Loading...

Loading...
کتب
۴۶ احادیث
ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو، اسے چھوڑ دو گویا آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے۱؎۔
اخبرنا محمد بن عثمان بن ابي صفوان الثقفي، قال حدثنا بهز بن اسد، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا محمد بن عثمان بن عبد الله، وابوه، عثمان بن عبد الله انهما سمعا موسى بن طلحة، يحدث عن ابي ايوب، ان رجلا، قال يا رسول الله اخبرني بعمل يدخلني الجنة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تعبد الله ولا تشرك به شييا وتقيم الصلاة وتوتي الزكاة وتصل الرحم ذرها " كانه كان على راحلته
ابن منکدر اور ابراہیم بن میسرہ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی، اور ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت پڑھی ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن ابن المنكدر، وابراهيم بن ميسرة، سمعا انسا، قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم الظهر بالمدينة اربعا وبذي الحليفة العصر ركعتين
حکم بن عتیبہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر میں نکلے ( ابن مثنی کی روایت میں ہے: بطحاء کی طرف نکلے ) تو آپ نے وضو کیا، اور ظہر کی نماز دو رکعت پڑھی، اور عصر کی دو رکعت پڑھی، اور آپ کے سامنے نیزہ ( بطور سترہ ) تھا۔
اخبرنا محمد بن المثنى، ومحمد بن بشار، قالا حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن الحكم بن عتيبة، قال سمعت ابا جحيفة، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم بالهاجرة - قال ابن المثنى الى البطحاء - فتوضا وصلى الظهر ركعتين والعصر ركعتين وبين يديه عنزة
عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھے گا وہ ہرگز جہنم کی آگ میں داخل نہیں ہو گا ۱؎۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا مسعر، وابن ابي خالد، والبختري بن ابي البختري، كلهم سمعوه من ابي بكر بن عمارة بن، رويبة الثقفي، عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لن يلج النار من صلى قبل طلوع الشمس وقبل غروبها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابو یونس کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھوں، اور کہا: جب اس آیت کریمہ: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى» ( البقرہ: ۲۸۳ ) پر پہنچنا تو مجھے بتانا، چنانچہ جب میں اس آیت پر پہنچا تو میں نے انہیں بتایا، تو انہوں نے مجھے املا کرایا «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين» پھر انہوں نے کہا: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن القعقاع بن حكيم، عن ابي يونس، مولى عايشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قال امرتني عايشة ان اكتب لها مصحفا فقالت اذا بلغت هذه الاية فاذني { حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى } فلما بلغتها اذنتها فاملت على حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين . ثم قالت سمعتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جنگ خندق کے موقع پر ) فرمایا: ان لوگوں ( کافروں ) نے ہمیں بیچ والی نماز سے مشغول کر دیا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا ۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، قال اخبرني قتادة، عن ابي حسان، عن عبيدة، عن علي، - رضى الله عنه - عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " شغلونا عن الصلاة الوسطى حتى غربت الشمس
ابوالملیح (ابوالملیح بن اسامہ) کہتے ہیں کہ بدلی والے ایک دن میں ہم بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے تو انہوں نے کہا: نماز جلدی پڑھو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس نے عصر کی نماز چھوڑی اس کا عمل رائیگاں گیا ۱؎۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثني يحيى، عن هشام، قال حدثني يحيى بن ابي كثير، عن ابي قلابة، قال حدثني ابو المليح، قال كنا مع بريدة في يوم ذي غيم فقال بكروا بالصلاة فان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من ترك صلاة العصر فقد حبط عمله
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگایا کرتے تھے، تو ہم نے ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ سورۃ السجدہ کی تیس آیتوں کے بقدر لگایا، اور آخر کی دونوں رکعتوں میں اس کا آدھا، اور ہم نے عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ ظہر کی آخری دونوں رکعتوں کے بقدر لگایا، اور عصر کی آخری دونوں رکعتوں کا اندازہ اس کا آدھا لگایا۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا هشيم، قال انبانا منصور بن زاذان، عن الوليد بن مسلم، عن ابي الصديق الناجي، عن ابي سعيد الخدري، قال كنا نحزر قيام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الظهر والعصر فحزرنا قيامه في الظهر قدر ثلاثين اية قدر سورة السجدة في الركعتين الاوليين وفي الاخريين على النصف من ذلك وحزرنا قيامه في الركعتين الاوليين من العصر على قدر الاخريين من الظهر وحزرنا قيامه في الركعتين الاخريين من العصر على النصف من ذلك
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر میں قیام کرتے تھے تو ہر رکعت میں تیس آیت کے بقدر پڑھتے تھے، پھر عصر میں پہلی دونوں رکعتوں میں پندرہ آیت پڑھنے کے بقدر قیام کرتے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن ابي عوانة، عن منصور بن زاذان، عن الوليد ابي بشر، عن ابي المتوكل، عن ابي سعيد الخدري، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوم في الظهر فيقرا قدر ثلاثين اية في كل ركعة ثم يقوم في العصر في الركعتين الاوليين قدر خمس عشرة اية
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت، اور ذوالحلیفہ میں نماز عصر دو رکعت پڑھی۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى الظهر بالمدينة اربعا وصلى العصر بذي الحليفة ركعتين
نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جس کی عصر کی نماز فوت ہو گئی تو گویا اس کا گھربار لٹ گیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کہ جس کی نماز عصر فوت ہو گئی گویا اس کا گھربار لٹ گیا ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن حيوة بن شريح، قال انبانا جعفر بن ربيعة، ان عراك بن مالك، حدثه ان نوفل بن معاوية حدثه انه، سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من فاتته صلاة العصر فكانما وتر اهله وماله " . قال عراك واخبرني عبد الله بن عمر انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من فاتته صلاة العصر فكانما وتر اهله وماله " . خالفه يزيد بن ابي حبيب
نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: نمازوں میں ایک نماز ایسی ہے کہ جس کی وہ فوت ہو جائے گویا اس کا گھربار لٹ گیا ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: یہ عصر کی نماز ہے ۔ محمد بن اسحاق نے ( آنے والی روایت میں ) لیث کی مخالفت کی ہے ۱؎۔
اخبرنا عيسى بن حماد، زغبة قال حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عراك بن مالك، انه بلغه ان نوفل بن معاوية، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من الصلاة صلاة من فاتته فكانما وتر اهله وماله " . قال ابن عمر سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " هي صلاة العصر " . خالفه محمد بن اسحاق
نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک نماز ایسی ہے کہ جس کی وہ فوت ہو جائے گویا اس کا گھربار لٹ گیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ عصر کی نماز ہے ۔
اخبرنا عبيد الله بن سعد بن ابراهيم بن سعد، قال حدثني عمي، قال حدثنا ابي، عن محمد بن اسحاق، قال حدثني يزيد بن ابي حبيب، عن عراك بن مالك، قال سمعت نوفل بن معاوية، يقول صلاة من فاتته فكانما وتر اهله وماله . قال ابن عمر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هي صلاة العصر
سلمہ بن کہیل کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر کو مزدلفہ میں دیکھا، انہوں نے اقامت کہی، اور مغرب کی نماز تین رکعت پڑھی، پھر اقامت کہی، اور عشاء کی نماز دو رکعت پڑھی، پھر انہوں نے ذکر کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم نے ان کے ساتھ اسی جگہ میں ایسا ہی کیا، اور ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بھی ) اس جگہ میں ایسا ہی کیا تھا۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن سلمة بن كهيل، قال رايت سعيد بن جبير بجمع اقام فصلى المغرب ثلاث ركعات ثم اقام فصلى - يعني - العشاء ركعتين ثم ذكر ان ابن عمر صنع بهم مثل ذلك في ذلك المكان وذكر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صنع مثل ذلك في ذلك المكان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کو مؤخر کیا یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو آواز دی کہ عورتیں اور بچے سو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، اور فرمایا: تمہارے سوا کوئی نہیں جو اس نماز کو ( اس وقت ) پڑھ رہا ہو ، ان دنوں اہل مدینہ کے سوا کوئی اور نماز پڑھنے والا نہیں تھا۔
اخبرنا نصر بن علي بن نصر، عن عبد الاعلى، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت اعتم رسول الله صلى الله عليه وسلم بالعشاء حتى ناداه عمر رضى الله عنه نام النساء والصبيان . فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " انه ليس احد يصلي هذه الصلاة غيركم " . ولم يكن يوميذ احد يصلي غير اهل المدينة
حکم کہتے ہیں کہ ہمیں سعید بن جبیر نے مزدلفہ میں ایک اقامت سے مغرب کی تین رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، پھر ( دوسری اقامت سے ) عشاء کی دو رکعت پڑھائی، پھر ذکر کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے ایسا ہی کیا، اور انہوں نے ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بھی ) ایسا ہی کیا تھا۔
اخبرنا عمرو بن يزيد، قال حدثنا بهز بن اسد، قال حدثنا شعبة، قال اخبرني الحكم، قال صلى بنا سعيد بن جبير بجمع المغرب ثلاثا باقامة ثم سلم ثم صلى العشاء ركعتين ثم ذكر ان عبد الله بن عمر فعل ذلك وذكر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم فعل ذلك
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کو مزدلفہ میں نماز پڑھتے دیکھا، انہوں نے اقامت کہی، اور مغرب کی نماز تین رکعت پڑھی، پھر ( دوسری اقامت سے ) عشاء کی دو رکعت پڑھی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جگہ ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔
اخبرنا عمرو بن يزيد، قال حدثنا بهز بن اسد، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا سلمة بن كهيل، قال سمعت سعيد بن جبير، قال رايت عبد الله بن عمر صلى بجمع فاقام فصلى المغرب ثلاثا ثم صلى العشاء ركعتين ثم قال هكذا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع في هذا المكان
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس رات اور دن کے فرشتے ۱؎ باری باری آتے جاتے ہیں، اور فجر اور عصر کی نماز میں اکٹھا ہو جاتے ہیں، پھر جن فرشتوں نے تمہارے پاس رات گزاری تھی وہ اوپر چڑھتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے بہتر جانتا ہے، ۲؎ ہمارے بندوں کو تم کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں: ہم نے انہیں نماز کی حالت میں چھوڑا ہے، اور ہم ان کے پاس آئے تھے تو بھی وہ نماز ہی میں مصروف تھے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يتعاقبون فيكم ملايكة بالليل وملايكة بالنهار ويجتمعون في صلاة الفجر وصلاة العصر ثم يعرج الذين باتوا فيكم فيسالهم وهو اعلم بهم كيف تركتم عبادي فيقولون تركناهم وهم يصلون واتيناهم وهم يصلون
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز تمہاری تنہا نماز سے پچیس گنا فضیلت رکھتی ہے ۱؎ رات اور دن کے فرشتے نماز فجر میں اکٹھا ہوتے ہیں، اگر تم چاہو تو آیت کریمہ «وقرآن الفجر إن قرآن الفجر كان مشهودا» ۲؎ پڑھ لو ( الاسراء: ۲۸ ) ۔
اخبرنا كثير بن عبيد، قال حدثنا محمد بن حرب، عن الزبيدي، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تفضل صلاة الجمع على صلاة احدكم وحده بخمسة وعشرين جزءا ويجتمع ملايكة الليل والنهار في صلاة الفجر واقرءوا ان شيتم { وقران الفجر ان قران الفجر كان مشهودا}
عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا جو سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھے گا ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، ويعقوب بن ابراهيم، قالا حدثنا يحيى بن سعيد، عن اسماعيل، قال حدثني ابو بكر بن عمارة بن، رويبة عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يلج النار احد صلى قبل طلوع الشمس وقبل ان تغرب