Loading...

Loading...
کتب
۱۹۳ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح جو میرے رضاعی چچا ہوتے تھے میرے پاس آنے کی اجازت مانگ رہے تھے تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو یہ بات بتائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انہیں اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں“۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یہ واقعہ پردہ کی آیت کے نزول کے بعد کا ہے۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، انبانا معن، قال حدثنا مالك، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، قالت كان افلح اخو ابي القعيس يستاذن على وهو عمي من الرضاعة فابيت ان اذن له حتى جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبرته فقال " ايذني له فانه عمك " . قالت عايشة وذلك بعد ان نزل الحجاب
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے چچا افلح نے پردہ کی آیت کے اترنے کے بعد میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، تو میں نے انہیں اجازت نہیں دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں نے آپ سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ”انہیں اجازت دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں پلایا ہے ( وہ میرے محرم کیسے ہو گئے ) ، آپ نے فرمایا: ”تم انہیں ( اندر ) آنے کی اجازت دو، تمہارے ہاتھ میں مٹی لگے ( تمہیں نہیں معلوم؟ ) وہ تمہارے چچا ہیں“۔
اخبرنا عبد الجبار بن العلاء، عن سفيان، عن الزهري، وهشام بن ع��روة، عن عروة، عن عايشة، قالت استاذن على عمي افلح بعد ما نزل الحجاب فلم اذن له فاتاني النبي صلى الله عليه وسلم فسالته فقال " ايذني له فانه عمك " . قلت يا رسول الله انما ارضعتني المراة ولم يرضعني الرجل . قال " ايذني له تربت يمينك فانه عمك
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح ( میرے پاس گھر میں آنے کی ) اجازت مانگنے آئے، میں نے کہا: میں جب تک خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں انہیں اجازت نہ دوں گی، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے بتایا کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح آئے تھے اور اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے، تو میں نے انہیں اجازت نہیں دی، آپ نے فرمایا: ” ( نہیں ) انہیں اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں“، میں نے کہا: مجھے تو ابوالقعیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے، مرد نے نہیں پلایا ہے۔ آپ نے فرمایا: ” ( بھلے سے مرد نے نہیں پلایا ہے ) تم انہیں آنے دو، وہ تمہارے چچا ہیں“۔
اخبرنا الربيع بن سليمان بن داود، قال حدثنا ابو الاسود، واسحاق بن بكر، قالا حدثنا بكر بن مضر، عن جعفر بن ربيعة، عن عراك بن مالك، عن عروة، عن عايشة، قالت جاء افلح اخو ابي القعيس يستاذن فقلت لا اذن له حتى استاذن نبي الله صلى الله عليه وسلم فلما جاء نبي الله صلى الله عليه وسلم قلت له جاء افلح اخو ابي القعيس يستاذن فابيت ان اذن له . فقال " ايذني له فانه عمك " . قلت انما ارضعتني امراة ابي القعيس ولم يرضعني الرجل . قال " ايذني له فانه عمك
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! سالم جب میرے پاس آتے ہیں تو میں ( اپنے شوہر ) ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ( ناگواری ) دیکھتی ہوں ( اور ان کا آنا ناگزیر ہے ) ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انہیں دودھ پلا دو“، میں نے کہا: وہ تو ڈاڑھی والے ہیں، ( بچہ تھوڑے ہیں ) ، آپ نے فرمایا: ” ( پھر بھی ) دودھ پلا دو، دودھ پلا دو گی تو ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر جو تم ( ناگواری ) دیکھتی ہو وہ ختم ہو جائے گی“، سہلہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کی قسم! دودھ پلا دینے کے بعد پھر میں نے ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر کبھی کوئی ناگواری نہیں محسوس کی۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني مخرمة بن بكير، عن ابيه، قال سمعت حميد بن نافع، يقول سمعت زينب بنت ابي سلمة، تقول سمعت عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم تقول جاءت سهلة بنت سهيل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله اني لارى في وجه ابي حذيفة من دخول سالم على . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ارضعيه " . قلت انه لذو لحية . فقال " ارضعيه يذهب ما في وجه ابي حذيفة " . قالت والله ما عرفته في وجه ابي حذيفة بعد
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور کہا: میں سالم کے اپنے پاس آنے جانے سے ( اپنے شوہر ) ابوحذیفہ کے چہرے میں کچھ ( تبدیلی و ناگواری ) دیکھتی ہوں، آپ نے فرمایا: ”تم انہیں اپنا دودھ پلا دو“، انہوں نے کہا: میں انہیں کیسے دودھ پلا دوں وہ تو بڑے ( عمر والے ) آدمی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”کیا مجھے معلوم نہیں ہے کہ وہ بڑی عمر کے ہیں“، اس کے بعد وہ ( دودھ پلا کر پھر ایک دن ) آئیں اور کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو نبی بنا کر حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نے اس کے بعد ابوحذیفہ کے چہرے پر کوئی ناگواری کی چیز نہیں دیکھی۔
اخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، قال سمعناه من عبد الرحمن، - وهو ابن القاسم - عن ابيه، عن عايشة، قالت جاءت سهلة بنت سهيل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت اني ارى في وجه ابي حذيفة من دخول سالم على . قال " فارضعيه " . قالت وكيف ارضعه وهو رجل كبير فقال " الست اعلم انه رجل كبير " . ثم جاءت بعد فقالت والذي بعثك بالحق نبيا ما رايت في وجه ابي حذيفة بعد شييا اكره
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوحذیفہ کی بیوی کو حکم دیا کہ تم ابوحذیفہ کے غلام سالم کو دودھ پلا دو تاکہ ابوحذیفہ کی غیرت ( ناگواری ) ختم ہو جائے۔ تو انہوں نے انہیں دودھ پلا دیا اور وہ ( بچے نہیں ) پورے مرد تھے۔ ربیعہ ( اس حدیث کے راوی ) کہتے ہیں: یہ رخصت صرف سالم کے لیے تھی ۱؎۔
اخبرنا احمد بن يحيى بن الوزير، قال سمعت ابن وهب، قال اخبرني سليمان، عن يحيى، وربيعة، عن القاسم، عن عايشة، قالت امر النبي صلى الله عليه وسلم امراة ابي حذيفة ان ترضع سالما مولى ابي حذيفة حتى تذهب غيرة ابي حذيفة فارضعته وهو رجل . قال ربيعة فكانت رخصة لسالم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے کہا: اللہ کے رسول! سالم ہمارے پاس آتا جاتا ہے ( اب وہ بڑا ہو گیا ہے ) جو باتیں لوگ سمجھتے ہیں وہ بھی سمجھتا ہے اور جو باتیں لوگ جانتے ہیں وہ بھی جان گیا ہے ( اور اس کا آنا جانا بھی ضروری ہے ) آپ نے فرمایا: ”تو اسے اپنا دودھ پلا دے تو اپنے اس عمل سے اس کے لیے حرام ہو جائے گی“۔ ابن ابی ملیکہ ( اس حدیث کے راوی ) کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو سال بھر کسی سے بیان نہیں کیا، پھر میری ملاقات قاسم بن محمد سے ہوئی ( اور اس کا ذکر آیا ) تو انہوں نے کہا: اس حدیث کو بیان کرو اور اس کے بیان کرنے میں ( شرماؤ ) اور ڈرو نہیں۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، عن سفيان، - وهو ابن حبيب - عن ابن جريج، عن ابن ابي مليكة، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، قالت جاءت سهلة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ان سالما يدخل علينا وقد عقل ما يعقل الرجال وعلم ما يعلم الرجال . قال " ارضعيه تحرمي عليه بذلك " . فمكثت حولا لا احدث به ولقيت القاسم فقال حدث به ولا تهابه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ کے غلام سالم ابوحذیفہ اور ان کی بیوی ( بچوں ) کے ساتھ ان کے گھر میں رہتے تھے۔ تو سہیل کی بیٹی ( سہلہ ابوحذیفہ کی بیوی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور کہا کہ سالم لوگوں کی طرح جوان ہو گیا ہے اور اسے لوگوں کی طرح ہر چیز کی سمجھ آ گئی ہے اور وہ ہمارے پاس آتا جاتا ہے اور میں اس کی وجہ سے ابوحذیفہ کے دل میں کچھ ( کھٹک ) محسوس کرتی ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے دودھ پلا دو، تو تم اس پر حرام ہو جاؤ گی“ تو انہوں نے اسے دودھ پلا دیا، چنانچہ ابوحذیفہ کے دل میں جو ( خدشہ ) تھا وہ دور ہو گیا، پھر وہ لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( دوبارہ ) آئیں اور ( آپ سے ) کہا: میں نے ( آپ کے مشورہ کے مطابق ) اسے دودھ پلا دیا، اور میرے دودھ پلا دینے سے ابوحذیفہ کے دل میں جو چیز تھی یعنی کبیدگی اور ناگواری وہ ختم ہو گئی۔
اخبرنا عمرو بن علي، عن عبد الوهاب، قال انبانا ايوب، عن ابن ابي مليكة، عن القاسم، عن عايشة، ان سالما، مولى ابي حذيفة كان مع ابي حذيفة واهله في بيتهم فاتت بنت سهيل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت ان سالما قد بلغ ما يبلغ الرجال وعقل ما عقلوه وانه يدخل علينا واني اظن في نفس ابي حذيفة من ذلك شييا . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ارضعيه تحرمي عليه " . فارضعته فذهب الذي في نفس ابي حذيفة فرجعت اليه فقلت اني قد ارضعته فذهب الذي في نفس ابي حذيفة
زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سبھی ازواج مطہرات ۱؎ نے اس بات سے انکار کیا کہ کوئی ان کے پاس اس رضاعت کا سہارا لے کر ( گھر کے اندر ) آئے، مراد اس سے بڑے کی رضاعت ہے اور سب نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: قسم اللہ کی! ہم سمجھتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہلہ بنت سہیل کو ( سالم کو دودھ پلانے کا ) جو حکم دیا ہے وہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے سالم کی رضاعت کے سلسلہ میں خاص تھا۔ قسم اللہ کی! اس رضاعت کے ذریعہ کوئی شخص ہمارے پاس آ نہیں سکتا اور نہ ہمیں دیکھ سکتا ہے۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، قال انبانا ابن وهب، قال اخبرني يونس، ومالك، عن ابن شهاب، عن عروة، قال ابى ساير ازواج النبي صلى الله عليه وسلم ان يدخل عليهن بتلك الرضعة احد من الناس - يريد رضاعة الكبير - وقلن لعايشة والله ما نرى الذي امر رسول الله صلى الله عليه وسلم سهلة بنت سهيل الا رخصة في رضاعة سالم وحده من رسول الله صلى الله عليه وسلم والله لا يدخل علينا احد بهذه الرضعة ولا يرانا
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی تھیں کہ سبھی ازواج مطہرات نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ اس رضاعت ( یعنی بڑے کی رضاعت ) کو دلیل بنا کر ان کے پاس ( یعنی کسی بھی عورت کے پاس ) جایا جائے، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: قسم اللہ کی! ہم اس رخصت کو عام رخصت نہیں سمجھتے، یہ رخصت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص سالم کے لیے دی تھی، اس رضاعت کو دلیل بنا کر ہم عورتوں کے پاس کوئی آ جا نہیں سکتا اور نہ ہی ہم عورتوں کو دیکھ سکتا ہے۔
اخبرنا عبد الملك بن شعيب بن الليث، قال اخبرني ابي، عن جدي، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، اخبرني ابو عبيدة بن عبد الله بن زمعة، ان امه، زينب بنت ابي سلمة اخبرته ان امها ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم كانت تقول ابى ساير ازواج النبي صلى الله عليه وسلم ان يدخل عليهن بتلك الرضاعة وقلن لعايشة والله ما نرى هذه الا رخصة رخصها رسول الله صلى الله عليه وسلم خاصة لسالم فلا يدخل علينا احد بهذه الرضاعة ولا يرانا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ جدامہ بنت وہب نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا ارادہ ہوا کہ «غیلہ» سے روک دوں پھر مجھے خیال ہوا کہ روم و فارس کے لوگ بھی «غیلہ» کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا“۔ اسحاق ( راوی ) کی روایت میں «یصنعہ» کی جگہ «یصنعونہ» ہے۔
اخبرنا عبيد الله، واسحاق بن منصور، عن عبد الرحمن، عن مالك، عن ابي الاسود، عن عروة، عن عايشة، ان جدامة بنت وهب، حدثتها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لقد هممت ان انهى عن الغيلة حتى ذكرت ان فارس والروم يصنعه " . وقال اسحاق " يصنعونه فلا يضر اولادهم
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا یعنی عزل کا ذکر ہوا، تو آپ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ ( ذرا تفصیل بتاؤ ) ہم نے کہا: آدمی کے پاس بیوی ہوتی ہے، اور وہ اس سے صحبت کرتا ہے اور حمل کو ناپسند کرتا ہے، ( ایسے ہی ) آدمی کے پاس لونڈی ہوتی ہے وہ اس سے صحبت کرتا ہے، اور نہیں چاہتا کہ اس کو اس سے حمل رہ جائے ۲؎، آپ نے فرمایا: ”اگر تم ایسا نہ کرو تو تمہیں نقصان نہیں ہے، یہ تو صرف تقدیر کا معاملہ ہے“ ۳؎۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، وحميد بن مسعدة، قالا حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا ابن عون، عن محمد بن سيرين، عن عبد الرحمن بن بشر بن مسعود، ورد الحديث حتى رده الى ابي سعيد الخدري قال ذكر ذلك عند رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " وما ذاكم " . قلنا الرجل تكون له المراة فيصيبها ويكره الحمل وتكون له الامة فيصيب منها ويكره ان تحمل منه . قال " لا عليكم ان لا تفعلوا فانما هو القدر
ابوسعید زرقی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں پوچھا، اس نے کہا: میری بیوی دودھ پلاتی ہے، اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ حاملہ ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رحم میں جس کا آنا مقدر ہو چکا ہے وہ ہو کر رہے گا ۱؎“۔
اخبرنا محمد بن بشار، عن محمد، قال حدثنا شعبة، عن ابي الفيض، قال سمعت عبد الله بن مرة الزرقي، عن ابي سعيد الزرقي، ان رجلا، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن العزل فقال ان امراتي ترضع وانا اكره ان تحمل . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان ما قد قدر في الرحم سيكون
حجاج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: رضاعت کے حق کی ادائیگی کی ذمہ داری سے مجھے کیا چیز عہدہ بر آ کر سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”شریف غلام یا شریف لونڈی ۱؎“۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى، عن هشام، قال وحدثني ابي، عن حجاج بن حجاج، عن ابيه، قال قلت يا رسول الله ما يذهب عني مذمة الرضاع قال " غرة عبد او امة
عقبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت سے نکاح کیا تو ہمارے پاس ایک حبشی عورت آئی اور اس نے کہا کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو بتایا کہ میں نے فلان بنت فلاں سے شادی کی ہے پھر میرے پاس ایک حبشی عورت آئی، اس نے کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، ( یہ سن کر ) آپ نے اپنا چہرہ مجھ سے پھیر لیا ۱؎ تو میں پھر آپ کے چہرے کی طرف سے سامنے آیا اور میں نے کہا: وہ جھوٹی ہے، آپ نے فرمایا: ”تم اسے کیسے جھوٹی کہہ سکتے ہو، جب کہ وہ بیان کرتی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، تو اس کو چھوڑ کر اپنے سے الگ کر دو“۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا اسماعيل، عن ايوب، عن ابن ابي مليكة، قال حدثني عبيد بن ابي مريم، عن عقبة بن الحارث، قال وقد سمعته من، عقبة ولكني لحديث عبيد احفظ قال تزوجت امراة فجاءتنا امراة سوداء فقالت اني قد ارضعتكما . فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرته فقلت اني تزوجت فلانة بنت فلان فجاءتني امراة سوداء فقالت اني قد ارضعتكما . فاعرض عني فاتيته من قبل وجهه فقلت انها كاذبة . قال " وكيف بها وقد زعمت انها قد ارضعتكما دعها عنك
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ماموں سے ملا، تو ان کے پاس جھنڈا تھا۔ تو میں نے اُن سے کہا: کہاں کا ارادہ ہے؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ایسے شخص کی گردن اڑا دینے یا اسے قتل کر دینے کے لیے بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے انتقال کے بعد اس کی بیوی سے شادی کر لی ہے ۱؎۔
اخبرنا احمد بن عثمان بن حكيم، قال حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا الحسن بن صالح، عن السدي، عن عدي بن ثابت، عن البراء، قال لقيت خالي ومعه الراية فقلت اين تريد قال ارسلني رسول الله صلى الله عليه وسلم الى رجل تزوج امراة ابيه من بعده ان اضرب عنقه او اقتله
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا سے ملا، ان کے پاس ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے کہا: آپ کہاں جا رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کے پاس بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر لی ہے۔ مجھے آپ نے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں اور اس کا مال اپنے قبضہ میں کر لوں ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا عبد الله بن جعفر، قال حدثنا عبيد الله بن عمرو، عن زيد، عن عدي بن ثابت، عن يزيد بن البراء، عن ابيه، قال اصبت عمي ومعه راية فقلت اين تريد فقال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم الى رجل نكح امراة ابيه فامرني ان اضرب عنقه واخذ ماله
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر اوطاس کی طرف بھیجا ۱؎ وہاں ان کی دشمن سے مڈبھیڑ ہو گئی، اور انہوں نے دشمن کا بڑا خون خرابہ کیا، اور ان پر غالب آ گئے، انہیں ایسی عورتیں ہاتھ آئیں جن کے شوہر مشرکین میں رہ گئے تھے، چنانچہ مسلمانوں نے ان قیدی باندیوں سے صحبت کرنا مناسب نہ سمجھا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: «والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم» ”اور ( حرام کی گئیں ) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں“ ( النساء: ۲۴ ) یعنی یہ عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں جب ان کی عدت پوری ہو جائے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا سعيد، عن قتادة، عن ابي الخليل، عن ابي علقمة الهاشمي، عن ابي سعيد الخدري، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم بعث جيشا الى اوطاس فلقوا عدوا فقاتلوهم وظهروا عليهم فاصابوا لهم سبايا لهن ازواج في المشركين فكان المسلمون تحرجوا من غشيانهن فانزل الله عز وجل { والمحصنات من النساء الا ما ملكت ايمانكم } اى هذا لكم حلال اذا انقضت عدتهن
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا ہے۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال اخبرني نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الشغار
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اسلام میں نہ «جلب» ہے نہ «جنب» ہے اور نہ ہی «شغار» ہے، اور جس کسی نے کسی طرح کا لوٹ کھسوٹ کیا وہ ہم میں سے نہیں ہے ۱؎“۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، قال حدثنا بشر، قال حدثنا حميد، عن الحسن، عن عمران بن حصين، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا جلب ولا جنب ولا شغار في الاسلام ومن انتهب نهبة فليس منا