Loading...

Loading...
کتب
۱۷۱ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہری کو دیہاتی کا مال بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: «حاضر لباد» کا کیا مفہوم ہے؟ تو انہوں نے کہا: بستی والا باہر والے کا دلال نہ بنے
حدثنا العباس بن عبد العظيم العنبري، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يبيع حاضر لباد . قلت لابن عباس ما قوله حاضر لباد قال لا يكون له سمسارا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باہر سے آنے والے سامان تجارت کو بازار میں پہنچنے سے پہلے نہ لیا کرو، اگر کوئی اس طرح خریداری کر لے، تو بازار میں آنے کے بعد صاحب مال کو اختیار ہو گا، چاہے تو اس بیع کو باقی رکھے اور چاہے تو فسخ ( منسوخ ) کر دے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا ابو اسامة، عن هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تلقوا الاجلاب فمن تلقى منه شييا فاشترى فصاحبه بالخيار اذا اتى السوق
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر سے آنے والے سامان تجارت کو بازار میں پہنچنے سے پہلے آگے جا کر خرید لینے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عبدة بن سليمان، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن تلقي الجلب
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال بیچنے والوں سے بازار میں پہنچنے سے پہلے آگے جا کر ملنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا يحيى بن سعيد، وحماد بن مسعدة، عن سليمان التيمي، ح وحدثنا اسحاق بن ابراهيم بن حبيب بن الشهيد، حدثنا معتمر بن سليمان، قال سمعت ابي قال، حدثنا ابو عثمان النهدي، عن عبد الله بن مسعود، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن تلقي البيوع
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو آدمی ایک مجلس میں خرید و فروخت کریں، تو دونوں میں سے ہر ایک کو بیع فسخ کرنے کا اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، یا ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو اختیار نہ دیدے، پھر اگر ایک نے دوسرے کو اختیار دے دیا پھر بھی ان دونوں نے بیع پکی کر لی تو بیع واجب ہو گئی، اس طرح بیع ہو جانے کے بعد اگر وہ دونوں مجلس سے جدا ہو گئے تب بھی بیع لازم ہو گئی ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح المصري، انبانا الليث بن سعد، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا تبايع الرجلان فكل واحد منهما بالخيار ما لم يتفرقا وكانا جميعا او يخير احدهما الاخر فان خير احدهما الاخر فتبايعا على ذلك فقد وجب البيع . وان تفرقا بعد ان تبايعا ولم يترك واحد منهما البيع فقد وجب البيع
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بائع اور مشتری ( بیچنے اور خریدنے والے ) جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں دونوں کو ( بیع کے منسوخ کرنے کا ) اختیار ہے ۔
حدثنا احمد بن عبدة، واحمد بن المقدام، قالا حدثنا حماد بن زيد، عن جميل بن مرة، عن ابي الوضيء، عن ابي برزة الاسلمي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " البيعان بالخيار ما لم يتفرقا
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو ( بیع منسوخ کرنے کا ) اختیار ہے، جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں ۔
حدثنا محمد بن يحيى، واسحاق بن منصور، قالا حدثنا عبد الصمد، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " البيعان بالخيار ما لم يتفرقا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی ( دیہاتی ) سے ایک بوجھ چارا خریدا، پھر جب بیع مکمل ہو گئی، تو آپ نے اس سے فرمایا: تجھ کو اختیار ہے ( بیع کو باقی رکھ یا منسوخ کر دے ) تو دیہاتی نے کہا: اللہ آپ کی عمردراز کرے میں بیع کو باقی رکھتا ہوں ۱؎۔
حدثنا حرملة بن يحيى، واحمد بن عيسى المصريان، قالا حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال اشترى رسول الله صلى الله عليه وسلم من رجل من الاعراب حمل خبط فلما وجب البيع قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اختر " . فقال الاعرابي عمرك الله بيعا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیع بیچنے والے اور خریدنے والے کی باہمی رضا مندی سے منعقد ہوتی ہے ۔
حدثنا العباس بن الوليد الدمشقي، حدثنا مروان بن محمد، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن داود بن صالح المدني، عن ابيه، قال سمعت ابا سعيد الخدري، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما البيع عن تراض
عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے ہاتھ حکومت کے غلاموں میں سے ایک غلام بیچا، پھر دونوں میں قیمت کے بارے میں اختلاف ہو گیا، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ میں نے آپ سے اسے بیس ہزار میں بیچا ہے، اور اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اسے دس ہزار میں خریدا ہے، اس پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر چاہیں تو میں ایک حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: بیان کریں، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جب بیچنے والے اور خریدنے والے اختلاف کریں اور ان میں کسی کے پاس گواہ نہ ہوں، اور بیچی ہوئی چیز بعینہٖ موجود ہو تو بیچنے والے ہی کی بات معتبر ہو گی، یا دونوں بیع فسخ کر دیں ، انہوں نے کہا: میں مناسب یہی سمجھتا ہوں کہ بیع فسخ کر دوں، چنانچہ انہوں نے بیع فسخ کر دی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا هشيم، انبانا ابن ابي ليلى، عن القاسم بن عبد الرحمن، عن ابيه، ان عبد الله بن مسعود، باع من الاشعث بن قيس رقيقا من رقيق الامارة فاختلفا في الثمن . فقال ابن مسعود بعتك بعشرين الفا . وقال الاشعث بن قيس انما اشتريت منك بعشرة الاف . فقال عبد الله ان شيت حدثتك بحديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال هاته . قال فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا اختلف البيعان وليس بينهما بينة والبيع قايم بعينه فالقول ما قال البايع او يترادان البيع " . قال فاني ارى ان ارد البيع . فرده
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ایک آدمی مجھ سے ایک چیز خریدنا چاہتا ہے، اور وہ میرے پاس نہیں ہے، کیا میں اس کو بیچ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اس کو نہ بیچو ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن ابي بشر، قال سمعت يوسف بن ماهك، يحدث عن حكيم بن حزام، قال قلت يا رسول الله الرجل يسالني البيع وليس عندي افابيعه قال " لا تبع ما ليس عندك
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس نہ ہو اس کا بیچنا جائز نہیں، اور نہ اس چیز کا نفع جائز ہے جس کے تم ضامن نہیں ۱؎۔
حدثنا ازهر بن مروان، قال حدثنا حماد بن زيد، ح وحدثنا ابو كريب، حدثنا اسماعيل ابن علية، قالا حدثنا ايوب، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يحل بيع ما ليس عندك ولا ربح ما لم يضمن
عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مکہ بھیجا، تو اس چیز کے نفع سے منع کیا جس کے وہ ضامن نہ ہوں۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن الفضيل، عن ليث، عن عطاء، عن عتاب بن اسيد، قال لما بعثه رسول الله صلى الله عليه وسلم الى مكة نهاه عن شف ما لم يضمن
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ یا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ایک چیز دو آدمیوں کے ہاتھ بیچی، تو جس کے ہاتھ پہلے بیچی اس کو وہ چیز ملے گی ۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن عقبة بن عامر، او سمرة بن جندب عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ايما رجل باع بيعا من رجلين فهو للاول منهما
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو اختیار رکھنے والے ایک چیز کی بیع کریں تو جس نے پہلے بیع کی، اس کا اعتبار ہو گا ۔
حدثنا الحسين بن ابي السري العسقلاني، ومحمد بن اسماعيل، قالا حدثنا وكيع، حدثنا سعيد بن بشير، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا باع المجيزان فهو للاول
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعانہ ( عربان کی بیع ) سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا مالك بن انس، قال بلغني عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع العربان
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عربان کی بیع ) سے منع فرمایا ہے۔ ابوعبداللہ ( ابن ماجہ ) کہتے ہیں کہ عربان: یہ ہے کہ آدمی ایک جانور سو دینار میں خریدے، اور بیچنے والے کو اس میں سے دو دینار بطور بیعانہ دیدے، اور کہے: اگر میں نے جانور نہیں لیا تو یہ دونوں دینار تمہارے ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا ہے واللہ اعلم: ( عربان یہ ہے کہ ) آدمی ایک چیز خریدے پھر بیچنے والے کو ایک درہم یا زیادہ یا کم دے، اور کہے اگر میں نے یہ چیز لے لی تو بہتر، ورنہ یہ درہم تمہارا ہے۔
حدثنا الفضل بن يعقوب الرخامي، حدثنا حبيب بن ابي حبيب ابو محمد، كاتب مالك بن انس حدثنا عبد الله بن عامر الاسلمي، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع العربان . قال ابو عبد الله العربان ان يشتري الرجل دابة بماية دينار فيعطيه دينارين اربونا فيقول ان لم اشتر الدابة فالديناران لك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع غرر اور بیع حصاۃ سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا محرز بن سلمة العدني، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عبيد الله، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الغرر وعن بيع الحصاة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع غرر سے منع کیا ہے۔
حدثنا ابو كريب، والعباس بن عبد العظيم العنبري، قالا حدثنا الاسود بن عامر، حدثنا ايوب بن عتبة، عن يحيى بن ابي كثير، عن عطاء، عن ابن عباس، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الغرر
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے پیٹ میں جو ہو اس کے خریدنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ جن دے، اور جو ان کے تھنوں میں ہے اس کے خریدنے سے بھی منع فرمایا ہے الا یہ کہ اسے دوھ کر اور ناپ کر خریدا جائے، اسی طرح بھاگے ہوئے غلام کو خریدنے سے، اور غنیمت ( لوٹ ) کا مال خریدنے سے بھی منع فرمایا یہاں تک کہ وہ تقسیم کر دیا جائے اور صدقات کو خریدنے سے ( منع کیا ) یہاں تک کہ وہ قبضے میں آ جائے، اور غوطہٰ خور کے غوطہٰ کو خریدنے سے ( منع کیا ) ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا حاتم بن اسماعيل، حدثنا جهضم بن عبد الله اليمامي، عن محمد بن ابراهيم الباهلي، عن محمد بن زيد العبدي، عن شهر بن حوشب، عن ابي سعيد الخدري، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن شراء ما في بطون الانعام حتى تضع وعما في ضروعها الا بكيل وعن شراء العبد وهو ابق وعن شراء المغانم حتى تقسم وعن شراء الصدقات حتى تقبض وعن ضربة الغايص