Loading...

Loading...
کتب
۱۷۱ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کو جمعرات کی صبح کے وقت میں برکت عطا فرما ۔
حدثنا ابو مروان، محمد بن عثمان العثماني حدثنا محمد بن ميمون المدني، عن عبد الرحمن بن ابي الزناد، عن ابيه، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم بارك لامتي في بكورها يوم الخميس
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما ۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا اسحاق بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين، عن عبد الرحمن بن ابي بكر الجدعاني، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اللهم بارك لامتي في بكورها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے «مصّراۃ» خریدی تو اسے تین دن تک اختیار ہے، چاہے تو واپس کر دے، چاہے تو رکھے، اگر واپس کرے تو اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی واپس کرے ، «سمراء» ( یعنی گیہوں ) کا واپس کرنا ضروری نہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا ابو اسامة، عن هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ابتاع مصراة فهو بالخيار ثلاثة ايام فان ردها رد معها صاعا من تمر لا سمراء " . يعني الحنطة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اگر کوئی «محفَلہ» ( «مصّراۃ» ) کو بیچے تو اسے تین دن تک اختیار ہے، اگر وہ اسے واپس کر دے تو اس کے دودھ کے دوگنا یا برابر گیہوں اس کو دے ۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا صدقة بن سعيد الحنفي، حدثنا جميع بن عمير التيمي، حدثنا عبد الله بن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ايها الناس من باع محفلة فهو بالخيار ثلاثة ايام فان ردها رد معها مثلى لبنها - او قال مثل لبنها - قمحا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں صادق و مصدوق ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے ہم سے بیان کیا، اور فرمایا: «محفّلات» کا بیچنا فریب اور دھوکہ ہے، اور مسلمان کو دھوکہ دینا حلال اور جائز نہیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا وكيع، حدثنا المسعودي، عن جابر، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عبد الله بن مسعود، انه قال اشهد على الصادق المصدوق ابي القاسم صلى الله عليه وسلم انه حدثنا قال " بيع المحفلات خلابة ولا تحل الخلابة لمسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ غلام کی کمائی اس کی ہے، جو اس کا ضامن ہو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن ابن ابي ذيب، عن مخلد بن خفاف بن ايماء بن رحضة الغفاري، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى ان خراج العبد بضمانه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا، پھر اس سے مزدوری کرائی، بعد میں اسے اس میں کوئی عیب نظر آیا، اسے بیچنے والے کو واپس کر دیا، بیچنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے میرے غلام سے مزدوری کرائی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ فائدہ اسے ضمانت کی وجہ سے ہے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا مسلم بن خالد الزنجي، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان رجلا، اشترى عبدا فاستغله ثم وجد به عيبا فرده . فقال يا رسول الله انه قد استغل غلامي . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الخراج بالضمان
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیچنے والے پر غلام یا لونڈی کو واپس لینے کی ذمہ داری تین دن تک ہے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا عبدة بن سليمان، عن سعيد، عن قتادة، عن الحسن، ان شاء الله عن سمرة بن جندب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عهدة الرقيق ثلاثة ايام
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار دن کے بعد بیچنے والا ذمہ دار نہیں ۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا هشيم، عن يونس بن عبيد، عن الحسن، عن عقبة بن عامر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا عهدة بعد اربع
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی ایسی چیز بیچے جس میں عیب ہو، مگر یہ کہ وہ اس کو اس سے بیان کر دے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا ابي، سمعت يحيى بن ايوب، يحدث عن يزيد بن ابي حبيب، عن عبد الرحمن بن شماسة، عن عقبة بن عامر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " المسلم اخو المسلم ولا يحل لمسلم باع من اخيه بيعا فيه عيب الا بينه له
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو کوئی عیب دار چیز بیچے اور اس کے عیب کو بیان نہ کرے، تو وہ برابر اللہ تعالیٰ کے غضب میں رہے گا، اور فرشتے اس پر برابر لعنت کرتے رہیں گے ۔
حدثنا عبد الوهاب بن الضحاك، حدثنا بقية بن الوليد، عن معاوية بن يحيى، عن مكحول، وسليمان بن موسى، عن واثلة بن الاسقع، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من باع عيبا لم يبينه لم يزل في مقت من الله ولم تزل الملايكة تلعنه
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب قیدی ( جو آپس میں قریبی عزیز ہوتے ) لائے جاتے، تو آپ ان سب کو ایک گھر کے لوگوں کو دے دیتے، اس لیے کہ آپ ان کے درمیان جدائی ڈالنے کو ناپسند فرماتے۔
حدثنا علي بن محمد، ومحمد بن اسماعيل، قالا حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن جابر، عن القاسم بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن عبد الله بن مسعود، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا اتي بالسبى اعطى اهل البيت جميعا كراهية ان يفرق بينهم
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو غلام ہبہ کئے جو دونوں سگے بھائی تھے، میں نے ان میں سے ایک کو بیچ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: دونوں غلام کہاں گئے ؟ میں نے عرض کیا: میں نے ایک کو بیچ دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو واپس لے لو ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عفان، عن حماد، انبانا الحجاج، عن الحكم، عن ميمون بن ابي شبيب، عن علي، قال وهب لي رسول الله صلى الله عليه وسلم غلامين اخوين فبعت احدهما فقال " ما فعل الغلامان " . قلت بعت احدهما قال " رده
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو ماں بیٹے، اور بھائی بھائی کے درمیان جدائی ڈال دے۔
حدثنا محمد بن عمر بن الهياج، حدثنا عبيد الله بن موسى، انبانا ابراهيم بن اسماعيل، عن طليق بن عمران، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم من فرق بين الوالدة وولدها وبين الاخ وبين اخيه
عبدالمجید بن وہب کہتے ہیں کہ مجھ سے عداء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم کو وہ تحریر پڑھ کر نہ سناؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے لکھی تھی؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ ضرور سنائیں، تو انہوں نے ایک تحریر نکالی، میں نے جو دیکھا تو اس میں لکھا تھا: یہ وہ ہے جو عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خریدا، عداء نے آپ سے ایک غلام یا ایک لونڈی خریدی، اس میں نہ تو کوئی بیماری ہے، نہ وہ چوری کا مال ہے، اور نہ وہ مال حرام ہے، مسلمان سے مسلمان کی بیع ہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عباد بن ليث، صاحب الكرابيسي حدثنا عبد المجيد بن وهب، قال قال لي العداء بن خالد بن هوذة الا نقريك كتابا كتبه لي رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال قلت بلى . فاخرج لي كتابا فاذا فيه " هذا ما اشترى العداء بن خالد بن هوذة من محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم اشترى منه عبدا او امة لا داء ولا غايلة ولا خبثة بيع المسلم للمسلم
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی لونڈی خریدے تو کہے: «اللهم إني أسألك خيرها وخير ما جبلتها عليه وأعوذ بك من شرها وشر ما جبلتها عليه» اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی کا طالب ہوں، اور اس چیز کی بھلائی کا جو تو نے اس کی خلقت میں رکھی ہے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس کی برائی سے، اور اس چیز کی برائی سے جو تو نے اس کی خلقت میں رکھی ہے اور برکت کی دعا کرے، اور جب کوئی اونٹ خریدے تو اس کے کوہان کے اوپر کا حصہ پکڑ کر برکت کی دعا کرے، اور ایسا ہی کہے ۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن ابن عجلان، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اشترى احدكم الجارية فليقل اللهم اني اسالك خيرها وخير ما جبلتها عليه واعوذ بك من شرها وشر ما جبلتها عليه وليدع بالبركة واذا اشترى احدكم بعيرا فلياخذ بذروة سنامه وليدع بالبركة وليقل مثل ذلك
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے کو سونے سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد، اور گیہوں کو گیہوں سے اور جو کو جو سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد، اور کھجور کا کھجور سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، وهشام بن عمار، ونصر بن علي، ومحمد بن الصباح، قالوا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن مالك بن اوس بن الحدثان النصري، قال سمعت عمر بن الخطاب، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الذهب بالذهب ربا الا هاء وهاء والبر بالبر ربا الا هاء وهاء والشعير بالشعير ربا الا هاء وهاء والتمر بالتمر ربا الا هاء وهاء
مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عبید سے روایت ہے کہ عبادہ بن صامت اور معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں کسی کلیسا یا گرجا میں اکٹھا ہوئے، تو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چاندی کو چاندی سے، اور سونے کو سونے سے، اور گیہوں کو گیہوں سے، اور جو کو جو سے، اور کھجور کو کھجور سے بیچنے سے منع کیا ہے۔ ( مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عبید ان دونوں میں سے ایک نے کہا ہے: اور نمک کو نمک سے اور دوسرے نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے ) اور ہم کو حکم دیا ہے کہ ہم گیہوں کو جو سے اور جو کو گیہوں سے نقدا نقد ( برابر یا کم و بیش ) جس طرح چاہیں بیچیں۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا يزيد بن زريع، ح وحدثنا محمد بن خالد بن خداش، حدثنا اسماعيل ابن علية، قالا حدثنا سلمة بن علقمة التميمي، حدثنا محمد بن سيرين، ان مسلم بن يسار، وعبد الله بن عبيد، حدثاه قالا، جمع المنزل بين عبادة بن الصامت ومعاوية اما في كنيسة واما في بيعة فحدثهم عبادة بن الصامت فقال نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الورق بالورق والذهب بالذهب والبر بالبر والشعير بالشعير والتمر بالتمر - قال احدهما والملح بالملح ولم يقله الاخر - وامرنا ان نبيع البر بالشعير والشعير بالبر يدا بيد كيف شينا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاندی کو چاندی سے، اور سونے کو سونے سے، اور جو کو جو سے اور گیہوں کو گیہوں سے برابر برابر بیچیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يعلى بن عبيد، حدثنا فضيل بن غزوان، عن ابن ابي نعم، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الفضة بالفضة والذهب بالذهب والشعير بالشعير والحنطة بالحنطة مثلا بمثل
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مختلف قسم کی مخلوط کھجوریں کھانے کو دیتے تھے، تو ہم انہیں عمدہ کھجور سے بدل لیتے تھے، اور اپنی کھجور بدلہ میں زیادہ دیتے تھے، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک صاع کھجور کو دو صاع کھجور سے اور ایک درہم کو دو درہم سے بیچنا درست نہیں، درہم کو درہم سے، اور دینار کو دینار سے، برابر برابر وزن کر کے بیچو، ان میں کمی بیشی جائز نہیں ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي سعيد، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يرزقنا تمرا من تمر الجمع فنستبدل به تمرا هو اطيب منه ونزيد في السعر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يصلح صاع تمر بصاعين ولا درهم بدرهمين والدرهم بالدرهم والدينار بالدينار لا فضل بينهما الا وزنا