Loading...

Loading...
کتب
۱۳۲ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی دو رکعت ۲؎ یا سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے ( نماز کا وقت ) پا لیا ۳؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا معتمر، قال سمعت معمرا، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، عن ابي هريرة، - رضى الله عنه - عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ادرك ركعتين من صلاة العصر قبل ان تغرب الشمس او ركعة من صلاة الصبح قبل ان تطلع الشمس فقد ادرك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی یا سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی اس نے ( پوری نماز ) پالی ۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا معتمر، قال سمعت معمرا، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ادرك ركعة من صلاة العصر قبل ان تغيب الشمس او ادرك ركعة من الفجر قبل طلوع الشمس فقد ادرك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج ڈوبنے سے پہلے جب تم میں سے کوئی نماز عصر کا پہلا سجدہ پا لے تو اپنی نماز مکمل کر لے، اور جب سورج نکلنے سے پہلے نماز فجر کا پہلا سجدہ پا لے تو اپنی نماز مکمل کر لے ۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا الفضل بن دكين، قال حدثنا شيبان، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا ادرك احدكم اول سجدة من صلاة العصر قبل ان تغرب الشمس فليتم صلاته واذا ادرك اول سجدة من صلاة الصبح قبل ان تطلع الشمس فليتم صلاته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے فجر پالی، اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو اس نے عصر پالی ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، وعن بسر بن سعيد، وعن الاعرج، يحدثون عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من ادرك ركعة من صلاة الصبح قبل ان تطلع الشمس فقد ادرك الصبح ومن ادرك ركعة من العصر قبل ان تغرب الشمس فقد ادرك العصر
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا، تو انہوں نے نماز ( طواف کی دو رکعت ) نہیں پڑھی، تو میں نے پوچھا: کیا آپ نماز نہیں پڑھیں گے؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: عصر کے بعد کوئی نماز نہیں ۱؎ یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے، اور فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک سورج نکل آئے ۔
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا سعيد بن عامر، قال حدثنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، عن نصر بن عبد الرحمن، عن جده، معاذ انه طاف مع معاذ ابن عفراء فلم يصل فقلت الا تصلي فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا صلاة بعد العصر حتى تغيب الشمس ولا بعد الصبح حتى تطلع الشمس
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے نماز کے وقت کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: تم یہ دو دن ہمارے ساتھ قیام کرو ، آپ نے بلال کو حکم دیا، تو انہوں نے فجر طلوع ہوتے ہی اقامت کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی، پھر آپ نے جس وقت سورج ڈھل گیا، انہیں اقامت کہنے کا حکم دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر جس وقت دیکھا کہ سورج ابھی سفید ہے ۱؎ آپ نے انہیں اقامت کہنے کا حکم دیا، تو انہوں نے عصر کی تکبیر کہی، پھر جب سورج کا کنارہ ڈوب ہو گیا، تو آپ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، پھر جب شفق ۲؎ غائب ہو گئی، تو آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی، پھر دوسرے دن انہیں حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت خوب اجالا ہو جانے پر کہی، پھر ظہر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب ٹھنڈا کر کے پڑھا، پھر عصر پڑھائی جب کہ سورج سفید ( روشن ) تھا، لیکن پہلے دن سے کچھ دیر ہو گئی تھی، پھر مغرب شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھائی، پھر بلال کو حکم دیا، تو انہوں نے عشاء کی اقامت اس وقت کہی جب تہائی رات گزر گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھائی، پھر فرمایا: نماز کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے؟ تمہاری نمازوں کا وقت ان کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا ۔
اخبرني عمرو بن هشام، قال حدثنا مخلد بن يزيد، عن سفيان الثوري، عن علقمة بن مرثد، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، قال جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فساله عن وقت الصلاة فقال " اقم معنا هذين اليومين " . فامر بلالا فاقام عند الفجر فصلى الفجر ثم امره حين زالت الشمس فصلى الظهر ثم امره حين راى الشمس بيضاء فاقام العصر ثم امره حين وقع حاجب الشمس فاقام المغرب ثم امره حين غاب الشفق فاقام العشاء ثم امره من الغد فنور بالفجر ثم ابرد بالظهر وانعم ان يبرد ثم صلى العصر والشمس بيضاء واخر عن ذلك ثم صلى المغرب قبل ان يغيب الشفق ثم امره فاقام العشاء حين ذهب ثلث الليل فصلاها ثم قال " اين السايل عن وقت الصلاة وقت صلاتكم ما بين ما رايتم
قبیلہ اسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب پڑھتے، پھر اپنے گھروں کو مدینہ کے آخری کونے تک لوٹتے، اور تیر مارتے تو تیر گرنے کی جگہ دیکھ لیتے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن ابي بشر، قال سمعت حسان بن بلال، عن رجل، من اسلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم انهم كانوا يصلون مع نبي الله صلى الله عليه وسلم المغرب ثم يرجعون الى اهاليهم الى اقصى المدينة يرمون ويبصرون مواقع سهامهم
ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مخمص ۱؎ میں عصر پڑھائی، اور فرمایا: یہ نماز تم سے پہلے جو لوگ گزرے ان پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا، جو اس پر محافظت کرے گا اسے دہرا اجر ملے گا، اس کے بعد کوئی نماز نہیں ہے یہاں تک کہ «شاہد» طلوع ہو جائے ۲؎،«شاہد» ستارہ ہے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن خير بن نعيم الحضرمي، عن ابن هبيرة، عن ابي تميم الجيشاني، عن ابي بصرة الغفاري، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم العصر بالمخمص قال " ان هذه الصلاة عرضت على من كان قبلكم فضيعوها ومن حافظ عليها كان له اجره مرتين ولا صلاة بعدها حتى يطلع الشاهد " . والشاهد النجم
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے روایت ہے (شعبہ کہتے ہیں: قتادہ اسے کبھی مرفوع کرتے تھے اور کبھی مرفوع نہیں کرتے تھے ۱؎) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک عصر کا وقت نہ آ جائے، اور عصر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک سورج زرد نہ ہو جائے، اور مغرب کا وقت اس وقت تک ہے جب تک شفق کی سرخی چلی نہ جائے، اور عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے، اور فجر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک سورج نکل نہ جائے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا ابو داود، حدثنا شعبة، عن قتادة، قال سمعت ابا ايوب الازدي، يحدث عن عبد الله بن عمرو، - قال شعبة كان قتادة يرفعه احيانا واحيانا لا يرفعه - قال " وقت صلاة الظهر ما لم تحضر العصر ووقت صلاة العصر ما لم تصفر الشمس ووقت المغرب ما لم يسقط ثور الشفق ووقت العشاء ما لم ينتصف الليل ووقت الصبح ما لم تطلع الشمس
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سائل آیا وہ آپ سے نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت اس وقت کہی جس وقت فجر کی پو پھٹ گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی جب سورج ڈھل گیا، اور کہنے والے نے کہا: کیا دوپہر ہو گئی؟ حالانکہ وہ خوب جانتا ہوتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی جبکہ سورج بلند تھا، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی تکبیر کہی جب سورج ڈوب گیا، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی جب شفق غائب ہو گئی، پھر دوسرے دن آپ نے فجر کو مؤخر کیا جس وقت پڑھ کر لوٹے تو کہنے والے نے کہا کہ سورج نکل آیا، پھر ظہر کو کل کے عصر کی وقت کے قریب وقت تک مؤخر کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کو دیر سے پڑھی یہاں تک کہ پڑھ کر لوٹے تو کہنے والے نے کہا سورج سرخ ہو گیا ہے، پھر آپ نے مغرب دیر سے پڑھی یہاں تک کہ شفق کے ڈوبنے کا وقت ہو گیا، پھر عشاء کو آپ نے تہائی رات تک مؤخر کیا، پھر فرمایا: نماز کا وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے ۔
اخبرنا عبدة بن عبد الله، واحمد بن سليمان، - واللفظ له - قالا حدثنا ابو داود، عن بدر بن عثمان، قال املاء على حدثنا ابو بكر بن ابي موسى، عن ابيه، قال اتى النبي صلى الله عليه وسلم سايل يساله عن مواقيت الصلاة فلم يرد عليه شييا فامر بلالا فاقام بالفجر حين انشق ثم امره فاقام بالظهر حين زالت الشمس والقايل يقول انتصف النهار وهو اعلم ثم امره فاقام بالعصر والشمس مرتفعة ثم امره فاقام بالمغرب حين غربت الشمس ثم امره فاقام بالعشاء حين غاب الشفق ثم اخر الفجر من الغد حين انصرف والقايل يقول طلعت الشمس ثم اخر الظهر الى قريب من وقت العصر بالامس ثم اخر العصر حتى انصرف والقايل يقول احمرت الشمس ثم اخر المغرب حتى كان عند سقوط الشفق ثم اخر العشاء الى ثلث الليل ثم قال " الوقت فيما بين هذين
بشیر بن سلام کہتے ہیں کہ میں اور محمد بن علی دونوں جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور ان سے ہم نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق بتائیے ( یہ حجاج بن یوسف کا عہد تھا ) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ نے ظہر پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا، اور «فىء» ( زوال کے بعد کا سایہ ) تسمے کے برابر ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی جس وقت «فىء» تسمے کے اور آدمی کے سایہ کے برابر ہو گیا، پھر آپ نے مغرب پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھائی جب شفق غائب ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی جس وقت فجر طلوع ہو گئی، پھر دوسرے دن آپ نے ظہر پڑھائی جب سایہ آدمی کی لمبائی کے برابر ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی جب آدمی کا سایہ اس کے دوگنا ہو گیا، اور اس قدر دن تھا جس میں سوار متوسط رفتار میں ذوالحلیفہ تک جا سکتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب پڑھائی جس وقت سورج ڈوب گیا، پھر تہائی رات یا آدھی رات کو عشاء پڑھائی ( یہ شک زید کو ہوا ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی تو آپ نے خوب اجالا کر دیا۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا زيد بن الحباب، قال حدثنا خارجة بن عبد الله بن سليمان بن زيد بن ثابت، قال حدثني الحسين بن بشير بن سلام، عن ابيه، قال دخلت انا ومحمد بن علي، على جابر بن عبد الله الانصاري فقلنا له اخبرنا عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم وذاك زمن الحجاج بن يوسف . قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى الظهر حين زالت الشمس وكان الفىء قدر الشراك ثم صلى العصر حين كان الفىء قدر الشراك وظل الرجل ثم صلى المغرب حين غابت الشمس ثم صلى العشاء حين غاب الشفق ثم صلى الفجر حين طلع الفجر ثم صلى من الغد الظهر حين كان الظل طول الرجل ثم صلى العصر حين كان ظل الرجل مثليه قدر ما يسير الراكب سير العنق الى ذي الحليفة ثم صلى المغرب حين غابت الشمس ثم صلى العشاء الى ثلث الليل او نصف الليل - شك زيد - ثم صلى الفجر فاسفر
سیار بن سلامہ کہتے ہیں کہ میں ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو میرے والد نے ان سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کیسے ( یعنی کب ) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ظہر جسے تم لوگ پہلی نماز کہتے ہو اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا، اور عصر پڑھتے جب ہم میں سے مدینہ کے آخری کونے پر رہنے والا آدمی اپنے گھر لوٹ کر آتا، تو سورج تیز اور بلند ہوتا، مغرب کے سلسلہ میں جو انہوں نے کہا میں اسے بھول گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کو جسے تم لوگ عتمہ کہتے ہو مؤخر کرنا پسند کرتے تھے، اور اس سے پہلے سونا اور اس کے بعد گفتگو کرنا ناپسند فرماتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے اس وقت فارغ ہوتے جب آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو پہچاننے لگتا، اور آپ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھتے تھے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا عوف، قال حدثني سيار بن سلامة، قال دخلت على ابي برزة فساله ابي كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي المكتوبة قال كان يصلي الهجير التي تدعونها الاولى حين تدحض الشمس وكان يصلي العصر حين يرجع احدنا الى رحله في اقصى المدينة والشمس حية ونسيت ما قال في المغرب وكان يستحب ان يوخر العشاء التي تدعونها العتمة وكان يكره النوم قبلها والحديث بعدها وكان ينفتل من صلاة الغداة حين يعرف الرجل جليسه وكان يقرا بالستين الى الماية
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈھل گیا، اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور جا کر جس وقت سورج ڈھل جائے ظہر پڑھیں، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ جب آدمی کا سایہ اس کے مثل ہو گیا، تو وہ آپ کے پاس عصر کے لیے آئے اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور عصر پڑھیں، پھر وہ ٹھہرے رہے یہاں تک کہ جب سورج ڈوب گیا، تو پھر آپ کے پاس آئے اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور مغرب پڑھیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر جس وقت سورج اچھی طرح ڈوب گیا مغرب پڑھی، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ جب شفق ختم ہو گئی تو جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا: اٹھیں اور عشاء پڑھیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر عشاء کی نماز پڑھی، پھر وہ آپ کے پاس صبح میں آئے جس وقت فجر روشن ہو گئی، اور کہنے لگے: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور نماز پڑھیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر ادا فرمائی، پھر وہ آپ کے پاس دوسرے دن اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے ایک مثل ہو گیا، اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور نماز ادا کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر آپ کے پاس اس وقت آئے جس وقت آدمی کا سایہ اس کے دو مثل ہو گیا، اور کہنے لگے: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور نماز پڑھیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مغرب کے لیے اس وقت آئے جس وقت سورج ڈوب گیا جس وقت پہلے روز آئے تھے، اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور نماز ادا کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب پڑھی، پھر وہ آپ کے پاس عشاء کے لیے آئے جس وقت رات کا پہلا تہائی حصہ ختم ہو گیا، اور کہا: اٹھیں اور نماز ادا کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی، پھر وہ آپ کے پاس آئے جس وقت خوب اجالا ہو گیا، اور کہا: اٹھیں اور نماز ادا کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر ادا کی، پھر انہوں نے کہا: ان دونوں کے بیچ میں پورا وقت ہے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن حسين بن علي بن حسين، قال اخبرني وهب بن كيسان، قال حدثنا جابر بن عبد الله، قال جاء جبريل عليه السلام الى النبي صلى الله عليه وسلم حين زالت الشمس فقال قم يا محمد فصل الظهر حين مالت الشمس ثم مكث حتى اذا كان فىء الرجل مثله جاءه للعصر فقال قم يا محمد فصل العصر . ثم مكث حتى اذا غابت الشمس جاءه فقال قم فصل المغرب فقام فصلاها حين غابت الشمس سواء ثم مكث حتى اذا ذهب الشفق جاءه فقال قم فصل العشاء . فقام فصلاها ثم جاءه حين سطع الفجر في الصبح فقال قم يا محمد فصل . فقام فصلى الصبح ثم جاءه من الغد حين كان فىء الرجل مثله فقال قم يا محمد فصل . فصلى الظهر ثم جاءه جبريل عليه السلام حين كان فىء الرجل مثليه فقال قم يا محمد فصل . فصلى العصر ثم جاءه للمغرب حين غابت الشمس وقتا واحدا لم يزل عنه فقال قم فصل . فصلى المغرب ثم جاءه للعشاء حين ذهب ثلث الليل الاول فقال قم فصل . فصلى العشاء ثم جاءه للصبح حين اسفر جدا فقال قم فصل . فصلى الصبح فقال " ما بين هذين وقت كله
محمد بن عمرو بن حسن کہتے ہیں کہ حجاج آئے تو ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر دوپہر میں ( سورج ڈھلتے ہی ) پڑھتے تھے، اور عصر اس وقت پڑھتے جب سورج سفید اور صاف ہوتا، اور مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا، اور عشاء جب آپ دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے، اور جب دیکھتے کہ لوگ دیر کر رہے ہیں تو مؤخر کرتے۔
اخبرنا عمرو بن علي، ومحمد بن بشار، قالا حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، عن محمد بن عمرو بن حسن، قال قدم الحجاج فسالنا جابر بن عبد الله قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي الظهر بالهاجرة والعصر والشمس بيضاء نقية والمغرب اذا وجبت الشمس والعشاء احيانا كان اذا راهم قد اجتمعوا عجل واذا راهم قد ابطيوا اخر
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں اس نماز یعنی عشاء آخرہ کا وقت لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تیسری تاریخ کا چاند ڈوبنے کے وقت پڑھتے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن قدامة، قال حدثنا جرير، عن رقبة، عن جعفر بن اياس، عن حبيب بن سالم، عن النعمان بن بشير، قال انا اعلم الناس، بميقات هذه الصلاة عشاء الاخرة كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصليها لسقوط القمر لثالثة
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں اس نماز یعنی عشاء کا وقت لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تیسری تاریخ کا چاند ڈوبنے کے وقت پڑھتے تھے ۱؎۔
اخبرنا عثمان بن عبد الله، قال حدثنا عفان، قال حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن بشير بن ثابت، عن حبيب بن سالم، عن النعمان بن بشير، قال والله اني لاعلم الناس بوقت هذه الصلاة صلاة العشاء الاخرة كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصليها لسقوط القمر لثالثة
سیار بن سلامہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد دونوں ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو میرے والد نے ان سے پوچھا: ہمیں بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کیسے ( یعنی کب ) پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر جسے تم لوگ پہلی نماز کہتے ہو اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھتے تھے پھر ہم میں سے ایک آدمی ( نماز پڑھ کر ) مدینہ کے آخری کونے پر واقع اپنے گھر کو لوٹ آتا، اور سورج تیز اور بلند ہوتا، اور انہوں نے مغرب کے بارے میں جو کہا میں ( اسے ) بھول گیا، اور کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء جسے تم لوگ عتمہ کہتے ہوتا خیر سے پڑھنے کو پسند کرتے تھے، اور اس سے قبل سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے اس وقت فارغ ہوتے جب آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو پہچاننے لگتا، آپ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھتے تھے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن عوف، عن سيار بن سلامة، قال دخلت انا وابي، على ابي برزة الاسلمي فقال له ابي اخبرنا كيف، كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي المكتوبة قال كان يصلي الهجير التي تدعونها الاولى حين تدحض الشمس وكان يصلي العصر ثم يرجع احدنا الى رحله في اقصى المدينة والشمس حية قال ونسيت ما قال في المغرب قال وكان يستحب ان توخر صلاة العشاء التي تدعونها العتمة قال وكان يكره النوم قبلها والحديث بعدها وكان ينفتل من صلاة الغداة حين يعرف الرجل جليسه وكان يقرا بالستين الى الماية
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھا: عشاء کی امامت کرنے یا تنہا پڑھنے کے لیے کون سا وقت آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم کو کہتے سنا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء مؤخر کی یہاں تک کہ لوگ سو گئے، ( پھر ) بیدار ہوئے ( پھر ) سو گئے، ( پھر ) بیدار ہوئے، تو عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہنے لگے: صلاۃ! صلاۃ! تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے۔ گویا میں آپ کو دیکھ رہا ہوں آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور آپ اپنا ہاتھ سر کے ایک حصہ پر رکھے ہوئے تھے۔ راوی ( ابن جریج ) کہتے ہیں: میں نے عطاء سے جاننا چاہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر کیسے رکھا؟ تو انہوں نے مجھے اشارہ کے ذریعہ بتایا جیسا کہ ابن عباس نے انہیں اشارہ سے بتایا تھا، عطاء نے اپنی انگلیوں کے درمیان تھوڑا فاصلہ کیا، پھر اسے رکھا یہاں تک کہ ان کی انگلیوں کے سرے سر کے اگلے حصہ تک پہنچ گئے، پھر انہیں ملا کر سر پر اس طرح گزارتے رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں انگوٹھے کان کے کناروں کو جو چہرہ سے ملا ہوتا ہے چھو لیتے، پھر کنپٹی اور پیشانی کے کناروں پر پھیرتے، نہ دیر کرتے نہ جلدی سوائے اتنی تاخیر کے – پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی امت کے لیے دشوار نہیں سمجھتا تو انہیں حکم دیتا کہ وہ اسی قدر تاخیر سے عشاء پڑھیں ۔
اخبرني ابراهيم بن الحسن، ويوسف بن سعيد، - واللفظ له - قالا حدثنا حجاج، عن ابن جريج، قال قلت لعطاء اى حين احب اليك ان اصلي العتمة اماما او خلوا قال سمعت ابن عباس يقول اعتم رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات ليلة بالعتمة حتى رقد الناس واستيقظوا ورقدوا واستيقظوا فقام عمر فقال الصلاة الصلاة قال عطاء قال ابن عباس خرج نبي الله صلى الله عليه وسلم كاني انظر اليه الان يقطر راسه ماء واضعا يده على شق راسه قال واشار فاستثبت عطاء كيف وضع النبي صلى الله عليه وسلم يده على راسه فاوما الى كما اشار ابن عباس فبدد لي عطاء بين اصابعه بشىء من تبديد ثم وضعها فانتهى اطراف اصابعه الى مقدم الراس ثم ضمها يمر بها كذلك على الراس حتى مست ابهاماه طرف الاذن مما يلي الوجه ثم على الصدغ وناحية الجبين لا يقصر ولا يبطش شييا الا كذلك ثم قال " لولا ان اشق على امتي لامرتهم ان لا يصلوها الا هكذا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں تاخیر کی یہاں تک کہ رات کا ( ایک حصہ ) گزر گیا، تو عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اور آواز دی: اللہ کے رسول! صلاۃ! عورتیں اور بچے سو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور آپ فرما رہے تھے: یہی ( مناسب اور پسندیدہ ) وقت ہے، اگر میں اپنی امت پر شاق نہ سمجھتا ( تو اسے انہیں اسی وقت پڑھنے کا حکم دیتا ) ۔
اخبرنا محمد بن منصور المكي، قال حدثنا سفيان، عن عمرو، عن عطاء، عن ابن عباس، وعن ابن جريج، عن عطاء، عن ابن عباس، قال اخر النبي صلى الله عليه وسلم العشاء ذات ليلة حتى ذهب من الليل فقام عمر - رضى الله عنه - فنادى الصلاة يا رسول الله رقد النساء والولدان . فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم والماء يقطر من راسه وهو يقول " انه الوقت لولا ان اشق على امتي
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کو مؤخر کرتے تھے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو الاحوص، عن سماك، عن جابر بن سمرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوخر العشاء الاخرة