Loading...

Loading...
کتب
۱۹۳ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں، اور پھوپھی سے اس کی بھتیجی کی موجودگی میں شادی کی جائے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا المعتمر، عن داود بن ابي هند، عن الشعبي، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تنكح المراة على عمتها والعمة على بنت اخيها
شعبہ کہتے ہیں کہ مجھے عاصم نے بتایا کہ میں نے شعبی کے سامنے ایک کتاب پڑھی جس میں جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں، اور اسی طرح اس کی خالہ کی موجودگی میں شادی نہیں کی جا سکتی“ تو شعبی نے کہا: میں نے یہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، قال اخبرني عاصم، قال قرات على الشعبي كتابا فيه عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تنكح المراة على عمتها ولا على خالتها " . قال سمعت هذا من جابر
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے نکاح میں ہوتے ہوئے شادی کی جائے۔
اخبرني محمد بن ادم، عن ابن المبارك، عن عاصم، عن الشعبي، قال سمعت جابر بن عبد الله، يقول نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تنكح المراة على عمتها وخالتها
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کی موجودگی میں شادی کی جائے۔
اخبرني ابراهيم بن الحسن، قال حدثنا حجاج، عن ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تنكح المراة على عمتها او على خالتها
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو رشتے ( ماں کے پیٹ سے ) پیدا ہونے سے حرام ہوتے ہیں وہی رشتے ( عورت کا ) دودھ پینے سے بھی حرام ہوتے ہیں“ ۱؎۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، قال انبانا مالك، قال حدثني عبد الله بن دينار، عن سليمان بن يسار، عن عروة، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما حرمته الولادة حرمه الرضاع
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے رضاعی چچا افلح نے ان کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے ان سے پردہ کیا، اس کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عائشہ سے ) فرمایا: ”ان سے پردہ مت کرو، کیونکہ نسب سے جو رشتے حرام ہوتے ہیں، وہی رشتے رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں“ ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عراك، عن عروة، عن عايشة، انها اخبرته ان عمها من الرضاعة يسمى افلح استاذن عليها فحجبته فاخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " لا تحتجبي منه فانه يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں“۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى، عن مالك، عن عبد الله بن ابي بكر، عن عمرة، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت سے وہ رشتے حرام ہوتے ہیں جو ولادت سے حرام ہوتے ہیں“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبيد، قال حدثنا علي بن هاشم، { عن هشام بن عروة، } عن عبد الله بن ابي بكر، عن ابيه، عن عمرة، قالت سمعت عايشة، تقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يحرم من الرضاع ما يحرم من الولادة
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے آپ کی مہربانیاں و دلچسپیاں قریش میں بڑھ رہی ہیں اور ( ہم جو آپ کے خاص الخاص ہیں ) آپ ہمیں چھوڑ رہے ( اور نظر انداز فرما رہے ) ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی ( شادی کے لائق ) ہے؟“ میں نے کہا: ہاں! حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو میرے لیے حلال نہیں ہے، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے“۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابي معاوية، عن الاعمش، عن سعد بن عبيدة، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن علي، رضى الله عنه قال قلت يا رسول الله ما لك تنوق في قريش وتدعنا قال " وعندك احد " . قلت نعم بنت حمزة . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انها لا تحل لي انها ابنة اخي من الرضاعة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ( سے شادی ) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے“ ۱؎۔ شعبہ کہتے ہیں: اس روایت کو قتادہ نے جابر بن زید سے سنا ہے۔
اخبرني ابراهيم بن محمد، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن شعبة، عن قتادة، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس، قال ذكر لرسول الله صلى الله عليه وسلم بنت حمزة فقال " انها ابنة اخي من الرضاعة " . قال شعبة هذا سمعه قتادة من جابر بن زيد
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے شادی کر لینے کی ترغیب دی گئی، تو آپ نے فرمایا: ”وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور رضاعت ( دودھ پینے ) سے ہر وہ رشتہ، ناطہٰ حرام ہو جاتا ہے جو رشتہ، ناطہٰ نسب سے حرام ہوتا ہے“۔
اخبرنا عبد الله بن الصباح بن عبد الله، قال حدثنا محمد بن سواء، قال حدثنا سعيد، عن قتادة، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اريد على بنت حمزة فقال " انها ابنة اخي من الرضاعة وانه يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں اللہ عزوجل نے جو نازل فرمایا اس میں یہ ( حارث کی روایت میں قرآن میں جو نازل ہوا اس میں تھا ) «عشر رضعات معلومات يحرمن» ( دس ( واضح ) معلوم گھونٹ نکاح کو حرام کر دیں گے ) ، پھر یہ دس گھونٹ منسوخ کر کے پانچ معلوم گھونٹ کر دیا گیا ( یعنی خمس رضعات معلومات ) ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، اور یہ آیت قرآن میں پڑھی جاتی رہی ۱؎۔
اخبرني هارون بن عبد الله، قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن عبد الله بن ابي بكر، عن عمرة، عن عايشة، قالت كان فيما انزل الله عز وجل - وقال الحارث فيما انزل من القران - عشر رضعات معلومات يحرمن ثم نسخن بخمس معلومات فتوفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي مما يقرا من القران
ام الفضل رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رضاعت ( یعنی دودھ پلانے ) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”ایک بار اور دو بار کا پلانا ( نکاح کو ) حرام نہیں کرتا“۔ قتادہ اپنی روایت میں «الإملاجة ولا الإملاجتان» کی جگہ «المصة والمصتان» کہتے ہیں، یعنی ”ایک بار یا دو بار چھاتی کا چوسنا نکاح کو حرام نہ کرے گا“۔
اخبرنا عبد الله بن الصباح بن عبد الله، قال حدثنا محمد بن سواء، قال حدثنا سعيد، عن قتادة، وايوب، عن صالح ابي الخليل، عن عبد الله بن الحارث بن نوفل، عن ام الفضل، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم سيل عن الرضاع فقال " لا تحرم الاملاجة ولا الاملاجتان " . وقال قتادة " المصة والمصتان
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بار اور دو بار چھاتی کا چوسنا حرمت کو ثابت نہیں کرتا“۔
اخبرنا شعيب بن يوسف، عن يحيى، عن هشام، قال حدثني ابي، عن عبد الله بن الزبير، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تحرم المصة والمصتان
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بار اور دو بار چھاتی کا چوسنا ( نکاح کو ) حرام نہیں کرتا ۱؎“۔
اخبرنا زياد بن ايوب، قال حدثنا ابن علية، عن ايوب، عن ابن ابي مليكة، عن عبد الله بن الزبير، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تحرم المصة والمصتان
قتادہ کہتے ہیں کہ ہم نے ابراہیم بن یزید نخعی کے پاس ( خط ) لکھ کر رضاعت کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے ( جواب میں ) لکھا کہ مجھ سے شریح نے بیان کیا ہے کہ علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ دونوں کہتے تھے کہ دودھ تھوڑا پئے یا زیادہ رضاعت سے حرمت ( نکاح ) ثابت ہو جائے گی، اور ان کی کتاب ( تحریر ) میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ ابوالشعثاء محاربی نے مجھ سے بیان کیا کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”ایک بار یا دو بار اچک لینے ( یعنی ایک یا دو گھونٹ پی لینے ) سے نکاح کی حرمت قائم نہیں ہوتی“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن بزيع، قال حدثنا يزيد، - يعني ابن زريع - قال حدثنا سعيد، عن قتادة، قال كتبنا الى ابراهيم بن يزيد النخعي نساله عن الرضاع، فكتب ان شريحا، حدثنا ان عليا وابن مسعود كانا يقولان يحرم من الرضاع قليله وكثيره . وكان في كتابه ان ابا الشعثاء المحاربي حدثنا ان عايشة حدثته ان نبي الله صلى الله عليه وسلم كان يقول " لا تحرم الخطفة والخطفتان
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ( اس وقت ) میرے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا یہ آپ پر بڑا گراں گزرا، میں نے آپ کے چہرہ مبارک پر ناراضگی دیکھی تو کہا: اللہ کے رسول! یہ شخص میرا رضاعی بھائی ہے، آپ نے فرمایا: ”اچھی طرح دیکھ بھال لیا کرو کہ تمہارے رضاعی بھائی کون ہیں، کیونکہ دودھ پینے کا اعتبار بھوک میں ( جبکہ دودھ ہی غذا ہو ) ہے“
اخبرنا هناد بن السري، في حديثه عن ابي الاحوص، عن اشعث بن ابي الشعثاء، عن ابيه، عن مسروق، قال قالت عايشة دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعندي رجل قاعد فاشتد ذلك عليه ورايت الغضب في وجهه فقلت يا رسول الله انه اخي من الرضاعة . فقال " انظرن ما اخوانكن - ومرة اخرى - انظرن من اخوانكن من الرضاعة فان الرضاعة من المجاعة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف فرما تھے تو انہوں نے سنا کہ ایک آدمی حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کر رہا ہے، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ شخص آپ کے گھر میں اندر آنے کی اجازت طلب کر رہا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے اسے پہچان لیا ہے، وہ حفصہ کا رضاعی چچا ہے“، میں نے کہا: اگر فلاں میرے رضاعی چچا زندہ ہوتے تو میرے یہاں بھی آیا کرتے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت ( دودھ کا رشتہ ) ویسے ہی ( نکاح کو ) حرام کرتا ہے جیسے ولادت ( نسل ) میں ہونے سے حرمت ہوتی ہے“۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك، عن عبد الله بن ابي بكر، عن عمرة، ان عايشة، اخبرتها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان عندها وانها سمعت رجلا يستاذن في بيت حفصة قالت عايشة فقلت يا رسول الله هذا رجل يستاذن في بيتك . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اراه فلانا " . لعم حفصة من الرضاعة . قالت عايشة فقلت لو كان فلان حيا - لعمها من الرضاعة - دخل على . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الرضاعة تحرم ما يحرم من الولادة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا ابوالجعد میرے پاس آئے، تو میں نے انہیں واپس لوٹا دیا ( ہشام کہتے ہیں کہ وہ ابوالقعیس تھے ) ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو یہ بات بتائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں ( گھر میں ) آنے کی اجازت دو“۔
اخبرني اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد الرزاق، قال انبانا ابن جريج، قال اخبرني عطاء، عن عروة، ان عايشة، قالت جاء عمي ابو الجعد من الرضاعة فرددته - قال وقال هشام هو ابو القعيس - فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبرته فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايذني له
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ پردہ کی آیت کے نازل ہونے کے بعد ابوالقعیس کے بھائی نے میرے پاس آنے کی اجازت مانگی تو میں نے اجازت دینے سے انکار کر دیا، اس کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں اجازت دے دو وہ تمہارے چچا ہیں“، میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”وہ تمہارے چچا ہیں وہ تمہارے پاس آ سکتے ہیں“۔
اخبرنا عبد الوارث بن عبد الصمد بن عبد الوارث، قال حدثني ابي، { عن ابيه، } عن ايوب، عن وهب بن كيسان، عن عروة، عن عايشة، ان اخا ابي القعيس، استاذن على عايشة بعد اية الحجاب فابت ان تاذن له فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " ايذني له فانه عمك " . فقلت انما ارضعتني المراة ولم يرضعني الرجل . فقال " انه عمك فليلج عليك