Loading...

Loading...
کتب
۴۶ احادیث
انس بن مالک، مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کعبہ کے پاس نیم خواب اور نیم بیداری میں تھا کہ اسی دوران میرے پاس تین ( فرشتے ) آئے، ان تینوں میں سے ایک جو دو کے بیچ میں تھا میری طرف آیا، اور میرے پاس حکمت و ایمان سے بھرا ہوا سونے کا ایک طشت لایا گیا، تو اس نے میرا سینہ حلقوم سے پیٹ کے نچلے حصہ تک چاک کیا، اور دل کو آب زمزم سے دھویا، پھر وہ حکمت و ایمان سے بھر دیا گیا، پھر میرے پاس خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا ایک جانور لایا گیا، میں جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ چلا، تو ہم آسمان دنیا پر آئے، تو پوچھا گیا کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل ہوں، پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں، پوچھا گیا: کیا بلائے گئے ہیں؟ مرحبا مبارک ہو ان کی تشریف آوری، پھر میں آدم علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بیٹے اور نبی! پھر ہم دوسرے آسمان پر آئے، پوچھا گیا: کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل ہوں، پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں، یہاں بھی اسی طرح ہوا، یہاں میں عیسیٰ علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے ان دونوں کو سلام کیا، ان دونوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی اور نبی! پھر ہم تیسرے آسمان پر آئے، پوچھا گیا کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل ہوں، پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں، یہاں بھی اسی طرح ہوا، یہاں میں یوسف علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی اور نبی! پھر ہم چوتھے آسمان پر آئے، وہاں بھی اسی طرح ہوا، یہاں میں ادریس علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی اور نبی! پھر ہم پانچویں آسمان پر آئے، یہاں بھی ویسا ہی ہوا، میں ہارون علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی، اور نبی! پھر ہم چھٹے آسمان پر آئے، یہاں بھی ویسا ہی ہوا، تو میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی اور نبی! تو جب میں ان سے آگے بڑھا، تو وہ رونے لگے ۱؎، ان سے پوچھا گیا آپ کو کون سی چیز رلا رہی ہے؟ انہوں نے کہا: پروردگار! یہ لڑکا جسے تو نے میرے بعد بھیجا ہے اس کی امت سے جنت میں داخل ہونے والے لوگ میری امت کے داخل ہونے والے لوگوں سے زیادہ اور افضل ہوں گے، پھر ہم ساتویں آسمان پر آئے، یہاں بھی ویسا ہی ہوا، تو میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بیٹے اور نبی! پھر بیت معمور ۲؎ میرے قریب کر دیا گیا، میں نے ( اس کے متعلق ) جبرائیل سے پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ بیت معمور ہے، اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں، جب وہ اس سے نکلتے ہیں تو پھر دوبارہ اس میں واپس نہیں ہوتے، یہی ان کا آخری داخلہ ہوتا ہے، پھر سدرۃ المنتھی میرے قریب کر دیا گیا، اس کے بیر ہجر کے مٹکوں جیسے، اور اس کے پتے ہاتھی کے کان جیسے تھے، اور اس کی جڑ سے چار نہریں نکلی ہوئی تھی، دو نہریں باطنی ہیں، اور دو ظاہری، میں نے جبرائیل سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: باطنی نہریں تو جنت میں ہیں، اور ظاہری نہریں فرات اور نیل ہیں، پھر میرے اوپر پچاس وقت کی نمازیں فرض کی گئیں، میں لوٹ کر موسیٰ ( علیہ السلام ) کے پاس آیا، تو انہوں نے پوچھا: آپ نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میرے اوپر پچاس نمازیں فرض کی گئیں ہیں، انہوں نے کہا: میں لوگوں کو آپ سے زیادہ جانتا ہوں، میں بنی اسرائیل کو خوب جھیل چکا ہوں، آپ کی امت اس کی طاقت بالکل نہیں رکھتی، اپنے رب کے پاس واپس جایئے، اور اس سے گزارش کیجئیے کہ اس میں تخفیف کر دے، چنانچہ میں اپنے رب کے پاس واپس آیا، اور میں نے اس سے تخفیف کی گزارش کی، تو اللہ تعالیٰ نے چالیس نمازیں کر دیں، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا، انہوں نے پوچھا: آپ نے کیا کیا؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے انہیں چالیس کر دی ہیں، پھر انہوں نے مجھ سے وہی بات کہی جو پہلی بار کہی تھی، تو میں پھر اپنے رب عزوجل کے پاس واپس آیا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں تیس کر دیں، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، اور انہیں اس کی خبر دی، تو انہوں نے پھر وہی بات کہی جو پہلے کہی تھی، تو میں اپنے رب کے پاس واپس گیا، تو اس نے انہیں بیس پھر دس اور پھر پانچ کر دیں، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، تو انہوں نے پھر وہی بات کہی جو پہلے کہی تھی، تو میں نے کہا: ( اب مجھے ) اپنے رب عزوجل کے پاس ( باربار ) جانے سے شرم آ رہی ہے، تو آواز آئی: میں نے اپنا فریضہ نافذ کر دیا ہے، اور اپنے بندوں سے تخفیف کر دی ہے، اور میں نیکی کا بدلہ دس گنا دیتا ہوں ۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا هشام الدستوايي، قال حدثنا قتادة، عن انس بن مالك، عن مالك بن صعصعة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " بينا انا عند البيت بين النايم واليقظان اذ اقبل احد الثلاثة بين الرجلين فاتيت بطست من ذهب ملان حكمة وايمانا فشق من النحر الى مراق البطن فغسل القلب بماء زمزم ثم ملي حكمة وايمانا ثم اتيت بدابة دون البغل وفوق الحمار ثم انطلقت مع جبريل عليه السلام فاتينا السماء الدنيا فقيل من هذا قال جبريل . قيل ومن معك قال محمد . قيل وقد ارسل اليه مرحبا به ونعم المجيء جاء فاتيت على ادم عليه السلام فسلمت عليه قال مرحبا بك من ابن ونبي . ثم اتينا السماء الثانية قيل من هذا قال جبريل . قيل ومن معك قال محمد فمثل ذلك فاتيت على يحيى وعيسى فسلمت عليهما فقالا مرحبا بك من اخ ونبي . ثم اتينا السماء الثالثة قيل من هذا قال جبريل . قيل ومن معك قال محمد فمثل ذلك فاتيت على يوسف عليه السلام فسلمت عليه قال مرحبا بك من اخ ونبي . ثم اتينا السماء الرابعة فمثل ذلك فاتيت على ادريس عليه السلام فسلمت عليه فقال مرحبا بك من اخ ونبي . ثم اتينا السماء الخامسة فمثل ذلك فاتيت على هارون عليه السلام فسلمت عليه قال مرحبا بك من اخ ونبي . ثم اتينا السماء السادسة فمثل ذلك ثم اتيت على موسى عليه السلام فسلمت عليه فقال مرحبا بك من اخ ونبي . فلما جاوزته بكى قيل ما يبكيك قال يا رب هذا الغلام الذي بعثته بعدي يدخل من امته الجنة اكثر وافضل مما يدخل من امتي . ثم اتينا السماء السابعة فمثل ذلك فاتيت على ابراهيم عليه السلام فسلمت عليه فقال مرحبا بك من ابن ونبي . ثم رفع لي البيت المعمور فسالت جبريل فقال هذا البيت المعمور يصلي فيه كل يوم سبعون الف ملك فاذا خرجوا منه لم يعودوا فيه اخر ما عليهم ثم رفعت لي سدرة المنتهى فاذا نبقها مثل قلال هجر واذا ورقها مثل اذان الفيلة واذا في اصلها اربعة انهار نهران باطنان ونهران ظاهران فسالت جبريل فقال اما الباطنان ففي الجنة واما الظاهران فالفرات والنيل ثم فرضت على خمسون صلاة فاتيت على موسى فقال ما صنعت قلت فرضت على خمسون صلاة . قال اني اعلم بالناس منك اني عالجت بني اسراييل اشد المعالجة وان امتك لن يطيقوا ذلك فارجع الى ربك فاساله ان يخفف عنك فرجعت الى ربي فسالته ان يخفف عني فجعلها اربعين ثم رجعت الى موسى عليه السلام فقال ما صنعت قلت جعلها اربعين . فقال لي مثل مقالته الاولى فرجعت الى ربي عز وجل فجعلها ثلاثين فاتيت على موسى عليه السلام فاخبرته فقال لي مثل مقالته الاولى فرجعت الى ربي فجعلها عشرين ثم عشرة ثم خمسة فاتيت على موسى عليه السلام فقال لي مثل مقالته الاولى فقلت اني استحي من ربي عز وجل ان ارجع اليه فنودي ان قد امضيت فريضتي وخففت عن عبادي واجزي بالحسنة عشر امثالها
انس بن مالک اور ابن حزم رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، تو میں انہیں لے کر لوٹا، تو موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزر ہوا، تو انہوں نے پوچھا: آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: اس نے ان پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں، تو موسیٰ علیہ السلام نے مجھ سے کہا: جا کر اپنے رب سے پھر سے بات کیجئے، آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، تو میں نے اپنے رب عزوجل سے بات کی، تو اللہ تعالیٰ نے اس میں سے آدھا ۱؎ معاف کر دیا، تو میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے انہیں اس کی خبر دی، تو انہوں نے کہا: اپنے رب سے پھر بات کیجئے، آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، چنانچہ میں نے اپنے رب سے پھر سے بات کی، تو اس نے کہا: یہ پانچ نمازیں ہیں جو ( اجر میں ) پچاس ( کے برابر ) ہیں، میرے نزدیک فرمان بدلا نہیں جاتا، پھر میں موسیٰ ( علیہ السلام ) کے پاس واپس آیا، تو انہوں نے کہا: اپنے رب سے جا کر پھر بات کیجئے، میں نے کہا: مجھے اپنے رب کے پاس ( باربار ) جانے سے شرم آ رہی ہے ۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال انس بن مالك وابن حزم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فرض الله عز وجل على امتي خمسين صلاة فرجعت بذلك حتى امر بموسى عليه السلام فقال ما فرض ربك على امتك قلت فرض عليهم خمسين صلاة . قال لي موسى فراجع ربك عز وجل فان امتك لا تطيق ذلك . فراجعت ربي عز وجل فوضع شطرها فرجعت الى موسى فاخبرته فقال راجع ربك فان امتك لا تطيق ذلك . فراجعت ربي عز وجل فقال هي خمس وهي خمسون لا يبدل القول لدى . فرجعت الى موسى فقال راجع ربك فقلت قد استحييت من ربي عز وجل
یزید بن ابی مالک کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا ایک جانور لایا گیا، اس کا قدم وہاں پڑتا تھا جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی تھی، تو میں سوار ہو گیا، اور میرے ہمراہ جبرائیل علیہ السلام تھے، میں چلا، پھر جبرائیل نے کہا: اتر کر نماز پڑھ لیجئیے، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، انہوں نے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے طیبہ میں نماز پڑھی ہے، اور اسی کی طرف ہجرت ہو گی، پھر انہوں نے کہا: اتر کر نماز پڑھئے، تو میں نے نماز پڑھی، انہوں نے کہا: کیا جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے طور سینا پر نماز پڑھی ہے، جہاں اللہ عزوجل نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا تھا، پھر کہا: اتر کر نماز پڑھئے، میں نے اتر کر نماز پڑھی، انہوں نے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے بیت اللحم میں نماز پڑھی ہے، جہاں عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تھی، پھر میں بیت المقدس میں داخل ہوا، تو وہاں میرے لیے انبیاء علیہم السلام کو اکٹھا کیا گیا، جبرائیل نے مجھے آگے بڑھایا یہاں تک کہ میں نے ان کی امامت کی، پھر مجھے لے کر جبرائیل آسمان دنیا پر چڑھے، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں آدم علیہ السلام موجود ہیں، پھر وہ مجھے لے کر دوسرے آسمان پر چڑھے، تو دیکھتا ہوں کہ وہاں دونوں خالہ زاد بھائی عیسیٰ اور یحییٰ علیہما السلام موجود ہیں، پھر تیسرے آسمان پر چڑھے، تو دیکھتا ہوں کہ وہاں یوسف علیہ السلام موجود ہیں، پھر چوتھے آسمان پر چڑھے تو وہاں ہارون علیہ السلام ملے، پھر پانچویں آسمان پر چڑھے تو وہاں ادریس علیہ السلام موجود تھے، پھر چھٹے آسمان پر چڑھے وہاں موسیٰ علیہ السلام ملے، پھر ساتویں آسمان پر چڑھے وہاں ابراہیم علیہ السلام ملے، پھر ساتویں آسمان کے اوپر چڑھے اور ہم سدرۃ المنتہیٰ تک آئے، وہاں مجھے بدلی نے ڈھانپ لیا، اور میں سجدے میں گر پڑا، تو مجھ سے کہا گیا: جس دن میں نے زمین و آسمان کی تخلیق کی تم پر اور تمہاری امت پر میں نے پچاس نمازیں فرض کیں، تو تم اور تمہاری امت انہیں ادا کرو، پھر میں لوٹ کر ابراہیم علیہ السلام کے پاس آیا، تو انہوں نے مجھ سے کچھ نہیں پوچھا، میں پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، تو انہوں نے پوچھا: تم پر اور تمہاری امت پر کتنی ( نمازیں ) فرض کی گئیں؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں، تو انہوں نے کہا: نہ آپ اسے انجام دے سکیں گے اور نہ ہی آپ کی امت، تو اپنے رب کے پاس واپس جایئے اور اس سے تخفیف کی درخواست کیجئے، چنانچہ میں اپنے رب کے پاس واپس گیا، تو اس نے دس نمازیں تخفیف کر دیں، پھر میں موسیٰ ( علیہ السلام ) کے پاس آیا، تو انہوں نے مجھے پھر واپس جانے کا حکم دیا، چنانچہ میں پھر واپس گیا تو اس نے ( پھر ) دس نمازیں تخفیف کر دیں، میں پھر موسیٰ ( علیہ السلام ) کے پاس آیا انہوں نے مجھے پھر واپس جانے کا حکم دیا، چنانچہ میں واپس گیا، تو اس نے مجھ سے دس نمازیں تخفیف کر دیں، پھر ( باربار درخواست کرنے سے ) پانچ نمازیں کر دی گئیں، ( اس پر بھی ) موسیٰ ( علیہ السلام ) نے کہا: اپنے رب کے حضور واپس جایئے اور تخفیف کی گزارش کیجئے، اس لیے کہ بنی اسرائیل پر دو نمازیں فرض کی گئیں تھیں، تو وہ اسے ادا نہیں کر سکے، چنانچہ میں اپنے رب کے حضور واپس آیا، اور میں نے اس سے تخفیف کی گزارش کی، تو اس نے فرمایا: جس دن میں نے زمین و آسمان پیدا کیا، اسی دن میں نے تم پر اور تمہاری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، تو اب یہ پانچ پچاس کے برابر ہیں، انہیں تم ادا کرو، اور تمہاری امت ( بھی ) ، تو میں نے جان لیا کہ یہ اللہ عزوجل کا قطعی حکم ہے، چنانچہ میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا، تو انہوں نے کہا: پھر جایئے، لیکن میں نے جان لیا تھا کہ یہ اللہ کا قطعی یعنی حتمی فیصلہ ہے، چنانچہ میں پھر واپس نہیں گیا ۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ۔ ( معراج کی شب ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جایا گیا تو جبرائیل علیہ السلام آپ کو لے کر سدرۃ المنتہیٰ پہنچے، یہ چھٹے آسمان پر ہے ۱؎ جو چیزیں نیچے سے اوپر چڑھتی ہیں ۲؎ یہیں ٹھہر جاتی ہیں، اور جو چیزیں اس کے اوپر سے اترتی ہیں ۳؎ یہیں ٹھہر جاتی ہیں، یہاں تک کہ یہاں سے وہ لی جاتی ہیں ۴؎ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت کریمہ «إذ يغشى السدرة ما يغشى» ۵؎ ( جب کہ سدرۃ کو ڈھانپ لیتی تھیں وہ چیزیں جو اس پر چھا جاتی تھیں ) پڑھی اور ( اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ) کہا: وہ سونے کے پروانے تھے، تو ( وہاں ) آپ کو تین چیزیں دی گئیں: پانچ نمازیں، سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں ۶؎، اور آپ کی امت میں سے اس شخص کی کبیرہ گناہوں کی بخشش، جو اللہ کے ساتھ بغیر کچھ شرک کئے مرے۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا مالك بن مغول، عن الزبير بن عدي، عن طلحة بن مصرف، عن مرة، عن عبد الله، قال لما اسري برسول الله صلى الله عليه وسلم انتهي به الى سدرة المنتهى وهي في السماء السادسة واليها ينتهي ما عرج به من تحتها واليها ينتهي ما اهبط به من فوقها حتى يقبض منها قال { اذ يغشى السدرة ما يغشى } قال فراش من ذهب فاعطي ثلاثا الصلوات الخمس وخواتيم سورة البقرة ويغفر لمن مات من امته لا يشرك بالله شييا المقحمات
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پنج وقتہ نمازیں مکہ میں فرض کی گئیں، دو فرشتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ دونوں آپ کو زمزم کے پاس لے گئے، اور آپ کا پیٹ چاک کیا، اور اندر کی چیزیں نکال کر سونے کے ایک طشت میں رکھیں، اور انہیں آب زمزم سے دھویا، پھر آپ کا پیٹ علم و حکمت سے بھر کر بند کر دیا۔
اخبرنا سليمان بن داود، عن ابن وهب، قال اخبرني عمرو بن الحارث، ان عبد ربه بن سعيد، حدثه ان البناني حدثه عن انس بن مالك، ان الصلوات، فرضت بمكة وان ملكين اتيا رسول الله صلى الله عليه وسلم فذهبا به الى زمزم فشقا بطنه واخرجا حشوه في طست من ذهب فغسلاه بماء زمزم ثم كبسا جوفه حكمة وعلما
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابتداء میں دو رکعت نماز فرض کی گئی، پھر سفر کی نماز ( دو ہی ) باقی رکھی گئی اور حضر کی نماز ( بڑھا کر ) پوری کر دی گئی۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت اول ما فرضت الصلاة ركعتين فاقرت صلاة السفر واتمت صلاة الحضر
ولید کہتے ہیں کہ ابوعمرو اوزاعی نے مجھے خبر دی ہے کہ انہوں نے زہری سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا کہ مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے مکہ میں آپ کی نماز کیسی ہوتی تھی، تو انہوں نے کہا: مجھے عروہ نے خبر دی ہے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر دو دو رکعت نماز فرض کی، پھر حضر میں چار رکعت کر کے انہیں مکمل کر دی، اور سفر کی نماز سابق حکم ہی پر برقرار رکھی گئی۔
اخبرنا محمد بن هاشم البعلبكي، قال انبانا الوليد، قال اخبرني ابو عمرو يعني الاوزاعي، انه سال الزهري عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة قبل الهجرة الى المدينة قال اخبرني عروة عن عايشة قالت فرض الله عز وجل الصلاة على رسوله صلى الله عليه وسلم اول ما فرضها ركعتين ركعتين ثم اتمت في الحضر اربعا واقرت صلاة السفر على الفريضة الاولى
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نماز دو دو رکعت فرض کی گئی، پھر سفر کی نماز ( دو ہی ) برقرار رکھی گئی، اور حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن صالح بن كيسان، عن عروة، عن عايشة، قالت فرضت الصلاة ركعتين ركعتين فاقرت صلاة السفر وزيد في صلاة الحضر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نماز بزبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضر میں چار رکعت، سفر میں دو رکعت، اور خوف میں ایک رکعت فرض کی گئی ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، وعبد الرحمن، قالا حدثنا ابو عوانة، عن بكير بن الاخنس، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال فرضت الصلاة على لسان النبي صلى الله عليه وسلم في الحضر اربعا وفي السفر ركعتين وفي الخوف ركعة
امیہ بن عبداللہ بن خالد بن اسید سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ آپ نماز ( بغیر خوف کے ) کیسے قصر کرتے ہیں؟ حالانکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: «فليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم» اگر خوف کی وجہ سے تم لوگ نماز قصر کرتے ہو تو تم پر کوئی حرج نہیں ( النساء: ۱۰۱ ) تو ابن عمر رضی اللہ عنہم نے کہا: بھتیجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس وقت آئے جب ہم گمراہ تھے، آپ نے ہمیں تعلیم دی، آپ کی تعلیمات میں سے یہ بھی تھا کہ ہم سفر میں دو رکعت نماز پڑھیں، شعیثی کہتے ہیں کہ زہری اس حدیث کو عبداللہ بن ابوبکر کے طریق سے روایت کرتے تھے۔
اخبرنا يوسف بن سعيد، قال حدثنا حجاج بن محمد، قال حدثنا محمد بن عبد الله الشعيثي، عن عبد الله بن ابي بكر بن الحارث بن هشام، عن امية بن عبد الله بن خالد بن اسيد، انه قال لابن عمر كيف تقصر الصلاة وانما قال الله عز وجل { فليس عليكم جناح ان تقصروا من الصلاة ان خفتم } فقال ابن عمر يا ابن اخي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتانا ونحن ضلال فعلمنا فكان فيما علمنا ان الله عز وجل امرنا ان نصلي ركعتين في السفر . قال الشعيثي وكان الزهري يحدث بهذا الحديث عن عبد الله بن ابي بكر
ابو سہیل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ اہل نجد کا ایک آدمی پراگندہ سر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ہم اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سن رہے تھے، لیکن جو کہہ رہا تھا اسے سمجھ نہیں پا رہے تھے، یہاں تک کہ وہ قریب آ گیا، تو معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے متعلق پوچھ رہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ( اسلام ) دن اور رات میں پانچ وقت کی نماز پڑھنا ہے ، اس نے پوچھا: کیا میرے اوپر ان کے علاوہ بھی ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، الا یہ کہ تم نفل پڑھو ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ماہ رمضان کا روزہ ہے ، اس نے پوچھا: اس کے علاوہ بھی کوئی روزہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، الا یہ کہ تم نفل رکھو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکوٰۃ کا بھی ذکر کیا، تو اس نے پوچھا: کیا میرے اوپر اس کے علاوہ بھی کچھ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، الا یہ کہ تم نفل صدقہ دو ، پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر جانے لگا، اور وہ کہہ رہا تھا: قسم اللہ کی! میں اس سے نہ زیادہ کروں گا نہ کم، ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کامیاب ہو گیا اگر اس نے سچ کہا ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك بن انس، عن ابي سهيل، عن ابيه، انه سمع طلحة بن عبيد الله، يقول جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم من اهل نجد ثاير الراس نسمع دوي صوته ولا نفهم ما يقول حتى دنا فاذا هو يسال عن الاسلام فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " خمس صلوات في اليوم والليلة " . قال هل على غيرهن قال " لا الا ان تطوع " . قال " وصيام شهر رمضان " . قال هل على غيره قال " لا الا ان تطوع " . وذكر له رسول الله صلى الله عليه وسلم الزكاة قال هل على غيرها قال " لا الا ان تطوع " . فادبر الرجل وهو يقول والله لا ازيد على هذا ولا انقص منه . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افلح ان صدق
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! اللہ عزوجل نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں ، اس نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! کیا ان سے پہلے یا بعد میں بھی کوئی چیز ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں ہی فرض کی ہیں ، تو اس آدمی نے قسم کھائی کہ وہ نہ اس پر کوئی اضافہ کرے گا، اور نہ کوئی کمی کرے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے سچ کہا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا نوح بن قيس، عن خالد بن قيس، عن قتادة، عن انس، قال سال رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله كم افترض الله عز وجل على عباده من الصلوات قال " افترض الله على عباده صلوات خمسا " . قال يا رسول الله هل قبلهن او بعدهن شييا قال " افترض الله على عباده صلوات خمسا " . فحلف الرجل لا يزيد عليه شييا ولا ينقص منه شييا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان صدق ليدخلن الجنة
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت نہیں کرو گے؟ آپ نے اس بات کو تین مرتبہ دہرایا، تو ہم سب نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اور آپ سے بیعت کی، پھر ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ سے بیعت تو کر لی، لیکن یہ بیعت کس چیز پر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بیعت اس بات پر ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے، پانچوں نمازیں ادا کرو گے ، اور آپ نے ایک اور بات آہستہ سے کہی کہ لوگوں سے کچھ مانگو گے نہیں ۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا ابو مسهر، قال حدثنا سعيد بن عبد العزيز، عن ربيعة بن يزيد، عن ابي ادريس الخولاني، عن ابي مسلم الخولاني، قال اخبرنا الحبيب الامين، عوف بن مالك الاشجعي قال كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " الا تبايعون رسول الله صلى الله عليه وسلم " . فرددها ثلاث مرات فقدمنا ايدينا فبايعناه فقلنا يا رسول الله قد بايعناك فعلام قال " على ان تعبدوا الله ولا تشركوا به شييا والصلوات الخمس واسر كلمة خفية ان لا تسالوا الناس شييا
ابن محریز سے روایت ہے کہ بنی کنانہ کے ایک آدمی نے جسے مخدجی کہا جاتا تھا شام میں ایک آدمی کو جس کی کنیت ابو محمد تھی کہتے سنا کہ وتر واجب ہے، مخدجی کہتے ہیں: تو میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اور میں نے مسجد جاتے ہوئے انہیں راستے ہی میں روک لیا، اور انہیں ابو محمد کی بات بتائی، تو عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ابو محمد نے جھوٹ کہا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جو انہیں ادا کرے گا، اور ان میں سے کس کو ہلکا سمجھتے ہوئے ضائع نہیں کرے گا، تو اللہ کا اس سے پختہ وعدہ ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے گا، اور جس نے انہیں ادا نہیں کیا تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں ہے، اگر چاہے تو اسے عذاب دے، اور چاہے تو اسے جنت میں داخل کرے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن ابن محيريز، ان رجلا، من بني كنانة يدعى المخدجي سمع رجلا، بالشام يكنى ابا محمد يقول الوتر واجب . قال المخدجي فرحت الى عبادة بن الصامت فاعترضت له وهو رايح الى المسجد فاخبرته بالذي قال ابو محمد فقال عبادة كذب ابو محمد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " خمس صلوات كتبهن الله على العباد من جاء بهن لم يضيع منهن شييا استخفافا بحقهن كان له عند الله عهد ان يدخله الجنة ومن لم يات بهن فليس له عند الله عهد ان شاء عذبه وان شاء ادخله الجنة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کا کیا خیال ہے کہ اگر کسی کے دروازے پر کوئی نہر ہو جس سے وہ ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، کیا اس کے جسم پر کچھ بھی میل باقی رہے گا ، لوگوں نے کہا: کچھ بھی میل باقی نہیں رہے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسی طرح پانچوں نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن الهاد، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ارايتم لو ان نهرا بباب احدكم يغتسل منه كل يوم خمس مرات هل يبقى من درنه شىء." قالوا لا يبقى من درنه شيء قال فكذلك مثل الصلوات الخمس يمحو الله بهن الخطايا
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور منافقوں کے درمیان جو ( فرق کرنے والا ) عہد ہے، وہ نماز ہے، تو جو اسے چھوڑ دے گا، کافر ہو جائے گا ۱؎۔
اخبرنا الحسين بن حريث، قال انبانا الفضل بن موسى، عن الحسين بن واقد، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان العهد الذي بيننا وبينهم الصلاة فمن تركها فقد كفر
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندے اور کفر کے درمیان سوائے نماز چھوڑ دینے کے کوئی اور حد فاصل نہیں ۔
اخبرنا احمد بن حرب، حدثنا محمد بن ربيعة، عن ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس بين العبد وبين الكفر الا ترك الصلاة
حریث بن قبیصہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا، وہ کہتے ہیں: میں نے دعا کی، اے اللہ! مجھے کوئی نیک ہم نشیں عنایت فرما، تو مجھے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہم نشینی ملی، وہ کہتے ہیں: تو میں نے ان سے کہا کہ میں نے اللہ عزوجل سے دعا کی تھی کہ مجھے ایک نیک ہم نشیں عنایت فرما تو ( مجھے آپ ملے ہیں ) آپ مجھ سے کوئی حدیث بیان کیجئیے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، ہو سکتا ہے اللہ اس کے ذریعہ مجھے فائدہ پہنچائے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ( قیامت کے دن ) بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کے بارے میں بازپرس ہو گی، اگر یہ درست ہوئی تو یقیناً وہ کامیاب و کامراں رہے گا، اور اگر خراب رہی تو بلاشبہ ناکام و نامراد رہے گا ، راوی ہمام کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم یہ قتادہ کی بات ہے یا روایت کا حصہ ہے، اگر اس کے فرائض میں کوئی کمی رہی تو اللہ فرمائے گا: دیکھو میرے بندے کے پاس کوئی نفل ہے؟ ( اگر ہو تو ) ۱؎ فرض میں جو کمی ہے اس کے ذریعہ پوری کر دی جائے، پھر اس کا باقی عمل بھی اسی طرح ہو گا ۔
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا هارون، - هو ابن اسماعيل الخزاز - قال حدثنا همام، عن قتادة، عن الحسن، عن حريث بن قبيصة، قال قدمت المدينة قال قلت اللهم يسر لي جليسا صالحا فجلست الى ابي هريرة - رضى الله عنه - قال فقلت اني دعوت الله عز وجل ان ييسر لي جليسا صالحا فحدثني بحديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم لعل الله ان ينفعني به . قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان اول ما يحاسب به العبد بصلاته فان صلحت فقد افلح وانجح وان فسدت فقد خاب وخسر " . قال همام لا ادري هذا من كلام قتادة او من الرواية " فان انتقص من فريضته شىء قال انظروا هل لعبدي من تطوع فيكمل به ما نقص من الفريضة ثم يكون ساير عمله على نحو ذلك " . خالفه ابو العوام
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے بندہ سے اس کی نماز کے بارے میں بازپرس ہو گی، اگر وہ پوری ملی تو پوری لکھ دی جائے گی، اور اگر اس میں کچھ کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ کہے گا: دیکھو تم اس کے پاس کوئی نفل پا رہے ہو کہ جس کے ذریعہ جو فرائض اس نے ضائع کئے ہیں اسے پورا کیا جا سکے، پھر باقی تمام اعمال بھی اسی کے مطابق جاری ہوں گے ۔
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا شعيب، - يعني ابن زياد بن ميمون - قال كتب علي بن المديني عنه - اخبرنا ابو العوام، عن قتادة، عن الحسن، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان اول ما يحاسب به العبد يوم القيامة صلاته فان وجدت تامة كتبت تامة وان كان انتقص منها شىء قال انظروا هل تجدون له من تطوع يكمل له ما ضيع من فريضة من تطوعه ثم ساير الاعمال تجري على حسب ذلك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے بندہ سے نماز کی بازپرس ہو گی، اگر اس نے اسے پورا کیا ہے ( تو ٹھیک ہے ) ورنہ اللہ عزوجل فرمائے گا: دیکھو میرے بندے کے پاس کوئی نفل ہے؟ اگر اس کے پاس کوئی نفل ملا تو فرمائے گا: اس کے ذریعہ فرض پورا کر دو ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا النضر بن شميل، قال انبانا حماد بن سلمة، عن الازرق بن قيس، عن يحيى بن يعمر، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اول ما يحاسب به العبد صلاته فان كان اكملها والا قال الله عز وجل انظروا لعبدي من تطوع فان وجد له تطوع قال اكملوا به الفريضة
اخبرنا عمرو بن هشام، قال حدثنا مخلد، عن سعيد بن عبد العزيز، قال حدثنا يزيد بن ابي مالك، قال حدثنا انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اتيت بدابة فوق الحمار ودون البغل خطوها عند منتهى طرفها فركبت ومعي جبريل عليه السلام فسرت فقال انزل فصل . ففعلت فقال اتدري اين صليت صليت بطيبة واليها المهاجر ثم قال انزل فصل . فصليت فقال اتدري اين صليت صليت بطور سيناء حيث كلم الله عز وجل موسى عليه السلام ثم قال انزل فصل . فنزلت فصليت فقال اتدري اين صليت صليت ببيت لحم حيث ولد عيسى عليه السلام . ثم دخلت بيت المقدس فجمع لي الانبياء عليهم السلام فقدمني جبريل حتى اممتهم ثم صعد بي الى السماء الدنيا فاذا فيها ادم عليه السلام ثم صعد بي الى السماء الثانية فاذا فيها ابنا الخالة عيسى ويحيى عليهما السلام ثم صعد بي الى السماء الثالثة فاذا فيها يوسف عليه السلام ثم صعد بي الى السماء الرابعة فاذا فيها هارون عليه السلام ثم صعد بي الى السماء الخامسة فاذا فيها ادريس عليه السلام ثم صعد بي الى السماء السادسة فاذا فيها موسى عليه السلام ثم صعد بي الى السماء السابعة فاذا فيها ابراهيم عليه السلام ثم صعد بي فوق سبع سموات فاتينا سدرة المنتهى فغشيتني ضبابة فخررت ساجدا فقيل لي اني يوم خلقت السموات والارض فرضت عليك وعلى امتك خمسين صلاة فقم بها انت وامتك . فرجعت الى ابراهيم فلم يسالني عن شىء ثم اتيت على موسى فقال كم فرض الله عليك وعلى امتك قلت خمسين صلاة . قال فانك لا تستطيع ان تقوم بها انت ولا امتك فارجع الى ربك فاساله التخفيف . فرجعت الى ربي فخفف عني عشرا ثم اتيت موسى فامرني بالرجوع فرجعت فخفف عني عشرا ثم ردت الى خمس صلوات . قال فارجع الى ربك فاساله التخفيف فانه فرض على بني اسراييل صلاتين فما قاموا بهما . فرجعت الى ربي عز وجل فسالته التخفيف فقال اني يوم خلقت السموات والارض فرضت عليك وعلى امتك خمسين صلاة فخمس بخمسين فقم بها انت وامتك . فعرفت انها من الله تبارك وتعالى صرى فرجعت الى موسى عليه السلام فقال ارجع فعرفت انها من الله صرى - اى حتم - فلم ارجع