Loading...

Loading...
کتب
۴۶ احادیث
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ یا سترہ مہینہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، یہ شک سفیان کی طرف سے ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ ( خانہ کعبہ ) کی طرف پھیر دئیے گئے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا سفيان، قال حدثنا ابو اسحاق، عن البراء، قال صلينا مع النبي صلى الله عليه وسلم نحو بيت المقدس ستة عشر شهرا او سبعة عشر شهرا - شك سفيان - وصرف الى القبلة
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو آپ نے سولہ مہینہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی طرف پھیر دئیے گئے، تو ایک آدمی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ چکا تھا، انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی طرف پھیر دئیے گئے ہیں، ( لوگوں نے یہ سنا ) تو وہ بھی قبلہ کی طرف پھر گئے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا اسحاق بن يوسف الازرق، عن زكريا بن ابي زايدة، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، قال قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة فصلى نحو بيت المقدس ستة عشر شهرا ثم انه وجه الى الكعبة فمر رجل قد كان صلى مع النبي صلى الله عليه وسلم على قوم من الانصار فقال اشهد ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد وجه الى الكعبة . فانحرفوا الى الكعبة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نفل پڑھتے تھے، وہ چاہے جس طرف متوجہ ہو جاتی، نیز آپ اس پر وتر ( بھی ) پڑھتے تھے، البتہ فرض نماز اس پر نہیں پڑھتے تھے۔
اخبرنا عيسى بن حماد، زغبة واحمد بن عمرو بن السرح والحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسبح على الراحلة قبل اى وجه تتوجه ويوتر عليها غير انه لا يصلي عليها المكتوبة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر ( نفل ) نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ مکہ سے مدینہ آ رہے تھے، اسی سلسلہ میں یہ آیت کریمہ: «فأينما تولوا فثم وجه اللہ» تم جدھر بھی منہ کرو ادھر ہی اللہ کا منہ ہے ( البقرہ: ۱۱۵ ) نازل ہوئی۔
اخبرنا عمرو بن علي، ومحمد بن المثنى، عن يحيى، عن عبد الملك، قال حدثنا سعيد بن جبير، عن ابن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي على دابته وهو مقبل من مكة الى المدينة وفيه انزلت { فاينما تولوا فثم وجه الله}
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے جس طرف بھی وہ متوجہ ہوتی، مالک کہتے ہیں کہ عبداللہ بن دینار نے کہا: اور ابن عمر رضی اللہ عنہم بھی ایسا کرتے تھے۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي على راحلته في السفر حيثما توجهت به . قال مالك قال عبد الله بن دينار وكان ابن عمر يفعل ذلك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ لوگ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اسی دوران ایک آنے والا آیا، اور کہنے لگا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آج رات ( وحی ) نازل کی گئی ہے، اور آپ کو حکم ملا ہے کہ ( نماز میں ) کعبہ کی طرف رخ کریں، لہٰذا تم لوگ بھی اسی کی طرف رخ کر لو، ( اس وقت ) ان کے چہرے شام ( بیت المقدس ) کی طرف تھے، تو وہ لوگ کعبہ کی طرف گھوم گئے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال بينما الناس بقباء في صلاة الصبح جاءهم ات فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد انزل عليه الليلة وقد امر ان يستقبل الكعبة فاستقبلوها . وكانت وجوههم الى الشام فاستداروا الى الكعبة