Loading...

Loading...
کتب
۱۹۳ احادیث
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محرم نہ اپنا نکاح کرے، نہ کسی کا کرائے، اور نہ ہی کہیں نکاح کا پیغام دے“۔
حدثنا ابو الاشعث، قال حدثنا يزيد، - وهو ابن زريع - قال حدثنا سعيد، عن مطر، ويعلى بن حكيم، عن نبيه بن وهب، عن ابان بن عثمان، ان عثمان بن عفان، رضى الله عنه حدث عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " لا ينكح المحرم ولا ينكح ولا يخطب
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حاجت و ضرورت میں تشہد پڑھنے کی تعلیم دی ہے۔ اور «تشہد فی الحاجۃ» یہ ہے کہ ہم ( پہلے ) پڑھیں: «أن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل اللہ فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ( اور پھر ) تین آیات پڑھے ( اور ایجاب و قبول کرائے ) ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا عبثر، عن الاعمش، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، قال علمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم التشهد في الصلاة والتشهد في الحاجة قال التشهد في الحاجة " ان الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور انفسنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل الله فلا هادي له واشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله " . ويقرا ثلاث ايات
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے متعلق کچھ بات چیت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ خطبہ ) ارشاد فرمایا: «إن الحمد لله نحمده ونستعينه من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل اللہ فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أما بعد» ۱؎“ ( اور بات آگے بڑھائی۔)
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا محمد بن عيسى، قال حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، عن داود، عن عمرو بن سعيد، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان رجلا، كلم النبي صلى الله عليه وسلم في شىء فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان الحمد لله نحمده ونستعينه من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل الله فلا هادي له واشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله اما بعد
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ( خطبہ ) تشہد پڑھا، ان میں سے ایک نے کہا: «من يطع اللہ ورسوله فقد رشد ومن يعصهما فقد غوى» تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بہت برے خطیب ہو“ ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال انبانا عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن عبد العزيز، عن تميم بن طرفة، عن عدي بن حاتم، قال تشهد رجلان عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال احدهما من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما فقد غوى . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بيس الخطيب انت
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں لوگوں کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت نے کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! اس ( بندی ) نے اپنے آپ کو آپ کے حوالے کر دیا، آپ جیسا چاہیں کریں۔ آپ خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ عورت پھر کھڑی ہوئی اور کہا: اللہ کے رسول! اس نے اپنے آپ کو آپ کی سپردگی میں دے دیا ہے۔ تو اس کے بارے میں آپ کی جو رائے ہو ویسا کریں۔ ( اتنے میں ) ایک شخص کھڑا ہو اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری اس ( عورت ) سے شادی کرا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا نہیں“، آپ نے فرمایا: ”جا کچھ ڈھونڈ کر لا اگر لوہے کی انگوٹھی ہی ملے تو وہی لے آؤ“، وہ گیا، اس نے تلاش کیا پھر آ کر کہا: مجھے تو کچھ نہیں ملا، لوہے کی انگوٹھی بھی نہ ملی۔ آپ نے فرمایا: ”تمہیں کچھ قرآن یاد ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں! مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس قرآن کے عوض جو تمہیں یاد ہے تمہارا نکاح اس عورت سے کر دیا“ ( تم اسے بھی انہیں یاد کرا دو ) ۔
اخبرنا محمد بن منصور، عن سفيان، قال سمعت ابا حازم، يقول سمعت سهل بن سعد، يقول اني لفي القوم عند النبي صلى الله عليه وسلم فقامت امراة فقالت يا رسول الله انها قد وهبت نفسها لك فرا فيها رايك . فسكت فلم يجبها النبي صلى الله عليه وسلم بشىء ثم قامت فقالت يا رسول الله انها قد وهبت نفسها لك فرا فيها رايك . فقام رجل فقال زوجنيها يا رسول الله . قال " هل معك شىء " . قال لا . قال " اذهب فاطلب ولو خاتما من حديد " . فذهب فطلب ثم جاء فقال لم اجد شييا ولا خاتما من حديد . قال " هل معك من القران شىء " . قال نعم معي سورة كذا وسورة كذا . قال " قد انكحتكها على ما معك من القران
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( نکاح کی ) شرطوں میں سب سے پہلے پوری کی جانے والی شرط وہ ہے جس کے ذریعہ تم عورتوں کی شرمگاہیں اپنے لیے حلال کرتے ہو ( یعنی مہر کی ادائیگی ) ۔
اخبرنا عيسى بن حماد، قال انبانا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عقبة بن عامر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان احق الشروط ان يوفى به ما استحللتم به الفروج
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( نکاح کی ) شرطوں میں سے پہلے پوری کی جانے والی شرط وہ ہے جس کے ذریعہ تم عورتوں کی شرمگاہیں اپنے لیے حلال کرتے ہو“ ( یعنی مہر کی ادائیگی ) ۔
اخبرنا عبد الله بن محمد بن تميم، قال سمعت حجاجا، يقول قال ابن جريج اخبرني سعيد بن ابي ايوب، عن يزيد بن ابي حبيب، ان ابا الخير، حدثه عن عقبة بن عامر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان احق الشروط ان يوفى به ما استحللتم به الفروج
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ رفاعہ نے مجھے طلاق بتہ ( یعنی بالکل قطع تعلق کر دینے والی آخری طلاق ) دے دی ہے، اور میں نے ان کے بعد عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی جن کے پاس بس کپڑے کی جھالر جیسا ہے، ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: ”شاید تم رفاعہ کے پاس دوبارہ واپس جانا چاہتی ہو ( تو سن لو ) یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک وہ تمہارا شہد اور تم اس کا شہد نہ چکھ لو“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت جاءت امراة رفاعة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت ان رفاعة طلقني فابت طلاقي واني تزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير وما معه الا مثل هدبة الثوب . فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " لعلك تريدين ان ترجعي الى رفاعة لا حتى يذوق عسيلتك وتذوقي عسيلته
ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ میری بہن بنت ابی سفیان سے شادی کر لیجئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اسے پسند کر لو گی؟“ میں نے کہا: جی ہاں! میں آپ کی اکیلی بیوی تو ہوں نہیں اور مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ بھلائی اور اچھائی میں میری جو ساجھی دار بنے وہ میری بہن ہو۔ آپ نے فرمایا: ”تمہاری بہن ( تمہاری موجودگی میں ) میرے لیے حلال نہیں ہے“، میں نے کہا: اللہ کے رسول، قسم اللہ کی! ہم آپس میں بات چیت کر رہے تھے کہ آپ ابوسلمہ کی بیٹی درہ سے نکاح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم ام سلمہ کی بیٹی کی بات کر رہی ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی اگر وہ میری ربیبہ نہ ہوتی اور میری گود میں نہ پلی ہوتی تو بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی، اس لیے کہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے ( اور رضاعت سے ہر وہ چیز حرام ہو جاتی ہے جو قرابت داری ( رحم ) سے حرام ہوتی ہے ) مجھے اور ابوسلمہ دونوں کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے۔ تو تم ( آئندہ ) اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو ( رشتہ کے لیے ) مجھ پر پیش نہ کرنا“۔
اخبرنا عمران بن بكار، قال حدثنا ابو اليمان، قال انبانا شعيب، قال اخبرني الزهري، قال اخبرني عروة، ان زينب بنت ابي سلمة، - وامها ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم - اخبرته ان ام حبيبة بنت ابي سفيان اخبرتها انها قالت يا رسول الله انكح اختي بنت ابي سفيان . قالت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اوتحبين ذلك " . فقلت نعم لست لك بمخلية واحب من يشاركني في خير اختي . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان اختك لا تحل لي " . فقلت والله يا رسول الله انا لنتحدث انك تريد ان تنكح درة بنت ابي سلمة . فقال " بنت ام سلمة " . فقلت نعم . فقال " والله لولا انها ربيبتي في حجري ما حلت لي انها لابنة اخي من الرضاعة ارضعتني وابا سلمة ثويبة فلا تعرضن على بناتكن ولا اخواتكن
زینب بنت ابی سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! آپ میرے باپ کی بیٹی یعنی میری بہن سے نکاح کر لیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ( واقعی ) اسے پسند کرتی ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! میں آپ کی تنہا بیوی تو ہوں نہیں مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ خیر میں جو عورت میری شریک بنے وہ میری بہن ہو، ( اس بات چیت کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حلال نہیں ہے“، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول، قسم اللہ کی! ہم نے تو سنا ہے کہ آپ ابوسلمہ کی بیٹی درہ سے نکاح کرنے والے ہیں؟ آپ نے ( استفہامیہ انداز میں ) کہا: ”ام سلمہ کی بیٹی؟“ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جی ہاں ( ام سلمہ کی بیٹی ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی اگر وہ میری آغوش کی پروردہ ( ربیبہ ) نہ بھی ہوتی، تب بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی، وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ مجھے اور ابوسلمہ کو تو ثویبہ ( نامی عورت ) نے دودھ پلایا ہے۔ تو ( سنو! آئندہ ) اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو نکاح کے لیے میرے اوپر پیش نہ کرنا“۔
اخبرنا وهب بن بيان، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، ان عروة بن الزبير، حدثه عن زينب بنت ابي سلمة، ان ام حبيبة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت يا رسول الله انكح بنت ابي تعني اختها . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وتحبين ذلك " . قالت نعم لست لك بمخلية واحب من شركتني في خير اختي . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان ذلك لا يحل " . قالت ام حبيبة يا رسول الله والله لقد تحدثنا انك تنكح درة بنت ابي سلمة . فقال " بنت ام سلمة " . قالت ام حبيبة نعم . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فوالله لو انها لم تكن ربيبتي في حجري ما حلت انها لابنة اخي من الرضاعة ارضعتني وابا سلمة ثويبة فلا تعرضن على بناتكن ولا اخواتكن
زینب بنت ام سلمہ رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ہماری آپس کی بات چیت میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آپ ابوسلمہ کی بیٹی درہ سے نکاح کرنے والے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ام سلمہ کے ( میرے نکاح میں ) ہوتے ہوئے؟ ۱؎ اگر میں نے ام سلمہ سے نکاح نہ بھی کیا ہوتا تو بھی وہ ( درہ ) میرے لیے حلال نہ ہوتی، کیونکہ ( وہ میری بھتیجی ہے اور ) اس کا باپ میرا رضاعی بھائی ہے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عراك بن مالك، ان زينب بنت ابي سلمة، اخبرته ان ام حبيبة قالت لرسول الله صلى الله عليه وسلم انا قد تحدثنا انك ناكح درة بنت ابي سلمة . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اعلى ام سلمة لو اني لم انكح ام سلمة ما حلت لي ان اباها اخي من الرضاعة
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری بہن میں کچھ رغبت ( دلچسپی ) ہے؟ آپ نے فرمایا: ” ( اگر دلچسپی ہو ) تو میں کیا کروں؟“ انہوں نے کہا: آپ اس سے شادی کر لیں، آپ نے کہا: یہ اس لیے کہہ رہی ہو کہ تمہیں یہ زیادہ پسند ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! میں آپ کی تنہا بیوی نہیں ہوں اور مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ خیر میں جو میری ساجھی دار بنے وہ میری اپنی سگی بہن ہو، آپ نے فرمایا: ”وہ میرے لیے حلال نہیں ہے“، انہوں نے کہا: مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ درہ بنت ام سلمہ سے شادی کرنے والے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ” ( تم ) ام سلمہ کی بیٹی سے ( کہہ رہی ہو ) ؟“ انہوں نے کہا: ہاں ( میں انہی کا نام لے رہی ہوں ) ، آپ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! اگر وہ میری ربیبہ میری گود کی پروردہ نہ ہوتی تب بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی ( وہ تو دو حیثیتوں سے میرے لیے حرام ہے ایک تو اس کی حیثیت میری بیٹی کی ہے اور دوسرے ) وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے ( یعنی میری بھتیجی ہے ) ، تو ( آئندہ ) اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو میرے اوپر ( شادی کے لیے ) پیش نہ کرنا“۔
اخبرنا هناد بن السري، عن عبدة، عن هشام، عن ابيه، عن زينب بنت ابي سلمة، عن ام حبيبة، انها قالت يا رسول الله هل لك في اختي قال " فاصنع ماذا " . قالت تزوجها . قال " فان ذلك احب اليك " . قالت نعم لست لك بمخلية واحب من يشركني في خير اختي . قال " انها لا تحل لي " . قالت فانه قد بلغني انك تخطب درة بنت ام سلمة . قال " بنت ابي سلمة " . قالت نعم . قال " والله لو لم تكن ربيبتي ما حلت لي انها لابنة اخي من الرضاعة فلا تعرضن على بناتكن ولا اخواتكن
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( نکاح میں ) عورت اور اس کی پھوپھی کو نہ جمع کیا جائے گا، اور نہ ہی عورت اور اس کی خالہ کو اکٹھا کیا جائے گا ۱؎“۔
اخبرني هارون بن عبد الله، قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يجمع بين المراة وعمتها ولا بين المراة وخالتها
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ( کسی کی زوجیت میں ) عورت اور اس کی پھوپھی کو، عورت اور اس کی خالہ کو اکٹھا کیا جائے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن يعقوب بن عبد الوهاب بن يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير بن العوام، قال حدثنا محمد بن فليح، عن يونس، قال ابن شهاب اخبرني قبيصة بن ذويب، انه سمع ابا هريرة، يقول نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يجمع بين المراة وعمتها والمراة وخالتها
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ عورت کو اس کی پھوپھی، یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کیا جائے ۱؎۔
اخبرني ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا ابن ابي مريم، قال حدثنا يحيى بن ايوب، ان جعفر بن ربيعة، حدثه عن عراك بن مالك، وعبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه نهى ان تنكح المراة على عمتها او خالتها
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عورتوں کو نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے، عورت اور اس کی پھوپھی کو، عورت اور اس کی خالہ کو ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عراك بن مالك، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن اربع نسوة يجمع بينهن المراة وعمتها والمراة وخالتها
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی عورت سے شادی نہ کی جائے جس کی پھوپھی پہلے سے اس کی نکاح میں موجود ہو ۱؎ اور نہ ہی ایسی عورت سے شادی کی جائے جس کی خالہ پہلے سے اس کے نکاح میں ہو“۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا عبد الله بن يوسف، قال حدثنا الليث، قال اخبرني ايوب بن موسى، عن بكير بن عبد الله بن الاشج، عن سليمان بن يسار، عن عبد الملك بن يسار، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " لا تنكح المراة على عمتها ولا على خالتها
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی عورت سے ( نکاح میں ) اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کی موجودگی میں شادی کرنے سے منع فرمایا ہے۔
اخبرنا مجاهد بن موسى، قال حدثنا ابن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تنكح المراة على عمتها او على خالتها
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں شادی نہ کی جائے، اور نہ ہی اس کی خالہ کی موجودگی میں اس سے شادی کی جائے“۔
اخبرنا يحيى بن درست، قال حدثنا ابو اسماعيل، قال حدثنا يحيى بن ابي كثير، ان ابا سلمة، حدثه عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " لا تنكح المراة على عمتها ولا على خالتها
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں اور اسی طرح اس کی خالہ کی موجودگی میں شادی نہ کی جائے“۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا هشام، قال حدثنا محمد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تنكح المراة على عمتها ولا على خالتها