احادیث
#3269
سنن نسائی - Marriage
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک نوجوان لڑکی ان کے پاس آئی، اور اس نے کہا: میرے باپ نے میری شادی اپنے بھتیجے سے اس کی خست اور کمینگی پر پردہ ڈالنے کے لیے کر دی ہے، حالانکہ میں اس شادی سے خوش نہیں ہوں، انہوں نے اس سے کہا: بیٹھ جاؤ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آ لینے دو ( پھر اپنا قضیہ آپ کے سامنے پیش کرو ) ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لے آئے تو اس نے آپ کو اپنے معاملے سے آگاہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باپ کو بلا بھیجا ( اور جب وہ آ گیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ اس ( لڑکی ) کے اختیار میں دے دیا اس ( لڑکی ) نے کہا: اللہ کے رسول! میرے والد نے جو کچھ کر دیا ہے، میں نے اسے قبول کر لیا ( ان کے کئے ہوئے نکاح کو رد نہیں کرتی ) لیکن میں نے ( اس معاملہ کو آپ کے سامنے پیش کر کے ) یہ جاننا چاہا ہے کہ کیا عورتوں کو بھی کچھ حق و اختیار حاصل ہے ( سو میں نے جان لیا ) ۔
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Marriage
- Hadith Index
- #3269
- Book Index
- 74
Grades
- Abu GhuddahDaif
- Al-AlbaniDaif
- Zubair Ali ZaiDaif