احادیث
#457
سنن نسائی - Prayer
امیہ بن عبداللہ بن خالد بن اسید سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ آپ نماز ( بغیر خوف کے ) کیسے قصر کرتے ہیں؟ حالانکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: «فليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم» اگر خوف کی وجہ سے تم لوگ نماز قصر کرتے ہو تو تم پر کوئی حرج نہیں ( النساء: ۱۰۱ ) تو ابن عمر رضی اللہ عنہم نے کہا: بھتیجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس وقت آئے جب ہم گمراہ تھے، آپ نے ہمیں تعلیم دی، آپ کی تعلیمات میں سے یہ بھی تھا کہ ہم سفر میں دو رکعت نماز پڑھیں، شعیثی کہتے ہیں کہ زہری اس حدیث کو عبداللہ بن ابوبکر کے طریق سے روایت کرتے تھے۔
اخبرنا يوسف بن سعيد، قال حدثنا حجاج بن محمد، قال حدثنا محمد بن عبد الله الشعيثي، عن عبد الله بن ابي بكر بن الحارث بن هشام، عن امية بن عبد الله بن خالد بن اسيد، انه قال لابن عمر كيف تقصر الصلاة وانما قال الله عز وجل { فليس عليكم جناح ان تقصروا من الصلاة ان خفتم } فقال ابن عمر يا ابن اخي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتانا ونحن ضلال فعلمنا فكان فيما علمنا ان الله عز وجل امرنا ان نصلي ركعتين في السفر . قال الشعيثي وكان الزهري يحدث بهذا الحديث عن عبد الله بن ابي بكر
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Prayer
- Hadith Index
- #457
- Book Index
- 10
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
