Loading...

Loading...
کتب
۱۹۳ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب میں سات سال کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی، اور جب میں نو برس کی ہوئی تو مجھ سے خلوت فرمائی ۱؎۔
اخبرنا محمد بن النضر بن مساور، قال حدثنا جعفر بن سليمان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت تزوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم لسبع سنين ودخل على لتسع سنين
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب میں نو برس کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی، اور نو ہی برس میں آپ کی صحبت میں رہی ( پھر آپ رحلت فرما گئے ) ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا عبثر، عن مطرف، عن ابي اسحاق، عن ابي عبيدة، قال قالت عايشة تزوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم لتسع سنين وصحبته تسعا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ جب میں نو برس کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی، اور جب آپ نے انہیں چھوڑ کر انتقال فرمایا تو اس وقت وہ اٹھارہ برس کی ہو چکی تھیں۔
اخبرنا محمد بن العلاء، واحمد بن حرب، قالا حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، تزوجها رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي بنت تسع ومات عنها وهي بنت ثماني عشرة
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صحابی رسول خنیس بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کا مدینہ میں انتقال ہو گیا، ان کے انتقال سے حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا بیوہ ہو گئیں، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور حفصہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ ان کے سامنے پیش کیا، اور کہا کہ اگر آپ پسند کریں تو میں آپ کی شادی حفصہ سے کر دیتا ہوں، انہوں نے کہا: میں اپنے بارے میں غور کر کے بتاؤں گا، میں کئی دن ٹھہرا ( انتظار کرتا ) رہا، پھر وہ مجھ سے ملے اور کہا: میرے غور و فکر میں یہی آیا ہے کہ میں ان دنوں شادی نہ کروں۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور کہا: اگر آپ پسند کریں تو حفصہ سے آپ کی شادی کر دوں، ( یہ سن کر ) ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش رہے، اور مجھے کچھ بھی جواب نہ دیا۔ مجھے ان پر عثمان رضی اللہ عنہ کے مقابل میں زیادہ ہی غصہ آیا، پھر چند ہی راتیں گزری تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنے لیے نکاح کا پیغام دیا تو میں نے ان کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا۔ پھر مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ ملے اور کہا: غالباً آپ کو اس وقت بڑا غصہ آیا ہو گا جب آپ نے مجھے حفصہ سے نکاح کی پیشکش کی تھی اور ( میری جانب سے ) آپ کو کوئی جواب نہ ملا، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ہاں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ آپ کی پیش کش کا جواب نہ دینے کی وجہ یہ تھی کہ مجھے معلوم تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حفصہ کا ذکر فرما چکے تھے اور میں آپ کا راز فاش کرنے والا نہیں تھا۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے شادی نہ کرتے تو میں انہیں قبول کر لیتا۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا يعقوب بن ابراهيم بن سعد، قال حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، قال اخبرني سالم بن عبد الله، انه سمع عبد الله بن عمر، يحدث ان عمر بن الخطاب، رضى الله عنه حدثنا قال يعني تايمت حفصة بنت عمر من خنيس بن حذافة السهمي - وكان من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فتوفي بالمدينة - قال عمر فاتيت عثمان بن عفان رضي الله عنه فعرضت عليه حفصة بنت عمر قال قلت ان شيت انكحتك حفصة . قال سانظر في امري فلبثت ليالي ثم لقيني فقال قد بدا لي ان لا اتزوج يومي هذا . قال عمر فلقيت ابا بكر الصديق رضى الله عنه فقلت ان شيت زوجتك حفصة بنت عمر . فصمت ابو بكر فلم يرجع الى شييا فكنت عليه اوجد مني على عثمان فلبثت ليالي ثم خطبها رسول الله صلى الله عليه وسلم فانكحتها اياه فلقيني ابو بكر فقال لعلك وجدت على حين عرضت على حفصة فلم ارجع اليك شييا . قال عمر قلت نعم . قال فانه لم يمنعني ان ارجع اليك شييا فيما عرضت على الا اني قد كنت علمت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد ذكرها ولم اكن لافشي سر رسول الله صلى الله عليه وسلم ولو تركها رسول الله صلى الله عليه وسلم قبلتها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ عورت اپنے ولی ( سر پرست ) کے بالمقابل اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے ۱؎ اور کنواری ( لڑکی ) سے اس کی شادی کی اجازت لی جائے گی۔ اور اس کی اجازت ( اس سے پوچھے جانے پر ) اس کا خاموش رہنا ہے“ ۲؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا مالك، عن عبد الله بن الفضل، عن نافع بن جبير بن مطعم، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الايم احق بنفسها من وليها والبكر تستاذن في نفسها واذنها صماتها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ اپنے ولی ( سر پرست ) کے بالمقابل اپنے ( رشتہ کے ) بارے میں فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے۔ اور «یتیمہ» یعنی کنواری لڑکی سے ( اس کی شادی کے لیے ) اس کی منظوری لی جائے گی اور اس کی منظوری ( پوچھے جانے پر ) اس کی خاموشی ہے“۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود، قال حدثنا شعبة، عن مالك بن انس، قال سمعته منه، بعد موت نافع بسنة وله يوميذ حلقة قال اخبرني عبد الله بن الفضل عن نافع بن جبير عن ابن عباس ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الايم احق بنفسها من وليها واليتيمة تستامر واذنها صماتها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ عورت اپنے نفس کی خود مالک ہے۔ ( شادی کرے گی ) اور «یتیمہ» یعنی کنواری لڑکی سے ( اس کی شادی کے لیے ) اس کی منظوری لی جائے گی اور اس کی منظوری ( پوچھے جانے پر ) اس کی خاموشی ہے“۔
اخبرني احمد بن سعيد الرباطي، قال حدثنا يعقوب، قال حدثني ابي، عن ابن اسحاق، قال حدثني صالح بن كيسان، عن عبد الله بن الفضل بن عباس بن ربيعة، عن نافع بن جبير بن مطعم، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الايم اولى بامرها واليتيمة تستامر في نفسها واذنها صماتها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ ( غیر کنواری ) عورت پر ولی کا کچھ اختیار نہیں ہے، اور «یتیمہ» کنواری لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مشورہ ( و اجازت ) لی جائے گی، اور ( جواباً ) اس کی خاموشی اس کی اجازت مانی جائے گی“۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا عبد الرزاق، قال انبانا معمر، عن صالح بن كيسان، عن نافع بن جبير، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس للولي مع الثيب امر واليتيمة تستامر فصمتها اقرارها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ ( غیر کنواری ) عورت اپنے آپ کے بارے میں فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے ( کہ شادی کرے تو کس سے کرے یا نہ کرے ) اور کنواری لڑکی کی شادی باپ اس کی اجازت لے کر کرے اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے“۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن زياد بن سعد، عن عبد الله بن الفضل، عن نافع بن جبير، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الثيب احق بنفسها والبكر يستامرها ابوها واذنها صماتها
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ عورت کی شادی اس کی اجازت کے بغیر نہ کی جائے اور نہ ہی کنواری کی شادی اس کی مرضی جانے بغیر کی جائے“، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیسے جانی جائے؟ ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی اجازت یہ ہے کہ وہ چپ رہے“ ۲؎۔
اخبرنا يحيى بن درست، قال حدثنا ابو اسماعيل، قال حدثنا يحيى، ان ابا سلمة، حدثه عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تنكح الثيب حتى تستاذن ولا تنكح البكر حتى تستامر " . قالوا يا رسول الله كيف اذنها قال " اذنها ان تسكت
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں سے ان کی شادی کے بارے میں مشورہ کیا کرو“، کہا گیا: کنواری لڑکی تو شرم کرتی ہے، اور چپ رہتی ہے ( بول نہیں پاتی ) ؟ آپ نے فرمایا: ”اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے“۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن جريج، قال سمعت ابن ابي مليكة، يحدث عن ذكوان ابي عمرو، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " استامروا النساء في ابضاعهن " . قيل فان البكر تستحي وتسكت . قال " هو اذنها
ابوہریرہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ کی شادی نہ کی جائے جب تک کہ اس سے مشورہ نہ لے لیا جائے اور کنواری لڑکی کی شادی نہ کی جائے جب تک کہ اس کی اجازت نہ لے لی جائے“، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیسے جانی جائے؟ آپ نے فرمایا: ”اس کا خاموش رہنا“ ( ہی اس کی اجازت ہے ) ۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، - وهو ابن الحارث - قال حدثنا هشام، عن يحيى بن ابي كثير، قال حدثنا ابو سلمة بن عبد الرحمن، قال حدثني ابو هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تنكح الايم حتى تستامر ولا تنكح البكر حتى تستاذن " . قالوا يا رسول الله كيف اذنها قال " ان تسكت
خنساء بنت خذام رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا اور یہ بیوہ تھیں، یہ شادی انہیں پسند نہ آئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، تو آپ نے ان کا نکاح رد کر دیا۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، وانبانا محمد بن سلمة، قال حدثنا عبد الرحمن بن القاسم، عن مالك، قال حدثني عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عبد الرحمن، ومجمع، ابنى يزيد بن جارية الانصاري عن خنساء بنت خذام، ان اباها، زوجها وهي ثيب فكرهت ذلك فاتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فرد نكاحه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک نوجوان لڑکی ان کے پاس آئی، اور اس نے کہا: میرے باپ نے میری شادی اپنے بھتیجے سے اس کی خست اور کمینگی پر پردہ ڈالنے کے لیے کر دی ہے، حالانکہ میں اس شادی سے خوش نہیں ہوں، انہوں نے اس سے کہا: بیٹھ جاؤ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آ لینے دو ( پھر اپنا قضیہ آپ کے سامنے پیش کرو ) ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لے آئے تو اس نے آپ کو اپنے معاملے سے آگاہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باپ کو بلا بھیجا ( اور جب وہ آ گیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ اس ( لڑکی ) کے اختیار میں دے دیا اس ( لڑکی ) نے کہا: اللہ کے رسول! میرے والد نے جو کچھ کر دیا ہے، میں نے اسے قبول کر لیا ( ان کے کئے ہوئے نکاح کو رد نہیں کرتی ) لیکن میں نے ( اس معاملہ کو آپ کے سامنے پیش کر کے ) یہ جاننا چاہا ہے کہ کیا عورتوں کو بھی کچھ حق و اختیار حاصل ہے ( سو میں نے جان لیا ) ۔
اخبرنا زياد بن ايوب، قال حدثنا علي بن غراب، قال حدثنا كهمس بن الحسن، عن عبد الله بن بريدة، عن عايشة، ان فتاة، دخلت عليها فقالت ان ابي زوجني ابن اخيه ليرفع بي خسيسته وانا كارهة . قالت اجلسي حتى ياتي النبي صلى الله عليه وسلم فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبرته فارسل الى ابيها فدعاه فجعل الامر اليها فقالت يا رسول الله قد اجزت ما صنع ابي ولكن اردت ان اعلم اللنساء من الامر شىء
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «یتیمہ» کنواری لڑکی کی شادی کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا اگر وہ چپ رہے تو یہی ( اس کا چپ رہنا ہی ) اس کی جانب سے اجازت ہے، اور اگر وہ انکار کر دے تو اس پر کوئی زور ( زور و دباؤ ) نہیں ہے“ ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا محمد بن عمرو، قال حدثنا ابو سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تستامر اليتيمة في نفسها فان سكتت فهو اذنها وان ابت فلا جواز عليها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے اس وقت شادی کی جب کہ آپ احرام باندھے ہوئے تھے ۱؎، اور یعلیٰ ( راوی ) کی حدیث میں «سرف» کا بھی ذکر ہے ۲؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، عن محمد بن سواء، قال حدثنا سعيد، عن قتادة، ويعلى بن حكيم، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال تزوج رسول الله صلى الله عليه وسلم ميمونة بنت الحارث وهو محرم وفي حديث يعلى بسرف
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے حالت احرام میں شادی کی۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن عمرو، عن ابي الشعثاء، ان ابن عباس، اخبره ان النبي صلى الله عليه وسلم تزوج ميمونة وهو محرم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی، اور آپ اس وقت احرام میں تھے، میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنا معاملہ عباس رضی اللہ عنہما کے سپرد کر رکھا تھا تو انہوں نے ان کی شادی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دی۔
اخبرنا عثمان بن عبد الله، قال حدثني ابراهيم بن الحجاج، قال حدثنا وهيب، عن ابن جريج، عن عطاء، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم نكح ميمونة وهو محرم جعلت امرها الى العباس فانكحها اياه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی۔
اخبرنا احمد بن نصر، قال حدثنا عبيد الله، - وهو ابن موسى - عن ابن جريج، عن عطاء، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوج ميمونة وهو محرم
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محرم نہ خود اپنا نکاح کرے نہ کسی اور کا کرائے، اور نہ ( ہی ) نکاح کا پیغام دے“۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن نافع، عن نبيه بن وهب، ان ابان بن عثمان، قال سمعت عثمان بن عفان، رضى الله عنه يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ينكح المحرم ولا ينكح ولا يخطب