احادیث
#494
سنن نسائی - Times (of Prayer)
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے عصر میں کچھ تاخیر کر دی، تو عروہ نے ان سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے، اور آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھائی ۱؎ اس پر عمر بن عبدالعزیز نے کہا: عروہ! جو تم کہہ رہے ہو اسے خوب سوچ سمجھ کر کہو، تو عروہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابی مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ہے وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے ابومسعود سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جبرائیل اترے، اور انہوں نے میری امامت کرائی، تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، آپ اپنی انگلیوں پر پانچوں نمازوں کو گن رہے تھے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، ان عمر بن عبد العزيز، اخر العصر شييا فقال له عروة اما ان جبريل عليه السلام قد نزل فصلى امام رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال عمر اعلم ما تقول يا عروة . فقال سمعت بشير بن ابي مسعود يقول سمعت ابا مسعود يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " نزل جبريل فامني فصليت معه ثم صليت معه ثم صليت معه ثم صليت معه ثم صليت معه " . يحسب باصابعه خمس صلوات
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Times (of Prayer)
- Hadith Index
- #494
- Book Index
- 1
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
