احادیث
#3628
سنن نسائی - Wills
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ۔ ( وہ مکہ میں بیمار پڑے تو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت ( بیمار پرسی ) کے لیے تشریف لاتے تھے، وہ اس سر زمین میں جہاں سے وہ ہجرت کر کے جا چکے تھے مرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی: ”سعد بن عفراء پر اللہ کی رحمت نازل ہو“، ( سعد کی صرف ایک بیٹی تھی ) ، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال کی ( اللہ کی راہ میں دینے کی ) وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: آدھے مال کی، اللہ کی راہ میں وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: تو ایک تہائی مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”تہائی کی وصیت کر دو، ایک تہائی بھی زیادہ ہے، تم اگر اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ جاؤ تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج اور پریشان حال بنا کر اس دنیا سے جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن سعد بن ابراهيم، عن عامر بن سعد، عن ابيه، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يعوده وهو بمكة وهو يكره ان يموت بالارض التي هاجر منها قال النبي صلى الله عليه وسلم " رحم الله سعد ابن عفراء او يرحم الله سعد ابن عفراء ". ولم يكن له الا ابنة واحدة قال يا رسول الله اوصي بمالي كله قال " لا ". قلت النصف قال " لا ". قلت فالثلث قال " الثلث والثلث كثير انك ان تدع ورثتك اغنياء خير من ان تدعهم عالة يتكففون الناس ما في ايديهم
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Wills
- Hadith Index
- #3628
- Book Index
- 18
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiHasan
