائے ) اور منابذہ یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے سے کہے کہ جو تیرے پاس ہے میری طرف پھینک دے، اور جو میرے پاس ہے وہ میں تیری طرف پھینکتا ہوں ( اور بیع ہو جائے ) ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وسهل بن ابي سهل، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الملامسة والمنابذة . زاد سهل قال سفيان الملامسة ان يلمس الرجل الشىء بيده ولا يراه والمنابذة ان يقول الق الى ما معك والقي اليك ما معي
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی کسی کے سودے پر سودہ نہ کرے ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا مالك بن انس، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يبيع بعضكم على بيع بعض
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودہ نہ کرے، اور نہ اپنے بھائی کے دام پر دام لگائے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يبيع الرجل على بيع اخيه ولا يسوم على سوم اخيه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع نجش سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
قرات على مصعب بن عبد الله الزبيري عن مالك، ح وحدثنا ابو حذافة، حدثنا مالك بن انس، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن النجش
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپس میں بیع نجش نہ کرو ۔
حدثنا هشام بن عمار، وسهل بن ابي سهل، قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تناجشوا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا مال نہ بیچے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يبيع حاضر لباد
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا مال نہ بیچے، لوگوں کو چھوڑ دو، ( خود بیچیں ) اللہ تعالیٰ بعض کو بعض سے روزی دیتا ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يبيع حاضر لباد دعوا الناس يرزق الله بعضهم من بعض