Loading...

Loading...
کتب
۱۳۲ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز کی ایک رکعت پالی اس نے نماز پالی ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا عبد الله بن ادريس، قال حدثنا عبيد الله بن عمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من ادرك من الصلاة ركعة فقد ادركها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز کی ایک رکعت پالی اس نے نماز کو پا لیا ۔
اخبرني يزيد بن محمد بن عبد الصمد، قال حدثنا هشام العطار، قال حدثنا اسماعيل، - وهو ابن سماعة - عن موسى بن اعين، عن ابي عمرو الاوزاعي، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ادرك من الصلاة ركعة فقد ادرك الصلاة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز کی ایک رکعت پالی اس نے نماز پالی ۔
اخبرني شعيب بن شعيب بن اسحاق، قال حدثنا ابو المغيرة، قال حدثنا الاوزاعي، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ادرك من الصلاة ركعة فقد ادركها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کی یا کسی اور نماز کی ایک رکعت پالی اس کی نماز مکمل ہو گئی ۱؎۔
اخبرني موسى بن سليمان بن اسماعيل بن القاسم، قال حدثنا بقية، عن يونس، قال حدثني الزهري، عن سالم، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ادرك ركعة من الجمعة او غيرها فقد تمت صلاته
سالم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی نماز کی ایک رکعت پالی اس نے نماز پالی البتہ وہ چھٹی ہوئی رکعتوں کو پڑھ لے ۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل الترمذي، قال حدثنا ايوب بن سليمان، قال حدثنا ابو بكر، عن سليمان بن بلال، عن يونس، عن ابن شهاب، عن سالم، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من ادرك ركعة من صلاة من الصلوات فقد ادركها الا انه يقضي ما فاته
عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج نکلتا ہے تو اس کے ساتھ شیطان کی سینگ ہوتی ہے ۱؎، پھر جب سورج بلند ہو جاتا ہے تو وہ اس سے الگ ہو جاتا ہے، پھر جب دوپہر کو سورج سیدھائی پر آ جاتا ہے تو پھر اس سے مل جاتا ہے، اور جب ڈھل جاتا ہے تو الگ ہو جاتا ہے، پھر جب سورج ڈوبنے کے قریب ہوتا ہے، تو اس سے مل جاتا ہے، پھر جب سورج ڈوب جاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہو جاتا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( تینوں ) اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن عبد الله الصنابحي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الشمس تطلع ومعها قرن الشيطان فاذا ارتفعت فارقها فاذا استوت قارنها فاذا زالت فارقها فاذا دنت للغروب قارنها فاذا غربت فارقها " . ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصلاة في تلك الساعات
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تین اوقات ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے سے اور اپنے مردوں کو دفنانے سے منع کرتے تھے: ایک تو جس وقت سورج نکل رہا ہو یہاں تک کہ بلند ہو جائے، دوسرے جس وقت ٹھیک دوپہر ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، تیسرے جس وقت سورج ڈوبنے کے لیے مائل ہو جائے یہاں تک کہ ڈوب جائے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله، عن موسى بن علي بن رباح، قال سمعت ابي يقول، سمعت عقبة بن عامر الجهني، يقول ثلاث ساعات كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهانا ان نصلي فيهن او نقبر فيهن موتانا حين تطلع الشمس بازغة حتى ترتفع وحين يقوم قايم الظهيرة حتى تميل وحين تضيف الشمس للغروب حتى تغرب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے، اور فجر کے بعد ( بھی ) یہاں تک کہ سورج نکل آئے۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن الصلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس وعن الصلاة بعد الصبح حتى تطلع الشمس
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سنا ہے، جن میں عمر رضی اللہ عنہ بھی ہیں اور وہ میرے نزدیک سب سے محبوب تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کے بعد نماز سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ سورج نکل آئے ۱؎، اور عصر کے بعد نماز سے منع فرمایا، یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے۔
اخبرنا احمد بن منيع، قال حدثنا هشيم، قال انبانا منصور، عن قتادة، قال حدثنا ابو العالية، عن ابن عباس، قال سمعت غير، واحد، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم عمر - وكان من احبهم الى - ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الصلاة بعد الفجر حتى تطلع الشمس وعن الصلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی سورج نکلتے یا ڈوبتے وقت نماز پڑھنے کا قصد نہ کرے ۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يتحر احدكم فيصلي عند طلوع الشمس وعند غروبها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کے نکلنے یا اس کے ڈوبنے کے ساتھ نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، انبانا خالد، حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان يصلى مع طلوع الشمس او غروبها
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ تین اوقات ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے، یا اپنے مردوں کو قبر میں دفنانے سے منع فرماتے تھے: ایک جس وقت سورج نکل رہا ہو، یہاں تک کہ بلند ہو جائے، دوسرے جس وقت ٹھیک دوپہر ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، تیسرے جس وقت سورج ڈوبنے کے لیے مائل ہو یہاں تک کہ ڈوب جائے۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، قال حدثنا سفيان، - وهو ابن حبيب - عن موسى بن على، عن ابيه، قال سمعت عقبة بن عامر، يقول ثلاث ساعات كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهانا ان نصلي فيهن او نقبر فيهن موتانا حين تطلع الشمس بازغة حتى ترتفع وحين يقوم قايم الظهيرة حتى تميل وحين تضيف للغروب حتى تغرب
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کے بعد سورج نکلنے تک، اور عصر کے بعد سورج ڈوبنے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
اخبرنا مجاهد بن موسى، قال حدثنا ابن عيينة، عن ضمرة بن سعيد، سمع ابا سعيد الخدري، يقول نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصلاة بعد الصبح حتى الطلوع وعن الصلاة بعد العصر حتى الغروب
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: فجر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اور عصر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے ۔
حدثنا عبد الحميد بن محمد، قال حدثنا مخلد، عن ابن جريج، عن ابن شهاب، عن عطاء بن يزيد، انه سمع ابا سعيد الخدري، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا صلاة بعد الفجر حتى تبزغ الشمس ولا صلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس
اس سند سے بھی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔
اخبرني محمود بن غيلان، حدثنا الوليد، قال اخبرني عبد الرحمن بن نمر، عن ابن شهاب، عن عطاء بن يزيد، عن ابي سعيد الخدري، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بنحوه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز سے منع فرمایا ہے۔
اخبرنا احمد بن حرب، قال حدثنا سفيان، عن هشام بن حجير، عن طاوس، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن الصلاة بعد العصر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ سے وہم ہوا ہے ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف یہ فرمایا ہے: سورج نکلتے یا ڈوبتے وقت تم اپنی نماز کا ارادہ نہ کرو، اس لیے کہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے ۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك المخرمي، قال حدثنا الفضل بن عنبسة، قال حدثنا وهيب، عن ابن طاوس، عن ابيه، قال قالت عايشة رضى الله عنها اوهم عمر - رضى الله عنه - انما نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تتحروا بصلاتكم طلوع الشمس ولا غروبها فانها تطلع بين قرنى شيطان
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سورج کا کنارہ نکل آئے تو نماز کو مؤخر کرو، یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائے، اور جب سورج کا کنارہ ڈوب جائے تو نماز کو مؤخر کرو یہاں تک کہ وہ ڈوب جائے ۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا هشام بن عروة، قال اخبرني ابي قال، اخبرني ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا طلع حاجب الشمس فاخروا الصلاة حتى تشرق واذا غاب حاجب الشمس فاخروا الصلاة حتى تغرب
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا کوئی ایسی گھڑی ہے جس میں دوسری گھڑیوں کی بنسبت اللہ تعالیٰ کا قرب زیادہ ہوتا ہو، یا کوئی ایسا وقت ہے جس میں اللہ کا ذکر مطلوب ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اللہ عزوجل بندوں کے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری حصہ میں ہوتا ہے، اگر تم اس وقت اللہ عزوجل کو یاد کرنے والوں میں ہو سکتے ہو تو ہو جاؤ، کیونکہ فجر میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور سورج نکلنے تک رہتے ہیں، ( پھر چلے جاتے ہیں ) کیونکہ وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان نکلتا ہے، اور یہ کافروں کی نماز کا وقت ہے، لہٰذا ( اس وقت ) تم نماز نہ پڑھو، یہاں تک کہ سورج نیزہ کے برابر بلند ہو جائے، اور اس کی شعاع جاتی رہے پھر نماز میں فرشتے حاضر ہوتے، اور موجود رہتے ہیں یہاں تک کہ ٹھیک دوپہر میں سورج نیزہ کی طرح سیدھا ہو جائے، تو اس وقت بھی نماز نہ پڑھو، یہ ایسا وقت ہے جس میں جہنم کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، اور وہ بھڑکائی جاتی ہے، تو اس وقت بھی نماز نہ پڑھو یہاں تک کہ سایہ لوٹنے لگ جائے، پھر نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور موجود رہتے ہیں یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے، کیونکہ وہ شیطان کی دو سینگوں کے درمیان ڈوبتا ہے، اور وہ کافروں کی نماز کا وقت ہے ۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال انبانا ادم بن ابي اياس، قال حدثنا الليث بن سعد، قال حدثنا معاوية بن صالح، قال اخبرني ابو يحيى، سليم بن عامر وضمرة بن حبيب وابو طلحة نعيم بن زياد قالوا سمعنا ابا امامة الباهلي، يقول سمعت عمرو بن عبسة، يقول قلت يا رسول الله هل من ساعة اقرب من الاخرى او هل من ساعة يبتغى ذكرها قال " نعم ان اقرب ما يكون الرب عز وجل من العبد جوف الليل الاخر فان استطعت ان تكون ممن يذكر الله عز وجل في تلك الساعة فكن فان الصلاة محضورة مشهودة الى طلوع الشمس فانها تطلع بين قرنى الشيطان وهي ساعة صلاة الكفار فدع الصلاة حتى ترتفع قيد رمح ويذهب شعاعها ثم الصلاة محضورة مشهودة حتى تعتدل الشمس اعتدال الرمح بنصف النهار فانها ساعة تفتح فيها ابواب جهنم وتسجر فدع الصلاة حتى يفيء الفىء ثم الصلاة محضورة مشهودة حتى تغيب الشمس فانها تغيب بين قرنى شيطان وهي صلاة الكفار
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا الا یہ کہ سورج سفید، صاف اور بلند ہو۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن وهب بن الاجدع، عن علي، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصلاة بعد العصر الا ان تكون الشمس بيضاء نقية مرتفعة