Loading...

Loading...
کتب
۱۷۱ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کی بیع سے منع کیا ہے یہاں تک کہ وہ پکنے کے قریب ہو جائے، اور انگور کی بیع سے منع کیا ہے یہاں تک کہ وہ سیاہ ہو جائے، اور غلے کی بیع سے ( بھی منع کیا ہے ) یہاں تک کہ وہ سخت ہو جائے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا حجاج، حدثنا حماد، عن حميد، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الثمرة حتى تزهو وعن بيع العنب حتى يسود وعن بيع الحب حتى يشتد
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سال کے لیے ( پھلوں کی ) بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا هشام بن عمار، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا سفيان، عن حميد الاعرج، عن سليمان بن عتيق، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع السنين
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے پھل بیچا، پھر اس کو کوئی آفت لاحق ہوئی، تو وہ اپنے بھائی ( خریدار ) کے مال سے کچھ نہ لے، آخر کس چیز کے بدلہ تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کا مال لے گا ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا يحيى بن حمزة، حدثنا ثور بن يزيد، عن ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من باع ثمرا فاصابته جايحة فلا ياخذ من مال اخيه شييا علام ياخذ احدكم مال اخيه المسلم
سوید بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور مخرفہ عبدی رضی اللہ عنہ دونوں ہجر سے کپڑا لائے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ نے ہم سے پاجاموں کا مول بھاؤ کیا، ہمارے پاس ایک تولنے والا تھا جو اجرت لے کر تولتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: او تولنے والے! تولو اور پلڑا جھکا کر تولو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، ومحمد بن اسماعيل، قالوا حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن سماك بن حرب، عن سويد بن قيس، قال جلبت انا ومخرفة العبدي، بزا من هجر فجاءنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فساومنا سراويل وعندنا وزان يزن بالاجر فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " يا وزان زن وارجح
سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے مالک ابوصفوان بن عمیرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ہجرت سے پہلے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ایک پاجامہ بیچا، آپ نے مجھے قیمت تول کر دی، اور جھکا کر دی ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن الوليد، قالا حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن سماك بن حرب، قال سمعت مالكا ابا صفوان بن عميرة، قال بعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم رجل سراويل قبل الهجرة فوزن لي فارجح لي
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تولو تو جھکا کر تولو ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الصمد، حدثنا شعبة، عن محارب بن دثار، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا وزنتم فارجحوا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو مدینہ والے ناپ تول میں سب سے برے تھے، اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «ويل للمطففين» خرابی ہے کم تولنے والوں کے لیے الخ اتاری اس کے بعد وہ ٹھیک ٹھیک ناپنے لگے۔
حدثنا عبد الرحمن بن بشر بن الحكم، ومحمد بن عقيل بن خويلد، قالا حدثنا علي بن الحسين بن واقد، حدثني ابي، حدثني يزيد النحوي، ان عكرمة، حدثه عن ابن عباس، قال لما قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة كانوا من اخبث الناس كيلا فانزل الله سبحانه {ويل للمطففين} فاحسنوا الكيل بعد ذلك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو گیہوں ( غلہ ) بیچ رہا تھا، آپ نے اپنا ہاتھ اس کے اندر ڈالا تو وہ«مغشوش» ( غیر خالص اور دھوکے والا گڑبڑ ) تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو دھوکہ فریب دے، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال مر رسول الله صلى الله عليه وسلم برجل يبيع طعاما فادخل يده فيه فاذا هو مغشوش فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس منا من غش
ابوالحمراء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جس کے پاس ایک برتن میں گیہوں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس گیہوں میں ڈالا پھر فرمایا: شاید تم نے دھوکا دیا ہے، جو ہمیں دھوکا دے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو نعيم، حدثنا يونس بن ابي اسحاق، عن ابي داود، عن ابي الحمراء، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بجنبات رجل عنده طعام في وعاء فادخل يده فيه فقال " لعلك غششته من غشنا فليس منا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اناج خریدے تو اس پر قبضہ سے پہلے اسے نہ بیچے ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا مالك بن انس، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ابتاع طعاما فلا يبعه حتى يستوفيه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو گیہوں خریدے تو اس پر قبضہ کے پہلے اس کو نہ بیچے ۔ ابوعوانہ اپنی حدیث میں کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں ہر چیز کو گیہوں ہی کی طرح سمجھتا ہوں۔
حدثنا عمران بن موسى الليثي، حدثنا حماد بن زيد، ح وحدثنا بشر بن معاذ الضرير، حدثنا ابو عوانة، وحماد بن زيد، قالا حدثنا عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ابتاع طعاما فلا يبعه حتى يستوفيه " . قال ابو عوانة في حديثه قال ابن عباس واحسب كل شىء مثل الطعام
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اناج کو بیچنے سے منع کیا ہے جب تک اس میں بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کے صاع نہ چلیں ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن ابن ابي ليلى، عن ابي الزبير، عن جابر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الطعام حتى يجري فيه الصاعان صاع البايع وصاع المشتري
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ سواروں سے گیہوں ( غلہ ) کا ڈھیر بغیر ناپے تولے اندازے سے خریدتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے بیچنے سے اس وقت تک منع کیا جب تک کہ ہم اسے اس کی جگہ سے منتقل نہ کر دیں۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، حدثنا عبد الله بن نمير، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال كنا نشتري الطعام من الركبان جزافا فنهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نبيعه حتى ننقله من مكانه
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بازار میں کھجور بیچتا تھا، تو میں ( خریدار سے ) کہتا: میں نے اپنے اس ٹوکرے میں اتنا ناپ رکھا ہے، چنانچہ اسی حساب سے میں کھجور کے ٹوکرے دے دیتا، اور جو زائد ہوتا نکال لیا کرتا تھا، پھر مجھے اس میں کچھ شبہ معلوم ہوا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کہو کہ اس میں اتنے صاع ہیں تو اس کو خریدنے والے کے سامنے ناپ دیا کرو ۔
حدثنا علي بن ميمون الرقي، حدثنا عبد الله بن يزيد، عن ابن لهيعة، عن موسى بن وردان، عن سعيد بن المسيب، عن عثمان بن عفان، قال كنت ابيع التمر في السوق فاقول كلت في وسقي هذا كذا . فادفع اوساق التمر بكيله واخذ شفي فدخلني من ذلك شىء فسالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اذا سميت الكيل فكله
عبداللہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اپنا اناج ناپ لیا کرو، اس میں تمہارے لیے برکت ہو گی ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا محمد بن عبد الرحمن اليحصبي، عن عبد الله بن بسر المازني، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " كيلوا طعامكم يبارك لكم فيه
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا اناج ناپ لیا کرو، اس میں تمہارے لیے برکت ہو گی ۔
حدثنا عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، حدثنا بقية بن الوليد، عن بحير بن سعد، عن خالد بن معدان، عن المقدام بن معديكرب، عن ابي ايوب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كيلوا طعامكم يبارك لكم فيه
ابواسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبیط کے بازار تشریف لے گئے، اس کو دیکھا تو آپ نے فرمایا: یہ بازار تمہارے لیے نہیں ہے پھر ایک دوسرے بازار میں تشریف لے گئے، اور اس کو دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بازار بھی تمہارے لیے نہیں ہے، پھر اس بازار میں پلٹے اور اس میں ادھر ادھر پھرے، پھر فرمایا: یہ تمہارا بازار ہے، اس میں نہ مال کم دیا جائے گا اور نہ اس میں کوئی محصول ( ٹیکس ) عائد کیا جائے گا ۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا اسحاق بن ابراهيم بن سعيد، حدثني صفوان بن سليم، حدثني محمد، وعلي، ابنا الحسن بن ابي الحسن البراد ان الزبير بن المنذر بن ابي اسيد الساعدي، حدثهما ان اباه المنذر حدثه عن ابي اسيد، ان ابا اسيد، حدثه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ذهب الى سوق النبيط فنظر اليه فقال " ليس هذا لكم بسوق " . ثم ذهب الى سوق فنظر اليه فقال " ليس هذا لكم بسوق " . ثم رجع الى هذا السوق فطاف فيه ثم قال " هذا سوقكم فلا ينتقصن ولا يضربن عليه خراج
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو صبح سویرے نماز فجر کے لیے گیا، وہ ایمان کا جھنڈا لے کر گیا، اور جو صبح سویرے بازار گیا وہ ابلیس کا جھنڈا لے کر گیا ۔
حدثنا ابراهيم بن المستمر العروقي، حدثنا ابي، حدثنا عبيس بن ميمون، حدثنا عون العقيلي، عن ابي عثمان النهدي، عن سلمان، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من غدا الى صلاة الصبح غدا براية الايمان ومن غدا الى السوق غدا براية ابليس
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بازار میں داخل ہوتے وقت دعا یہ پڑھے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير كله وهو على كل شيء قدير» اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے حکمرانی ہے، اور اسی کے لیے ہر طرح کی حمد و ثناء ہے، وہی زندگی، اور موت دیتا ہے، اور وہ زندہ ہے، اس کے لیے موت نہیں، اسی کے ہاتھ میں سارا خیر ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھے گا، اور اس کی دس لاکھ برائیاں مٹا دے گا، اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر تعمیر کرے گا ۱؎۔
حدثنا بشر بن معاذ الضرير، حدثنا حماد بن زيد، عن عمرو بن دينار، مولى ال الزبير عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قال حين يدخل السوق لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حى لا يموت بيده الخير كله وهو على كل شىء قدير - كتب الله له الف الف حسنة ومحا عنه الف الف سيية وبنى له بيتا في الجنة
صخر غامدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی سریہ یا لشکر روانہ کرنا ہوتا تو اسے دن کے ابتدائی حصہ ہی میں روانہ فرماتے ۱؎۔ راوی کہتے ہیں: غامدی صخر تاجر تھے، وہ اپنا مال تجارت صبح سویرے ہی بھیجتے تھے بالآخر وہ مالدار ہو گئے، اور ان کی دولت بڑھ گئی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا هشيم، عن يعلى بن عطاء، عن عمارة بن حديد، عن صخر الغامدي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم بارك لامتي في بكورها " . قال وكان اذا بعث سرية او جيشا بعثهم في اول النهار . قال وكان صخر رجلا تاجرا فكان يبعث تجارته في اول النهار فاثرى وكثر ماله