Loading...

Loading...
کتب
۱۷۱ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل کے حمل کو بیچنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان، عن ايوب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع حبل الحبلة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، وہ آپ سے کوئی چیز چاہ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تمہارے گھر میں کوئی چیز ہے ؟، اس نے عرض کیا: جی ہاں! ایک کمبل ہے جس کا ایک حصہ ہم اوڑھتے اور ایک حصہ بچھاتے ہیں، اور ایک پیالہ ہے جس سے ہم پانی پیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دونوں چیزیں میرے پاس لے آؤ ، وہ گیا، اور ان کو لے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ میں لیا پھر فرمایا: انہیں کون خریدتا ہے ؟ ایک شخص بولا: میں یہ دونوں چیزیں ایک درہم میں لیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک درہم پر کون بڑھاتا ہے ؟ یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین بار فرمایا، ایک شخص بولا: میں انہیں دو درہم میں لیتا ہوں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں چیزیں اس شخص کے ہاتھ بیچ دیں، پھر دونوں درہم انصاری کو دئیے اور فرمایا: ایک درہم کا اناج خرید کر اپنے گھر والوں کو دے دو، اور دوسرے کا ایک کلہاڑا خرید کر میرے پاس لاؤ ، اس نے ایسا ہی کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کلہاڑے کو لیا، اور اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لکڑی جما دی اور فرمایا: جاؤ اور لکڑیاں کاٹ کر لاؤ ( اور بیچو ) اور پندرہ دن تک میرے پاس نہ آؤ ، چنانچہ وہ لکڑیاں کاٹ کر لانے لگا اور بیچنے لگا، پھر وہ آپ کے پاس آیا، اور اس وقت اس کے پاس دس درہم تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ کا غلہ خرید لو، اور کچھ کا کپڑا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے کہ تم قیامت کے دن اس حالت میں آؤ کہ سوال کرنے کی وجہ سے تمہارے چہرے پر داغ ہو، یاد رکھو سوال کرنا صرف اس شخص کے لیے درست ہے جو انتہائی درجہ کا محتاج ہو، یا سخت قرض دار ہو یا تکلیف دہ خون بہا کی ادائیگی میں گرفتار ہو ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا الاخضر بن عجلان، حدثنا ابو بكر الحنفي، عن انس بن مالك، ان رجلا، من الانصار جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم يساله فقال " لك في بيتك شىء " . قال بلى حلس نلبس بعضه ونبسط بعضه وقدح نشرب فيه الماء . قال " ايتني بهما " . قال فاتاه بهما فاخذهما رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده ثم قال " من يشتري هذين " . فقال رجل انا اخذهما بدرهم . قال " من يزيد على درهم " . مرتين او ثلاثا قال رجل انا اخذهما بدرهمين . فاعطاهما اياه واخذ الدرهمين فاعطاهما الانصاري وقال " اشتر باحدهما طعاما فانبذه الى اهلك واشتر بالاخر قدوما فاتني به " . ففعل فاخذه رسول الله صلى الله عليه وسلم فشد فيه عودا بيده وقال " اذهب فاحتطب ولا اراك خمسة عشر يوما " . فجعل يحتطب ويبيع فجاء وقد اصاب عشرة دراهم فقال " اشتر ببعضها طعاما وببعضها ثوبا " . ثم قال " هذا خير لك من ان تجيء والمسالة نكتة في وجهك يوم القيامة ان المسالة لا تصلح الا لذي فقر مدقع او لذي غرم مفظع او دم موجع
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کے اقالے کو مان لے ( یعنی اس کے ساتھ بیع کے فسخ پر راضی ہو جائے ) تو اللہ تعالیٰ ( اس احسان کے بدلہ میں ) قیامت کے دن اس کے گناہوں کو مٹا دے گا ۔
حدثنا زياد بن يحيى ابو الخطاب، حدثنا مالك بن سعير، حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اقال مسلما اقاله الله عثرته يوم القيامة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک دفعہ قیمتیں چڑھ گئیں، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے ایک نرخ ( بھاؤ ) مقرر کر دیجئیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ہی نرخ مقرر کرنے والا ہے، کبھی کم کر دیتا ہے اور کبھی زیادہ کر دیتا ہے، وہی روزی دینے والا ہے، اور مجھے امید ہے کہ میں اپنے رب سے اس حال میں ملوں کہ کوئی مجھ سے جان یا مال میں کسی ظلم کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو ۱؎۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا حجاج، حدثنا حماد بن سلمة، عن قتادة، وحميد، وثابت، عن انس بن مالك، قال غلا السعر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا يا رسول الله قد غلا السعر فسعر لنا . فقال " ان الله هو المسعر القابض الباسط الرازق اني لارجو ان القى ربي وليس احد يطلبني بمظلمة في دم ولا مال
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مہنگائی بڑھ گئی، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ نرخ مقرر کر دیں تو اچھا رہے گا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری خواہش ہے کہ میں تم سے اس حال میں جدا ہوں کہ کوئی مجھ سے کسی زیادتی کا جو میں نے اس پر کی ہو مطالبہ کرنے والا نہ ہو ۔
حدثنا محمد بن زياد، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال غلا السعر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا لو قومت يا رسول الله قال " اني لارجو ان افارقكم ولا يطلبني احد منكم بمظلمة ظلمته
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں لے جائے جو نرمی کرنے والا ہو، خواہ بیچ رہا ہو یا خرید رہا ہو ۔
حدثنا محمد بن ابان البلخي ابو بكر، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن يونس بن عبيد، عن عطاء بن فروخ، قال قال عثمان بن عفان قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ادخل الله رجلا الجنة كان سهلا بايعا ومشتريا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم کرے، جو نرمی کرے جب بیچے، نرمی کرے جب خریدے، اور نرمی کرے جب تقاضا کرے ۔
حدثنا عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، حدثنا ابي، حدثنا ابو غسان، محمد بن مطرف عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " رحم الله عبدا سمحا اذا باع سمحا اذا اشترى سمحا اذا اقتضى
قیلہ ام بنی انمار رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی عمرہ کے موقع پر مروہ پہاڑی کے پاس تھے، میں نے عرض کیا کہ میں ایک خرید و فروخت کرنے والی عورت ہوں، جب میں کوئی چیز خریدنا چاہتی ہوں تو پہلے اس کی قیمت اس سے کم لگاتی ہوں، جتنے میں خریدنا چاہتی ہوں، پھر تھوڑا تھوڑا بڑھاتی ہوں یہاں تک کہ اس قیمت تک پہنچ جاتی ہوں جو میں چاہتی ہوں، اور جب میں کسی چیز کو بیچنا چاہتی ہوں تو اس کی قیمت اس سے زیادہ لگاتی ہوں، جتنے میں بیچنا چاہتی ہوں، پھر تھوڑا تھوڑا کم کرتی ہوں یہاں تک کہ اس قیمت کو پہنچ جاتی ہوں جتنے میں اسے میں دینا چاہتی ہوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیلہ! ایسا نہ کرو جب تم کوئی چیز خریدنا چاہو تو وہی قیمت لگاؤ جو تمہارے پیش نظر ہو چاہے وہ چیز دی جائے یا نہ دی جائے، اور جب تم کوئی چیز بیچنا چاہو تو وہی قیمت کہو جو تمہارے پیش نظر ہے، چاہے تم دے سکو یا نہ دے سکو ۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا يعلى بن شبيب، عن عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن قيلة ام بني انمار، قالت اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض عمره عند المروة فقلت يا رسول الله اني امراة ابيع واشتري فاذا اردت ان ابتاع الشىء سمت به اقل مما اريد ثم زدت ثم زدت حتى ابلغ الذي اريد واذا اردت ان ابيع الشىء سمت به اكثر من الذي اريد ثم وضعت حتى ابلغ الذي اريد . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تفعلي يا قيلة اذا اردت ان تبتاعي شييا فاستامي به الذي تريدين اعطيت او منعت " . وقال " اذا اردت ان تبيعي شييا فاستامي به الذي تريدين اعطيت او منعت
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھا آپ نے مجھ سے فرمایا: کیا تم اپنے اس پانی ڈھونے والے اونٹ کو ایک دینار میں بیچتے ہو؟ اور اللہ تمہیں بخشے میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب میں مدینہ پہنچ جاؤں، تو آپ ہی کا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا دو دینار میں بیچتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر آپ اسی طرح ایک ایک دینار بڑھاتے گئے اور ہر دینار پر فرماتے رہے: اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے! یہاں تک کہ بیس دینار تک پہنچ گئے، پھر جب میں مدینہ آیا تو اونٹ پکڑے ہوئے اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال! انہیں مال غنیمت میں سے بیس دینار دے دو اور مجھ سے فرمایا: اپنا اونٹ بھی لے جاؤ، اور اسے اپنے گھر والوں میں پہنچا دو ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا يزيد بن هارون، عن الجريري، عن ابي نضرة، عن جابر بن عبد الله، قال كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في غزوة فقال لي " اتبيع ناضحك هذا بدينار والله يغفر لك " . قلت يا رسول الله هو ناضحكم اذا اتيت المدينة . قال " فتبيعه بدينارين والله يغفر لك " . قال فما زال يزيدني دينارا دينارا ويقول مكان كل دينار " والله يغفر لك " . حتى بلغ عشرين دينارا فلما اتيت المدينة اخذت براس الناضح فاتيت به النبي صلى الله عليه وسلم فقال " يا بلال اعطه من العيبة عشرين دينارا " . وقال " انطلق بناضحك واذهب به الى اهلك
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج نکلنے سے پہلے مول بھاؤ کرنے سے، اور دودھ والے جانور کو ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، وسهل بن ابي سهل، قالا حدثنا عبيد الله بن موسى، انبانا الربيع بن حبيب، عن نوفل بن عبد الملك، عن ابيه، عن علي، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن السوم قبل طلوع الشمس وعن ذبح ذوات الدر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تین آدمیوں سے اس قدر ناراض ہو گا کہ نہ تو ان سے بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ہی انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا: ایک وہ شخص جس کے پاس چٹیل میدان میں ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور وہ اسے مسافر کو نہ دے، دوسرے وہ شخص جو اپنا مال نماز عصر کے بعد بیچے اور اللہ کی قسم کھائے کہ اسے اس نے اتنے اتنے میں خریدا ہے، اور خریدار اسے سچا جانے حالانکہ وہ اس کے برعکس تھا، تیسرے وہ شخص جس نے کسی امام سے بیعت کی، اور اس نے صرف دنیا کے لیے بیعت کی، اگر اس نے اس کو کچھ دیا تو بیعت پوری کی، اور اگر نہیں دیا تو نہیں پوری کی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، واحمد بن سنان، قالوا حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاثة لا يكلمهم الله عز وجل يوم القيامة ولا ينظر اليهم ولا يزكيهم ولهم عذاب اليم رجل على فضل ماء بالفلاة يمنعه ابن السبيل ورجل بايع رجلا سلعة بعد العصر فحلف بالله لاخذها بكذا وكذا فصدقه وهو على غير ذلك ورجل بايع اماما لا يبايعه الا لدنيا فان اعطاه منها وفى له وان لم يعطه منها لم يف له
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟ وہ نامراد ہوئے اور بڑے نقصان میں پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنا تہمد ( لنگی ) ٹخنے سے نیچے لٹکائے، اور جو دے کر احسان جتائے، اور جو اپنے سامان کو جھوٹی قسم کے ذریعہ رواج دے ۔
حدثنا علي بن محمد، ومحمد بن اسماعيل، قالا حدثنا وكيع، عن المسعودي، عن علي بن مدرك، عن خرشة بن الحر، عن ابي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن علي بن مدرك، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن خرشة بن الحر، عن ابي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة ولا ينظر اليهم ولا يزكيهم ولهم عذاب اليم " . فقلت من هم يا رسول الله فقد خابوا وخسروا . قال " المسبل ازاره والمنان عطاءه والمنفق سلعته بالحلف الكاذب
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیع ( خرید و فروخت ) میں قسمیں کھانے سے بچو، کیونکہ اس سے گرم بازاری تو ہو جاتی ہے اور برکت جاتی رہتی ہے ۔
حدثنا يحيى بن خلف، حدثنا عبد الاعلى، ح وحدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، قالا حدثنا محمد بن اسحاق، عن معبد بن كعب بن مالك، عن ابي قتادة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اياكم والحلف في البيع فانه ينفق ثم يمحق
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی تابیر ( قلم ) کئے ہوئے کھجور کا درخت خریدے، تو اس میں لگنے والا پھل بیچنے والے کا ہو گا، الا یہ کہ خریدار خود پھل لینے کی شرط طے کر لے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا مالك بن انس، قال حدثني نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اشترى نخلا قد ابرت فثمرتها للبايع الا ان يشترط المبتاع " . حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص تابیر ( قلم ) کئے ہوئے کھجور کا درخت بیچے تو اس میں لگنے والا پھل بیچنے والے کا ہو گا، سوائے اس کے کہ خریدنے والا خود لینے کی شرط طے کر لے، اور جو شخص کوئی غلام بیچے اور اس غلام کے پاس مال ہو تو وہ مال اس کا ہو گا، جس نے اس کو بیچا ہے سوائے اس کے کہ خریدنے والا شرط طے کر لے کہ اسے میں لوں گا،، ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، ح وحدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، جميعا عن ابن شهاب الزهري، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من باع نخلا قد ابرت فثمرتها للذي باعها الا ان يشترط المبتاع ومن ابتاع عبدا وله مال فماله للذي باعه الا ان يشترط المبتاع
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کھجور کا درخت بیچے، اور کوئی غلام بیچے تو وہ ان دونوں کو اکٹھا بیچ سکتا ہے ۔
حدثنا محمد بن الوليد، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عبد ربه بن سعيد، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " من باع نخلا وباع عبدا جمعهما جميعا
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ کھجور کے درخت کا پھل اس شخص کا ہو گا جس نے اس کی تابیر ( پیوندکاری ) کی، سوائے اس کے کہ خریدنے والا خود لینے کی شرط طے کر لے، اور جس نے کوئی غلام بیچا اور اس غلام کے پاس مال ہو تو غلام کا مال اس کا ہو گا جس نے اس کو بیچا، سوائے اس کے کہ خریدنے والا شرط طے کر لے۔
حدثنا عبد ربه بن خالد النميري ابو المغلس، حدثنا الفضيل بن سليمان، عن موسى بن عقبة، حدثني اسحاق بن يحيى بن الوليد بن عبادة بن الصامت، عن عبادة بن الصامت، قال قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ثمر النخل لمن ابرها الا ان يشترط المبتاع وان مال المملوك لمن باعه الا ان يشترط المبتاع
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پختگی ظاہر ہونے سے پہلے پھلوں کو نہ بیچو، آپ نے اس سے بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو منع کیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن نافع، عن ابن عمر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تبيعوا الثمرة حتى يبدو صلاحها " . نهى البايع والمشتري
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھلوں کو ان کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے نہ بیچو ۔
حدثنا احمد بن عيسى المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، عن يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، حدثني سعيد بن المسيب، وابو سلمة بن عبد الرحمن عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تبيعوا الثمر حتى يبدو صلاحه
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو ان کی پختگی ظاہر ہو جانے سے پہلے بیچنے سے منع کیا ہے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان، عن ابن جريج، عن عطاء، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الثمر حتى يبدو صلاحه