Loading...

Loading...
کتب
۴۱ احادیث
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ جس کو دیا گیا ہے اس کے گھر والوں کا ہو گا اور رقبیٰ بھی اسی کے گھر والوں کا ہے جس کو رقبیٰ میں دیا گیا ہے“۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا هشيم، عن داود، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العمرى جايزة لاهلها والرقبى جايزة لاهلها
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو کوئی چیز عمر بھر کے لیے دی گئی تو وہ چیز اسی کی ہو گی اور اس کی اولاد کی ہو گی، اس کی اولاد میں سے جو اس کے وارث ہوں گے، وہی اس کے بھی وارث ہوں گے“۔
اخبرنا محمود بن خالد، قال حدثنا عمر، عن الاوزاعي، حدثنا ابن شهاب، قال واخبرني عمرو بن عثمان، انبانا بقية بن الوليد، عن الاوزاعي، عن الزهري، عن عروة، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اعمر عمرى فهي له ولعقبه يرثها من يرثه من عقبه
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ اس شخص کا ہے جس کے لیے عمریٰ کیا گیا، پھر اس کے بعد اس کی اولاد کا ہے، اس کی اولاد میں سے جو اس کے وارث ہوں گے وہی اس چیز کے بھی وارث ہوں گے“ ۱؎۔
اخبرنا عيسى بن مساور، قال حدثنا الوليد، قال حدثنا ابو عمرو، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العمرى لمن اعمرها هي له ولعقبه يرثها من يرثه من عقبه
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ اس کا ہے جس کے لیے عمریٰ کیا گیا، یہ ( زندگی بھر ) اس کا رہے گا، اور ( مرنے کے بعد ) اس کی اولاد کا ہو گا، اس کی اولاد میں سے جو اس کے وارث ہوں گے وہی اس کے وارث ہوں گے“۔
اخبرنا محمد بن هاشم البعلبكي، قال حدثنا الوليد، قال حدثنا الاوزاعي، عن الزهري، عن عروة، وابي، سلمة عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العمرى لمن اعمرها هي له ولعقبه يرثها من يرثه من عقبه
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی نے کسی آدمی کو یہ کہہ کر کوئی چیز عمریٰ کی کہ یہ اس کی ہے، اور اس کے اولاد کی ہے تو وہ اس کی ہو گی، اور اس کے مرنے کے بعد اس کی اولاد میں سے جو اس کا وارث ہو گا اس کی ہو گی“۔
اخبرني محمد بن عبد الله بن عبد الرحيم، قال حدثنا عمرو بن ابي سلمة الدمشقي، عن ابي عمر الصنعاني، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عبد الله بن الزبير، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ايما رجل اعمر رجلا عمرى له ولعقبه فهي له ولمن يرثه من عقبه موروثة
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے کوئی چیز یہ کہہ کر عمریٰ کی کہ یہ اس کی ہے اور اس کی اولاد کی ہے تو اس کی اس بات نے اس کے حق کو کاٹ دیا، یعنی ہمیشہ کے لیے اس کا حق ختم ہو گیا، اب وہ چیز ہمیشہ کے لیے اس کی ہو گی جس کو عمریٰ میں دی گئی ہے، اور اس کے مرنے کے بعد اس کی اولاد کی ہو گی“۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن جابر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من اعمر رجلا عمرى له ولعقبه فقد قطع قوله حقه وهي لمن اعمر ولعقبه
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو کوئی چیز اس کی عمر بھر کے لیے اور اس کے بعد اس کے وارث کو دی گئی تو وہ چیز اسی کی ہو جائے گی جسے دی گئی ہے، دینے والے کو واپس نہ ہو گی کیونکہ اس نے ایسی چیز دی ہے جس میں وراثت کا قانون جاری ہو گا“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، عن مالك، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ايما رجل اعمر عمرى له ولعقبه فانها للذي يعطاها لا ترجع الى الذي اعطاها لانه اعطى عطاء وقعت فيه المواريث
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ جس شخص نے کسی کو کوئی چیز یہ کہہ کر عمریٰ کیا کہ اس کا اور اس کی اولاد کا ہے تو یہ اسی کا ہو گا جسے اس نے عمریٰ کیا ہے، اور اس کے ساتھی سے جسے اس نے دیا ہے اللہ کے مقرر کئے ہوئے حصوں اور اس کے حق کے مطابق اس کے ورثاء وارث ہوں گے ( دینے والے کو کچھ نہیں لوٹے گا ) ۔
اخبرنا عمران بن بكار، قال حدثنا ابو اليمان، قال حدثنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان جابرا، اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى انه من اعمر رجلا عمرى له ولعقبه فانها للذي اعمرها يرثها من صاحبها الذي اعطاها ما وقع من مواريث الله وحقه
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جسے کوئی چیز عمری کی گئی ہو کہ یہ اس کا اور اس کی اولاد کا ہے فیصلہ صادر فرمایا کہ دینے والے کو اس میں کوئی شرط لگانا اور کوئی استثناء کرنا جائز و درست نہیں ہے۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: اس نے ایسا عطیہ دیا ہے جس میں میراث کا قانون ہو گیا اور اس کی شرط کو باطل کر دیا ( یعنی وہ شرط لغو قرار دے دی ) ۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن ابن ابي فديك، قال حدثنا ابن ابي ذيب، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى فيمن اعمر عمرى له ولعقبه فهي له بتلة لا يجوز للمعطي منها شرط ولا ثنيا . قال ابو سلمة لانه اعطى عطاء وقعت فيه المواريث فقطعت المواريث شرطه
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی شخص اور اس کی اولاد کو عمریٰ کیا اور کہا کہ میں نے اسے تم کو اور تمہاری اولاد کو دے دیا ہے جب تک کہ کوئی بھی ان میں سے زندہ رہے، تو وہ چیز اسی کی ہو جائے گی جسے وہ چیز دی گئی ہے، اب وہ چیز دینے والے کو واپس نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ اس نے اسے دیا ہی اس انداز سے ہے کہ اس میں میراث نافذ ہو گی“۔
اخبرنا ابو داود، سليمان بن سيف قال حدثنا يعقوب، قال حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، ان ابا سلمة، اخبره عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ايما رجل اعمر رجلا عمرى له ولعقبه قال قد اعطيتكها وعقبك ما بقي منكم احد فانها لمن اعطيها وانها لا ترجع الى صاحبها من اجل انه اعطاها عطاء وقعت فيه المواريث
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عمریٰ کے سلسلہ میں ایک شخص نے ایک شخص کو اور اس کی اولاد کو کوئی چیز ہبہ کی اور اس بات کا استثناء کیا کہ اگر تمہارے ساتھ اور تمہاری اولاد کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ گیا یا تو یہ چیز میری اور میری اولاد کی ہو جائے گی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا کہ وہ چیز اس کی ہو گی جس کو دے دی گئی ہے اور اس کے اولاد کی ہو گی ( استثناء کا کوئی حاصل نہ ہو گا ) ۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، قال حدثنا ابي قال، حدثنا سعيد، قال حدثني يزيد بن ابي حبيب، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى بالعمرى ان يهب الرجل للرجل ولعقبه الهبة ويستثني ان حدث بك حدث وبعقبك فهو الى والى عقبي انها لمن اعطيها ولعقبه
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ اسی کا ہے جس کو دیا گیا“۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد بن الحارث، قال حدثنا هشام، قال حدثنا يحيى بن ابي كثير، قال حدثني ابو سلمة، قال سمعت جابرا، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العمرى لمن وهبت له
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ اسی کا ہے جس کو دیا گیا“۔
اخبرنا يحيى بن درست، قال حدثنا ابو اسماعيل، قال حدثنا يحيى، ان ابا سلمة، حدثه عن جابر بن عبد الله، عن نبي الله صلى الله عليه وسلم قال " العمرى لمن وهبت له
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ ( کرنا اچھا ) نہیں ہے، لیکن جس کسی کو عمریٰ میں کوئی چیز دے دی گئی تو وہ چیز اس کی ( ہمیشہ کے لیے ) ہو گئی“۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا اسماعيل، عن محمد، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا عمرى فمن اعمر شييا فهو له
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”جس آدمی کو کوئی چیز بطور عمریٰ دی گئی تو وہ چیز اسی کی ( ہمیشہ کے لیے ) ہو گئی“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا عيسى، وعبدة بن سليمان، قالا حدثنا محمد بن عمرو، قال حدثنا ابو سلمة، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من اعمر شييا فهو له
ابوہریرہ رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”عمریٰ نافذ ہو گا“۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، عن النضر بن انس، عن بشير بن نهيك، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " العمرى جايزة
قتادہ کہتے ہیں کہ مجھ سے سلیمان بن ہشام نے عمریٰ کے متعلق پوچھا تو میں نے کہا: محمد بن سیرین نے شریح سے یہ روایت بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ عمریٰ نافذ ہو گا۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن نضر بن انس نے بسند بشر بن نہیک بسند ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”عمریٰ نافذ ہو گا“، قتادہ کہتے ہیں: میں نے کہا: حسن بصری کہتے تھے کہ عمریٰ نافذ ہو گا ( جس کے لیے عمریٰ کیا جاتا ہے وہ چیز اسی کی ہمیشہ کے لیے ہو جاتی ہے ) ۔ قتادہ کہتے ہیں: زہری نے کہا کہ جب عمریٰ کسی کو زندگی بھر کے لیے اور اس کے بعد اس کے وارثوں کے لیے دیا جائے ( تو وہ دینے والے کو نہ ملے گا ) اور جب دینے والے نے اس کے بعد اس کے وارثوں کے لیے نہ کہا ہو تو وہ اس کے نہ رہنے کے بعد اس کو ملے گا جس کی شرط دینے والے نے لگا دی ہو۔ قتادہ کہتے ہیں: عطاء بن ابی رباح سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے جابر بن عبداللہ نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ نافذ ہو گا“، قتادہ کہتے ہیں کہ زہری نے کہا: خلفاء اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے تھے، تو عطاء نے کہا: اس کے مطابق عبدالملک بن مروان نے فیصلہ کیا ہے۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، قال سالني سليمان بن هشام عن العمرى، فقلت حدث محمد بن سيرين، عن شريح، قال قضى نبي الله صلى الله عليه وسلم ان العمرى جايزة . قال قتادة وقلت حدثني النضر بن انس عن بشير بن نهيك عن ابي هريرة ان نبي الله صلى الله عليه وسلم قال " العمرى جايزة " . قال قتادة وقلت كان الحسن يقول العمرى جايزة . قال قتادة فقال الزهري انما العمرى اذا اعمر وعقبه من بعده فاذا لم يجعل عقبه من بعده كان للذي يجعل شرطه . قال قتادة فسيل عطاء بن ابي رباح فقال حدثني جابر بن عبد الله ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " العمرى جايزة " . قال قتادة فقال الزهري كان الخلفاء لا يقضون بهذا . قال عطاء قضى بها عبد الملك بن مروان
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جب اس کی عصمت کا مالک اس کا شوہر ہو گیا جائز نہیں کہ وہ اپنے مال میں سے ہبہ و بخشش کرے“، اس حدیث کے الفاظ ( راوی حدیث ) محمد بن معمر کے ہیں۔
اخبرنا محمد بن معمر، قال حدثنا حبان، قال حدثنا حماد بن سلمة، ح واخبرني ابراهيم بن يونس بن محمد، قال حدثنا ابي قال، حدثنا حماد بن سلمة، عن داود، - وهو ابن ابي هند - وحبيب المعلم عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يجوز لامراة هبة في مالها اذا ملك زوجها عصمتها " . اللفظ لمحمد
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور اپنے خطبہ میں آپ نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو عطیہ دینا جائز و درست نہیں“۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، قال حدثنا حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، ان اباه، حدثه عن عبد الله بن عمرو، ح واخبرنا حميد بن مسعدة، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال لما فتح رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة قام خطيبا فقال في خطبته " لا يجوز لامراة عطية الا باذن زوجها
عبدالرحمٰن بن علقمہ ثقفی کہتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ان کے ساتھ کچھ ہدیہ بھی تھا۔ آپ نے ان سے پوچھا: یہ ہدیہ ہے یا صدقہ؟ اگر یہ ہدیہ ہے تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی اور ضروریات کی تکمیل مطلوب اور پیش نظر ہے، اور اگر صدقہ ہے تو اس سے اللہ عزوجل کی خوشنودی مطلوب و مقصود ہے۔ ان لوگوں نے کہا: یہ ہدیہ ہے، تو آپ نے اسے ان سے قبول فرما لیا اور ان کے ساتھ بیٹھے باتیں کرتے رہے اور وہ لوگ آپ سے مسئلہ مسائل پوچھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے ظہر عصر کے ساتھ ملا کر پڑھی ۱؎۔
اخبرنا هناد بن السري، قال حدثنا ابو بكر بن عياش، عن يحيى بن هاني، عن ابي حذيفة، عن عبد الملك بن محمد بن بشير، عن عبد الرحمن بن علقمة الثقفي، قال قدم وفد ثقيف على رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعهم هدية فقال " اهدية ام صدقة فان كانت هدية فانما يبتغى بها وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم وقضاء الحاجة وان كانت صدقة فانما يبتغى بها وجه الله عز وجل " . قالوا لا بل هدية . فقبلها منهم وقعد معهم يسايلهم ويسايلونه حتى صلى الظهر مع العصر