Loading...

Loading...
کتب
۱۳۲ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعت کبھی بھی نہیں چھوڑیں ۱؎۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن هشام، قال اخبرني ابي قال، قالت عايشة ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم السجدتين بعد العصر عندي قط
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد میرے پاس جب بھی آتے تو دونوں رکعتوں کو پڑھتے۔
اخبرني محمد بن قدامة، قال حدثنا جرير، عن مغيرة، عن ابراهيم، عن الاسود، قال قالت عايشة رضى الله تعالى عنها ما دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد العصر الا صلاهما
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کے بعد میرے پاس ہوتے تو ان دونوں رکعتوں کو پڑھتے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، عن خالد بن الحارث، عن شعبة، عن ابي اسحاق، قال سمعت مسروقا، والاسود، قالا نشهد على عايشة انها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا كان عندي بعد العصر صلاهما
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں فجر کے پہلے کی دو رکعتوں اور عصر کے بعد کی دو رکعتوں کو چھپے اور کھلے کبھی نہیں چھوڑا۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا علي بن مسهر، عن ابي اسحاق، عن عبد الرحمن بن الاسود، عن ابيه، عن عايشة، قالت صلاتان ما تركهما رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتي سرا ولا علانية ركعتان قبل الفجر وركعتان بعد العصر
ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان دونوں رکعتوں کے متعلق سوال کیا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد پڑھتے تھے، تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں عصر سے پہلے پڑھا کرتے تھے پھر آپ کسی کام میں مشغول ہو گئے یا بھول گئے تو انہیں عصر کے بعد ادا کیا، اور آپ جب کوئی نماز شروع کرتے تو اسے برقرار رکھتے۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل، قال حدثنا محمد بن ابي حرملة، عن ابي سلمة، انه سال عايشة عن السجدتين اللتين، كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصليهما بعد العصر فقالت انه كان يصليهما قبل العصر ثم انه شغل عنهما او نسيهما فصلاهما بعد العصر وكان اذا صلى صلاة اثبتها
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھی تو انہوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ دو رکعتیں ہیں جنہیں میں ظہر کے بعد پڑھتا تھا تو میں انہیں نہیں پڑھ سکا، یہاں تک کہ میں نے عصر پڑھ لی ، ( تو میں نے اب عصر کے بعد پڑھی ہے ) ۔
اخبرني محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا المعتمر، قال سمعت معمرا، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ام سلمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى في بيتها بعد العصر ركعتين مرة واحدة وانها ذكرت ذلك له فقال " هما ركعتان كنت اصليهما بعد الظهر فشغلت عنهما حتى صليت العصر
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہم کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے والی دو رکعت نہیں پڑھ سکے، تو انہیں عصر کے بعد پڑھی۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا وكيع، قال حدثنا طلحة بن يحيى، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ام سلمة، قالت شغل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الركعتين قبل العصر فصلاهما بعد العصر
عمران بن حدیر کہتے ہیں: میں نے لاحق ( لاحق بن حمید ابومجلز ) سے سورج ڈوبنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم یہ دو رکعتیں پڑھتے تھے، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پچھوا بھیجا کہ سورج ڈوبنے کے وقت کی یہ دونوں رکعتیں کیسی ہیں؟ تو انہوں نے بات ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھا دی، تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے دو رکعت پڑھتے تھے تو ( ایک مرتبہ ) آپ انہیں نہیں پڑھ سکے، تو انہیں سورج ڈوبنے کے وقت ۱؎ پڑھی، پھر میں نے آپ کو انہیں نہ تو پہلے پڑھتے دیکھا اور نہ بعد میں۔
اخبرنا عثمان بن عبد الله، قال حدثنا عبيد الله بن معاذ، قال انبانا ابي قال، حدثنا عمران بن حدير، قال سالت لاحقا عن الركعتين، قبل غروب الشمس فقال كان عبد الله بن الزبير يصليهما فارسل اليه معاوية ما هاتان الركعتان عند غروب الشمس فاضطر الحديث الى ام سلمة فقالت ام سلمة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي ركعتين قبل العصر فشغل عنهما فركعهما حين غابت الشمس فلم اره يصليهما قبل ولا بعد
ابوالخیر کہتے ہیں کہ ابوتمیم جیشانی مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو میں نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا: انہیں دیکھئیے! یہ کون سی نماز پڑھ رہے ہیں؟ تو وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور دیکھ کر بولے: یہ وہی نماز ہے جسے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پڑھا کرتے تھے ۱؎۔
اخبرنا علي بن عثمان بن محمد بن سعيد بن عبد الله بن نفيل، قال حدثنا سعيد بن عيسى، قال حدثنا عبد الرحمن بن القاسم، قال حدثنا بكر بن مضر، عن عمرو بن الحارث، عن يزيد بن ابي حبيب، ان ابا الخير، حدثه ان ابا تميم الجيشاني قام ليركع ركعتين قبل المغرب فقلت لعقبة بن عامر انظر الى هذا اى صلاة يصلي فالتفت اليه فراه فقال هذه صلاة كنا نصليها على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر طلوع ہونے کے بعد صرف دو ہلکی رکعتیں پڑھتے تھے۔
اخبرنا احمد بن عبد الله بن الحكم، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن زيد بن محمد، قال سمعت نافعا، يحدث عن ابن عمر، عن حفصة، انها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا طلع الفجر لا يصلي الا ركعتين خفيفتين
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کے ساتھ کون اسلام لایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آزاد اور ایک غلام ۱؎ میں نے عرض کیا: کوئی ایسی گھڑی ہے جس میں دوسری گھڑیوں کی بنسبت اللہ تعالیٰ کا قرب زیادہ حاصل ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، رات کا آخری حصہ ہے، اس میں فجر پڑھنے تک جتنی نماز چاہو پڑھو، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اور اسی طرح اس وقت تک رکے رہو جب تک سورج ڈھال کی طرح رہے ( ایوب کی روایت میں «وما دامت» کے بجائے «فما دامت» ہے ) یہاں تک کہ روشنی پھیل جائے، پھر جتنی چاہو پڑھو یہاں تک کہ ستون اپنے سایہ پر کھڑا ہو جائے ۲؎ پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اس لیے کہ نصف النہار ( کھڑی دوپہر ) میں جہنم سلگائی جاتی ہے، پھر جتنا مناسب سمجھو نماز پڑھو یہاں تک کہ عصر پڑھ لو، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے، اس لیے کہ سورج شیطان کی دونوں سینگوں کے درمیان ڈوبتا ہے، اور دونوں سینگوں کے درمیان نکلتا ہے ۔
اخبرني الحسن بن اسماعيل بن سليمان، وايوب بن محمد، قالا حدثنا حجاج بن محمد، قال ايوب حدثنا وقال، حسن اخبرني شعبة، عن يعلى بن عطاء، عن يزيد بن طلق، عن عبد الرحمن بن البيلماني، عن عمرو بن عبسة، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله من اسلم معك قال " حر وعبد " . قلت هل من ساعة اقرب الى الله عز وجل من اخرى قال " نعم جوف الليل الاخر فصل ما بدا لك حتى تصلي الصبح ثم انته حتى تطلع الشمس وما دامت " . وقال ايوب فما دامت " كانها حجفة حتى تنتشر ثم صل ما بدا لك حتى يقوم العمود على ظله ثم انته حتى تزول الشمس فان جهنم تسجر نصف النهار ثم صل ما بدا لك حتى تصلي العصر ثم انته حتى تغرب الشمس فانها تغرب بين قرنى شيطان وتطلع بين قرنى شيطان
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد مناف! تم کسی کو رات یا دن کسی بھی وقت اس گھر کا طواف کرنے، اور نماز پڑھنے سے نہ روکو ۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، قال سمعت من ابي الزبير، قال سمعت عبد الله بن باباه، يحدث عن جبير بن مطعم، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " يا بني عبد مناف لا تمنعوا احدا طاف بهذا البيت وصلى اية ساعة شاء من ليل او نهار
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے سفر کرتے تو عصر تک ظہر کو مؤخر کر دیتے، پھر سواری سے نیچے اترتے اور جمع بین الصلاتین کرتے یعنی دونوں صلاتوں کو ایک ساتھ پڑھتے ۱؎، اور اگر سفر کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا مفضل، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا ارتحل قبل ان تزيغ الشمس اخر الظهر الى وقت العصر ثم نزل فجمع بينهما فان زاغت الشمس قبل ان يرتحل صلى الظهر ثم ركب
ابوالطفیل عامر بن واثلۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک کے سال نکلے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازوں کو جمع کر کے پڑھتے رہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز کو مؤخر کیا، پھر نکلے اور ظہر اور عصر کو ایک ساتھ ادا کیا، پھر اندر داخل ہوئے، پھر نکلے تو مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن ابي الزبير المكي، عن ابي الطفيل، عامر بن واثلة ان معاذ بن جبل، اخبره انهم، خرجوا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام تبوك فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجمع بين الظهر والعصر والمغرب والعشاء فاخر الصلاة يوما ثم خرج فصلى الظهر والعصر جميعا ثم دخل ثم خرج فصلى المغرب والعشاء
کثیر بن قاروندا کہتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے سفر میں ان کے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ) کی نماز کے بارے میں پوچھا، نیز ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ سفر کے دوران کسی نماز کو جمع کرتے تھے؟ تو انہوں نے ذکر کیا کہ صفیہ بنت ابی عبید ( جو ان کے عقد میں تھیں ) نے انہیں لکھا، اور وہ اپنے ایک کھیت میں تھے کہ میرا دنیا کا آخری دن اور آخرت کا پہلا دن ہے ( یعنی قریب المرگ ہوں آپ تشریف لائیے ) تو ابن عمر رضی اللہ عنہم سوار ہوئے، اور ان تک پہنچنے کے لیے انہوں نے بڑی تیزی دکھائی یہاں تک کہ جب ظہر کا وقت ہوا تو مؤذن نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! نماز پڑھ لیجئیے، لیکن انہوں نے اس کی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں کی یہاں تک کہ جب دونوں نمازوں کا درمیانی وقت ہو گیا، تو سواری سے اترے اور بولے: تکبیر کہو، اور جب میں سلام پھیر لوں تو ( پھر ) تکبیر کہو، ۲؎ چنانچہ انہوں نے نماز پڑھی، پھر سوار ہوئے یہاں تک کہ جب سورج ڈوب گیا تو ان سے مؤذن نے کہا: نماز پڑھ لیجئیے، انہوں نے کہا: جیسے ظہر اور عصر میں کیا گیا ویسے ہی کرو، پھر چل پڑے یہاں تک کہ جب ستارے گھنے ہو گئے، تو سواری سے اترے، پھر مؤذن سے کہا: تکبیر کہو، اور جب میں سلام پھیر لوں تو پھر تکبیر کہو، تو انہوں نے نماز پڑھی، پھر پلٹے اور ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جب تم میں سے کسی کو ایسا معاملہ پیش آ جائے جس کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو تو وہ اسی طرح ( جمع کر کے ) نماز پڑھے ۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن بزيع، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا كثير بن قاروندا، قال سالت سالم بن عبد الله عن صلاة، ابيه في السفر وسالناه هل كان يجمع بين شىء من صلاته في سفره فذكر ان صفية بنت ابي عبيد كانت تحته فكتبت اليه وهو في زراعة له اني في اخر يوم من ايام الدنيا واول يوم من الاخرة . فركب فاسرع السير اليها حتى اذا حانت صلاة الظهر قال له الموذن الصلاة يا ابا عبد الرحمن . فلم يلتفت حتى اذا كان بين الصلاتين نزل فقال اقم فاذا سلمت فاقم . فصلى ثم ركب حتى غابت الشمس قال له الموذن الصلاة . فقال كفعلك في صلاة الظهر والعصر . ثم سار حتى اذا اشتبكت النجوم نزل ثم قال للموذن اقم فاذا سلمت فاقم . فصلى ثم انصرف فالتفت الينا فقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا حضر احدكم الامر الذي يخاف فوته فليصل هذه الصلاة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں ایک ساتھ آٹھ رکعت، اور سات رکعت نماز پڑھی، آپ نے ظہر کو مؤخر کیا، اور عصر میں جلدی کی، اور مغرب کو مؤخر کیا اور عشاء میں جلدی کی۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن عمرو، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس، قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم بالمدينة ثمانيا جميعا وسبعا جميعا اخر الظهر وعجل العصر واخر المغرب وعجل العشاء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے بصرہ میں پہلی نماز ۱؎ ( ظہر ) اور عصر ایک ساتھ پڑھی، ان کے درمیان کوئی اور نماز نہیں پڑھی، اور مغرب و عشاء ایک ساتھ پڑھی ان کے درمیان کوئی اور نماز نہیں پڑھی، انہوں نے ایسا کسی مشغولیت کی بناء پر کیا، اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کا کہنا ہے کہ انہوں نے مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی نماز ( ظہر ) اور عصر آٹھ رکعتیں پڑھی، ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نماز فاصل نہیں تھی۔
اخبرنا ابو عاصم، خشيش بن اصرم قال حدثنا حبان بن هلال، حدثنا حبيب، - وهو ابن ابي حبيب - عن عمرو بن هرم، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس، انه صلى بالبصرة الاولى والعصر ليس بينهما شىء والمغرب والعشاء ليس بينهما شىء فعل ذلك من شغل وزعم ابن عباس انه صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمدينة الاولى والعصر ثمان سجدات ليس بينهما شىء
قریش کے ایک شیخ اسماعیل بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں حمی ۱؎ تک ابن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ رہا، جب سورج ڈوب گیا تو میں ڈرا کہ ان سے یہ کہوں کہ نماز پڑھ لیجئیے، چنانچہ وہ چلتے رہے، یہاں تک کہ افق کی سفیدی اور ابتدائی رات کی تاریکی ختم ہو گئی، پھر وہ اترے اور مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں، پھر اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا سفيان، عن ابن ابي نجيح، عن اسماعيل بن عبد الرحمن، - شيخ من قريش - قال صحبت ابن عمر الى الحمى فلما غربت الشمس هبت ان اقول له الصلاة فسار حتى ذهب بياض الافق وفحمة العشاء ثم نزل فصلى المغرب ثلاث ركعات ثم صلى ركعتين على اثرها ثم قال هكذا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ کو سفر میں چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب مؤخر کرتے یہاں تک کہ اس کو اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کرتے۔
اخبرني عمرو بن عثمان، قال حدثنا بقية، عن ابن ابي حمزة، ح وانبانا احمد بن محمد بن المغيرة، قال حدثنا عثمان، - واللفظ له - عن شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سالم، عن ابيه، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اعجله السير في السفر يوخر صلاة المغرب حتى يجمع بينها وبين العشاء
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سورج ڈوب گیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے، تو آپ نے مقام سرف ۱؎ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں۔
اخبرنا المومل بن اهاب، قال حدثني يحيى بن محمد الجاري، قال حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن مالك بن انس، عن ابي الزبير، عن جابر، قال غابت الشمس ورسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة فجمع بين الصلاتين بسرف