Loading...

Loading...
کتب
۱۳۲ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی امت کے لیے شاق نہ سمجھتا تو انہیں عشاء کو مؤخر کرنے، اور ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لولا ان اشق على امتي لامرتهم بتاخير العشاء وبالسواك عند كل صلاة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء میں تاخیر کی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو آواز دی کہ عورتیں اور بچے سو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، اور فرمایا: تمہارے سوا اس نماز کا کوئی انتظار نہیں کر رہا ہے ۱؎، اور ( اس وقت ) صرف مدینہ ہی میں نماز پڑھی جا رہی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے شفق غائب ہونے سے لے کر تہائی رات تک پڑھو ۔ اور اس حدیث کے الفاظ ابن حمیر کے ہیں۔
اخبرني عمرو بن عثمان، قال حدثنا ابن حمير، قال حدثنا ابن ابي عبلة، عن الزهري، واخبرني عمرو بن عثمان، قال حدثني ابي، عن شعيب، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت اعتم رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة بالعتمة فناداه عمر رضى الله عنه نام النساء والصبيان . فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " ما ينتظرها غيركم " . ولم يكن يصلى يوميذ الا بالمدينة ثم قال " صلوها فيما بين ان يغيب الشفق الى ثلث الليل " . واللفظ لابن حمير
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں تاخیر کی یہاں تک کہ رات کا بہت سا حصہ گزر گیا، اور مسجد کے لوگ سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور نماز پڑھائی، اور فرمایا: یہی ( اس نماز کا پسندیدہ ) وقت ہے، اگر میں اپنی امت پر شاق نہ سمجھتا ( تو اسے اس کا حکم دیتا ) ۔
اخبرني ابراهيم بن الحسن، قال حدثنا حجاج، قال قال ابن جريج ح واخبرني يوسف بن سعيد، قال حدثنا حجاج، عن ابن جريج، قال اخبرني المغيرة بن حكيم، عن ام كلثوم ابنة ابي بكر، انها اخبرته عن عايشة ام المومنين، قالت اعتم النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة حتى ذهب عامة الليل وحتى نام اهل المسجد ثم خرج فصلى وقال " انه لوقتها لولا ان اشق على امتي
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک رات ہم نماز عشاء کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، جب تہائی یا اس سے کچھ زیادہ رات گزر گئی تو آپ نکل کر ہمارے پاس آئے، اور جس وقت نکل کر آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ایک ایسی نماز کا انتظار کر رہے ہو کہ تمہارے سوا کسی اور دین کا ماننے والا اس کا انتظار نہیں کر رہا ہے، اگر میں اپنی امت پر دشوار نہ سمجھتا تو انہیں اسی وقت نماز پڑھاتا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، تو اس نے اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن منصور، عن الحكم، عن نافع، عن ابن عمر، قال مكثنا ذات ليلة ننتظر رسول الله صلى الله عليه وسلم لعشاء الاخرة فخرج علينا حين ذهب ثلث الليل او بعده فقال حين خرج " انكم تنتظرون صلاة ما ينتظرها اهل دين غيركم ولولا ان يثقل على امتي لصليت بهم هذه الساعة " . ثم امر الموذن فاقام ثم صلى
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو مغرب پڑھائی، پھر آپ نہیں نکلے یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، پھر نکلے اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر فرمایا: لوگ نماز پڑھ کر سو گئے ہیں، اور تم لوگ جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے نماز ہی میں تھے، اگر کمزور کی کمزوری، اور بیمار کی بیماری نہ ہوتی تو میں حکم دیتا کہ اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کیا جائے ۔
اخبرنا عمران بن موسى، قال حدثنا عبد الوارث، قال حدثنا داود، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة المغرب ثم لم يخرج الينا حتى ذهب شطر الليل فخرج فصلى بهم ثم قال " ان الناس قد صلوا وناموا وانتم لم تزالوا في صلاة ما انتظرتم الصلاة ولولا ضعف الضعيف وسقم السقيم لامرت بهذه الصلاة ان توخر الى شطر الليل
حمید کہتے ہیں: انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی پہنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، ایک رات آپ نے آدھی رات کے قریب تک عشاء مؤخر کی، جب نماز پڑھ چکے تو آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے فرمایا: جب تک تم لوگ نماز کا انتظار کرتے رہے برابر نماز میں رہے ۔ انس کہتے ہیں: گویا میں آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل، ح وانبانا محمد بن المثنى، قال حدثنا خالد، قالا حدثنا حميد، قال سيل انس هل اتخذ النبي صلى الله عليه وسلم خاتما قال نعم اخر ليلة صلاة العشاء الاخرة الى قريب من شطر الليل فلما ان صلى اقبل النبي صلى الله عليه وسلم علينا بوجهه ثم قال " انكم لن تزالوا في صلاة ما انتظرتموها " . قال انس كاني انظر الى وبيص خاتمه . في حديث علي الى شطر الليل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ اس ثواب کو جو اذان دینے اور پہلی صف میں کھڑے ہونے میں ہے جان لیتے پھر اس کے لیے سوائے قرعہ اندازی کے کوئی اور راہ نہ پاتے، تو ضرور قرعہ ڈالتے، اور اگر لوگ جان لیتے کہ اول وقت نماز پڑھنے میں کتنا ثواب ہے، تو ضرور اس کی طرف سبقت کرتے، اور اگر انہیں معلوم ہوتا کہ عتمہ ( عشاء ) اور فجر میں آنے میں کیا ثواب ہے، تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرور آتے خواہ انہیں گھٹنے یا سرین کے بل گھِسٹ کر آنا پڑتا ۔
اخبرنا عتبة بن عبد الله، قال قرات على مالك بن انس والحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لو يعلم الناس ما في النداء والصف الاول ثم لم يجدوا الا ان يستهموا عليه لاستهموا ولو يعلم الناس ما في التهجير لاستبقوا اليه ولو علموا ما في العتمة والصبح لاتوهما ولو حبوا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اس نماز کے نام کے سلسلہ میں اعراب تم پر غالب نہ آ جائیں ۱؎ وہ لوگ اپنی اونٹنیوں کو دوہنے کے لیے دیر کرتے ہیں ( اسی بنا پر دیر سے پڑھی جانے والی اس نماز کو عتمہ کہتے ہیں ) حالانکہ یہ عشاء ہے ۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا ابو داود، - هو الحفري - عن سفيان، عن عبد الله بن ابي لبيد، عن ابي سلمة، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تغلبنكم الاعراب على اسم صلاتكم هذه فانهم يعتمون على الابل وانها العشاء
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا: تمہارے اس نماز کے نام کے سلسلہ میں اعراب تم پر غالب نہ آ جائیں، جان لو اس کا نام عشاء ہے ۱؎۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله بن المبارك، عن ابن عيينة، عن عبد الله بن ابي لبيد، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابن عمر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول على المنبر " لا تغلبنكم الاعراب على اسم صلاتكم الا انها العشاء
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھی جس وقت صبح ( صادق ) آپ پر واضح ہو گئی۔
اخبرنا ابراهيم بن هارون، قال حدثنا حاتم بن اسماعيل، قال حدثنا جعفر بن محمد بن علي بن الحسين، عن ابيه، ان جابر بن عبد الله، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصبح حين تبين له الصبح
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے فجر کے وقت کے بارے میں پوچھا، تو جب ہم نے دوسرے دن صبح کی تو آپ نے ہمیں جس وقت فجر کی پو پھٹی نماز کھڑی کرنے کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر جب دوسرا دن آیا، اور خوب اجالا ہو گیا تو حکم دیا تو نماز کھڑی کی گئی، پھر آپ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر فرمایا: نماز کا وقت پوچھنے والا کہاں ہے؟ انہی دونوں کے درمیان ( فجر کا ) وقت ہے ۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل، قال حدثنا حميد، عن انس، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فساله عن وقت صلاة الغداة فلما اصبحنا من الغد امر حين انشق الفجر ان تقام الصلاة فصلى بنا فلما كان من الغد اسفر ثم امر فاقيمت الصلاة فصلى بنا ثم قال " اين السايل عن وقت الصلاة ما بين هذين وقت
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھتے تھے ( آپ کے ساتھ نماز پڑھ کر ) عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی لوٹتی تھیں، تو وہ اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة، عن عايشة، قالت ان كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليصلي الصبح فينصرف النساء متلفعات بمروطهن ما يعرفن من الغلس
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی فجر پڑھتی تھیں، پھر وہ لوٹتی تھیں تو اندھیرے کی وجہ سے کوئی انہیں پہچان نہیں پاتا تھا۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت كن النساء يصلين مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الصبح متلفعات بمروطهن فيرجعن فما يعرفهن احد من الغلس
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن فجر غلس ( اندھیرے ) میں پڑھی، ( آپ خیبر والوں کے قریب ہی تھے ) پھر آپ نے ان پر حملہ کیا، اور دو بار کہا: «اللہ أكبر» اللہ سب سے بڑا ہے خیبر ویران و برباد ہوا، جب ہم کسی قوم کے علاقہ میں اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا سليمان بن حرب، قال حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، عن انس، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم خيبر صلاة الصبح بغلس وهو قريب منهم فاغار عليهم وقال " الله اكبر خربت خيبر - مرتين - انا اذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر اسفار میں پڑھو ۱؎۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن ابن عجلان، قال حدثني عاصم بن عمر بن قتادة، عن محمود بن لبيد، عن رافع بن خديج، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اسفروا بالفجر
محمود بن لبید اپنی قوم کے کچھ انصاری لوگوں سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنا تم فجر اجالے میں پڑھو گے، اتنا ہی ثواب زیادہ ہو گا ۱؎۔
اخبرني ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا ابن ابي مريم، قال اخبرنا ابو غسان، قال حدثني زيد بن اسلم، عن عاصم بن عمر بن قتادة، عن محمود بن لبيد، عن رجال، من قومه من الانصار ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما اسفرتم بالفجر فانه اعظم بالاجر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورج نکلنے سے پہلے نماز فجر کا ایک سجدہ پا لیا اس نے نماز فجر پالی ۱؎ اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کا ایک سجدہ پا لیا اس نے نماز عصر پالی ۔
اخبرنا ابراهيم بن محمد، ومحمد بن المثنى، - واللفظ له - قالا حدثنا يحيى، عن عبد الله بن سعيد، قال حدثني عبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ادرك سجدة من الصبح قبل ان تطلع الشمس فقد ادركها ومن ادرك سجدة من العصر قبل ان تغرب الشمس فقد ادركها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی اس نے فجر پالی، اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی اس نے عصر پالی ۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا زكريا بن عدي، قال انبانا ابن المبارك، عن يونس بن يزيد، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ادرك ركعة من الفجر قبل ان تطلع الشمس فقد ادركها ومن ادرك ركعة من العصر قبل ان تغرب الشمس فقد ادركها
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اس وقت پڑھتے تھے، جب سورج ڈھل جاتا تھا، اور عصر تمہاری ان دونوں نمازوں ۱؎ کے درمیان پڑھتے تھے، اور مغرب اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈوب جاتا تھا، اور عشاء اس وقت پڑھتے تھے جب شفق غائب جاتی تھی، پھر اس کے بعد انہوں نے کہا: اور آپ فجر پڑھتے تھے یہاں تک کہ نگاہ پھیل جاتی تھی ۲؎۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، ومحمد بن عبد الاعلى، قالا حدثنا خالد، عن شعبة، عن ابي صدقة، عن انس بن مالك، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي الظهر اذا زالت الشمس ويصلي العصر بين صلاتيكم هاتين ويصلي المغرب اذا غربت الشمس ويصلي العشاء اذا غاب الشفق - ثم قال على اثره - ويصلي الصبح الى ان ينفسح البصر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز کی ایک رکعت پالی اس نے نماز پالی ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من ادرك من الصلاة ركعة فقد ادرك الصلاة