احادیث
#450
سنن نسائی - Prayer
یزید بن ابی مالک کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا ایک جانور لایا گیا، اس کا قدم وہاں پڑتا تھا جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی تھی، تو میں سوار ہو گیا، اور میرے ہمراہ جبرائیل علیہ السلام تھے، میں چلا، پھر جبرائیل نے کہا: اتر کر نماز پڑھ لیجئیے، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، انہوں نے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے طیبہ میں نماز پڑھی ہے، اور اسی کی طرف ہجرت ہو گی، پھر انہوں نے کہا: اتر کر نماز پڑھئے، تو میں نے نماز پڑھی، انہوں نے کہا: کیا جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے طور سینا پر نماز پڑھی ہے، جہاں اللہ عزوجل نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا تھا، پھر کہا: اتر کر نماز پڑھئے، میں نے اتر کر نماز پڑھی، انہوں نے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے بیت اللحم میں نماز پڑھی ہے، جہاں عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تھی، پھر میں بیت المقدس میں داخل ہوا، تو وہاں میرے لیے انبیاء علیہم السلام کو اکٹھا کیا گیا، جبرائیل نے مجھے آگے بڑھایا یہاں تک کہ میں نے ان کی امامت کی، پھر مجھے لے کر جبرائیل آسمان دنیا پر چڑھے، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں آدم علیہ السلام موجود ہیں، پھر وہ مجھے لے کر دوسرے آسمان پر چڑھے، تو دیکھتا ہوں کہ وہاں دونوں خالہ زاد بھائی عیسیٰ اور یحییٰ علیہما السلام موجود ہیں، پھر تیسرے آسمان پر چڑھے، تو دیکھتا ہوں کہ وہاں یوسف علیہ السلام موجود ہیں، پھر چوتھے آسمان پر چڑھے تو وہاں ہارون علیہ السلام ملے، پھر پانچویں آسمان پر چڑھے تو وہاں ادریس علیہ السلام موجود تھے، پھر چھٹے آسمان پر چڑھے وہاں موسیٰ علیہ السلام ملے، پھر ساتویں آسمان پر چڑھے وہاں ابراہیم علیہ السلام ملے، پھر ساتویں آسمان کے اوپر چڑھے اور ہم سدرۃ المنتہیٰ تک آئے، وہاں مجھے بدلی نے ڈھانپ لیا، اور میں سجدے میں گر پڑا، تو مجھ سے کہا گیا: جس دن میں نے زمین و آسمان کی تخلیق کی تم پر اور تمہاری امت پر میں نے پچاس نمازیں فرض کیں، تو تم اور تمہاری امت انہیں ادا کرو، پھر میں لوٹ کر ابراہیم علیہ السلام کے پاس آیا، تو انہوں نے مجھ سے کچھ نہیں پوچھا، میں پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، تو انہوں نے پوچھا: تم پر اور تمہاری امت پر کتنی ( نمازیں ) فرض کی گئیں؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں، تو انہوں نے کہا: نہ آپ اسے انجام دے سکیں گے اور نہ ہی آپ کی امت، تو اپنے رب کے پاس واپس جایئے اور اس سے تخفیف کی درخواست کیجئے، چنانچہ میں اپنے رب کے پاس واپس گیا، تو اس نے دس نمازیں تخفیف کر دیں، پھر میں موسیٰ ( علیہ السلام ) کے پاس آیا، تو انہوں نے مجھے پھر واپس جانے کا حکم دیا، چنانچہ میں پھر واپس گیا تو اس نے ( پھر ) دس نمازیں تخفیف کر دیں، میں پھر موسیٰ ( علیہ السلام ) کے پاس آیا انہوں نے مجھے پھر واپس جانے کا حکم دیا، چنانچہ میں واپس گیا، تو اس نے مجھ سے دس نمازیں تخفیف کر دیں، پھر ( باربار درخواست کرنے سے ) پانچ نمازیں کر دی گئیں، ( اس پر بھی ) موسیٰ ( علیہ السلام ) نے کہا: اپنے رب کے حضور واپس جایئے اور تخفیف کی گزارش کیجئے، اس لیے کہ بنی اسرائیل پر دو نمازیں فرض کی گئیں تھیں، تو وہ اسے ادا نہیں کر سکے، چنانچہ میں اپنے رب کے حضور واپس آیا، اور میں نے اس سے تخفیف کی گزارش کی، تو اس نے فرمایا: جس دن میں نے زمین و آسمان پیدا کیا، اسی دن میں نے تم پر اور تمہاری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، تو اب یہ پانچ پچاس کے برابر ہیں، انہیں تم ادا کرو، اور تمہاری امت ( بھی ) ، تو میں نے جان لیا کہ یہ اللہ عزوجل کا قطعی حکم ہے، چنانچہ میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا، تو انہوں نے کہا: پھر جایئے، لیکن میں نے جان لیا تھا کہ یہ اللہ کا قطعی یعنی حتمی فیصلہ ہے، چنانچہ میں پھر واپس نہیں گیا ۔
اخبرنا عمرو بن هشام، قال حدثنا مخلد، عن سعيد بن عبد العزيز، قال حدثنا يزيد بن ابي مالك، قال حدثنا انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اتيت بدابة فوق الحمار ودون البغل خطوها عند منتهى طرفها فركبت ومعي جبريل عليه السلام فسرت فقال انزل فصل . ففعلت فقال اتدري اين صليت صليت بطيبة واليها المهاجر ثم قال انزل فصل . فصليت فقال اتدري اين صليت صليت بطور سيناء حيث كلم الله عز وجل موسى عليه السلام ثم قال انزل فصل . فنزلت فصليت فقال اتدري اين صليت صليت ببيت لحم حيث ولد عيسى عليه السلام . ثم دخلت بيت المقدس فجمع لي الانبياء عليهم السلام فقدمني جبريل حتى اممتهم ثم صعد بي الى السماء الدنيا فاذا فيها ادم عليه السلام ثم صعد بي الى السماء الثانية فاذا فيها ابنا الخالة عيسى ويحيى عليهما السلام ثم صعد بي الى السماء الثالثة فاذا فيها يوسف عليه السلام ثم صعد بي الى السماء الرابعة فاذا فيها هارون عليه السلام ثم صعد بي الى السماء الخامسة فاذا فيها ادريس عليه السلام ثم صعد بي الى السماء السادسة فاذا فيها موسى عليه السلام ثم صعد بي الى السماء السابعة فاذا فيها ابراهيم عليه السلام ثم صعد بي فوق سبع سموات فاتينا سدرة المنتهى فغشيتني ضبابة فخررت ساجدا فقيل لي اني يوم خلقت السموات والارض فرضت عليك وعلى امتك خمسين صلاة فقم بها انت وامتك . فرجعت الى ابراهيم فلم يسالني عن شىء ثم اتيت على موسى فقال كم فرض الله عليك وعلى امتك قلت خمسين صلاة . قال فانك لا تستطيع ان تقوم بها انت ولا امتك فارجع الى ربك فاساله التخفيف . فرجعت الى ربي فخفف عني عشرا ثم اتيت موسى فامرني بالرجوع فرجعت فخفف عني عشرا ثم ردت الى خمس صلوات . قال فارجع الى ربك فاساله التخفيف فانه فرض على بني اسراييل صلاتين فما قاموا بهما . فرجعت الى ربي عز وجل فسالته التخفيف فقال اني يوم خلقت السموات والارض فرضت عليك وعلى امتك خمسين صلاة فخمس بخمسين فقم بها انت وامتك . فعرفت انها من الله تبارك وتعالى صرى فرجعت الى موسى عليه السلام فقال ارجع فعرفت انها من الله صرى - اى حتم - فلم ارجع
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Prayer
- Hadith Index
- #450
- Book Index
- 3
Grades
- Abu GhuddahMunkar
- Al-AlbaniMunkar
- Zubair Ali ZaiHasan
