احادیث
#3222
سنن نسائی - Marriage
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ مروان کے دور حکومت میں ایک نوجوان شخص عبداللہ بن عمرو بن عثمان نے سعید بن زید کی بیٹی ( جن کی ماں بنت قیس ہیں ) کو طلاق بتہ دے دی ۱؎، تو اس کی خالہ فاطمہ بنت قیس نے اسے یہ حکم دے کر کہلا بھیجا کہ تم عبداللہ بن عمرو کے گھر سے منتقل ہو جاؤ، یہ بات مروان نے سنی ( کہ سعید کی بیٹی عبداللہ بن عمرو کے گھر سے چلی گئی ہے ) ۔ تو اسے یہ حکم دے کر کہلا بھیجا کہ تم اپنے اس گھر کو واپس چلی جاؤ ( جہاں سے نکل کر آئی ہو ) اور اس سے وجہ بھی پوچھی کہ تم اپنے گھر میں عدت کے ایام پورا کئے بغیر وہاں سے نکل کیسے آئی؟ تو اس نے انہیں ( یعنی مروان کو ) کہلا بھیجا کہ میں اپنی خالہ کے کہنے سے نکل آئی تھی۔ تو ( اس کی خالہ ) فاطمہ بنت قیس نے ( اپنا پیش آمدہ واقعہ ) بیان کیا کہ وہ ابوعمرو بن حفص کے نکاح میں تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا، تو وہ بھی ان کے ساتھ گئے اور ( وہاں سے ) انہوں نے ان کو ( تین طلاقوں میں سے ) باقی بچی ہوئی طلاق دے کر کہلا بھیجا کہ حارث بن ہشام اور عیاش بن ربیعہ سے اپنا نفقہ لے لیں۔ کہتی ہیں: تو انہوں نے حارث اور عیاش سے پچھوا بھیجا کہ ان کے لیے ان کے شوہر نے ان دونوں کو کیا حکم دیا ہے۔ ان دونوں نے کہا: قسم اللہ کی! ان کے لیے ہمارے پاس کوئی نفقہ ( خرچ ) نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے گھر میں ہماری اجازت کے بغیر ان کا رہنا درست ہے۔ ہاں اگر وہ حاملہ ہوں ( تو انہیں وضع حمل تک نفقہ و سکنی ملے گا ) وہ ( یعنی فاطمہ بنت قیس ) کہتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے ان سب باتوں کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں سچ کہتے ہیں“، فاطمہ نے کہا: اللہ کے رسول! پھر میں کہاں چلی جاؤں؟ آپ نے فرمایا: ”تم ابن ام مکتوم کے یہاں چلی جاؤ جو ایک نابینا شخص ہیں اور جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب ( قرآن پاک ) میں کیا ہے“۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو میں نے ان کے یہاں جا کر عدت پوری کی۔ وہ ایسے آدمی تھے جن کی آنکھیں چلی گئی تھیں، میں ان کے یہاں اپنے کپڑے اتار دیتی تھی، پھر ( وہ وقت آیا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادی اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کرا دی ۲؎، ان کی اس بات کو مروان نے قبول نہیں کیا اور کہا: میں نے تم سے پہلے ایسی بات کسی سے نہیں سنی ہے۔ میں تو وہی فیصلہ نافذ رکھوں گا جس پر لوگوں کو عمل کرتا ہوا پایا ہے۔ ( یہ حدیث ) مختصر ہے۔
اخبرنا كثير بن عبيد، قال حدثنا محمد بن حرب، عن الزبيدي، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان عبد الله بن عمرو بن عثمان، طلق وهو غلام شاب في امارة مروان ابنة سعيد بن زيد وامها بنت قيس البتة فارسلت اليها خالتها فاطمة بنت قيس تامرها بالانتقال من بيت عبد الله بن عمرو وسمع بذلك مروان فارسل الى ابنة سعيد فامرها ان ترجع الى مسكنها وسالها ما حملها على الانتقال من قبل ان تعتد في مسكنها حتى تنقضي عدتها فارسلت اليه تخبره ان خالتها امرتها بذلك فزعمت فاطمة بنت قيس انها كانت تحت ابي عمرو بن حفص فلما امر رسول الله صلى الله عليه وسلم علي بن ابي طالب على اليمن خرج معه وارسل اليها بتطليقة هي بقية طلاقها وامر لها الحارث بن هشام وعياش بن ابي ربيعة بنفقتها فارسلت - زعمت - الى الحارث وعياش تسالهما الذي امر لها به زوجها فقالا والله ما لها عندنا نفقة الا ان تكون حاملا وما لها ان تكون في مسكننا الا باذننا فزعمت انها اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فصدقهما . قالت فاطمة فاين انتقل يا رسول الله قال " انتقلي عند ابن ام مكتوم الاعمى الذي سماه الله عز وجل في كتابه " . قالت فاطمة فاعتددت عنده وكان رجلا قد ذهب بصره فكنت اضع ثيابي عنده حتى انكحها رسول الله صلى الله عليه وسلم اسامة بن زيد فانكر ذلك عليها مروان وقال لم اسمع هذا الحديث من احد قبلك وساخذ بالقضية التي وجدنا الناس عليها . مختصر
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Marriage
- Hadith Index
- #3222
- Book Index
- 27
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih Muslim
