Loading...

Loading...
کتب
۱۹۳ احادیث
عطا کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں گئے، تو آپ نے کہا: یہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، تم ان کا جنازہ نہایت سہولت کے ساتھ اٹھانا، اسے ہلانا نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نو بیویاں تھیں۔ آپ ان میں سے آٹھ کے لیے باری مقرر کرتے تھے، اور ایک کے لیے نہیں کرتے تھے ۱؎۔
اخبرنا ابو داود، سليمان بن سيف قال حدثنا جعفر بن عون، قال انبانا ابن جريج، عن عطاء، قال حضرنا مع ابن عباس جنازة ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم بسرف فقال ابن عباس هذه ميمونة اذا رفعتم جنازتها فلا تزعزعوها ولا تزلزلوها فان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان معه تسع نسوة فكان يقسم لثمان وواحدة لم يكن يقسم لها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس حال میں کہ آپ کے پاس نو بیویاں تھیں، آپ ان کے پاس ان کی باری کے موافق جایا کرتے تھے سوائے سودہ کے کیونکہ انہوں نے اپنا دن اور رات عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے وقف کر دیا تھا۔
اخبرني ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا ابن ابي مريم، قال انبانا سفيان، قال حدثني عمرو بن دينار، عن عطاء، عن ابن عباس، قال توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وعنده تسع نسوة يصيبهن الا سودة فانها وهبت يومها وليلتها لعايشة
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ایک ہی رات میں جایا کرتے تھے ۱؎۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، عن يزيد، - وهو ابن زريع - قال حدثنا سعيد، عن قتادة، ان انسا، حدثهم ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يطوف على نسايه في الليلة الواحدة وله يوميذ تسع نسوة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں ان عورتوں سے شرم کرتی تھی ۱؎ جو اپنی جان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیتی تھیں چنانچہ میں کہتی تھی: کیا آزاد عورت اپنی جان ( مفت میں ) ہبہ کر دیتی ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی «ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء» ”ان میں سے جسے تو چاہے دور رکھ دے، اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لے“ ( الاحزاب: ۵۱ ) اس وقت میں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کا رب آپ کی خواہش کو جلد پورا کرتا ہے۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك المخرمي، قال حدثنا ابو اسامة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كنت اغار على اللاتي وهبن انفسهن للنبي صلى الله عليه وسلم فاقول اوتهب الحرة نفسها فانزل الله عز وجل { ترجي من تشاء منهن وتووي اليك من تشاء } قلت والله ما ارى ربك الا يسارع لك في هواك
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں قوم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک عورت نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کے لیے اپنے آپ کو ہبہ کرتی ہوں، میرے متعلق آپ کی جیسی رائے ہو کریں، تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا ( اللہ کے رسول! ) اس عورت سے میرا نکاح کرا دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: ”جاؤ ( بطور مہر ) کوئی چیز ڈھونڈھ کر لے آؤ اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو“، تو وہ گیا لیکن کوئی چیز نہ پایا حتیٰ کہ ( معمولی چیز ) لوہے کی انگوٹھی بھی اسے نہ ملی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”کیا تمہیں قرآن کی سورتوں میں سے کچھ یا دہے؟“ اس نے کہا: ہاں، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح اس عورت سے قرآن کی ان سورتوں کے عوض کرا دی جو اسے یاد تھیں۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد المقري، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا ابو حازم، عن سهل بن سعد، قال انا في القوم، اذ قالت امراة اني قد وهبت نفسي لك يا رسول الله فرا في رايك . فقام رجل فقال زوجنيها . فقال " اذهب فاطلب ولو خاتما من حديد " . فذهب فلم يجد شييا ولا خاتما من حديد فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امعك من سور القران شىء " . قال نعم . قال فزوجه بما معه من سور القران
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس وقت تشریف لائے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ آپ اپنی ازواج کو ( دو بات میں سے ایک کو اپنا لینے کا ) اختیار دیں۔ اس کی ابتداء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سب سے پہلے ) میرے پاس آ کر کی۔ آپ نے فرمایا: ”میں تم سے ایک بات کا ذکر کرتا ہوں لیکن جب تک تم اپنے والدین سے مشورہ نہ کر لو جواب دینے میں جلدی نہ کرنا“۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: حالانکہ آپ کو معلوم تھا کہ میرے والدین آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی اختیار کر لینے کا مشورہ اور حکم ( کبھی بھی ) نہ دیں گے۔ پھر آپ نے فرمایا: ( یعنی یہ آیت پڑھی ) «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها فتعالين أمتعكن» ”اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیاوی زندگی، دنیاوی زیب و زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا دوں، اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں“ ( الاحزاب: ۲۸ ) میں نے کہا: اس سلسلہ میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ ( مجھے کسی مشورہ کی ضرورت نہیں ) کیونکہ میں اللہ کو، اس کے رسول کو اور آخرت کے گھر ( جنت ) کو چاہتی ہوں ( یہی میرا فیصلہ ہے ) ۱؎۔
اخبرنا محمد بن يحيى بن عبد الله بن خالد النيسابوري، قال حدثنا محمد بن موسى بن اعين، قال حدثنا ابي، عن معمر، عن الزهري، قال حدثنا ابو سلمة بن عبد الرحمن، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها اخبرته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جاءها حين امره الله ان يخير ازواجه - قالت عايشة - فبدا بي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اني ذاكر لك امرا فلا عليك ان لا تعجلي حتى تستامري ابويك " . قالت وقد علم ان ابوى لا يامراني بفراقه ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم { يا ايها النبي قل لازواجك ان كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها فتعالين امتعكن } فقلت في هذا استامر ابوى فاني اريد الله ورسوله والدار الاخرة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا۔ کیا وہ طلاق تھا؟ ۱؎۔
اخبرنا بشر بن خالد العسكري، قال حدثنا غندر، قال حدثنا شعبة، عن سليمان، قال سمعت ابا الضحى، عن مسروق، عن عايشة، رضى الله عنها قالت قد خير رسول الله صلى الله عليه وسلم نساءه اوكان طلاقا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( انتخاب کا ) اختیار دیا، تو ہم سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چن لیا تو یہ ( اختیار ) طلاق نہیں تھا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن اسماعيل، عن الشعبي، عن مسروق، عن عايشة، قالت خيرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخترناه فلم يكن طلاقا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باحیات تھے عورتیں آپ کے لیے حلال تھیں۔
اخبرنا محمد بن منصور، عن سفيان، قال حفظناه من عمرو عن عطاء، قال قالت عايشة ما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى احل له النساء
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ آپ کی وفات نہ ہوئی جب تک اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال نہ کر دیا کہ آپ جتنی عورتوں سے چاہیں نکاح کر لیں ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا ابو هشام، - وهو المغيرة بن سلمة المخزومي - قال حدثنا وهيب، قال حدثنا ابن جريج، عن عطاء، عن عبيد بن عمير، عن عايشة، قالت ما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى احل الله له ان يتزوج من النساء ما شاء
علقمہ کہتے ہیں کہ میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نوجوانوں ( کی ایک ٹولی ) کے پاس پہنچے اور ( ان سے ) کہا: ”جو تم میں مالدار ہو ۱؎ تو اسے چاہیئے کہ وہ شادی کر لے کیونکہ اس سے نگاہ نیچی رکھنے میں زیادہ مدد ملتی ہے ۲؎، اور نکاح کر لینے سے شرمگاہ کی زیادہ حفاظت ہوتی ہے ۳؎، اور جو مالدار نہ ہو بیوی کے کھانے پینے کا خرچہ نہ اٹھا سکتا ہو تو وہ روزے رکھے کیونکہ اس کے لیے روزہ شہوت کا توڑ ہے ۴؎، ( اس حدیث میں «فتیۃ» کا لفظ آیا ہے، اس کے متعلق ) ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس کا مفہوم جیسا میں سمجھنا چاہتا تھا سمجھ نہ سکا۔
اخبرنا عمرو بن زرارة، قال حدثنا اسماعيل، قال حدثنا يونس، عن ابي معشر، عن ابراهيم، عن علقمة، قال كنت مع ابن مسعود وهو عند عثمان رضى الله عنه فقال عثمان خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم على فتية - قال ابو عبد الرحمن فلم افهم فتية كما اردت - فقال " من كان منكم ذا طول فليتزوج فانه اغض للبصر واحصن للفرج ومن لا فالصوم له وجاء
علقمہ سے روایت ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر تمہیں کسی نوجوان عورت سے شادی کی خواہش ہو تو میں تمہاری اس سے شادی کرا دوں؟ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کو بلایا ( اور ان کی موجودگی میں ) حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بیوی کو نان و نفقہ دے سکتا ہو اسے شادی کر لینی چاہیئے۔ کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو محفوظ کرنے کا ذریعہ ہے اور جو شخص نان و نفقہ دینے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیئے کیونکہ وہ اس کا توڑ ہے“ ( اس سے نفس کمزور ہوتا ہے ) ۱؎۔
اخبرنا بشر بن خالد، قال حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن سليمان، عن ابراهيم، عن علقمة، ان عثمان، قال لابن مسعود هل لك في فتاة ازوجكها . فدعا عبد الله علقمة فحدث ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من استطاع الباءة فليتزوج فانه اغض للبصر واحصن للفرج ومن لم يستطع فليصم فانه له وجاء
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم ( نوجوانوں ) سے فرمایا: ”جو شخص بیوی کے نان و نفقہ کی طاقت رکھتا ہوا سے شادی کر لینی چاہیئے اور جو اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیئے، کیونکہ وہ اس کے لیے توڑ ہے، یعنی روزہ آدمی کی شہوت کو دبا اور کچل دیتا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث میں ”اسود“ راوی کا ذکر نہیں ہے۔
اخبرني هارون بن اسحاق الهمداني الكوفي، قال حدثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، والاسود، عن عبد الله، قال قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " من استطاع منكم الباءة فليتزوج ومن لم يستطع فعليه بالصوم فانه له وجاء " . قال ابو عبد الرحمن الاسود في هذا الحديث ليس بمحفوظ
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم نوجوانوں سے کہا: ”اے نوجوانو! تم میں سے جو بیوی کے نان و نفقہ کا بار اٹھا سکتا ہو، اسے شادی کر لینی چاہیئے، کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اور جو نکاح کی ذمہ داریاں نہ نبھا سکتا ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیئے۔ کیونکہ روزہ اس کے لیے شہوت کا توڑ ہے“۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن عمارة بن عمير، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله، قال قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فلينكح فانه اغض للبصر واحصن للفرج ومن لا فليصم فان الصوم له وجاء
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم نوجوانوں سے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھے اسے شادی کر لینی چاہیئے“، اور ( اس سے آگے ) اوپر گزری ہوئی حدیث بیان کی۔
اخبرنا محمد بن العلاء، قال حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عمارة، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله، قال قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج " . وساق الحديث
علقمہ کہتے ہیں کہ میں منی میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہا تھا کہ ان سے عثمان رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہو گئی تو وہ ان سے کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے۔ اور کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا میں آپ کی شادی ایک نوجوان لڑکی سے نہ کرا دوں؟ توقع ہے وہ آپ کو آپ کے ماضی کی بہت سی باتیں یاد دلا دے گی، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ مجھ سے یہ بات آج کہہ رہے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات ہم سے بہت پہلے اس طرح کہہ چکے ہیں: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو بیوی کے نان و نفقہ ادا کرنے کی طاقت رکھے تو اس کو نکاح کر لینا چاہیئے“۔
اخبرنا احمد بن حرب، قال حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، قال كنت امشي مع عبد الله بمنى فلقيه عثمان فقام معه يحدثه فقال يا ابا عبد الرحمن الا ازوجك جارية شابة فلعلها ان تذكرك بعض ما مضى منك فقال عبد الله اما لين قلت ذاك لقد قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو مجرد ( غیر شادی شدہ ) رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا، اور اگر آپ انہیں اس کی اجازت دیتے تو ہم خصی ہو جاتے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبيد، قال حدثنا عبد الله بن المبارك، عن معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن سعد بن ابي وقاص، قال لقد رد رسول الله صلى الله عليه وسلم على عثمان التبتل ولو اذن له لاختصينا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجرد ( غیر شادی شدہ ) رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، عن اشعث، عن الحسن، عن سعد بن هشام، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن التبتل
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجرد ( غیر شادی شدہ ) رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: قتادہ اشعث سے زیادہ ثقہ اور مضبوط حافظہ والے تھے لیکن اشعث کی حدیث صحت سے زیادہ قریب لگتی ہے ۱؎ واللہ أعلم۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، عن النبي صلى الله عليه وسلم . انه نهى عن التبتل . قال ابو عبد الرحمن قتادة اثبت واحفظ من اشعث وحديث اشعث اشبه بالصواب والله تعالى اعلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں جوان آدمی ہوں اور اپنے بارے میں ہلاکت میں پڑ جانے سے ڈرتا ہوں، اور عورتوں سے شادی کر لینے کی استطاعت بھی نہیں رکھتا، تو کیا میں خصی ہو جاؤں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ نہ ہوئے انہوں نے اپنی یہی بات تین بار کہی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوہریرہ! جس سے تم کو دوچار ہونا ہے اس سے تو تم دوچار ہو کر رہو گے اسے لکھ کر قلم ( بہت پہلے ) خشک ہو چکا ہے، اب چاہو تو تم خصی ہو جاؤ یا نہ ہو“ ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اوزاعی نے ( ابن شہاب ) زہری سے اس حدیث کو نہیں سنا ہے، لیکن یہ حدیث اپنی جگہ صحیح ہے کیونکہ اس حدیث کو یونس نے ( ابن شہاب ) زہری سے روایت کیا ہے۔
اخبرنا يحيى بن موسى، قال حدثنا انس بن عياض، قال حدثنا الاوزاعي، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، ان ابا هريرة، قال قلت يا رسول الله اني رجل شاب قد خشيت على نفسي العنت ولا اجد طولا اتزوج النساء افاختصي فاعرض عنه النبي صلى الله عليه وسلم حتى قال ثلاثا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا ابا هريرة جف القلم بما انت لاق فاختص على ذلك او دع " . قال ابو عبد الرحمن الاوزاعي لم يسمع هذا الحديث من الزهري وهذا حديث صحيح قد رواه يونس عن الزهري