Loading...

Loading...
کتب
۱۳۲ احادیث
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے عصر میں کچھ تاخیر کر دی، تو عروہ نے ان سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے، اور آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھائی ۱؎ اس پر عمر بن عبدالعزیز نے کہا: عروہ! جو تم کہہ رہے ہو اسے خوب سوچ سمجھ کر کہو، تو عروہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابی مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ہے وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے ابومسعود سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جبرائیل اترے، اور انہوں نے میری امامت کرائی، تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، آپ اپنی انگلیوں پر پانچوں نمازوں کو گن رہے تھے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، ان عمر بن عبد العزيز، اخر العصر شييا فقال له عروة اما ان جبريل عليه السلام قد نزل فصلى امام رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال عمر اعلم ما تقول يا عروة . فقال سمعت بشير بن ابي مسعود يقول سمعت ابا مسعود يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " نزل جبريل فامني فصليت معه ثم صليت معه ثم صليت معه ثم صليت معه ثم صليت معه " . يحسب باصابعه خمس صلوات
سیار بن سلامہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا وہ ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق سوال کر رہے تھے، شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے ( سیار بن سلامہ سے ) پوچھا: آپ نے اسے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ( میں نے اسی طرح سنا ہے ) جس طرح میں اس وقت آپ کو سنا رہا ہوں، میں نے اپنے والد سے سنا وہ ( ابوبرزہ سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق سوال کر رہے تھے، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات تک عشاء کی تاخیر کی پرواہ نہیں کرتے تھے، اور اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے، شعبہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں پھر سیار سے ملا اور میں نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اس وقت پڑھتے جس وقت سورج ڈھل جاتا، اور عصر اس وقت پڑھتے کہ آدمی ( عصر پڑھ کر ) مدینہ کے آخری کنارہ تک جاتا، اور سورج زندہ رہتا ۱؎ اور مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے مغرب کا کون سا وقت ذکر کیا، اس کے بعد میں پھر ان سے ملا تو میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھتے تو آدمی پڑھ کر پلٹتا اور اپنے ساتھی کا جسے وہ پہچانتا ہو چہرہ دیکھتا تو پہچان لیتا، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں ساٹھ سے سو آیتوں کے درمیان پڑھتے تھے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا سيار بن سلامة، قال سمعت ابي يسال ابا برزة، عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت انت سمعته قال كما اسمعك الساعة فقال سمعت ابي يسال عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال كان لا يبالي بعض تاخيرها - يعني العشاء - الى نصف الليل ولا يحب النوم قبلها ولا الحديث بعدها . قال شعبة ثم لقيته بعد فسالته قال كان يصلي الظهر حين تزول الشمس والعصر يذهب الرجل الى اقصى المدينة والشمس حية والمغرب لا ادري اى حين ذكر ثم لقيته بعد فسالته فقال وكان يصلي الصبح فينصرف الرجل فينظر الى وجه جليسه الذي يعرفه فيعرفه . قال وكان يقرا فيها بالستين الى الماية
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد نکلے اور آپ نے انہیں ظہر پڑھائی۔
اخبرنا كثير بن عبيد، قال حدثنا محمد بن حرب، عن الزبيدي، عن الزهري، قال اخبرني انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج حين زاغت الشمس فصلى بهم صلاة الظهر
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( تیز دھوپ سے ) زمین جلنے کی شکایت کی، تو آپ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہیں کیا ۱؎، راوی ابواسحاق سے پوچھا گیا: ( یہ شکایت ) اسے جلدی پڑھنے کے سلسلہ میں تھی؟ انہوں نے کہا ہاں، ( اسی سلسلہ میں تھی ) ۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا حميد بن عبد الرحمن، قال حدثنا زهير، عن ابي اسحاق، عن سعيد بن وهب، عن خباب، قال شكونا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم حر الرمضاء فلم يشكنا . قيل لابي اسحاق في تعجيلها قال نعم
حمزہ عائذی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ظہر سے پہلے ) جب کسی جگہ اترتے ۱؎ تو جب تک ظہر نہ پڑھ لیتے وہاں سے کوچ نہیں کرتے، اس پر ایک آدمی نے کہا: اگرچہ ٹھیک دوپہر ہوتی؟ انہوں نے کہا: اگرچہ ٹھیک دوپہر ہوتی ۲؎۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن شعبة، قال حدثني حمزة العايذي، قال سمعت انس بن مالك، يقول كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا نزل منزلا لم يرتحل منه حتى يصلي الظهر . فقال رجل وان كانت بنصف النهار قال وان كانت بنصف النهار
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب گرمی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ۱؎ ٹھنڈی کر کے پڑھتے ۲؎ اور جب جاڑا ہوتا تو جلدی پڑھتے۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا ابو سعيد، مولى بني هاشم قال حدثنا خالد بن دينار ابو خلدة، قال سمعت انس بن مالك، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا كان الحر ابرد بالصلاة واذا كان البرد عجل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن ابن المسيب، وابي، سلمة بن عبد الرحمن عن ابي هريرة، قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا اشتد الحر فابردوا عن الصلاة فان شدة الحر من فيح جهنم
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہر ٹھنڈے وقت میں پڑھو، کیونکہ جو گرمی تم محسوس کر رہے ہو یہ جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے ۔
اخبرنا ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا عمر بن حفص، قال حدثنا ابي ح، وانبانا ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا يحيى بن معين، قال حدثنا حفص، ح وانبانا عمرو بن منصور، قال حدثنا عمر بن حفص بن غياث، قال حدثنا ابي، عن الحسن بن عبيد الله، عن ابراهيم، عن يزيد بن اوس، عن ثابت بن قيس، عن ابي موسى، يرفعه قال " ابردوا بالظهر فان الذي تجدون من الحر من فيح جهنم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں، تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے ہیں، تو انہوں نے نماز فجر اس وقت پڑھائی جب فجر طلوع ہوئی، اور ظہر اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا، پھر عصر اس وقت پڑھائی جب انہوں نے سایہ کو اپنے مثل دیکھ لیا، پھر مغرب اس وقت پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، اور روزے دار کے لیے افطار جائز ہو گیا، پھر عشاء اس وقت پڑھائی جب شفق یعنی رات کی سرخی ختم ہو گئی، پھر وہ آپ کے پاس دوسرے دن آئے، اور آپ کو فجر اس وقت پڑھائی جب تھوڑی روشنی ہو گئی، پھر ظہر اس وقت پڑھائی جب سایہ ایک مثل ہو گیا، پھر عصر اس وقت پڑھائی جب سایہ دو مثل ہو گیا، پھر مغرب ( دونوں دن ) ایک ہی وقت پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، اور روزے دار کے لیے افطار جائز ہو گیا، پھر عشاء اس وقت پڑھائی جب رات کا ایک حصہ گزر گیا، پھر کہا: نمازوں کا وقت یہی ہے تمہارے آج کی اور کل کی نمازوں کے بیچ میں ۔
اخبرنا الحسين بن حريث، قال انبانا الفضل بن موسى، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هذا جبريل عليه السلام جاءكم يعلمكم دينكم " . فصلى الصبح حين طلع الفجر وصلى الظهر حين زاغت الشمس ثم صلى العصر حين راى الظل مثله ثم صلى المغرب حين غربت الشمس وحل فطر الصايم ثم صلى العشاء حين ذهب شفق الليل ثم جاءه الغد فصلى به الصبح حين اسفر قليلا ثم صلى به الظهر حين كان الظل مثله ثم صلى العصر حين كان الظل مثليه ثم صلى المغرب بوقت واحد حين غربت الشمس وحل فطر الصايم ثم صلى العشاء حين ذهب ساعة من الليل ثم قال " الصلاة ما بين صلاتك امس وصلاتك اليوم
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ گرمی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظہر کا اندازہ تین قدم سے پانچ قدم کے درمیان، اور جاڑے میں پانچ قدم سے سات قدم کے درمیان ہوتا۔
اخبرنا ابو عبد الرحمن عبد الله بن محمد الاذرمي، قال حدثنا عبيدة بن حميد، عن ابي مالك الاشجعي، سعد بن طارق عن كثير بن مدرك، عن الاسود بن يزيد، عن عبد الله بن مسعود، قال كان قدر صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر في الصيف ثلاثة اقدام الى خمسة اقدام وفي الشتاء خمسة اقدام الى سبعة اقدام
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: تم میرے ساتھ نماز پڑھو ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا، اور عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، اور مغرب اس وقت پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، اور عشاء اس وقت پڑھائی جب شفق غائب ہو گئی، پھر ( دوسرے دن ) ظہر اس وقت پڑھائی جب انسان کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، اور عصر اس وقت پڑھائی جب انسان کا سایہ اس کے قد کے دوگنا ہو گیا، اور مغرب شفق غائب ہونے سے کچھ پہلے پڑھائی۔ عبداللہ بن حارث کہتے ہیں: پھر انہوں نے عشاء کے سلسلہ میں کہا: میرا خیال ہے اس کا وقت تہائی رات تک ہے۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا عبد الله بن الحارث، قال حدثنا ثور، حدثني سليمان بن موسى، عن عطاء بن ابي رباح، عن جابر، قال سال رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن مواقيت الصلاة فقال " صل معي " . فصلى الظهر حين زاغت الشمس والعصر حين كان فىء كل شىء مثله والمغرب حين غابت الشمس والعشاء حين غاب الشفق قال ثم صلى الظهر حين كان فىء الانسان مثله والعصر حين كان فىء الانسان مثليه والمغرب حين كان قبيل غيبوبة الشفق . قال عبد الله بن الحارث ثم قال في العشاء ارى الى ثلث الليل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، اور دھوپ ان کے حجرے میں تھی، اور سایہ ان کے حجرے سے ( دیوار پر ) نہیں چڑھا تھا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى صلاة العصر والشمس في حجرتها لم يظهر الفىء من حجرتها
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھتے تھے، پھر جانے والا قباء جاتا، زہری اور اسحاق دونوں میں سے ایک کی روایت میں ہے تو وہ ان کے پاس پہنچتا اور وہ لوگ نماز پڑھ رہے ہوتے، اور دوسرے کی روایت میں ہے: اور سورج بلند ہوتا۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن مالك، قال حدثني الزهري، واسحاق بن عبد الله، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي العصر ثم يذهب الذاهب الى قباء فقال احدهما فياتيهم وهم يصلون وقال الاخر والشمس مرتفعة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھتے اور سورج بلند اور تیز ہوتا، اور جانے والا ( نماز پڑھ کر ) عوالی جاتا، اور سورج بلند ہوتا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، انه اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي العصر والشمس مرتفعة حية ويذهب الذاهب الى العوالي والشمس مرتفعة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عصر پڑھاتے اور سورج سفید اور بلند ہوتا۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن ربعي بن حراش، عن ابي الابيض، عن انس بن مالك، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بنا العصر والشمس بيضاء محلقة
ابوامامہ بن سہل کہتے ہیں: ہم نے عمر بن عبدالعزیز کے ساتھ ظہر پڑھی پھر ہم نکلے، یہاں تک کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو ہم نے انہیں عصر پڑھتے ہوئے پایا، تو میں نے پوچھا: میرے چچا! آپ نے یہ کون سی نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: عصر کی، یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے جسے ہم لوگ پڑھتے تھے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن ابي بكر بن عثمان بن سهل بن حنيف، قال سمعت ابا امامة بن سهل، يقول صلينا مع عمر بن عبد العزيز الظهر ثم خرجنا حتى دخلنا على انس بن مالك فوجدناه يصلي العصر قلت يا عم ما هذه الصلاة التي صليت قال العصر وهذه صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم التي كنا نصلي
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ہم نے عمر بن عبدالعزیز کے عہد میں نماز پڑھی، پھر انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہیں ( بھی ) نماز پڑھتے ہوئے پایا، جب وہ نماز پڑھ کر پلٹے تو انہوں نے ہم سے پوچھا: تم نماز پڑھ چکے ہو؟ ہم نے کہا: ( ہاں ) ہم نے ظہر پڑھ لی ہے، انہوں نے کہا: میں نے تو عصر پڑھی ہے، تو لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے جلدی پڑھ لی، انہوں نے کہا: میں اسی طرح پڑھتا ہوں جیسے میں نے اپنے اصحاب کو پڑھتے دیکھا ہے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا ابو علقمة المدني، قال حدثنا محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، قال صلينا في زمان عمر بن عبد العزيز ثم انصرفنا الى انس بن مالك فوجدناه يصلي فلما انصرف قال لنا اصليتم قلنا صلينا الظهر . قال اني صليت العصر . فقالوا له عجلت . فقال انما اصلي كما رايت اصحابي يصلون
علاء کہتے ہیں کہ وہ جس وقت ظہر پڑھ کر پلٹے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس بصرہ میں ان کے گھر گئے، اور ان کا گھر مسجد کے بغل میں تھا، تو جب ہم لوگ ان کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: کیا تم لوگوں نے عصر پڑھ لی؟ ہم نے کہا: نہیں، ہم لوگ ابھی ظہر پڑھ کر پلٹے ہیں، تو انہوں نے کہا: تو عصر پڑھ لو، ہم لوگ کھڑے ہوئے اور ہم نے عصر پڑھی، جب ہم پڑھ چکے تو انس رضی اللہ عنہ کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا عصر کا انتظار کرتا رہے یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان ہو جائے، ( غروب کے قریب ہو جائے ) تو اٹھے اور چار ٹھونگیں مار لے، اور اس میں اللہ کا ذکر معمولی سا کرے ۔
اخبرنا علي بن حجر بن اياس بن مقاتل بن مشمرج بن خالد، قال حدثنا اسماعيل، قال حدثنا العلاء، انه دخل على انس بن مالك في داره بالبصرة حين انصرف من الظهر - وداره بجنب المسجد - فلما دخلنا عليه قال اصليتم العصر قلنا لا انما انصرفنا الساعة من الظهر . قال فصلوا العصر . قال فقمنا فصلينا فلما انصرفنا قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " تلك صلاة المنافق جلس يرقب صلاة العصر حتى اذا كانت بين قرنى الشيطان قام فنقر اربعا لا يذكر الله عز وجل فيها الا قليلا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی عصر فوت گئی گویا اس کا گھربار لٹ گیا ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الذي تفوته صلاة العصر فكانما وتر اهله وماله " . اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، - رضى الله عنهما - ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الذي تفوته صلاة العصر فكانما وتر اهله وماله
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے اوقات سکھا رہے تھے، تو جبرائیل علیہ السلام آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے تھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، تو جبرائیل علیہ السلام نے ظہر پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سایہ قد کے برابر ہو گیا، اور جس طرح انہوں نے پہلے کیا تھا ویسے ہی پھر کیا، جبرائیل آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، پھر انہوں نے عصر پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈوب گیا، تو جبرائیل آگے بڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، پھر انہوں نے مغرب پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب شفق غائب ہو گئی، تو وہ آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، تو انہوں نے عشاء پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب فجر کی پو پھٹی، تو وہ آگے بڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، انہوں نے فجر پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام دوسرے دن آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو گیا، چنانچہ انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو ظہر پڑھائی، پھر وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جب انسان کا سایہ اس کے قد کے دوگنا ہو گیا، انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے عصر پڑھائی، پھر آپ کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈوب گیا، تو انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے مغرب پڑھائی، پھر ہم سو گئے، پھر اٹھے، پھر سو گئے پھر اٹھے، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، اور اسی طرح کیا جس طرح کل انہوں نے کیا تھا، پھر عشاء پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب فجر ( کی روشنی ) پھیل گئی، صبح ہو گئی، اور ستارے نمودار ہو گئے، اور انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے فجر پڑھائی، پھر کہا: ان دونوں نمازوں کے درمیان میں ہی نماز کے اوقات ہیں ۔
اخبرنا يوسف بن واضح، قال حدثنا قدامة، - يعني ابن شهاب - عن برد، عن عطاء بن ابي رباح، عن جابر بن عبد الله، ان جبريل، اتى النبي صلى الله عليه وسلم يعلمه مواقيت الصلاة فتقدم جبريل ورسول الله صلى الله عليه وسلم خلفه والناس خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى الظهر حين زالت الشمس واتاه حين كان الظل مثل شخصه فصنع كما صنع فتقدم جبريل ورسول الله صلى الله عليه وسلم خلفه والناس خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى العصر ثم اتاه حين وجبت الشمس فتقدم جبريل ورسول الله صلى الله عليه وسلم خلفه والناس خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى المغرب ثم اتاه حين غاب الشفق فتقدم جبريل ورسول الله صلى الله عليه وسلم خلفه والناس خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى العشاء ثم اتاه حين انشق الفجر فتقدم جبريل ورسول الله صلى الله عليه وسلم خلفه والناس خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى الغداة ثم اتاه اليوم الثاني حين كان ظل الرجل مثل شخصه فصنع مثل ما صنع بالامس فصلى الظهر ثم اتاه حين كان ظل الرجل مثل شخصيه فصنع كما صنع بالامس فصلى العصر ثم اتاه حين وجبت الشمس فصنع كما صنع بالامس فصلى المغرب فنمنا ثم قمنا ثم نمنا ثم قمنا فاتاه فصنع كما صنع بالامس فصلى العشاء ثم اتاه حين امتد الفجر واصبح والنجوم بادية مشتبكة فصنع كما صنع بالامس فصلى الغداة ثم قال " ما بين هاتين الصلاتين وقت