Loading...

Loading...
کتب
۶۱ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل بھی ختم ہو جاتا ہے سوائے تین عمل کے ( جن سے اسے مرنے کے بعد بھی فائدہ پہنچتا ہے ) ایک صدقہ جاریہ، ۱؎ دوسرا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں ۲؎، تیسرا نیک اور صالح بیٹا جو اس کے لیے دعا کرتا رہے“۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل، قال حدثنا العلاء، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا مات الانسان انقطع عمله الا من ثلاثة من صدقة جارية وعلم ينتفع به وولد صالح يدعو له
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ( اللہ کے رسول! ) میرے والد وصیت کئے بغیر انتقال کر گئے اور مال بھی چھوڑ گئے ہیں۔ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کی طرف سے کفارہ ( اور ان کے لیے موجب نجات ) ہو جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا اسماعيل، عن العلاء، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رجلا، قال للنبي صلى الله عليه وسلم ان ابي مات وترك مالا ولم يوص فهل يكفر عنه ان اتصدق عنه قال " نعم
شرید بن سوید ثقفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے عرض کیا: میری ماں نے وصیت کی ہے کہ ان کی طرف سے ایک غلام آزاد کر دیا جائے اور میرے پاس حبشی نسل کی ایک لونڈی ہے، اگر میں اسے ان کی طرف سے آزاد کر دوں تو کیا وہ کافی ہو جائے گی؟ آپ نے فرمایا: ”جاؤ اسے ساتھ لے کر آؤ“ چنانچہ میں اسے ساتھ لیے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہو گیا، آپ نے اس سے پوچھا: ”تمہارا رب ( معبود ) کون ہے؟“ اس نے کہا: اللہ، آپ نے ( پھر ) اس سے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو، یہ مسلمان عورت ہے“۔
اخبرنا موسى بن سعيد، قال حدثنا هشام بن عبد الملك، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن الشريد بن سويد الثقفي، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت ان امي اوصت ان تعتق عنها رقبة وان عندي جارية نوبية افيجزي عني ان اعتقها عنها قال " ايتني بها ". فاتيته بها فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم " من ربك ". قالت الله. قال " من انا ". قالت انت رسول الله. قال " فاعتقها فانها مومنة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میری ماں مر چکی ہیں اور کوئی وصیت نہیں کی ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں کر دو“۔
اخبرنا الحسين بن عيسى، قال انبانا سفيان، عن عمرو، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان سعدا، سال النبي صلى الله عليه وسلم ان امي ماتت ولم توص افاتصدق عنها قال " نعم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا انہیں اس کا فائدہ پہنچے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو اس نے کہا: پھر تو میرے پاس کھجور کا ایک باغ ہے، آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنی ماں کی طرف سے اسے صدقہ میں دے دیا۔
اخبرنا احمد بن الازهر، قال حدثنا روح بن عبادة، قال حدثنا زكريا بن اسحاق، قال حدثنا عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رجلا، قال يا رسول الله ان امه توفيت افينفعها ان تصدقت عنها قال " نعم ". قال فان لي مخرفا فاشهدك اني قد تصدقت به عنها
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میری ماں مر چکی ہیں اور ان کے ذمہ ایک نذر ہے، اگر میں ان کی طرف سے ( ایک غلام ) آزاد کر دوں تو کیا یہ ان کی طرف سے پوری ہو جائے گی؟ آپ نے فرمایا: ” ( ہاں ) اپنی ماں کی طرف سے غلام آزاد کر دو“۔
اخبرني هارون بن عبد الله، قال حدثنا عفان، قال حدثنا سليمان بن كثير، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، عن سعد بن عبادة، انه اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ان امي ماتت وعليها نذر افيجزي عنها ان اعتق عنها قال " اعتق عن امك
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے ہی انتقال کر گئی تھیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نذر کو تم ان کی طرف سے پوری کر دو“۔
اخبرنا محمد بن احمد ابو يوسف الصيدلاني، عن عيسى، - وهو ابن يونس - عن الاوزاعي، عن الزهري، اخبره عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، عن سعد بن عبادة، انه استفتى النبي صلى الله عليه وسلم في نذر كان على امه فتوفيت قبل ان تقضيه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقضه عنها
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جوان کی ماں کے ذمہ تھی اور نذر پوری کرنے سے پہلے ہی ان کی موت ہو گئی تھی؟ آپ نے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے نذر پوری کر دو“۔
اخبرنا محمد بن صدقة الحمصي، قال حدثنا محمد بن شعيب، عن الاوزاعي، عن الزهري، اخبره عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، عن سعد بن عبادة، انه استفتى النبي صلى الله عليه وسلم في نذر كان على امه فماتت قبل ان تقضيه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقضه عنها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے متعلق پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے ہی وہ انتقال کر گئیں، تو آپ نے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے نذر پوری کر دو“۔
اخبرنا العباس بن الوليد بن مزيد، قال اخبرني ابي قال، حدثنا الاوزاعي، قال اخبرني الزهري، ان عبيد الله بن عبد الله، اخبره عن ابن عباس، قال استفتى سعد رسول الله صلى الله عليه وسلم في نذر كان على امه فتوفيت قبل ان تقضيه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقضه عنها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور جسے پوری کرنے سے پہلے ہی وہ مر گئیں۔ تو آپ نے فرمایا: ”اسے تم ان کی طرف سے پوری کر دو“۔
قال الحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن سفيان، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، ان سعد بن عبادة، استفتى النبي صلى الله عليه وسلم في نذر كان على امه فتوفيت قبل ان تقضيه فقال " اقضه عنها
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری ماں مر گئیں اور ان کے ذمہ ایک نذر تھی تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے ان کی طرف سے پوری کر دوں۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، عن سعد، انه قال ماتت امي وعليها نذر فسالت النبي صلى الله عليه وسلم فامرني ان اقضيه عنها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر سے متعلق جو ان کی ماں کے ذمہ تھی مسئلہ پوچھا اور اسے پوری کرنے سے پہلے وہ انتقال کر گئیں تھیں، تو آپ نے ان سے فرمایا: ”اسے ان کی طرف سے تم پوری کر دو“۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا الليث، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، قال استفتى سعد بن عبادة الانصاري رسول الله صلى الله عليه وسلم في نذر كان على امه فتوفيت قبل ان تقضيه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقضه عنها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میری ماں انتقال کر گئی ہیں اور ان کے ذمہ ایک نذر ہے اور وہ اسے پوری نہیں کر سکی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم اسے ان کی طرف سے پوری کر دو“۔
اخبرنا هارون بن اسحاق الهمداني، عن عبدة، عن هشام، - هو ابن عروة - عن بكر بن وايل، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، قال جاء سعد بن عبادة الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ان امي ماتت وعليها نذر ولم تقضه قال " اقضه عنها
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں مر گئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، میں نے پوچھا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ” ( پیاسوں کو ) پانی پلانا“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا وكيع، عن هشام، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن سعد بن عبادة، قال قلت يا رسول الله ان امي ماتت افاتصدق عنها قال " نعم ". قلت فاى الصدقة افضل قال " سقى الماء
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”پانی پلانا“ ۱؎۔
اخبرنا ابو عمار الحسين بن حريث، عن وكيع، عن هشام، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن سعد بن عبادة، قال قلت يا رسول الله اى الصدقة افضل قال " سقى الماء
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کی ماں مر گئیں تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں انتقال کر گئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، انہوں نے کہا: کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”پانی پلانا“ تو یہ ہے مدینہ میں سعد رضی اللہ عنہ کی پانی کی سبیل۔
اخبرني ابراهيم بن الحسن، عن حجاج، قال سمعت شعبة، يحدث عن قتادة، قال سمعت الحسن، يحدث عن سعد بن عبادة، ان امه، ماتت فقال يا رسول الله ان امي ماتت افاتصدق عنها قال " نعم ". قال فاى الصدقة افضل قال " سقى الماء ". فتلك سقاية سعد بالمدينة
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”ابوذر! میں تمہیں کمزور دیکھتا ہوں اور تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں ( لہٰذا تم ) دو آدمیوں کا بھی سردار نہ بننا اور نہ یتیم کے مال کا والی بننا“ ۱؎۔
اخبرنا العباس بن محمد، قال حدثنا عبد الله بن يزيد، عن سعيد بن ابي ايوب، عن عبيد الله بن ابي جعفر، عن سالم بن ابي سالم الجيشاني، عن ابيه، عن ابي ذر، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ابا ذر اني اراك ضعيفا واني احب لك ما احب لنفسي لا تامرن على اثنين ولا تولين على مال يتيم
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میں محتاج و فقیر ہوں، میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے اور میری سرپرستی میں ایک یتیم ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یتیم کے مال سے کھا لیا کرو ( لیکن دیکھو ) فضول خرچی اور اسراف مت کرنا اور نہ ہی یتیم کا مال لے لے کر اپنا مال بڑھانا“۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، عن حسين، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اني فقير ليس لي شىء ولي يتيم. قال " كل من مال يتيمك غير مسرف ولا مباذر ولا متاثل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: «ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن» ”یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طریقے سے جو کہ مستحسن ہو ( یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے ) “ ( الأنعام: ۱۵۲ ) اور «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» ”اور جو لوگ یتیموں کا مال ظلم و زیادتی کر کے کھاتے ہیں ( وہ دراصل مال نہیں کھاتے وہ اپنے پیٹوں میں انگارے بھر رہے ہیں“ ( النساء: ۱۰ ) نازل ہوئی تو لوگ یتیموں کے مال کے قریب جانے ( اور ان کی حفاظت کی ذمہ داریاں سنبھالنے ) اور ان کا مال کھانے سے بچنے لگے۔ تو یہ چیز مسلمانوں پر شاق ( دشوار ) ہو گئی، چنانچہ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی جس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «ويسألونك عن اليتامى قل إصلاح لهم خير» سے «لأعنتكم» ”اور تم سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئیے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے اگر تم ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔ بدنیت اور نیک نیت ہر ایک کو اللہ خوب جانتا ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا، یقیناً اللہ تعالیٰ غلبہ اور حکمت والا ہے“ ( البقرہ: ۲۲۰ ) تک نازل فرمائی ۳؎۔
اخبرنا احمد بن عثمان بن حكيم، قال حدثنا محمد بن الصلت، قال حدثنا ابو كدينة، عن عطاء، - وهو ابن السايب - عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال لما نزلت هذه الاية {ولا تقربوا مال اليتيم الا بالتي هي احسن} و{ان الذين ياكلون اموال اليتامى ظلما} قال اجتنب الناس مال اليتيم وطعامه فشق ذلك على المسلمين فشكوا ذلك الى النبي صلى الله عليه وسلم فانزل الله {ويسالونك عن اليتامى قل اصلاح لهم خير} الى قوله {لاعنتكم}
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» کے سلسلہ میں کہتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو جس کی پرورش میں یتیم ہوتا تھا وہ اس کا کھانا پینا اور اس کا برتن الگ کر دیتا تھا لیکن یہ چیز مسلمانوں پر گراں گزری تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «وإن تخالطوهم فإخوانكم» ”اگر ان کو ملا کر رکھو تو وہ تمہارے بھائی ہیں“ ( البقرہ: ۲۲۰ ) نازل فرمائی اور یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے ساتھ ملا لینے کو جائز قرار دے دیا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عمران بن عيينة، قال حدثنا عطاء بن السايب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، في قوله {ان الذين ياكلون اموال اليتامى ظلما} قال كان يكون في حجر الرجل اليتيم فيعزل له طعامه وشرابه وانيته فشق ذلك على المسلمين فانزل الله عز وجل {وان تخالطوهم فاخوانكم} {في الدين} فاحل لهم خلطتهم