Loading...

Loading...
کتب
۱۹۳ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ( عید کے مہینے ) شوال میں شادی کی، اور میری رخصتی بھی شوال کے مہینے میں ہوئی۔ ( عروہ کہتے ہیں ) عائشہ رضی اللہ عنہا پسند کرتی تھیں کہ مسلمان بیویوں کے پاس ( عید کے مہینے ) شوال میں جایا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے مجھ سے زیادہ آپ سے نزدیک اور فائدہ اٹھانے والی کوئی دوسری بیوی کون تھیں ۱؎۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثنا اسماعيل بن امية، عن عبد الله بن عروة، عن عروة، عن عايشة، قالت تزوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم في شوال وادخلت عليه في شوال وكانت عايشة تحب ان تدخل نساءها في شوال فاى نسايه كانت احظى عنده مني
عامر بن شراحیل شعبی کا بیان ہے کہ انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے ( جو پہلے پہل ہجرت کرنے والی عورتوں میں سے تھیں ) سنا ہے انہوں نے کہا: مجھے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ آ کر شادی کا پیام دیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مجھے اپنے غلام اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے شادی کے لیے پیغام دیا، اور میں نے سن رکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو کوئی مجھ سے محبت رکھتا ہے اسے اسامہ سے بھی محبت رکھنی چاہیئے“۔ چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ( اس سلسلے میں ) گفتگو کی تو میں نے کہا: میں اپنا معاملہ آپ کو سونپتی ہوں، آپ جس سے چاہیں میری شادی کر دیں۔ آپ نے فرمایا: ”ام شریک کے پاس چلی جاؤ“۔ ( کہتی ہیں: ) وہ انصار کی ایک مالدار اور فی سبیل اللہ بہت خرچ کرنے والی عورت تھیں ان کے پاس مہمان بکثرت آتے تھے۔ میں نے کہا: میں ایسا ہی کروں گی پھر آپ نے کہا: نہیں، ایسا مت کرو، کیونکہ ام شریک بہت مہمان نواز عورت ہیں اور مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ تم وہاں رہو، پھر کبھی تمہاری اوڑھنی تمہارے ( سر ) سے ڈھلک جائے یا تمہاری پنڈلیوں سے کپڑا ہٹ جائے تو تجھے لوگ کسی ایسی حالت میں عریاں دیکھ لیں جو تمہارے لیے ناگواری کا باعث ہو بلکہ ( تمہارے لیے مناسب یہ ہے کہ ) تم اپنے چچا زاد بھائی عبداللہ بن عمرو بن ام مکتوم کے پاس چلی جاؤ، وہ فہر ( قبیلے ) کی نسل سے ہیں، چنانچہ میں ان کے یہاں چلی گئی۔ یہ حدیث مختصر ہے۔
اخبرني عبد الرحمن بن محمد بن سلام، قال حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، قال سمعت ابي قال، حدثنا حسين المعلم، قال حدثني عبد الله بن بريدة، قال حدثني عامر بن شراحيل الشعبي، انه سمع فاطمة بنت قيس، - وكانت من المهاجرات الاول - قالت خطبني عبد الرحمن بن عوف في نفر من اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم وخطبني رسول الله صلى الله عليه وسلم على مولاه اسامة بن زيد وقد كنت حدثت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من احبني فليحب اسامة " . فلما كلمني رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت امري بيدك فانكحني من شيت . فقال " انطلقي الى ام شريك " . وام شريك امراة غنية من الانصار عظيمة النفقة في سبيل الله عز وجل ينزل عليها الضيفان فقلت سافعل . قال " لا تفعلي فان ام شريك كثيرة الضيفان فاني اكره ان يسقط عنك خمارك او ينكشف الثوب عن ساقيك فيرى القوم منك بعض ما تكرهين ولكن انتقلي الى ابن عمك عبد الله بن عمرو بن ام مكتوم " . وهو رجل من بني فهر فانتقلت اليه . مختصر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی کسی دوسرے کے پیغام پر پیغام نہ دے“ ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يخطب احدكم على خطبة بعض
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( دھوکہ دینے کیلئے ) چیزوں کی قیمت نہ بڑھاؤ ۱؎، کوئی شہری دیہاتی کا مال نہ بیچے ۲؎، اور کوئی اپنے بھائی کے بیع پر بیع نہ کرے، اور نہ کوئی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام دے، کوئی عورت اپنی بہن ( سوکن ) کے طلاق کی طلب گار نہ بنے کہ اس کے برتن میں جو کچھ ہے پلٹ کر خود لے لے“ ۳؎۔
اخبرنا محمد بن منصور، وسعيد بن عبد الرحمن، قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال محمد عن النبي صلى الله عليه وسلم " لا تناجشوا ولا يبع حاضر لباد ولا يبع الرجل على بيع اخيه ولا يخطب على خطبة اخيه ولا تسال المراة طلاق اختها لتكتفي ما في انايها
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ دے“۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك، ح والحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يخطب احدكم على خطبة اخيه
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھائی کہیں نکاح کا پیغام دے چکا ہے، تو کوئی دوسرا مسلمان بھائی اس جگہ جب تک کہ نکاح ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ نہ ہو جائے ( نیا ) پیغام نہ دے“ ۱؎۔
اخبرني يونس بن عبد الاعلى، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يخطب احدكم على خطبة اخيه حتى ينكح او يترك
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر کوئی دوسرا پیغام نکاح نہ دے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا غندر، عن هشام، عن محمد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يخطب احدكم على خطبة اخيه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ تم میں سے بعض بعض کی بیع پر بیع کرے ۱؎ اور نہ ہی کوئی آدمی دوسرے آدمی کے شادی کے پیغام پر اپنا پیغام دے۔ جب تک ( پہلا ) پیغام دینے والا چھوڑ نہ دے ۲؎ یا وہ دوسرے کو پیغام دینے کی اجازت نہ دیدے۔
اخبرني ابراهيم بن الحسن، قال حدثنا الحجاج بن محمد، قال قال ابن جريج سمعت نافعا، يحدث ان عبد الله بن عمر، كان يقول نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يبيع بعضكم على بيع بعض ولا يخطب الرجل على خطبة الرجل حتى يترك الخاطب قبله او ياذن له الخاطب
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے ان کے معاملہ کے متعلق پوچھا ( کہ کیسے کیا ہوا؟ ) تو انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دیں اور کھانے کے لیے مجھے جو خوراک دینے لگے اس میں کچھ خرابی تھی ( اچھا نہ تھا ) تو میں نے کہا: اگر نفقہ اور سکنی میرا حق ہے تو اسے لے کر رہوں گی لیکن میں یہ ( ردی سدی گھٹیا کھانے کی چیز ) نہ لوں گی، ( میرے شوہر کے ) وکیل نے کہا: نفقہ و سکنی کا تمہارا حق نہیں بنتا۔ ( یہ سن کر ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے اس ( بات چیت ) کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ” ( وہ سچ کہتا ہے ) تیرے لیے نفقہ و سکنی ( کا حق ) نہیں ہے ۱؎، تم فلاں عورت کے پاس جا کر اپنی عدت پوری کر لو“ ۲؎ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ان کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ آتے جاتے رہتے تھے۔ ( پھر کچھ سوچ کر کہ وہاں رہنے سے بےپردگی اور شرمندگی نہ ہو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے یہاں رہ کر اپنی عدت پوری کر لو کیونکہ وہ نابینا ہیں ۳؎، پھر جب ( عدت پوری ہو جائے اور ) تو دوسروں کے لیے حلال ہو جاؤ تو مجھے آگاہ کرو“، چنانچہ جب میں حلال ہو گئی ( اور کسی بھی شخص سے شادی کرنے کے قابل ہو گئی ) تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو باخبر کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کس نے شادی کا پیغام دیا ہے؟“ میں نے کہا: معاویہ نے، اور ایک دوسرے قریشی شخص نے ۴؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہا معاویہ تو وہ قریشی لڑکوں میں سے ایک لڑکا ہے، اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، رہا دوسرا شخص تو وہ صاحب شر اور لاخیرا ہے ( اس سے کسی بھلائی کی توقع نہیں ہے ) ۵؎، ایسا کرو تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو“ فاطمہ کہتی ہیں: ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تو لیکن وہ مجھے جچے نہیں ) میں نے انہیں پسند نہ کیا، لیکن جب آپ نے مجھے اسامہ بن زید سے تین بار شادی کر لینے کے لیے کہا تو میں نے ( آپ کی بات رکھ لی اور ) ان سے شادی کر لی۔
اخبرني حاجب بن سليمان، قال حدثنا حجاج، قال حدثنا ابن ابي ذيب، عن الزهري، ويزيد بن عبد الله بن قسيط، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، وعن الحارث بن عبد الرحمن، عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان، انهما سالا فاطمة بنت قيس عن امرها، فقالت طلقني زوجي ثلاثا فكان يرزقني طعاما فيه شىء فقلت والله لين كانت لي النفقة والسكنى لاطلبنها ولا اقبل هذا . فقال الوكيل ليس لك سكنى ولا نفقة . قالت فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال " ليس لك سكنى ولا نفقة فاعتدي عند فلانة " . قالت وكان ياتيها اصحابه ثم قال " اعتدي عند ابن ام مكتوم فانه اعمى فاذا حللت فاذنيني " . قالت فلما حللت اذنته فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ومن خطبك " . فقلت معاوية ورجل اخر من قريش . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اما معاوية فانه غلام من غلمان قريش لا شىء له واما الاخر فانه صاحب شر لا خير فيه ولكن انكحي اسامة بن زيد " . قالت فكرهته . فقال لها ذلك ثلاث مرات فنكحته
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق بتہ دے دی اور وہ موجود نہ تھے۔ ( شہر سے باہر سفر پر تھے ) پھر ان کے پاس اپنے وکیل کو کچھ جو دے کر بھیجا تو وہ ان پر غصہ اور ناراض ہوئیں، تو وکیل نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کا تو ہم پر کوئی حق ہی نہیں بنتا ( یوں سمجھئے کہ یہ جو تو تمہاری دلداری کے لیے ہے ) ۔ تو فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے بھی فرمایا: ”تمہارے لیے نفقہ نہیں ہے“ اور انہیں حکم دیا کہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہ کر عدت پوری کرو، پھر کہا: ام شریک کو ہمارے صحابہ گھیرے رہتے ہیں ( ان کے گھر نہیں بلکہ ) ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہا کے یہاں اپنی عدت کے دن پوری کرو، وہ اندھے آدمی ہیں، تم وہاں اپنے کپڑے بھی اتار سکو گی، پھر جب تم ( عدت پوری کر کے ) حلال ہو جاؤ تو مجھے خبر دو، فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب میں حلال ہو گئی تو آپ کو اطلاع دی کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم دونوں نے مجھے شادی کا پیغام دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”ابوجہم تو اپنے کندھے سے اپنی لاٹھی اتار کر نہیں رکھتے ۱؎“ اور معاویہ تو مفلس آدمی ہیں، ان کے پاس کچھ بھی مال نہیں ہے، تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو تو میں نے انہیں پسند نہ کیا، لیکن آپ نے دوبارہ پھر کہا کہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو تو میں نے ان کے ساتھ شادی کر لی، اور اللہ تعالیٰ نے اس شادی میں ہمیں بڑی برکت دی اور میں ان کے ذریعہ قابل رشک بن گئی۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ لمحمد - عن ابن القاسم، عن مالك، عن عبد الله بن يزيد، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن فاطمة بنت قيس، ان ابا عمرو بن حفص، طلقها البتة وهو غايب فارسل اليها وكيله بشعير فسخطته . فقال والله ما لك علينا من شىء . فجاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال " ليس لك نفقة " . فامرها ان تعتد في بيت ام شريك ثم قال " تلك امراة يغشاها اصحابي فاعتدي عند ابن ام مكتوم فانه رجل اعمى تضعين ثيابك فاذا حللت فاذنيني " . قالت فلما حللت ذكرت له ان معاوية بن ابي سفيان وابا جهم خطباني فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما ابو جهم فلا يضع عصاه عن عاتقه واما معاوية فصعلوك لا مال له ولكن انكحي اسامة بن زيد " . فكرهته ثم قال " انكحي اسامة بن زيد " . فنكحته فجعل الله عز وجل فيه خيرا واغتبطت به
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اسے دیکھ لیا ہے؟“ ( دیکھ لیے ہوتے تو اچھا ہوتا ) کیونکہ انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کچھ خرابی ہوتی ہے ( بعد میں اس کی وجہ سے کوئی بدمزگی نہ پیدا ہو ) ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہی حدیث مجھے ایک دوسری جگہ «عن یزید بن کیسان عن ابی حازم عن ابی ہریرہ» کے بجائے «عن یزید بن کیسان أن جابر بن عبداللہ حدث» کے ساتھ ملی۔ لیکن صحیح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔
اخبرنا محمد بن ادم، قال حدثنا علي بن هاشم بن البريد، عن يزيد بن كيسان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال جاء رجل من الانصار الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال اني تزوجت امراة . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " الا نظرت اليها فان في اعين الانصار شييا " . قال ابو عبد الرحمن وجدت هذا الحديث في موضع اخر عن يزيد بن كيسان ان جابر بن عبد الله حدث والصواب ابو هريرة
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک ( انصاری ) عورت سے شادی کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( پہلے ) اسے دیکھ لو کیونکہ انصاری عورتوں کی آنکھوں میں کچھ ( نقص ) ہوتا ہے“ ( شادی بعد تم نے دیکھا اور وہ تیرے لیے قابل قبول نہ ہوئی تو ازدواجی زندگی تباہ ہو جائے گی ) ۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، قال حدثنا سفيان، عن يزيد بن كيسان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، ان رجلا، اراد ان يتزوج، امراة فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انظر اليها فان في اعين الانصار شييا
(عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا بیوہ ہو گئیں، وہ خنیس بن حذافہ کے نکاح میں تھیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ میں سے تھے جو جنگ بدر میں موجود تھے، اور انتقال مدینہ میں فرمایا تھا ) ۔ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملا، میں نے ان کے سامنے حفصہ کا تذکرہ کیا، اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کی شادی حفصہ سے کر دوں، انہوں نے کہا: میں اس پر غور کروں گا۔ چند راتیں گزرنے کے بعد میں ان سے ملا تو انہوں نے کہا: میں ان دنوں شادی کرنا نہیں چاہتا۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملا، اور ان سے کہا: اگر آپ پسند کریں تو حفصہ کو آپ کے نکاح میں دے دوں تو انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ مجھے ان کے اس رویے سے عثمان رضی اللہ عنہ کے جواب سے بھی زیادہ غصہ آیا، پھر چند ہی دن گزرے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے میرے پاس اپنا پیغام بھیجا تو میں نے ان کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا۔ ( اس نکاح کے بعد ) ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا: جب آپ نے مجھے حفصہ سے نکاح کا پیغام دیا اور میں نے آپ کو کوئی جواب نہ دیا، تو اس وقت آپ کو مجھ پر بڑا غصہ آیا ہو گا؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: جب آپ نے مجھ پر حفصہ کا معاملہ پیش کیا تو میں نے آپ کو محض اس وجہ سے کوئی جواب نہ دیا کیونکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا تذکرہ سن چکا تھا اور میں آپ کا راز افشاء کرنا نہیں چاہتا تھا، ہاں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے شادی نہ کرتے تو میں ضرور ان سے شادی کر لیتا۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد الرزاق، قال انبانا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، عن عمر، قال تايمت حفصة بنت عمر من خنيس - يعني ابن حذافة - وكان من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ممن شهد بدرا فتوفي بالمدينة فلقيت عثمان بن عفان فعرضت عليه حفصة فقلت ان شيت انكحتك حفصة . فقال سانظر في ذلك . فلبثت ليالي فلقيته فقال ما اريد ان اتزوج يومي هذا . قال عمر فلقيت ابا بكر الصديق رضى الله عنه فقلت ان شيت انكحتك حفصة فلم يرجع الى شييا فكنت عليه اوجد مني على عثمان رضي الله عنه فلبثت ليالي فخطبها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فانكحتها اياه فلقيني ابو بكر فقال لعلك وجدت على حين عرضت على حفصة فلم ارجع اليك شييا . قلت نعم . قال فانه لم يمنعني حين عرضت على ان ارجع اليك شييا الا اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكرها ولم اكن لافشي سر رسول الله صلى الله عليه وسلم ولو تركها نكحتها
ثابت بنانی کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، وہاں ان کی ایک بیٹی بھی موجود تھی، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا، اور کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری ضرورت ہے؟ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثني مرحوم بن عبد العزيز العطار ابو عبد الصمد، قال سمعت ثابتا البناني، يقول كنت عند انس بن مالك وعنده ابنة له فقال جاءت امراة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فعرضت عليه نفسها فقالت يا رسول الله الك في حاجة
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنے آپ کو ( نکاح کے لیے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا، تو ( یہ سن کر ) انس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہنس پڑیں، اور کہا: کتنی کم حیاء عورت ہے! انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ( بیٹی! ) یہ عورت تجھ سے اچھی ہے ( ذرا اس کی طلب تو دیکھ ) اس نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا ہے، ( اور آپ کو حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ) ۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا مرحوم، قال حدثنا ثابت، عن انس، ان امراة، عرضت نفسها على النبي صلى الله عليه وسلم فضحكت ابنة انس فقالت ما كان اقل حياءها . فقال انس هي خير منك عرضت نفسها على النبي صلى الله عليه وسلم
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب زینب رضی اللہ عنہا کی عدت پوری ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہا کو ان کے پاس بھیجا کہ جا کر انہیں میرے لیے رشتہ کا پیغام دو۔ زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گیا اور میں نے کہا: زینب خوش ہو جاؤ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارے پاس نکاح کا پیغام دے کر بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا: میں کچھ نہیں کرنے کی جب تک میں اپنے رب سے مشورہ نہ کر لوں ( یہ کہہ کر ) وہ اپنے مصلی پر ( صلاۃ استخارہ پڑھنے ) کھڑی ہو گئیں، ( ادھر اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ان سے آسمان پر ہی کر دیا ) ، اور قرآن نازل ہو گیا: «فلما قضى زيد منها وطرا زوجناكها» ( اس آیت کے نزول کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس کسی حکم و اجازت ( یعنی رسمی ایجاب و قبول کے بغیر تشریف لائے، اور ) ان سے خلوت میں ملے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، قال حدثنا سليمان بن المغيرة، عن ثابت، عن انس، قال لما انقضت عدة زينب قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لزيد " اذكرها على " . قال زيد فانطلقت فقلت يا زينب ابشري ارسلني اليك رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكرك . فقالت ما انا بصانعة شييا حتى استامر ربي فقامت الى مسجدها ونزل القران وجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل بغير امر
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں پر اس بات کا فخر کرتی تھیں کہ اللہ عزوجل نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) میرا نکاح آسمان ہی پر فرما دیا۔ اور انہیں کے سلسلے سے پردے کی آیت نازل ہوئی۔
اخبرني احمد بن يحيى الصوفي، قال حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا عيسى بن طهمان ابو بكر، سمعت انس بن مالك، يقول كانت زينب بنت جحش تفخر على نساء النبي صلى الله عليه وسلم تقول ان الله عز وجل انكحني من السماء . وفيها نزلت اية الحجاب
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام امور ( و معاملات ) میں استخارہ کرنے کی تعلیم دیتے تھے، جیسا کہ ہمیں قرآن کی سورتیں سکھاتے تھے، فرماتے: جب تم میں سے کوئی کسی ( اچھے ) کام کا ارادہ کرے تو فرض ( اور اس کے توابع ) کے علاوہ دو رکعتیں پڑھے پھر ( دعا کرتے ہوئے ) کہے: «اللہم إني أستخيرك بعلمك وأستعينك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللہم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري – أو قال في عاجل أمري وآجله – فاقدره لي ويسره لي ثم بارك لي فيه وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري – أو قال في عاجل أمري وآجله – فاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيث كان ثم أرضني به» ”اے اللہ! میں تیرے علم کی برکت سے تجھ سے بھلائی اور خیر کا طالب ہوں اور تیری قدرت کا واسطہ دے کر تیری مدد کا چاہتا ہوں اور تیرے عظیم فضل کا طالب ہوں کیونکہ تو قدرت والا ہے، میں قدرت والا نہیں، تو ( اچھا و برا سب ) جانتا ہے، میں نہیں جانتا، تو ہی غیب کی باتوں کو جانتا ہے، اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ معاملہ، ( پھر متعلق کام یا چیز کا نام لے ) میرے لیے میرے دین، دنیا اور کے اعتبار سے، یا یہ کہا: اس دار فانی اور اخروی زندگی کے اعتبار سے بہتر ہے تو اس کام کو میرے لیے مقدر کر دے اور اس کا حصول میرے لیے آسان کر دے اور مجھے اس میں برکت دے۔ اور اگر تو جانتا اور سمجھتا ہے کہ یہ کام میرے لیے برا ہے، میرے دین، دنیا اور انجام کار کے لحاظ سے یا اس دار فانی اور اخروی زندگی کے لحاظ سے تو اس کام کو مجھ سے دور رکھ اور مجھے اس سے بچا لے۔ اور بھلائی جہاں بھی ہو اسے میرے لیے مقدر فرما دے اور مجھے اس پر راضی و خوش رکھ“۔ آپ نے فرمایا: ” ( دعا کرتے وقت ) اپنی ضرورت کا نام لے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابن ابي الموال، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة في الامور كلها كما يعلمنا السورة من القران يقول " اذا هم احدكم بالامر فليركع ركعتين من غير الفريضة ثم يقول اللهم اني استخيرك بعلمك واستعينك بقدرتك واسالك من فضلك العظيم فانك تقدر ولا اقدر وتعلم ولا اعلم وانت علام الغيوب اللهم ان كنت تعلم ان هذا الامر خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة امري - او قال في عاجل امري واجله - فاقدره لي ويسره لي ثم بارك لي فيه وان كنت تعلم ان هذا الامر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة امري - او قال في عاجل امري واجله - فاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيث كان ثم ارضني به - قال - ويسمي حاجته
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ جب ان کی عدت پوری ہو گئی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنی شادی کا پیغام بھیجا۔ جسے انہوں نے قبول نہ کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اپنی شادی کا پیغام دے کر ان کے پاس بھیجا، انہوں نے ( عمر رضی اللہ عنہ سے ) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ خبر پہنچا دو کہ میں ایک غیرت مند عورت ہوں ( دوسری بیویوں کے ساتھ رہ نہ پاؤں گی ) بچوں والی ہوں ( ان کا کیا بنے گا ) اور میرا کوئی ولی اور سر پرست بھی موجود نہیں ہے۔ ( جب کہ نکاح کرنے کے لیے ولی بھی ہونا چاہیئے ) عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ کو یہ سب باتیں بتائیں، آپ نے ان سے کہا: ( دوبارہ ) ان کے پاس ( لوٹ ) جاؤ اور ان سے کہو: تمہاری یہ بات کہ میں ایک غیرت مند عورت ہوں ( اس کا جواب یہ ہے کہ ) میں اللہ تعالیٰ سے تمہارے لیے دعا کروں گا، اللہ تمہاری غیرت ( اور سوکنوں کی جلن ) دور کر دے گا، اور اب رہی تمہاری ( دوسری ) بات کہ میں بچوں والی عورت ہوں تو تم ( شادی کے بعد ) اپنے بچوں کی کفایت ( و کفالت ) کرتی رہو گی اور اب رہی تمہاری ( تیسری ) بات کہ میرا کوئی ولی موجود نہیں ہے ( تو میری شادی کون کرائے گا ) تو ایسا ہے کہ تمہارا کوئی ولی موجود ہو یا غیر موجود میرے ساتھ تمہارے رشتہ نکاح کو ناپسند نہ کرے گا ( جب عمر رضی اللہ عنہ نے جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جواب ان کے سامنے رکھا ) تو انہوں نے اپنے بیٹے عمر بن ابی سلمہ سے کہا: اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( میرا ) نکاح کر دو، تو انہوں نے ( اپنی ماں کا ) نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا، یہ حدیث مختصر ہے۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا يزيد، عن حماد بن سلمة، عن ثابت البناني، حدثني ابن عمر بن ابي سلمة، عن ابيه، عن ام سلمة، لما انقضت عدتها بعث اليها ابو بكر يخطبها عليه فلم تزوجه فبعث اليها رسول الله صلى الله عليه وسلم عمر بن الخطاب يخطبها عليه فقالت اخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم اني امراة غيرى واني امراة مصبية وليس احد من اوليايي شاهد . فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال " ارجع اليها فقل لها اما قولك اني امراة غيرى فسادعو الله لك فيذهب غيرتك واما قولك اني امراة مصبية فستكفين صبيانك واما قولك ان ليس احد من اوليايي شاهد فليس احد من اوليايك شاهد ولا غايب يكره ذلك " . فقالت لابنها يا عمر قم فزوج رسول الله صلى الله عليه وسلم فزوجه . مختصر
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب وہ چھ سال کی بچی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی، اور جب نو برس کی ہوئیں تو آپ نے ان سے خلوت کی۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا ابو معاوية، قال حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوجها وهي بنت ست وبنى بها وهي بنت تسع