Loading...

Loading...
کتب
۱۹۳ احادیث
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور کہا: میں مجرد ( غیر شادی شدہ ) رہنے کے سلسلے میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں تو انہوں نے کہا: ایسا ہرگز نہ کرنا، کیا تم نے نہیں سنا ہے؟ اللہ عزوجل فرماتا ہے: «ولقد أرسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم أزواجا وذرية» ”ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا تھا“ ( الرعد: ۳۸ ) تو ( اے سعد! ) تم «تبتل» ( اور رہبانیت ) اختیار نہ کرو۔
اخبرنا محمد بن عبد الله الخلنجي، قال حدثنا ابو سعيد، مولى بني هاشم قال حدثنا حصين بن نافع المازني، قال حدثني الحسن، عن سعد بن هشام، انه دخل على ام المومنين عايشة قال قلت اني اريد ان اسالك عن التبتل فما ترين فيه قالت فلا تفعل اما سمعت الله عز وجل يقول { ولقد ارسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم ازواجا وذرية } فلا تتبتل
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت میں سے بعض نے کہا: میں نکاح ( شادی بیاہ ) نہیں کروں گا، بعض نے کہا: میں گوشت نہ کھاؤں گا، بعض نے کہا: میں بستر پر نہ سوؤں گا، بعض نے کہا: میں مسلسل روزے رکھوں گا، کھاؤں پیوں گا نہیں، یہ خبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ( لوگوں کے سامنے ) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، جو اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ ( مجھے دیکھو ) میں نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزہ رکھتا ہوں اور کھاتا پیتا بھی ہوں، اور عورتوں سے شادیاں بھی کرتا ہوں۔ ( سن لو ) جو شخص میری سنت سے اعراض کرے ( میرے طریقے پر نہ چلے ) سمجھ لو وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عفان، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن انس، ان نفرا، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال بعضهم لا اتزوج النساء . وقال بعضهم لا اكل اللحم . وقال بعضهم لا انام على فراش . وقال بعضهم اصوم فلا افطر . فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فحمد الله واثنى عليه ثم قال " ما بال اقوام يقولون كذا وكذا لكني اصلي وانام واصوم وافطر واتزوج النساء فمن رغب عن سنتي فليس مني
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین ( طرح کے لوگ ) ہیں جن کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم و ضروری کر لیا ہے: ( ایک ) وہ مکاتب ۱؎ جو مقررہ رقم ادا کر کے آزادی حاصل کر لینے کے لیے کوشاں ہو۔ ( دوسرا ) ایسا نکاح کرنے والا جو شادی کر کے عفت و پاکدامنی کی زندگی بسر کرنا چاہتا ہو ( تیسرا ) وہ مجاہد جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے نکلا ہو“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن محمد بن عجلان، عن سعيد، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ثلاثة حق على الله عز وجل عونهم المكاتب الذي يريد الاداء والناكح الذي يريد العفاف والمجاهد في سبيل الله
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نکاح کیا، اور ( اور بیوی کے ساتھ پہلی رات گزارنے کے بعد ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے کہا: ”جابر! کیا تم نے نکاح کیا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں! آپ نے کہا: ”کنواری سے ( شادی کی ہے ) یا بیوہ سے؟ میں نے کہا: بیوہ سے“، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے کیوں نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے وہ تم سے کھیلتی؟“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن عمرو، عن جابر، قال تزوجت فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اتزوجت يا جابر " . قلت نعم . قال " بكرا ام ثيبا " . فقلت ثيبا . قال " فهلا بكرا تلاعبها وتلاعبك
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”جابر! کیا تم مجھ سے اس سے پہلے ملنے کے بعد بیوی والے ہو گئے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”کیا کسی کنواری سے یا بیوہ سے؟“ میں نے کہا: بیوہ سے، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے شادی کیوں نہ کہ جو تمہیں کھیل کھلاتی؟“۔
اخبرنا الحسن بن قزعة، قال حدثنا سفيان، - وهو ابن حبيب - عن ابن جريج، عن عطاء، عن جابر، قال لقيني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " يا جابر هل اصبت امراة بعدي " . قلت نعم يا رسول الله . قال " ابكرا ام ايما " . قلت ايما . قال " فهلا بكرا تلاعبك
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ) فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے لیے پیغام دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ چھوٹی ہے“، پھر علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اپنے لیے نکاح کا پیغام دیا تو آپ نے ان کا نکاح علی رضی اللہ عنہ سے کر دیا ۱؎۔
اخبرنا الحسين بن حريث، قال حدثنا الفضل بن موسى، عن الحسين بن واقد، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال خطب ابو بكر وعمر رضى الله عنهما فاطمة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انها صغيرة " . فخطبها علي فزوجها منه
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ مروان کے دور حکومت میں ایک نوجوان شخص عبداللہ بن عمرو بن عثمان نے سعید بن زید کی بیٹی ( جن کی ماں بنت قیس ہیں ) کو طلاق بتہ دے دی ۱؎، تو اس کی خالہ فاطمہ بنت قیس نے اسے یہ حکم دے کر کہلا بھیجا کہ تم عبداللہ بن عمرو کے گھر سے منتقل ہو جاؤ، یہ بات مروان نے سنی ( کہ سعید کی بیٹی عبداللہ بن عمرو کے گھر سے چلی گئی ہے ) ۔ تو اسے یہ حکم دے کر کہلا بھیجا کہ تم اپنے اس گھر کو واپس چلی جاؤ ( جہاں سے نکل کر آئی ہو ) اور اس سے وجہ بھی پوچھی کہ تم اپنے گھر میں عدت کے ایام پورا کئے بغیر وہاں سے نکل کیسے آئی؟ تو اس نے انہیں ( یعنی مروان کو ) کہلا بھیجا کہ میں اپنی خالہ کے کہنے سے نکل آئی تھی۔ تو ( اس کی خالہ ) فاطمہ بنت قیس نے ( اپنا پیش آمدہ واقعہ ) بیان کیا کہ وہ ابوعمرو بن حفص کے نکاح میں تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا، تو وہ بھی ان کے ساتھ گئے اور ( وہاں سے ) انہوں نے ان کو ( تین طلاقوں میں سے ) باقی بچی ہوئی طلاق دے کر کہلا بھیجا کہ حارث بن ہشام اور عیاش بن ربیعہ سے اپنا نفقہ لے لیں۔ کہتی ہیں: تو انہوں نے حارث اور عیاش سے پچھوا بھیجا کہ ان کے لیے ان کے شوہر نے ان دونوں کو کیا حکم دیا ہے۔ ان دونوں نے کہا: قسم اللہ کی! ان کے لیے ہمارے پاس کوئی نفقہ ( خرچ ) نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے گھر میں ہماری اجازت کے بغیر ان کا رہنا درست ہے۔ ہاں اگر وہ حاملہ ہوں ( تو انہیں وضع حمل تک نفقہ و سکنی ملے گا ) وہ ( یعنی فاطمہ بنت قیس ) کہتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے ان سب باتوں کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں سچ کہتے ہیں“، فاطمہ نے کہا: اللہ کے رسول! پھر میں کہاں چلی جاؤں؟ آپ نے فرمایا: ”تم ابن ام مکتوم کے یہاں چلی جاؤ جو ایک نابینا شخص ہیں اور جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب ( قرآن پاک ) میں کیا ہے“۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو میں نے ان کے یہاں جا کر عدت پوری کی۔ وہ ایسے آدمی تھے جن کی آنکھیں چلی گئی تھیں، میں ان کے یہاں اپنے کپڑے اتار دیتی تھی، پھر ( وہ وقت آیا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادی اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کرا دی ۲؎، ان کی اس بات کو مروان نے قبول نہیں کیا اور کہا: میں نے تم سے پہلے ایسی بات کسی سے نہیں سنی ہے۔ میں تو وہی فیصلہ نافذ رکھوں گا جس پر لوگوں کو عمل کرتا ہوا پایا ہے۔ ( یہ حدیث ) مختصر ہے۔
اخبرنا كثير بن عبيد، قال حدثنا محمد بن حرب، عن الزبيدي، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان عبد الله بن عمرو بن عثمان، طلق وهو غلام شاب في امارة مروان ابنة سعيد بن زيد وامها بنت قيس البتة فارسلت اليها خالتها فاطمة بنت قيس تامرها بالانتقال من بيت عبد الله بن عمرو وسمع بذلك مروان فارسل الى ابنة سعيد فامرها ان ترجع الى مسكنها وسالها ما حملها على الانتقال من قبل ان تعتد في مسكنها حتى تنقضي عدتها فارسلت اليه تخبره ان خالتها امرتها بذلك فزعمت فاطمة بنت قيس انها كانت تحت ابي عمرو بن حفص فلما امر رسول الله صلى الله عليه وسلم علي بن ابي طالب على اليمن خرج معه وارسل اليها بتطليقة هي بقية طلاقها وامر لها الحارث بن هشام وعياش بن ابي ربيعة بنفقتها فارسلت - زعمت - الى الحارث وعياش تسالهما الذي امر لها به زوجها فقالا والله ما لها عندنا نفقة الا ان تكون حاملا وما لها ان تكون في مسكننا الا باذننا فزعمت انها اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فصدقهما . قالت فاطمة فاين انتقل يا رسول الله قال " انتقلي عند ابن ام مكتوم الاعمى الذي سماه الله عز وجل في كتابه " . قالت فاطمة فاعتددت عنده وكان رجلا قد ذهب بصره فكنت اضع ثيابي عنده حتى انكحها رسول الله صلى الله عليه وسلم اسامة بن زيد فانكر ذلك عليها مروان وقال لم اسمع هذا الحديث من احد قبلك وساخذ بالقضية التي وجدنا الناس عليها . مختصر
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس ان صحابہ میں سے تھے جو جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے ایک انصاری عورت کے غلام سالم کو اپنا بیٹا بنا لیا، اور ان کی شادی اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس سے کر دی۔ جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو اپنا منہ بولا بیٹا قرار دے لیا تھا، اور زمانہ جاہلیت کا یہ دستور تھا کہ متبنی کرنے والے کو اس لڑکے کا باپ کہا کرتے تھے اور وہ لڑکا اس کی میراث پاتا تھا اور یہ دستور اس وقت تک چلتا رہا جب تک اللہ پاک نے یہ آیت: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند اللہ فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم» ”لے پالکوں کو ان کے ( حقیقی ) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ، اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے، پھر اگر تمہیں ان کے حقیقی باپوں کا علم ہی نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں“ ( الاحزاب: ۵ ) نازل نہ کی، پس جس کا باپ معلوم نہ ہو وہ دینی بھائی اور دوست ہے، ( یہ حدیث ) مختصر ہے۔
اخبرنا عمران بن بكار بن راشد، قال حدثنا ابو اليمان، قال انبانا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عروة بن الزبير، عن عايشة، ان ابا حذيفة بن عتبة بن ربيعة بن عبد شمس، - وكان ممن شهد بدرا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم - تبنى سالما وانكحه ابنة اخيه هند بنت الوليد بن عتبة بن ربيعة بن عبد شمس وهو مولى لامراة من الانصار كما تبنى رسول الله صلى الله عليه وسلم زيدا وكان من تبنى رجلا في الجاهلية دعاه الناس ابنه فورث من ميراثه حتى انزل الله عز وجل في ذلك { ادعوهم لابايهم هو اقسط عند الله فان لم تعلموا اباءهم فاخوانكم في الدين ومواليكم } فمن لم يعلم له اب كان مولى واخا في الدين . مختصر
امہات المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس ان لوگوں میں سے تھے جو جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، انہوں نے ایک انصاری عورت کے غلام سالم کو اپنا لے پالک بنا لیا تھا۔ جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنا لے پالک بنایا تھا۔ ابوحذیفہ بن عتبہ نے سالم کا نکاح اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے کر دیا تھا اور یہ ہند بنت ولید بن عتبہ شروع شروع کی مہاجرہ عورتوں میں سے تھیں، وہ قریش کی بیوہ عورتوں میں اس وقت سب سے افضل و برتر عورت تھیں۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے زید بن حارثہ ( غلام ) کے تعلق سے آیت: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند اللہ» ”لے پالکوں کو ان کے ( حقیقی ) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ، اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے“ نازل فرمائی تو ہر ایک لے پالک اپنے اصل باپ کے نام سے پکارا جانے لگا، اور جن کے باپ نہ جانے جاتے انہیں ان کے آقاؤں کی طرف منسوب کر کے پکارتے۔
اخبرنا محمد بن نصر، قال حدثنا ايوب بن سليمان بن بلال، قال حدثني ابو بكر بن ابي اويس، عن سليمان بن بلال، قال قال يحيى - يعني ابن سعيد - واخبرني ابن شهاب، قال حدثني عروة بن الزبير، وابن عبد الله بن ربيعة، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم وام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان ابا حذيفة بن عتبة بن ربيعة بن عبد شمس - وكان ممن شهد بدرا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم - تبنى سالما وهو مولى لامراة من الانصار كما تبنى رسول الله صلى الله عليه وسلم زيد بن حارثة وانكح ابو حذيفة بن عتبة سالما ابنة اخيه هند ابنة الوليد بن عتبة بن ربيعة وكانت هند بنت الوليد بن عتبة من المهاجرات الاول وهي يوميذ من افضل ايامى قريش فلما انزل الله عز وجل في زيد بن حارثة { ادعوهم لابايهم هو اقسط عند الله } رد كل احد ينتمي من اوليك الى ابيه فان لم يكن يعلم ابوه رد الى مواليه
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا داروں کا حسب ۱؎ جس کی طرف وہ دوڑتے ( اور لپکتے ) ہیں مال ہے“۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا ابو تميلة، عن حسين بن واقد، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان احساب اهل الدنيا الذي يذهبون اليه المال
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت سے شادی کی پھر ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہو گئی تو آپ نے پوچھا: ”جابر! کیا تم نے شادی کی ہے؟“ جابر کہتے ہیں کہ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے یا بیوہ سے؟“ ۱؎ میں نے کہا: بیوہ سے، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے کیوں نہ کی؟ جو تجھے ( جوانی کے ) کھیل کھلاتی“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری چند بہنیں میرے ساتھ ہیں، مجھے ( کنواری نکاح کر کے لانے میں ) خوف ہوا کہ وہ کہیں میری اور ان کی محبت میں رکاوٹ ( اور دوری کا باعث ) نہ بن جائے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم نے ٹھیک کیا، عورت سے شادی اس کا دین دیکھ کر، اس کا مال دیکھ کر اور اس کی خوبصورتی دیکھ کر کی جاتی ہے۔ تو تم کو دیندار عورت کو ترجیح دینی چاہیئے۔ تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں“ ۲؎۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، عن عبد الملك، عن عطاء، عن جابر، انه تزوج امراة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فلقيه النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اتزوجت يا جابر " . قال قلت نعم قال " بكرا ام ثيبا " . قال قلت بل ثيبا . قال " فهلا بكرا تلاعبك " . قال قلت يا رسول الله كن لي اخوات فخشيت ان تدخل بيني وبينهن . قال " فذاك اذا ان المراة تنكح على دينها ومالها وجمالها فعليك بذات الدين تربت يداك
معقل بن یسار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا کہ مجھے ایک عورت ملی ہے جو حسب اور مرتبہ والی ہے لیکن اس سے بچے نہیں ہوتے ۱؎، کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ نے اسے ( اس سے شادی کرنے سے ) منع فرما دیا۔ پھر دوبارہ آپ کے پاس پوچھنے آیا تو آپ نے پھر اسے روکا۔ پھر تیسری مرتبہ پوچھنے آیا، پھر بھی آپ نے منع کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”زیادہ بچے جننے والی، اور زیادہ محبت کرنے والی عورت سے شادی کرو ۲؎ کیونکہ میں تمہارے ذریعہ کثرت تعداد میں ( دیگر اقوام پر ) غالب آنا چاہتا ہوں ۳؎“۔
اخبرنا عبد الرحمن بن خالد، قال حدثنا يزيد بن هارون، قال انبانا المستلم بن سعيد، عن منصور بن زاذان، عن معاوية بن قرة، عن معقل بن يسار، قال جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال اني اصبت امراة ذات حسب ومنصب الا انها لا تلد افاتزوجها فنهاه ثم اتاه الثانية فنهاه ثم اتاه الثالثة فنهاه فقال " تزوجوا الولود الودود فاني مكاثر بكم
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ ایک سخت اور زور آور آدمی تھے، قیدیوں کو مکہ سے مدینہ منتقل کیا کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے ایک شخص کو بلایا کہ اسے سواری پر ساتھ لیتا جاؤں، مکہ میں عناق نامی ایک بدکار عورت تھی جو ان کی آشنا تھی، وہ ( گھر سے باہر ) نکلی، دیوار کی پرچھائیوں میں میرے وجود کو ( یعنی مجھے ) دیکھا، بولی کون ہے؟ مرثد! خوش آمدید اپنوں میں آ گئے، مرثد! آج رات چلو ہمارے ڈیرے پر ہمارے پاس رات کو سوؤ، میں نے کہا: عناق! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کو حرام قرار دے دیا ہے، اس نے کہا: خیمہ والو! یہ دلدل ہے ۱؎ یہ وہ ( پرندہ ) ہے جو تمہارے قیدیوں کو مکہ سے مدینہ اٹھا لے جائے گا ( یہ سن کر ) میں خندمہ ( پہاڑ ) کی طرف بڑھا ( مجھے پکڑنے کے لیے ) میری طلب و تلاش میں آٹھ آدمی نکلے اور میرے سر پر آ کھڑے ہوئے، انہوں نے وہاں پیشاب کیا جس کے چھینٹے مجھ پر پڑے ( اتنے قریب ہونے کے باوجود وہ مجھے دیکھ نہ سکے کیونکہ ) میرے حق میں اللہ نے انہیں اندھا بنا دیا۔ میں ( وہاں سے بچ کر ) اپنے ( قیدی ) ساتھی کے پاس آیا اور اسے سواری پر چڑھا کر چل پڑا۔ پھر جب میں اراک پہنچا تو میں نے اس کی بیڑی کھول دی، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے کہا: اللہ کے رسول! میں عناق سے شادی کر لوں؟ تو آپ خاموش رہے پھر آیت: «الزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك» ”زنا کار عورت بھی بجز زانی یا مشرک مرد کے اور نکاح نہیں کرتی“۔ ( النور: ۳ ) نازل ہوئی، پھر ( اس کے نزول کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، مذکورہ آیت پڑھی پھر فرمایا: ”اس سے شادی نہ کرو“ ۲؎۔
اخبرنا ابراهيم بن محمد التيمي، قال حدثنا يحيى، - هو ابن سعيد - عن عبيد الله بن الاخنس، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان مرثد بن ابي مرثد الغنوي، - وكان رجلا شديدا - وكان يحمل الاسارى من مكة الى المدينة . قال فدعوت رجلا لاحمله وكان بمكة بغي يقال لها عناق وكانت صديقته خرجت فرات سوادي في ظل الحايط فقالت من هذا مرثد مرحبا واهلا يا مرثد انطلق الليلة فبت عندنا في الرحل . قلت يا عناق ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حرم الزنا . قالت يا اهل الخيام هذا الدلدل هذا الذي يحمل اسراءكم من مكة الى المدينة . فسلكت الخندمة فطلبني ثمانية فجاءوا حتى قاموا على راسي فبالوا فطار بولهم على واعماهم الله عني فجيت الى صاحبي فحملته فلما انتهيت به الى الاراك فككت عنه كبله فجيت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله انكح عناق فسكت عني فنزلت { الزانية لا ينكحها الا زان او مشرك } فدعاني فقراها على وقال " لا تنكحها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میری ایک بیوی ہے جو مجھے سبھی لوگوں سے زیادہ محبوب ہے مگر خرابی یہ ہے کہ وہ کسی کو ہاتھ لگانے سے نہیں روکتی ۱؎، آپ نے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو“، اس نے کہا: میں اس کے بغیر رہ نہ پاؤں گا۔ تو آپ نے کہا: پھر تو تم اس سے فائدہ اٹھاؤ ( اور وہ جو دوسروں کو تیرا مال لے لینے دیتی ہے، اسے نظر انداز کر دے ) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث ( صحیح ) ثابت نہیں ہے، عبدالکریم ( راوی ) زیادہ قوی نہیں ہے اور ہارون بن رئاب ( راوی ) عبدالکریم سے زیادہ قوی راوی ہیں۔ انہوں نے اس حدیث کو مرسل بیان کیا ہے ہارون ثقہ راوی ہیں اور ان کی حدیث عبدالکریم کی حدیث کے مقابل میں زیادہ صحیح اور درست لگتی ہے۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا يزيد، قال حدثنا حماد بن سلمة، وغيره، عن هارون بن رياب، عن عبد الله بن عبيد بن عمير، وعبد الكريم، عن عبد الله بن عبيد بن عمير، عن ابن عباس، - عبد الكريم يرفعه الى ابن عباس وهارون لم يرفعه - قالا جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ان عندي امراة هي من احب الناس الى وهي لا تمنع يد لامس . قال " طلقها " . قال لا اصبر عنها . قال " استمتع بها " . قال ابو عبد الرحمن هذا الحديث ليس بثابت وعبد الكريم ليس بالقوي وهارون بن رياب اثبت منه وقد ارسل الحديث وهارون ثقة وحديثه اولى بالصواب من حديث عبد الكريم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں سے شادی چار چیزیں دیکھ کر کی جاتی ہے: اس کا مال دیکھ کر، اس کی خاندانی وجاہت ( حسب ) دیکھ کر، اس کی خوبصورتی دیکھ کر اور اس کا دین دیکھ کر، تو تم دیندار عورت کو پانے کی کوشش کرو ۱؎، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں“ ۲؎۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن عبيد الله، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تنكح النساء لاربعة لمالها ولحسبها ولجمالها ولدينها فاظفر بذات الدين تربت يداك
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: عورتوں میں اچھی عورت کون سی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ عورت جو اپنے شوہر کو جب وہ اسے دیکھے خوش کر دے ۱؎، جب وہ کسی کام کا اسے حکم دے تو ( خوش اسلوبی سے ) اسے بجا لائے، اپنی ذات اور اپنے مال کے سلسلے میں شوہر کی مخالفت نہ کرے کہ اسے برا لگے ۲؎“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال قيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم اى النساء خير قال " التي تسره اذا نظر وتطيعه اذا امر ولا تخالفه في نفسها ومالها بما يكره
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا ساری کی ساری پونجی ہے ( برتنے کی چیز ہے ) ۱؎ لیکن ساری دنیا میں سب سے بہترین ( قیمتی ) چیز نیک و صالح عورت ہے“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، قال حدثنا ابي قال، حدثنا حيوة، وذكر، اخر انبانا شرحبيل بن شريك، انه سمع ابا عبد الرحمن الحبلي، يحدث عن عبد الله بن عمرو بن العاص، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الدنيا كلها متاع وخير متاع الدنيا المراة الصالحة
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں ( یعنی مہاجرین ) نے کہا: اللہ کے رسول! آپ انصار کی عورتوں سے شادی کیوں نہیں کرتے؟ آپ نے فرمایا: ”ان میں غیرت بہت ہے“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، انبانا النضر، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن اسحاق بن عبد الله، عن انس، قالوا يا رسول الله الا تتزوج من نساء الانصار قال " ان فيهم لغيرة شديدة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک انصاری عورت کو شادی کا پیغام دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھ لیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”اسے دیکھ لو“ ۱؎۔
اخبرنا عبد الرحمن بن ابراهيم، قال حدثنا مروان، قال حدثنا يزيد، - وهو ابن كيسان - عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال خطب رجل امراة من الانصار فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل نظرت اليها " . قال لا . فامره ان ينظر اليها
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت کو شادی کا پیغام دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھ لیا ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”دیکھ لو، کیونکہ دیکھ لینا دونوں میں محبت کے اضافہ کا باعث ہے“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد العزيز بن ابي رزمة، قال حدثنا حفص بن غياث، قال حدثنا عاصم، عن بكر بن عبد الله المزني، عن المغيرة بن شعبة، قال خطبت امراة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انظرت اليها " . قلت لا . قال " فانظر اليها فانه اجدر ان يودم بينكما