Loading...

Loading...
کتب
۱۳۲ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کرتے، پھر دونوں کو ایک ساتھ جمع کرتے، اور مغرب کو شفق کے ڈوب جانے تک مؤخر کرتے، اور پھر اسے اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کرتے۔
اخبرني عمرو بن سواد بن الاسود بن عمرو، قال انبانا ابن وهب، قال حدثنا جابر بن اسماعيل، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن انس، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه كان اذا عجل به السير يوخر الظهر الى وقت العصر فيجمع بينهما ويوخر المغرب حتى يجمع بينها وبين العشاء حين يغيب الشفق
نافع کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک سفر میں نکلا، وہ اپنی زمین ( کھیتی ) کا ارادہ کر رہے تھے، اتنے میں ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا: آپ کی بیوی صفیہ بنت ابو عبید سخت بیمار ہیں تو آپ جا کر ان سے مل لیجئے، چنانچہ وہ بڑی تیز رفتاری سے چلے اور ان کے ساتھ ایک قریشی تھا وہ بھی ساتھ جا رہا تھا، آفتاب غروب ہوا تو انہوں نے نماز نہیں پڑھی، اور مجھے معلوم تھا کہ وہ نماز کی بڑی محافظت کرتے ہیں، تو جب انہوں نے تاخیر کی تو میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے! نماز پڑھ لیجئیے، تو وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور چلتے رہے یہاں تک کہ جب شفق ڈوبنے لگی تو اترے، اور مغرب پڑھی، پھر عشاء کی تکبیر کہی، اس وقت شفق غائب ہو گئی تھی، انہوں نے ہمیں ( عشاء کی ) نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چلنے کی جلدی ہوتی تو ایسا ہی کرتے تھے۔
اخبرنا محمود بن خالد، قال حدثنا الوليد، قال حدثنا ابن جابر، قال حدثني نافع، قال خرجت مع عبد الله بن عمر في سفر يريد ارضا له فاتاه ات فقال ان صفية بنت ابي عبيد لما بها فانظر ان تدركها . فخرج مسرعا ومعه رجل من قريش يسايره وغابت الشمس فلم يصل الصلاة وكان عهدي به وهو يحافظ على الصلاة فلما ابطا قلت الصلاة يرحمك الله . فالتفت الى ومضى حتى اذا كان في اخر الشفق نزل فصلى المغرب ثم اقام العشاء وقد توارى الشفق فصلى بنا ثم اقبل علينا فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا عجل به السير صنع هكذا
نافع کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے آئے، تو جب وہ رات آئی تو وہ ہمیں لے کر چلے ( اور برابر چلتے رہے ) یہاں تک کہ ہم نے شام کر لی، اور ہم نے گمان کیا کہ وہ نماز بھول گئے ہیں، چنانچہ ہم نے ان سے کہا: نماز پڑھ لیجئیے، تو وہ خاموش رہے اور چلتے رہے یہاں تک کہ شفق ڈوبنے کے قریب ہو گئی ۱؎ پھر وہ اترے اور انہوں نے نماز پڑھی، اور جب شفق غائب ہو گئی تو عشاء پڑھی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور کہنے لگے: جب چلنے کی جلدی ہوتی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، حدثنا العطاف، عن نافع، قال اقبلنا مع ابن عمر من مكة فلما كان تلك الليلة سار بنا حتى امسينا فظننا انه نسي الصلاة فقلنا له الصلاة . فسكت وسار حتى كاد الشفق ان يغيب ثم نزل فصلى وغاب الشفق فصلى العشاء ثم اقبل علينا فقال هكذا كنا نصنع مع رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا جد به السير
کثیر بن قاروندا کہتے ہیں کہ ہم نے سالم بن عبداللہ سے سفر کی نماز کے بارے میں پوچھا، ہم نے کہا: کیا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سفر میں جمع بین الصلاتین کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، سوائے مزدلفہ کے، پھر چونکے اور کہنے لگے: ان کے نکاح میں صفیہ تھیں، انہوں نے انہیں کہلوا بھیجا کہ میں دنیا کے آخری اور آخرت کے پہلے دن میں ہوں ۱؎ ( اس لیے آپ آ کر آخری ملاقات کر لیجئے ) ، تو وہ سوار ہوئے، اور میں اس ان کے ساتھ تھا، وہ تیز رفتاری سے چلتے رہے یہاں تک کہ نماز کا وقت آ گیا، تو ان سے مؤذن نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! نماز پڑھ لیجئے، لیکن وہ چلتے رہے یہاں تک کہ دونوں نمازوں کا درمیانی وقت آ گیا، تو اترے اور مؤذن سے کہا: اقامت کہو، اور جب میں ظہر پڑھ لوں تو اپنی جگہ پر ( دوبارہ ) اقامت کہنا، چنانچہ اس نے اقامت کہی، تو انہوں نے ظہر کی دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر تو ( مؤذن نے ) اپنی اسی جگہ پر پھر اقامت کہی، تو انہوں نے عصر کی دو رکعت پڑھائی، پھر سوار ہوئے اور تیزی سے چلتے رہے یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، تو مؤذن نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن نماز پڑھ لیجئے، تو انہوں نے کہا جیسے پہلے کیا تھا، اسی طرح کرو اور تیزی سے چلتے رہے یہاں تک کہ جب ستارے گھنے ہو گئے تو اترے، اور کہنے لگے: اقامت کہو، اور جب سلام پھیر چکوں تو دوبارہ اقامت کہنا، پھر انہوں نے مغرب کی تین رکعت پڑھائی، پھر اپنی اسی جگہ پر اس نے پھر تکبیر کہی تو انہوں نے عشاء پڑھائی، اور اپنے چہرہ کے سامنے ایک ہی سلام پھیرا، اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو جس کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو اسی طرح نماز پڑھے ۔
اخبرنا عبدة بن عبد الرحيم، قال حدثنا ابن شميل، قال حدثنا كثير بن قاروندا، قال سالنا سالم بن عبد الله عن الصلاة، في السفر فقلنا اكان عبد الله يجمع بين شىء من الصلوات في السفر فقال لا الا بجمع ثم اتيته فقال كانت عنده صفية فارسلت اليه اني في اخر يوم من الدنيا واول يوم من الاخرة . فركب وانا معه فاسرع السير حتى حانت الصلاة فقال له الموذن الصلاة يا ابا عبد الرحمن . فسار حتى اذا كان بين الصلاتين نزل فقال للموذن اقم فاذا سلمت من الظهر فاقم مكانك . فاقام فصلى الظهر ركعتين ثم سلم ثم اقام مكانه فصلى العصر ركعتين ثم ركب فاسرع السير حتى غابت الشمس فقال له الموذن الصلاة يا ابا عبد الرحمن . فقال كفعلك الاول . فسار حتى اذا اشتبكت النجوم نزل فقال اقم فاذا سلمت فاقم . فصلى المغرب ثلاثا ثم اقام مكانه فصلى العشاء الاخرة ثم سلم واحدة تلقاء وجهه ثم قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا حضر احدكم امر يخشى فوته فليصل هذه الصلاة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا جد به السير جمع بين المغرب والعشاء
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلنے کی جلدی ہوتی یا کوئی معاملہ درپیش ہوتا، تو آپ مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد الرزاق، قال حدثنا معمر، عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا جد به السير او حزبه امر جمع بين المغرب والعشاء
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال انبانا سفيان، قال سمعت الزهري، قال اخبرني سالم، عن ابيه، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم اذا جد به السير جمع بين المغرب والعشاء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر خوف اور بغیر سفر کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھی ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابي الزبير، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر والعصر جميعا والمغرب والعشاء جميعا من غير خوف ولا سفر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں بغیر خوف اور بغیر بارش کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے، ان سے پوچھا گیا: آپ ایسا کیوں کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: تاکہ آپ کی امت کے لیے کوئی پریشانی نہ ہو۔
اخبرنا محمد بن عبد العزيز بن ابي رزمة، - واسمه غزوان - قال حدثنا الفضل بن موسى، عن الاعمش، عن حبيب بن ابي ثابت، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي بالمدينة يجمع بين الصلاتين بين الظهر والعصر والمغرب والعشاء من غير خوف ولا مطر . قيل له لم قال ليلا يكون على امته حرج
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ( ظہر و عصر کی ) آٹھ رکعتیں، اور ( مغرب و عشاء کی ) سات رکعتیں ملا کر پڑھیں۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا ابن جريج، عن عمرو بن دينار، عن ابي الشعثاء، عن ابن عباس، قال صليت وراء رسول الله صلى الله عليه وسلم ثمانيا جميعا وسبعا جميعا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( حج میں منی سے مزدلفہ ) چلے یہاں تک کہ آپ عرفہ آئے تو دیکھا کہ نمرہ ۱؎ میں آپ کے لیے خیمہ لگا دیا گیا ہے، آپ نے وہاں قیام کیا، یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا آپ نے قصواء نامی اونٹنی ۲؎ لانے کا حکم دیا، تو آپ کے لیے اس پر کجاوہ کسا گیا، جب آپ وادی میں پہنچے تو لوگوں کو خطبہ دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، اور ان دونوں کے بیچ کوئی اور نماز نہیں پڑھی۔
اخبرني ابراهيم بن هارون، قال حدثنا حاتم بن اسماعيل، قال حدثنا جعفر بن محمد، عن ابيه، ان جابر بن عبد الله، قال سار رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اتى عرفة فوجد القبة قد ضربت له بنمرة فنزل بها حتى اذا زاغت الشمس امر بالقصواء فرحلت له حتى اذا انتهى الى بطن الوادي خطب الناس ثم اذن بلال ثم اقام فصلى الظهر ثم اقام فصلى العصر ولم يصل بينهما شييا
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر مزدلفہ میں مغرب اور عشاء جمع کر کے پڑھی۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عدي بن ثابت، عن عبد الله بن يزيد، ان ابا ايوب الانصاري، اخبره انه، صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع المغرب والعشاء بالمزدلفة جميعا
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ جب ابن عمر رضی اللہ عنہم عرفات سے چلے تو میں ان کے ساتھ تھا، جب وہ مزدلفہ آئے تو مغرب و عشاء ایک ساتھ پڑھی، اور جب فارغ ہوئے تو کہنے لگے: اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح نماز پڑھی تھی۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا هشيم، عن اسماعيل بن ابي خالد، قال حدثنا ابو اسحاق، عن سعيد بن جبير، قال كنت مع ابن عمر حيث افاض من عرفات فلما اتى جمعا جمع بين المغرب والعشاء فلما فرغ قال فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم في هذا المكان مثل هذا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب و عشاء ( جمع کر کے ) پڑھی۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا عبد الرحمن، عن مالك، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى المغرب والعشاء بالمزدلفة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مزدلفہ کے علاوہ کسی جگہ جمع بین الصلاتین کرتے نہیں دیکھا ۱؎، آپ نے اس روز فجر ( اس کے عام ) وقت سے ۲؎ پہلے پڑھ لی۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن عمارة، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله، قال ما رايت النبي صلى الله عليه وسلم جمع بين صلاتين الا بجمع وصلى الصبح يوميذ قبل وقتها
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ۔ ( انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ میں سواری پر پیچھے بٹھا لیا تھا ) تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھاٹی پر آئے تو اترے، اور پیشاب کیا، ( انہوں نے لفظ «بَالَ» کہا «أهراق الماء» نہیں کہا ۱؎ ) تو میں نے برتن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی ڈالا، آپ نے ہلکا پھلکا وضو کیا، میں نے آپ سے عرض کیا: نماز پڑھ لیجئیے، تو آپ نے فرمایا: نماز تمہارے آگے ہے، جب آپ مزدلفہ پہنچے تو مغرب پڑھی، پھر لوگوں نے اپنی سواریوں سے کجاوے اتارے، پھر آپ نے عشاء پڑھی۔
اخبرنا الحسين بن حريث، قال حدثنا سفيان، عن ابراهيم بن عقبة، ومحمد بن ابي حرملة، عن كريب، عن ابن عباس، عن اسامة بن زيد، وكان النبي، صلى الله عليه وسلم اردفه من عرفة فلما اتى الشعب نزل فبال ولم يقل اهراق الماء قال فصببت عليه من اداوة فتوضا وضوءا خفيفا . فقلت له الصلاة . فقال " الصلاة امامك " . فلما اتى المزدلفة صلى المغرب ثم نزعوا رحالهم ثم صلى العشاء
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وقت پر نماز پڑھنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا شعبة، قال اخبرني الوليد بن العيزار، قال سمعت ابا عمرو الشيباني، يقول حدثنا صاحب، هذه الدار واشار الى دار عبد الله قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم اى العمل احب الى الله تعالى قال " الصلاة على وقتها وبر الوالدين والجهاد في سبيل الله عز وجل
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اور اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا ۔
اخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا ابو معاوية النخعي، سمعه من ابي عمرو، عن عبد الله بن مسعود، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم اى العمل احب الى الله عز وجل قال " اقام الصلاة لوقتها وبر الوالدين والجهاد في سبيل الله عز وجل
محمد بن منتشر سے روایت ہے کہ وہ عمرو بن شرحبیل کی مسجد میں تھے کہ نماز کی اقامت کہی گئی، تو لوگ ان کا انتظار کرنے لگے ( جب وہ آئے تو ) انہوں نے کہا: میں وتر پڑھنے لگا تھا، ( اس لیے تاخیر ہوئی ) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے لوگوں نے پوچھا: کیا ( فجر کی ) اذان کے بعد وتر ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، اور اقامت کے بعد بھی، اور انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ سورج نکل آیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ۱؎ اس حدیث کے الفاظ یحییٰ بن حکیم کے ہیں۔
اخبرنا يحيى بن حكيم، وعمرو بن يزيد، قالا حدثنا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن ابراهيم بن محمد بن المنتشر، عن ابيه، انه كان في مسجد عمرو بن شرحبيل فاقيمت الصلاة فجعلوا ينتظرونه فقال اني كنت اوتر . قال وسيل عبد الله هل بعد الاذان وتر قال نعم وبعد الاقامة وحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم انه نام عن الصلاة حتى طلعت الشمس ثم صلى . واللفظ ليحيى
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز بھول جائے، جب یاد آ جائے تو اسے پڑھ لے ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من نسي صلاة فليصلها اذا ذكرها