Loading...

Loading...
کتب
۱۳۲ احادیث
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو نماز سے سو جاتا ہے یا اس سے غافل ہو جاتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب یاد آ جائے تو اسے پڑھ لے ۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، عن يزيد، قال حدثنا حجاج الاحول، عن قتادة، عن انس، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الرجل يرقد عن الصلاة او يغفل عنها قال " كفارتها ان يصليها اذا ذكرها
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے نمازوں سے اپنے سو جانے کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیند کی حالت میں کوئی تقصیر ( کمی ) نہیں ہے ، تقصیر ( کمی ) تو جاگنے میں ہے ( کہ جاگتا ہو اور نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وقت گزر جائے ) ، تو جب تم میں سے کوئی آدمی نماز بھول جائے، یا اس سے سو جائے تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، عن عبد الله بن رباح، عن ابي قتادة، قال ذكروا للنبي صلى الله عليه وسلم نومهم عن الصلاة فقال " انه ليس في النوم تفريط انما التفريط في اليقظة فاذا نسي احدكم صلاة او نام عنها فليصلها اذا ذكرها
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیند کی حالت میں کوئی تقصیر ( کمی ) نہیں ہے، تقصیر ( کمی ) تو اس شخص میں ہے جو نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ جس وقت اسے اس کا ہوش آئے تو دوسری نماز کا وقت ہو جائے ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، - وهو ابن المبارك - عن سليمان بن المغيرة، عن ثابت، عن عبد الله بن رباح، عن ابي قتادة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس في النوم تفريط انما التفريط فيمن لم يصل الصلاة حتى يجيء وقت الصلاة الاخرى حين ينتبه لها
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب لوگ نماز سے سو گئے یہاں تک کہ سورج نکل آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے دوسرے روز اس کے وقت پر پڑھنا ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا ابو داود، قال حدثنا شعبة، عن ثابت البناني، عن عبد الله بن رباح، عن ابي قتادة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما ناموا عن الصلاة حتى طلعت الشمس قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فليصلها احدكم من الغد لوقتها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز بھول جاؤ تو یاد آنے پر اسے پڑھ لو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «أقم الصلاة لذكري» ۱؎ نماز قائم کرو جب میری یاد آئے ۔ عبدالاعلی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہم سے یعلیٰ نے مختصراً بیان کیا ہے۔
اخبرنا عبد الاعلى بن واصل بن عبد الاعلى، قال حدثنا يعلى، قال حدثنا محمد بن اسحاق، عن الزهري، عن سعيد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا نسيت الصلاة فصل اذا ذكرت فان الله تعالى يقول { اقم الصلاة لذكري } " . قال عبد الاعلى حدثنا به يعلى مختصرا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نماز بھول جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: نماز قائم کرو جب میری یاد آئے ۔
اخبرنا عمرو بن سواد بن الاسود بن عمرو، قال انبانا ابن وهب، قال انبانا يونس، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من نسي صلاة فليصلها اذا ذكرها فان الله تعالى قال { اقم الصلاة لذكري}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نماز بھول جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: نماز قائم کرو یاد آنے پر ، معمر کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح پڑھا ہے؟ کہا: ہاں ( یعنی: «للذکریٰ» ) ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله، عن معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من نسي صلاة فليصلها اذا ذكرها فان الله تعالى يقول { اقم الصلاة للذكرى } " . قلت للزهري هكذا قراها رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم
ابومریم (مالک بن ربیعہ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، تو ہم رات بھر چلتے رہے جب صبح ہونے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور سو رہے، لوگ بھی سو گئے، تو سورج کی دھوپ پڑنے ہی پر آپ جاگے، تو آپ نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اذان دی، پھر آپ نے فجر سے پہلے کی دونوں رکعتیں پڑھیں، پھر آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے اقامت کہی، اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر آپ نے قیامت قائم ہونے تک جو اہم چیزیں ہونے والی ہیں انہیں ہم سے بیان کیں۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابي الاحوص، عن عطاء بن السايب، عن بريد بن ابي مريم، عن ابيه، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فاسرينا ليلة فلما كان في وجه الصبح نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم فنام ونام الناس فلم نستيقظ الا بالشمس قد طلعت علينا فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم الموذن فاذن ثم صلى الركعتين قبل الفجر ثم امره فاقام فصلى بالناس ثم حدثنا بما هو كاين حتى تقوم الساعة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو ہمیں ( کافروں کی طرف سے ) ظہر، عصر، مغرب اور عشاء سے روک لیا گیا، تو یہ میرے اوپر بہت گراں گزرا، پھر میں نے اپنے جی میں کہا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں، اور اللہ کے راستے میں ہیں، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، تو انہوں نے اقامت کہی، تو آپ نے ہمیں ظہر پڑھائی، پھر انہوں نے اقامت کہی، تو آپ نے ہمیں عصر پڑھائی، پھر انہوں نے اقامت کہی، تو آپ نے ہمیں مغرب پڑھائی، پھر انہوں نے اقامت کہی، تو آپ نے ہمیں عشاء پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر گھومے اور فرمایا: روئے زمین پر تمہارے علاوہ کوئی جماعت نہیں ہے، جو اللہ کو یاد کر رہی ہو ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله، عن هشام الدستوايي، عن ابي الزبير، عن نافع بن جبير بن مطعم، عن ابي عبيدة بن عبد الله، عن عبد الله بن مسعود، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فحبسنا عن صلاة الظهر والعصر والمغرب والعشاء فاشتد ذلك على فقلت في نفسي نحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي سبيل الله فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم بلالا فاقام فصلى بنا الظهر ثم اقام فصلى بنا العصر ثم اقام فصلى بنا المغرب ثم اقام فصلى بنا العشاء ثم طاف علينا فقال " ما على الارض عصابة يذكرون الله عز وجل غيركم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات کے آخری حصہ میں سونے کے لیے پڑاؤ ڈالا، تو ہم ( سوتے رہے ) جاگ نہیں سکے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص کو چاہیئے کہ اپنی سواری کا سر تھام لے ( یعنی سوار ہو کر یہاں سے نکل جائے ) کیونکہ یہ ایسی جگہ ہے جس میں شیطان ہمارے ساتھ رہا ، ہم نے ایسا ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی مانگا اور وضو کیا، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر اقامت کہی گئی تو آپ نے فجر پڑھائی۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى، عن يزيد بن كيسان، قال حدثني ابو حازم، عن ابي هريرة، قال عرسنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم نستيقظ حتى طلعت الشمس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لياخذ كل رجل براس راحلته فان هذا منزل حضرنا فيه الشيطان " . قال ففعلنا فدعا بالماء فتوضا ثم صلى سجدتين ثم اقيمت الصلاة فصلى الغداة
جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک سفر میں فرمایا: آج رات کون ہماری نگرانی کرے گا تاکہ ہم فجر میں سوئے نہ رہ جائیں؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، پھر انہوں نے سورج نکلنے کی جانب رخ کیا، تو ان پر ایسی نیند طاری کر دی گئی کہ کوئی آواز ان کے کان تک پہنچ ہی نہیں سکی یہاں تک کہ سورج کی گرمی نے انہیں بیدار کیا، تو وہ اٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ وضو کرو ، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت فجر کی سنت پڑھی، اور لوگوں نے بھی فجر کی دو رکعت سنت پڑھی، پھر لوگوں نے فجر پڑھی۔
اخبرنا ابو عاصم، خشيش بن اصرم قال حدثنا يحيى بن حسان، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن عمرو بن دينار، عن نافع بن جبير، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في سفر له " من يكلونا الليلة لا نرقد عن صلاة الصبح " . قال بلال انا . فاستقبل مطلع الشمس فضرب على اذانهم حتى ايقظهم حر الشمس فقاموا فقال " توضيوا " . ثم اذن بلال فصلى ركعتين وصلوا ركعتى الفجر ثم صلوا الفجر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں چلے، پھر رات کے آخری حصہ میں سونے کے لیے پڑاؤ ڈالا، تو آپ جاگ نہیں سکے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، یا اس کا کچھ حصہ نکل آیا، اور آپ نماز نہیں پڑھ سکے یہاں تک کہ سورج اوپر چڑھ آیا، پھر آپ نے نماز پڑھی، اور یہی «صلوٰۃ وسطی» ہے ۱؎۔
اخبرنا ابو عاصم، قال حدثنا حبان بن هلال، حدثنا حبيب، عن عمرو بن هرم، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس، قال ادلج رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم عرس فلم يستيقظ حتى طلعت الشمس او بعضها فلم يصل حتى ارتفعت الشمس فصلى وهي صلاة الوسطى