Loading...

Loading...
کتب
۶۱ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ اجر و ثواب میں سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تمہارا اس وقت صدقہ کرنا جب تندرست اور صحت مند ہو، تمہیں مال جمع کرنے کی حرص ہو، محتاج ہو جانے کا ڈر ہو اور تمہیں لمبی مدت تک زندہ رہنے کی امید ہو اور صدقہ کرنے میں جان نکلنے کے وقت کا انتظار نہ کر کہ جب جان حلق میں اٹکنے لگے تو کہو: فلاں کو اتنا دے دو، حالانکہ اب تو وہ فلاں ہی کا ہے“ ۱؎۔
اخبرنا احمد بن حرب، قال حدثنا محمد بن فضيل، عن عمارة، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اى الصدقة اعظم اجرا قال " ان تصدق وانت صحيح شحيح تخشى الفقر وتامل البقاء ولا تمهل حتى اذا بلغت الحلقوم قلت لفلان كذا وقد كان لفلان
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں کون شخص ہے جس کو اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال پسند ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے ہر شخص کو اپنا مال اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمجھو اس بات کو، تم میں سے ہر شخص کو اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ عزیز و محبوب ہے، تمہارا مال تو وہ ہے جو تم نے ( مرنے سے پہلے اپنی آخرت میں کام آنے کے لیے ) آگے بھیج دیا اور تمہارے وارث کا مال وہ ہے جو تم نے ( مرنے کے بعد ) اپنے پیچھے چھوڑ دیا“ ۱؎۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابي معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم التيمي، عن الحارث بن سويد، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايكم مال وارثه احب اليه من ماله ". قالوا يا رسول الله ما منا من احد الا ماله احب اليه من مال وارثه. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اعلموا انه ليس منكم من احد الا مال وارثه احب اليه من ماله مالك ما قدمت ومال وارثك ما اخرت
شخیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «ألهاكم التكاثر * حتى زرتم المقابر» ( کثرت و زیادتی ) کی چاہت نے تمہیں غفلت میں ڈال دیا یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے“ آپ نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا ہے: میرا مال، میرا مال کہتا ہے؟ ( لیکن حقیقت میں ) تمہارا مال تو صرف وہ ہے جو تم نے کھا ( پی ) کر ختم کر دیا، یا پہن کر بوسیدہ اور پرانا کر دیا یا صدقہ کر کے اسے آخرت کے لیے آگے بھیج دیا“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، عن مطرف، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " {الهاكم التكاثر * حتى زرتم المقابر} قال يقول ابن ادم مالي مالي وانما مالك ما اكلت فافنيت او لبست فابليت او تصدقت فامضيت
ابوحبیبہ طائی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کچھ دینار اللہ کی راہ میں دینے کی وصیت کی۔ تو ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی کہ آپ نے فرمایا: ”جو شخص اپنی موت کے وقت غلام آزاد کرتا ہے یا صدقہ و خیرات دیتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص پیٹ بھر کھا لینے کے بعد ( بچا ہوا ) کسی کو ہدیہ دیدے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، قال سمعت ابا اسحاق، سمع ابا حبيبة الطايي، قال اوصى رجل بدنانير في سبيل الله فسيل ابو الدرداء فحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " مثل الذي يعتق او يتصدق عند موته مثل الذي يهدي بعد ما يشبع
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے جس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں اسے وصیت کرنی ضروری ہو مناسب نہیں کہ وہ دو راتیں ایسی گزارے جس میں اس کے پاس اس کی لکھی ہوئی وصیت موجود نہ ہو“۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا الفضيل، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما حق امري مسلم له شىء يوصى فيه ان يبيت ليلتين الا ووصيته مكتوبة عنده
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان شخص کو جس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس کے بارے میں اسے وصیت کرنی ہو یہ حق نہیں کہ وہ دو راتیں بھی اس طرح گزارے کہ اس کے پاس اس کی لکھی ہوئی وصیت موجود نہ ہو“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن القاسم، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما حق امري مسلم له شىء يوصى فيه يبيت ليلتين الا ووصيته مكتوبة عنده
اس سند سے یہ ابن عمر سے موقوفاً روایت ہے ( یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ) ۔
اخبرنا محمد بن حاتم بن نعيم، قال حدثنا حبان، قال انبانا عبد الله، عن ابن عون، عن نافع، عن ابن عمر، قوله
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان شخص کو یہ حق نہیں ہے کہ اس کی تین راتیں بھی ایسی گزریں کہ اس کے اس کی لکھی ہوئی وصیت موجود نہ ہو“۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے اس وقت سے ہمیشہ میری وصیت میرے پاس رہتی ہے۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، قال انبانا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال فان سالما اخبرني عن عبد الله بن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما حق امري مسلم تمر عليه ثلاث ليال الا وعنده وصيته ". قال عبد الله بن عمر ما مرت على منذ سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ذلك الا وعندي وصيتي
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کو یہ حق نہیں ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں وصیت کرنی ضروری ہو پھر بھی وہ تین راتیں بھی اس طرح گزارے کہ اس کے پاس اس کی لکھی ہوئی وصیت موجود نہ ہو“ ۱؎۔
اخبرنا احمد بن يحيى بن الوزير بن سليمان، قال سمعت ابن وهب، قال اخبرني يونس، وعمرو بن الحارث، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما حق امري مسلم له شىء يوصى فيه فيبيت ثلاث ليال الا ووصيته عنده مكتوبة
طلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفی سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی؟ کہا: نہیں ۱؎، میں نے کہا: پھر مسلمانوں پر وصیت کیسے فرض کر دی؟ کہا: آپ نے اللہ کی کتاب سے وصیت کو ضروری قرار دیا ہے ۲؎۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد بن الحارث، قال حدثنا مالك بن مغول، قال حدثنا طلحة، قال سالت ابن ابي اوفى اوصى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا. قلت كيف كتب على المسلمين الوصية قال اوصى بكتاب الله
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( موت کے وقت ) نہ دینار چھوڑا، نہ درہم، نہ بکری چھوڑی، نہ اونٹ اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت کی۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا مفضل، عن الاعمش، وانبانا محمد بن العلاء، واحمد بن حرب، قالا حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق، عن مسروق، عن عايشة، قالت ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم دينارا ولا درهما ولا شاة ولا بعيرا ولا اوصى بشىء
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ دینار چھوڑا، نہ درہم، نہ بکری چھوڑی، نہ اونٹ اور نہ ہی وصیت فرمائی۔
اخبرني محمد بن رافع، حدثنا مصعب، حدثنا داود، عن الاعمش، عن شقيق، عن مسروق، عن عايشة، قالت ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم درهما ولا دينارا ولا شاة ولا بعيرا وما اوصى
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ درہم چھوڑا، نہ دینار، نہ بکری چھوڑی اور نہ اونٹ اور نہ ہی وصیت فرمائی۔ ( اس روایت کے دونوں راویوں میں سے ایک راوی جعفر بن محمد بن ہذیل نے اپنی روایت میں دینار اور درہم کا ذکر نہیں کیا ہے۔)
اخبرنا جعفر بن محمد بن الهذيل، واحمد بن يوسف، قالا حدثنا عاصم بن يوسف، قال حدثنا حسن بن عياش، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم درهما ولا دينارا ولا شاة ولا بعيرا ولا اوصى. لم يذكر جعفر دينارا ولا درهما
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو وصیت کی ( اس وقت آپ کی حالت اتنی خراب تھی کہ ) آپ نے پیشاب کرنے کے لیے طشت منگوایا کہ اتنے میں آپ کے اعضاء ڈھیلے پڑ گئے ( روح پرواز کر گئی ) اور میں نہ جان سکی تو آپ نے کس کو وصیت کی؟ ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا ازهر، قال انبانا ابن عون، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت يقولون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اوصى الى علي رضى الله عنه لقد دعا بالطست ليبول فيها فانخنثت نفسه صلى الله عليه وسلم وما اشعر فالى من اوصى
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے وقت میرے سوا آپ کے پاس کوئی اور نہ تھا اس وقت آپ نے ( پیشاب کے لیے ) طشت منگا رکھا تھا۔
اخبرني احمد بن سليمان، قال حدثنا عارم، قال حدثنا حماد بن زيد، عن ابن عون، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وليس عنده احد غيري - قالت - ودعا بالطست
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا ایسا بیمار کہ مرنے کے قریب آ لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت ( بیمار پرسی ) کے لیے تشریف لائے، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس بہت سارا مال ہے اور ایک بیٹی کے علاوہ میرا کوئی وارث نہیں، تو کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپ نے جواب دیا: ”نہیں“۔ میں نے کہا: آدھا؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“۔ میں نے کہا: تو ایک تہائی کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں ایک تہائی، حالانکہ یہ بھی زیادہ ہی ہے“ تمہارا اپنے وارثین کو مالدار چھوڑ کر جانا انہیں محتاج چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں“۔
اخبرني عمرو بن عثمان بن سعيد، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عامر بن سعد، عن ابيه، قال مرضت مرضا اشفيت منه فاتاني رسول الله صلى الله عليه وسلم يعودني فقلت يا رسول الله ان لي مالا كثيرا وليس يرثني الا ابنتي افاتصدق بثلثى مالي قال " لا ". قلت فالشطر قال " لا ". قلت فالثلث قال " الثلث والثلث كثير انك ان تترك ورثتك اغنياء خير لهم من ان تتركهم عالة يتكففون الناس
سعد بن ابی وقاس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت ( بیمار پرسی ) کے لیے تشریف لائے اور میں ان دنوں مکے میں تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے پورے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: آدھے مال کی؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے کہا: ایک تہائی؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، ایک تہائی دے دو، اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے، تمہارا اپنے وارثین کو مالدار چھوڑ کر جانا انہیں تنگدست چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں، اور لوگوں سے جو ان کے ہاتھ میں ہے مانگتے پھریں“۔
اخبرنا عمرو بن منصور، واحمد بن سليمان، - واللفظ لاحمد - قالا حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا سفيان، عن سعد بن ابراهيم، عن عامر بن سعد، عن سعد، قال جاءني النبي صلى الله عليه وسلم يعودني وانا بمكة قلت يا رسول الله اوصي بمالي كله قال " لا ". قلت فالشطر قال " لا ". قلت فالثلث قال " الثلث والثلث كثير انك ان تدع ورثتك اغنياء خير من ان تدعهم عالة يتكففون الناس يتكففون في ايديهم
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ۔ ( وہ مکہ میں بیمار پڑے تو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت ( بیمار پرسی ) کے لیے تشریف لاتے تھے، وہ اس سر زمین میں جہاں سے وہ ہجرت کر کے جا چکے تھے مرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی: ”سعد بن عفراء پر اللہ کی رحمت نازل ہو“، ( سعد کی صرف ایک بیٹی تھی ) ، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال کی ( اللہ کی راہ میں دینے کی ) وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: آدھے مال کی، اللہ کی راہ میں وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: تو ایک تہائی مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”تہائی کی وصیت کر دو، ایک تہائی بھی زیادہ ہے، تم اگر اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ جاؤ تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج اور پریشان حال بنا کر اس دنیا سے جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن سعد بن ابراهيم، عن عامر بن سعد، عن ابيه، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يعوده وهو بمكة وهو يكره ان يموت بالارض التي هاجر منها قال النبي صلى الله عليه وسلم " رحم الله سعد ابن عفراء او يرحم الله سعد ابن عفراء ". ولم يكن له الا ابنة واحدة قال يا رسول الله اوصي بمالي كله قال " لا ". قلت النصف قال " لا ". قلت فالثلث قال " الثلث والثلث كثير انك ان تدع ورثتك اغنياء خير من ان تدعهم عالة يتكففون الناس ما في ايديهم
سعد بن ابراہیم کہتے ہیں کہ آل سعد میں سے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ سعد بیمار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے ان کے پاس تشریف لائے، تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال کی ( اللہ کی راہ میں دینے ) وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، اور انہوں نے پوری حدیث بیان کی۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا مسعر، عن سعد بن ابراهيم، قال حدثني بعض، ال سعد قال مرض سعد فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اوصي بمالي كله قال " لا ". وساق الحديث
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ مکہ میں بیمار پڑے تو ( ان کی بیمار پرسی کے لیے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، وہ آپ کو دیکھ کر رو پڑے، کہا: اللہ کے رسول! میں ایسی سر زمین میں مر رہا ہوں جہاں سے ہجرت کر کے جا چکا ہوں، آپ نے فرمایا: ”نہیں، ان شاءاللہ ( تم یہاں نہیں مرو گے ) “۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا: دو تہائی کی دے دینے کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا: آدھا دینے کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ انہوں نے کہا: تو تہائی کی وصیت کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا ایک تہائی کی وصیت کر دو، ایک تہائی بھی زیادہ ہے“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اپنی اولاد کو مالدار چھوڑ کر جانا انہیں محتاج چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں“۔
اخبرنا العباس بن عبد العظيم العنبري، قال حدثنا عبد الكبير بن عبد المجيد، قال حدثنا بكير بن مسمار، قال سمعت عامر بن سعد، عن ابيه، انه اشتكى بمكة فجاءه رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما راه سعد بكى وقال يا رسول الله اموت بالارض التي هاجرت منها قال " لا ان شاء الله ". وقال يا رسول الله اوصي بمالي كله في سبيل الله قال " لا ". قال يعني بثلثيه قال " لا ". قال فنصفه قال " لا ". قال فثلثه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الثلث والثلث كثير انك ان تترك بنيك اغنياء خير من ان تتركهم عالة يتكففون الناس