Loading...

Loading...
کتب
۴۱ احادیث
زید بن ثابت رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ وارث کا حق ہے“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن عمرو بن دينار، قال سمعت طاوسا، يحدث عن زيد بن ثابت، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " العمرى هي للوارث
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ وارث کا حق ہے“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا ابو داود، قال حدثنا شعبة، قال اخبرني عمرو بن دينار، قال سمعت طاوسا، يحدث عن حجر المدري، عن زيد بن ثابت، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " العمرى للوارث
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمریٰ کا فیصلہ وارث کے حق میں کیا۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، عن سفيان، عن عمرو، عن طاوس، عن حجر المدري، عن زيد بن ثابت، ان النبي صلى الله عليه وسلم قضى بالعمرى للوارث
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ عمریٰ وارث کا حق ہے۔
اخبرنا محمد بن المثنى، عن سفيان، عن عمرو، عن طاوس، عن حجر المدري، عن زيد بن ثابت، ان النبي صلى الله عليه وسلم قضى بالعمرى للوارث
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی چیز ( صرف ) عمر بھر کے لیے دی تو وہ چیز جس کو دی ہے اس کی ہو جائے گی، اس کی زندگی میں بھی اور اس کے مر جانے کے بعد بھی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) رقبیٰ نہ کرو کیونکہ جس نے رقبیٰ کیا ہے ( وہ اسے نہ ملے گی ) وہ موہوب لہ کے راستہ ہی میں رہے گی“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبيد الله بن يزيد بن ابراهيم، قال اخبرني ابي انه، عرض على معقل عن عمرو بن دينار، عن حجر المدري، عن زيد بن ثابت، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اعمر شييا فهو لمعمره محياه ومماته ولا ترقبوا فمن ارقب شييا فهو لسبيله
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ نافذ ہو گا“ ۱؎۔
اخبرني زكريا بن يحيى، قال حدثنا زيد بن اخزم، قال انبانا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، قال حدثنا عمرو بن دينار، عن طاوس، عن الحجوري، عن عبد الله بن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " العمرى جايزة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ نافذ ہو گا“۔
اخبرنا هارون بن محمد بن بكار بن بلال، قال حدثنا ابي قال، حدثنا سعيد، - هو ابن بشير - عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان العمرى جايزة
طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمریٰ اور رقبیٰ کو کاٹ کر الگ کر دیا ۱؎۔
اخبرنا محمد بن حاتم، قال حدثنا حبان، قال انبانا عبد الله، عن محمد بن اسحاق، قال حدثنا مكحول، عن طاوس، بتل رسول الله صلى الله عليه وسلم العمرى والرقبى
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا تو فرمایا: ”عمریٰ نافذ ہو گا“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا ابو داود، قال حدثنا بسطام بن مسلم، قال حدثنا مالك بن دينار، عن عطاء، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خطبهم فقال " العمرى جايزة
عطاء سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمریٰ اور رقبیٰ سے روکا ہے، ( راوی حدیث عبدالکریم کہتے ہیں کہ ) میں نے ( عطاء سے ) پوچھا: رقبیٰ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: آدمی آدمی سے کہے کہ یہ چیز زندگی بھر کے لیے تمہاری ہے، اگر تم نے اس طرح کہہ کر دیا تو یہ چیز نافذ ہو گی یعنی ہمیشہ کے لیے اس کی ہو جائے گی جسے تم نے دی ہے۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال انبانا عبيد الله، عن اسراييل، عن عبد الكريم، عن عطاء، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن العمرى والرقبى . قلت وما الرقبى قال يقول الرجل للرجل هي لك حياتك . فان فعلتم فهو جايزة
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ نافذ ہو گا“۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، قال سمعت قتادة، يحدث عن عطاء، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " العمرى جايزة
عطاء کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو کوئی چیز صرف زندگی بھر برتنے کے لیے دی گئی تو وہ چیز اس کی ہو جائے گی اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی“۔
اخبرنا محمد بن حاتم، قال انبانا حبان، قال انبانا عبد الله، عن عبد الملك بن ابي سليمان، عن عطاء، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اعطي شييا حياته فهو له حياته وموته
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ رقبیٰ اور عمریٰ نہ کیا کرو۔ ( جان لو ) اگر کوئی چیز کسی کو بطور رقبیٰ یا بطور عمریٰ دی گئی تو جس کو دی گئی ہے ( اس کے نہ رہنے پر ) اس کے ورثاء کی ہو جائے گی“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، عن سفيان، عن ابن جريج، عن عطاء، عن جابر، رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا ترقبوا ولا تعمروا فمن ارقب او اعمر شييا فهو لورثته
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ اور رقبیٰ ( مناسب ) نہیں ہے اور اگر کسی کو کوئی چیز بطور عمریٰ یا رقبیٰ دے ہی دی گئی تو وہ چیز اس کی ہو جائے گی اس کی زندگی میں بھی اور اس کے مرنے کے بعد بھی“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد الرزاق، قال انبانا ابن جريج، عن عطاء، انبانا حبيب بن ابي ثابت، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا عمرى ولا رقبى فمن اعمر شييا او ارقبه فهو له حياته ومماته
حبیب بن ابی ثابت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں، (اور امام نسائی کہتے ہیں انہوں نے ان سے سنا نہیں ہے) ۱؎ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ عمریٰ ( مناسب ) ہے اور نہ رقبیٰ لیکن اگر کسی کو کوئی چیز بطور عمریٰ یا رقبیٰ دے ہی دی گئی تو وہ چیز اسی کی ہو گی زندگی میں بھی اور اس کے مرنے پر بھی“، عطاء کہتے ہیں: ( دونوں دینے اور پانے والوں میں سے ) آخر والے کو ملے گا۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا محمد بن بكر، { قال انبانا ابن جريج، } قال اخبرني عطاء، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ابن عمر، ولم يسمعه منه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا عمرى ولا رقبى فمن اعمر شييا او ارقبه فهو له حياته ومماته " . قال عطاء هو للاخر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رقبیٰ کرنے سے منع کیا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے: ”جس شخص کو رقبیٰ میں کوئی چیز دی گئی وہ چیز ( ہمیشہ کے لیے ) اسی کی ہو جائے گی“۔
اخبرني عبدة بن عبد الرحيم، قال انبانا وكيع، عن يزيد بن زياد بن ابي الجعد، عن حبيب بن ابي ثابت، قال سمعت ابن عمر، يقول نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الرقبى وقال " من ارقب رقبى فهو له
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی کو کوئی چیز عمریٰ میں دی گئی تو وہ اسی کی ہو جائے گی اس کی زندگی میں بھی اور اس کے مرنے کے بعد بھی“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا ابو عاصم، قال حدثنا ابن جريج، قال اخبرني ابو الزبير، انه سمع جابرا، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اعمر شييا فهو له حياته ومماته
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انصار کی جماعت! اپنے مال اپنے پاس روکے رکھو اور اسے عمریٰ میں نہ دو کیونکہ اگر کسی نے کوئی چیز عمریٰ میں دی ( تو وہ چیز اسے پھر واپس نہ ملے گی ) وہ اس کی ہو جائے گی جسے اس نے عمریٰ میں دی، اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی“ ۱؎۔
اخبرني محمد بن ابراهيم بن صدران، عن بشر بن المفضل، قال حدثنا الحجاج الصواف، عن ابي الزبير، قال حدثنا جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا معشر الانصار امسكوا عليكم - يعني اموالكم - لا تعمروها فانه من اعمر شييا فانه لمن اعمره حياته ومماته
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا مال اپنے پاس روک کر رکھو اور اس کا عمریٰ نہ کرو، کیونکہ جسے کوئی چیز اس کی زندگی بھر کے لیے عمریٰ میں دی گئی تو وہ چیز اس کی زندگی بھر کے لیے ہو گی اور اس کے مرنے کے بعد کے لیے بھی“۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، عن هشام، عن ابي الزبير، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " امسكوا عليكم اموالكم ولا تعمروها فمن اعمر شييا حياته فهو له حياته وبعد موته
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رقبیٰ اس کا ہے جس کے لیے رقبیٰ کیا گیا“۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، عن داود بن ابي هند، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الرقبى لمن ارقبها