Loading...

Loading...
کتب
۶۱ احادیث
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری بیماری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس بیمار پرسی کرنے آئے۔ آپ نے فرمایا: ”تم نے وصیت کر دی؟“ میں نے کہا: جی ہاں کر دی، آپ نے فرمایا: ”کتنی؟“ میں نے کہا: اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دیا ہے۔ آپ نے پوچھا: ”اپنی اولاد کیلئے کیا چھوڑا؟“ میں نے کہا: وہ سب مالدار و بے نیاز ہیں، آپ نے فرمایا: ”دسویں حصے کی وصیت کرو“، پھر برابر آپ یہی کہتے رہے اور میں بھی کہتا رہا ۱؎ آپ نے فرمایا: ”اچھا تہائی کی وصیت کر لو، اگرچہ ایک تہائی بھی زیادہ یا بڑا حصہ ہے“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن عطاء بن السايب، عن ابي عبد الرحمن، عن سعد بن ابي وقاص، قال عادني رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضي فقال " اوصيت ". قلت نعم. قال " بكم ". قلت بمالي كله في سبيل الله. قال " فما تركت لولدك ". قلت هم اغنياء. قال " اوص بالعشر ". فما زال يقول واقول حتى قال " اوص بالثلث والثلث كثير او كبير
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیماری میں ان کی عیادت کی، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، کہا: آدھے کی کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، کہا: تہائی کی کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”ایک تہائی کی کر دو، اگرچہ ایک تہائی بھی زیادہ ہے یا بڑا حصہ ہے“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن سعد، ان النبي صلى الله عليه وسلم عاده في مرضه فقال يا رسول الله اوصي بمالي كله قال " لا ". قال فالشطر قال " لا ". قال فالثلث قال " الثلث والثلث كثير او كبير
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے ان کے پاس آئے، سعد رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے اپنے مال کے دو تہائی حصے اللہ کی راہ میں دے دینے کا حکم ( یعنی اجازت ) دے دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا: تو پھر ایک تہائی کی وصیت کر دیتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ہاں، ایک تہائی ہو سکتا ہے، اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے یا بڑا حصہ ہے، ( آپ نے مزید فرمایا ) اگر تم اپنے وارثین کو مالدار چھوڑ کر ( اس دنیا سے ) جاؤ تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں فقیر بنا کر جاؤ کہ وہ ( دوسروں کے سامنے ) ہاتھ پھیلاتے پھریں“۔
اخبرنا محمد بن الوليد الفحام، قال حدثنا محمد بن ربيعة، قال حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتى سعدا يعوده فقال له سعد يا رسول الله اوصي بثلثى مالي قال " لا ". قال فاوصي بالنصف قال " لا ". قال فاوصي بالثلث قال " نعم الثلث والثلث كثير او كبير انك ان تدع ورثتك اغنياء خير من ان تدعهم فقراء يتكففون
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ لوگ اگر وصیت کو ایک چوتھائی تک کم کریں ( تو مناسب ہے ) کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”ایک تہائی بھی زیادہ یا بڑا حصہ ہے“۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا سفيان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن ابن عباس، قال لو غض الناس الى الربع لان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الثلث والثلث كثير او كبير
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، اس وقت وہ بیمار تھے، انہوں نے آپ سے عرض کیا: ( اللہ کے رسول! ) میری کوئی اولاد ( نرینہ ) نہیں ہے، صرف ایک بچی ہے۔ میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کر دیتا ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا: آدھے کی وصیت کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا: تو میں ایک تہائی مال کی وصیت کرتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ایک تہائی کر دو اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے“۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا حجاج بن المنهال، قال حدثنا همام، عن قتادة، عن يونس بن جبير، عن محمد بن سعد، عن ابيه، سعد بن مالك ان النبي صلى الله عليه وسلم جاءه وهو مريض فقال انه ليس لي ولد الا ابنة واحدة فاوصي بمالي كله قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا ". قال فاوصي بنصفه قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا ". قال فاوصي بثلثه قال " الثلث والثلث كثير
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ ان کے والد ۱؎ اپنے پیچھے چھ بیٹیاں اور قرض چھوڑ کر جنگ احد میں شہید ہو گئے، جب کھجور توڑنے کا وقت آیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ میرے والد جنگ احد میں شہید کر دیے گئے ہیں اور وہ بہت زیادہ قرض چھوڑ گئے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ قرض خواہ آپ کو ( وہاں موجود ) دیکھیں ( تاکہ مجھ سے وصول کرنے کے سلسلے میں سختی نہ کریں ) آپ نے فرمایا: ”جاؤ اور ہر ڈھیر الگ الگ کر دو“، تو میں نے ( ایسا ہی ) کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا، جب ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اس گھڑی گویا وہ لوگ مجھ پر اور بھی زیادہ غصہ ہو گئے ۲؎ جب آپ نے ان لوگوں کی حرکتیں جو وہ کر رہے تھے دیکھیں تو آپ نے سب سے بڑے ڈھیر کے اردگرد تین چکر لگائے پھر اسی ڈھیر پر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”اپنے قرض خواہوں کو بلا لاؤ“ جب وہ لوگ آ گئے تو آپ انہیں برابر ( ان کے مطالبے کے بقدر ) ناپ ناپ کر دیتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کی امانت ادا کرا دی اور میں اس پر راضی و خوش تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کی امانت ادا کر دی اور ایک کھجور بھی کم نہ ہوئی۔
اخبرنا القاسم بن زكريا بن دينار، قال حدثنا عبيد الله، عن شيبان، عن فراس، عن الشعبي، قال حدثني جابر بن عبد الله، ان اباه، استشهد يوم احد وترك ست بنات وترك عليه دينا فلما حضر جداد النخل اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت قد علمت ان والدي استشهد يوم احد وترك دينا كثيرا واني احب ان يراك الغرماء. قال " اذهب فبيدر كل تمر على ناحية ". ففعلت ثم دعوته فلما نظروا اليه كانما اغروا بي تلك الساعة فلما راى ما يصنعون اطاف حول اعظمها بيدرا ثلاث مرات ثم جلس عليه ثم قال " ادع اصحابك ". فما زال يكيل لهم حتى ادى الله امانة والدي وانا راض ان يودي الله امانة والدي لم تنقص تمرة واحدة
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ان کے والد انتقال کر گئے اور ان پر قرض تھا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد انتقال کر گئے اور ان پر قرض تھا اور کھجوروں کے باغ کی آمدنی کے سوا کچھ نہیں چھوڑا ہے اور کئی سالوں کی باغ کی آمدنی کے بغیر یہ قرض ادا نہ ہو سکے گا، اللہ کے رسول! میرے ساتھ چلئے تاکہ قرض خواہ لوگ مجھے برا بھلا نہ کہیں، چنانچہ آپ کھجور کی ایک ایک ڈھیر کے اردگرد گھومے اور اس کے آس پاس سلام کیا اس کے لیے دعا فرمائی اور پھر اسی پر بیٹھ گئے اور قرض خواہوں کو بلایا اور انہیں ( ان کا حق ) پورا پورا دیا اور جتنا وہ لے گئے اتنا ہی بچ رہا۔
اخبرنا عبد الرحمن بن محمد بن سلام، قال حدثنا اسحاق، - وهو الازرق - قال حدثنا زكريا، عن الشعبي، عن جابر، ان اباه، توفي وعليه دين فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله ان ابي توفي وعليه دين ولم يترك الا ما يخرج نخله ولا يبلغ ما يخرج نخله ما عليه من الدين دون سنين فانطلق معي يا رسول الله لكى لا يفحش على الغرام فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم يدور بيدرا بيدرا فسلم حوله ودعا له ثم جلس عليه ودعا الغرام فاوفاهم وبقي مثل ما اخذوا
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ( ان کے والد ) عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ انتقال فرما کر گئے اور ( اپنے ذمہ لوگوں کا ) قرض چھوڑ گئے تو میں نے ان کے قرض خواہوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قرض میں کچھ کمی کر دینے کی سفارش کرائی تو آپ نے ان سے کم کرانے کی گزارش کی، لیکن وہ نہ مانے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جاؤ اور ہر قسم کی کھجوروں کو الگ الگ کر دو، عجوہ کو علیحدہ رکھو اور عذق بن زید اور دوسری قسموں کو الگ الگ کرے کے رکھو۔ پھر مجھے بلاؤ“، تو میں نے ایسا ہی کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور سب سے اونچی والی ڈھیر پر یا بیچ والی ڈھیر پر بیٹھ گئے، پھر آپ نے فرمایا: ”لوگوں کو ناپ ناپ کر دو“، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں انہیں ناپ ناپ کر دینے لگا یہاں تک کہ میں نے سبھی کو پورا پورا دے دیا پھر بھی میری کھجوریں بچی رہیں، ایسا لگتا تھا کہ میری کھجوروں میں کچھ بھی کمی نہیں آئی ہے۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا جرير، عن مغيرة، عن الشعبي، عن جابر، قال توفي عبد الله بن عمرو بن حرام - قال - وترك دينا فاستشفعت برسول الله صلى الله عليه وسلم على غرمايه ان يضعوا من دينه شييا فطلب اليهم فابوا فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم " اذهب فصنف تمرك اصنافا العجوة على حدة وعذق ابن زيد على حدة واصنافه ثم ابعث الى ". قال ففعلت فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فجلس في اعلاه او في اوسطه ثم قال " كل للقوم ". قال فكلت لهم حتى اوفيتهم ثم بقي تمري كان لم ينقص منه شىء
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد کے ذمہ ایک یہودی کی کھجوریں تھیں، اور وہ جنگ احد میں قتل کر دیے گئے اور کھجوروں کے دو باغ چھوڑ گئے، یہودی کی کھجوریں دو باغوں کی کھجوریں ملا کر پوری پڑ رہی تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہودی سے ) فرمایا: ”کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ تم اس سال اپنے قرض کا آدھا لے لو اور آدھا دیر کر کے ( اگلے سال ) لے لو؟“، یہودی نے ( ایسا کرنے سے ) انکار کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مجھ سے فرمایا: ) ”کیا تم پھل توڑتے وقت مجھے خبر کر سکتے ہو؟“، تو میں نے آپ کو پھل توڑتے وقت خبر کر دی تو آپ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ( کھجور کے ) نیچے سے نکال کر الگ کرنے اور ناپ ناپ کر دینے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برکت کی دعا فرماتے رہے یہاں تک کہ چھوٹے باغ ہی کے پھلوں سے اس کے پورے قرض کی ادائیگی کر دی، پھر میں ان دونوں حضرات کے پاس ( بطور تواضع ) تازہ کھجوریں اور پانی لے کر آیا، تو ان لوگوں نے کھایا پیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے متعلق تم لوگوں سے پوچھ تاچھ ہو گی“۔
اخبرنا ابراهيم بن يونس بن محمد، - حرمي - قال حدثنا ابي قال، حدثنا حماد، عن عمار بن ابي عمار، عن جابر بن عبد الله، قال كان ليهودي على ابي تمر فقتل يوم احد وترك حديقتين وتمر اليهودي يستوعب ما في الحديقتين فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هل لك ان تاخذ العام نصفه وتوخر نصفه ". فابى اليهودي فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هل لك ان تاخذ الجداد ". فاذني فاذنته فجاء هو وابو بكر فجعل يجد ويكال من اسفل النخل ورسول الله صلى الله عليه وسلم يدعو بالبركة حتى وفيناه جميع حقه من اصغر الحديقتين - فيما يحسب عمار - ثم اتيتهم برطب وماء فاكلوا وشربوا ثم قال " هذا من النعيم الذي تسالون عنه
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد ( غزوہ احد میں ) انتقال کر گئے اور ان کے ذمہ قرض تھا تو میں نے ان کے قرض خواہوں کے سامنے یہ بات رکھی کہ والد کے ذمہ ان کا جو حق ہے اس کے بدلے ( ہمارے باغ کی ) کھجوریں لے لیں تو انہوں نے اسے لینے سے انکار کر دیا، وہ سمجھتے تھے کہ اتنی کھجوریں ان کے قرض کی ادائیگی کے لیے کافی نہیں ہیں تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کھجوریں توڑ کر کھلیان میں رکھ دو تو مجھے خبر کرو“، چنانچہ جب میں نے کھجوریں توڑ کر انہیں کھلیان میں رکھ دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( اور آپ کو بتایا ) آپ آئے، آپ کے ساتھ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، آپ اس پر بیٹھ گئے اور برکت کی دعا فرمائی پھر فرمایا: ”اپنے قرض خواہوں کو بلاؤ اور انہیں ان کا حق پورا پورا دیتے جاؤ“ تو میں نے کسی کو بھی جس کا میرے باپ پر قرض تھا نہیں چھوڑا، سب کو اس کا پورا پورا حق دے دیا اور میرے لیے تیرہ وسق کھجوریں بھی بچ رہیں، جب میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ہنسے اور فرمایا: ”ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور انہیں بھی یہ بات بتاؤ“، تو میں نے ان دونوں کو بھی اس بات کی خبر دی، تو ان دونوں نے کہا: جب ہم نے آپ کو وہ کرتے دیکھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تو ہمیں معلوم ہو گیا تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔
اخبرنا محمد بن المثنى، عن حديث عبد الوهاب، قال حدثنا عبيد الله، عن وهب بن كيسان، عن جابر بن عبد الله، قال توفي ابي وعليه دين فعرضت على غرمايه ان ياخذوا الثمرة بما عليه فابوا ولم يروا فيه وفاء فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له قال " اذا جددته فوضعته في المربد فاذني ". فلما جددته ووضعته في المربد اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء ومعه ابو بكر وعمر فجلس عليه ودعا بالبركة ثم قال " ادع غرماءك فاوفهم ". قال فما تركت احدا له على ابي دين الا قضيته وفضل لي ثلاثة عشر وسقا فذكرت ذلك له فضحك وقال " ايت ابا بكر وعمر فاخبرهما ذلك ". فاتيت ابا بكر وعمر فاخبرتهما فقالا قد علمنا اذ صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم ما صنع انه سيكون ذلك
عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے ( تو تم سمجھ لو ) وارث کے لیے وصیت نہیں ہے“ ۱؎۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن شهر بن حوشب، عن عبد الرحمن بن غنم، عن عمرو بن خارجة، قال خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ان الله قد اعطى كل ذي حق حقه ولا وصية لوارث
عمرو بن خارجہ رضی الله عنہ نے ذکر کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خطبہ میں موجود تھے جو آپ اپنی سواری پر بیٹھ کر دے رہے تھے، سواری جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب بہہ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میراث سے ہر انسان کا حصہ تقسیم فرما دیا ہے تو کسی وارث کے لیے وصیت کرنا درست اور جائز نہیں ہے“۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، قال حدثنا سعيد، قال حدثنا قتادة، عن شهر بن حوشب، ان ابن غنم، ذكر ان ابن خارجة، ذكر له انه شهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب الناس على راحلته وانها لتقصع بجرتها وان لعابها ليسيل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم في خطبته " ان الله قد قسم لكل انسان قسمه من الميراث فلا تجوز لوارث وصية
عمرو بن خارجہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے، اور کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے“۔
اخبرنا عتبة بن عبد الله المروزي، قال انبانا عبد الله بن المبارك، قال انبانا اسماعيل بن ابي خالد، عن قتادة، عن عمرو بن خارجة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله عز اسمه قد اعطى كل ذي حق حقه ولا وصية لوارث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت: «وأنذر عشيرتك الأقربين» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو بلایا چنانچہ قریش سبھی لوگ اکٹھا ہو گئے، تو آپ نے عام و خاص سبھوں کو مخاطب کر کے فرمایا: ”اے بنی کعب بن لوئی! اے بنی مرہ بن کعب! اے بنی عبد شمس! اے بنی عبد مناف! اے بنی ہاشم اور اے بنی عبدالمطلب! تم سب اپنے آپ کو آگ سے بچا لو اور اے فاطمہ ( فاطمہ بنت محمد ) تم اپنے آپ کو آگ سے بچا لو کیونکہ میں اللہ کے عذاب کے سامنے تمہارے کچھ بھی کام نہیں آ سکتا سوائے اس کے کہ ہمارا تم سے رشتہ داری ہے جو میں ( دنیا میں ) اس کی تری سے تر رکھوں گا“ ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا جرير، عن عبد الملك بن عمير، عن موسى بن طلحة، عن ابي هريرة، قال لما نزلت {وانذر عشيرتك الاقربين} دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم قريشا فاجتمعوا فعم وخص فقال " يا بني كعب بن لوى يا بني مرة بن كعب يا بني عبد شمس ويا بني عبد مناف ويا بني هاشم ويا بني عبد المطلب انقذوا انفسكم من النار ويا فاطمة انقذي نفسك من النار اني لا املك لكم من الله شييا غير ان لكم رحما سابلها ببلالها
موسیٰ بن طلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنی عبد مناف! اپنی جانوں کو اپنے رب سے ( اپنے اعمال حسنہ کے بدلے ) خرید لو، میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے بچا لینے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتا، اے عبدالمطلب کی اولاد! اپنی جانوں کو اپنے رب سے ( اپنے نیک اعمال کے بدلے ) خرید لو، میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے بچا لینے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتا، البتہ ہمارے اور تمہارے درمیان قرابت داری ہے، تو میں اس کی تری اسے تروتازہ اور زندہ رکھنے کی کوشش کروں گا“ ۱؎۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا عبيد الله بن موسى، قال انبانا اسراييل، عن معاوية، - وهو ابن اسحاق - عن موسى بن طلحة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا بني عبد مناف اشتروا انفسكم من ربكم اني لا املك لكم من الله شييا يا بني عبد المطلب اشتروا انفسكم من ربكم اني لا املك لكم من الله شييا ولكن بيني وبينكم رحم انا بالها ببلالها
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب آیت: «وأنذر عشيرتك الأقربين» ”آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے“ نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”اے قریش کی جماعت! تم! اپنی جانوں کو اللہ سے ( اس کی اطاعت کے بدلے ) خرید لو، میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا، اے بنی عبدالمطلب! میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا، اے عباس بن عبدالمطلب! میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے کچھ بھی نجات نہیں دلا سکتا، اے صفیہ! ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ) میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا، اے فاطمہ بنت محمد! تمہیں جو کچھ بھی مانگنا ہو مانگ لو، لیکن ( یہ جان لو کہ ) میں اللہ کے پاس تمہارے کچھ بھی کام نہ آؤں گا“۔
اخبرنا سليمان بن داود، عن ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني سعيد بن المسيب، وابو سلمة بن عبد الرحمن عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حين انزل عليه {وانذر عشيرتك الاقربين} قال " يا معشر قريش اشتروا انفسكم من الله لا اغني عنكم من الله شييا يا بني عبد المطلب لا اغني عنكم من الله شييا يا عباس بن عبد المطلب لا اغني عنك من الله شييا يا صفية عمة رسول الله صلى الله عليه وسلم لا اغني عنك من الله شييا يا فاطمة بنت محمد سليني ما شيت لا اغني عنك من الله شييا
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: «وأنذر عشيرتك الأقربين» ”اے محمد! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے“ نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے قریش کے لوگو! اپنی جانوں کو اللہ سے ( اس کی اطاعت کے بدلے ) خرید لو، میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا، اے بنی عبد مناف! میں اللہ کے یہاں تمہارے کچھ بھی کام نہ آ سکوں گا، اے عباس بن عبدالمطلب! اللہ کے یہاں میں تمہارے بھی کچھ کام نہ آ سکوں گا، اے صفیہ! ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ) ، میں اللہ کے یہاں تمہیں بھی کوئی فائدہ پہنچا نہ سکوں گا، اے فاطمہ! تمہیں جو کچھ بھی مانگنا ہے مجھ سے مانگو، لیکن میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی فائدہ پہنچا نہ سکوں گا“۔
اخبرنا محمد بن خالد، قال حدثنا بشر بن شعيب، عن ابيه، عن الزهري، قال اخبرني سعيد بن المسيب، وابو سلمة بن عبد الرحمن ان ابا هريرة، قال قام رسول الله صلى الله عليه وسلم حين انزل عليه {وانذر عشيرتك الاقربين} فقال " يا معشر قريش اشتروا انفسكم من الله لا اغني عنكم من الله شييا يا بني عبد مناف لا اغني عنكم من الله شييا يا عباس بن عبد المطلب لا اغني عنك من الله شييا يا صفية عمة رسول الله صلى الله عليه وسلم لا اغني عنك من الله شييا يا فاطمة سليني ما شيت لا اغني عنك من الله شييا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت کریمہ: «وأنذر عشيرتك الأقربين» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فاطمہ بنت محمد! اے صفیہ بنت عبدالمطلب! اور اے بنی عبدالمطلب! میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی فائدہ پہنچا نہ سکوں گا، میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو ۱؎“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا ابو معاوية، قال حدثنا هشام، - وهو ابن عروة - عن ابيه، عن عايشة، قالت لما نزلت هذه الاية {وانذر عشيرتك الاقربين} قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا فاطمة ابنة محمد يا صفية بنت عبد المطلب يا بني عبد المطلب لا اغني عنكم من الله شييا سلوني من مالي ما شيتم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ: میری ماں اچانک مر گئی، وہ اگر بول سکتیں تو صدقہ کرتیں، تو کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، تو اس نے اپنی ماں کی طرف سے صدقہ کیا ۱؎۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن القاسم، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان رجلا، قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم ان امي افتلتت نفسها وانها لو تكلمت تصدقت افاتصدق عنها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم ". فتصدق عنها
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک غزوہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ مدینہ میں ان کی ماں کے انتقال کا وقت آ پہنچا، ان سے کہا گیا کہ وصیت کر دیں، تو انہوں نے کہا: میں کس چیز میں وصیت کروں؟ جو کچھ مال ہے وہ سعد کا ہے، سعد کے ان کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی وہ انتقال کر گئیں، جب سعد رضی اللہ عنہ آ گئے تو ان سے اس بات کا تذکرہ کیا گیا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! اگر میں ان کی طرف سے صدقہ و خیرات کروں تو کیا انہیں فائدہ پہنچے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: فلاں باغ ایسے اور ایسے ان کی طرف سے صدقہ ہے، اور باغ کا نام لیا۔
انبانا الحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، عن مالك، عن سعيد بن عمرو بن شرحبيل بن سعيد بن سعد بن عبادة، عن ابيه، عن جده، قال خرج سعد بن عبادة مع النبي صلى الله عليه وسلم في بعض مغازيه وحضرت امه الوفاة بالمدينة فقيل لها اوصي. فقالت فيم اوصي المال مال سعد. فتوفيت قبل ان يقدم سعد فلما قدم سعد ذكر ذلك له فقال يا رسول الله هل ينفعها ان اتصدق عنها فقال النبي صلى الله عليه وسلم " نعم ". فقال سعد حايط كذا وكذا صدقة عنها لحايط سماه