احادیث
#3630
سنن نسائی - Wills
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ مکہ میں بیمار پڑے تو ( ان کی بیمار پرسی کے لیے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، وہ آپ کو دیکھ کر رو پڑے، کہا: اللہ کے رسول! میں ایسی سر زمین میں مر رہا ہوں جہاں سے ہجرت کر کے جا چکا ہوں، آپ نے فرمایا: ”نہیں، ان شاءاللہ ( تم یہاں نہیں مرو گے ) “۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا: دو تہائی کی دے دینے کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا: آدھا دینے کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ انہوں نے کہا: تو تہائی کی وصیت کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا ایک تہائی کی وصیت کر دو، ایک تہائی بھی زیادہ ہے“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اپنی اولاد کو مالدار چھوڑ کر جانا انہیں محتاج چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں“۔
اخبرنا العباس بن عبد العظيم العنبري، قال حدثنا عبد الكبير بن عبد المجيد، قال حدثنا بكير بن مسمار، قال سمعت عامر بن سعد، عن ابيه، انه اشتكى بمكة فجاءه رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما راه سعد بكى وقال يا رسول الله اموت بالارض التي هاجرت منها قال " لا ان شاء الله ". وقال يا رسول الله اوصي بمالي كله في سبيل الله قال " لا ". قال يعني بثلثيه قال " لا ". قال فنصفه قال " لا ". قال فثلثه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الثلث والثلث كثير انك ان تترك بنيك اغنياء خير من ان تتركهم عالة يتكففون الناس
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Wills
- Hadith Index
- #3630
- Book Index
- 20
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Sahih
