Loading...

Loading...
کتب
۱۹۳ احادیث
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں نہ «جلب» ہے، نہ «جنب» ہے، اور نہ «شغار» ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی فرماتے ہیں: اس روایت میں صریح غلطی موجود ہے اور بشر کی روایت صحیح ہے ۱؎۔
اخبرنا علي بن محمد بن علي، قال حدثنا محمد بن كثير، عن الفزاري، عن حميد، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا جلب ولا جنب ولا شغار في الاسلام " . قال ابو عبد الرحمن هذا خطا فاحش والصواب حديث بشر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا ہے، اور شغار یہ ہے کہ آدمی دوسرے شخص سے اپنی بیٹی کی شادی اس شرط پر کرے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح اس شخص کے ساتھ کرے۔ اور دونوں ہی بیٹیوں کا کوئی مہر مقرر نہ ہو۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك، عن نافع، ح والحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال مالك حدثني نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الشغار والشغار ان يزوج الرجل الرجل ابنته على ان يزوجه ابنته وليس بينهما صداق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے عبیداللہ ( جو اس حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی ہیں ) کہتے ہیں: شغار یہ تھا کہ آدمی اپنی بیٹی کی شادی دوسرے سے اس شرط پر کرتا تھا کہ دوسرا اپنی بہن کی شادی اس کے ساتھ کر دے ( بغیر کسی مہر کے ) ۔
اخبرنا محمد بن ابراهيم، وعبد الرحمن بن محمد بن سلام، قالا حدثنا اسحاق الازرق، عن عبيد الله، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الشغار . قال عبيد الله والشغار كان الرجل يزوج ابنته على ان يزوجه اخته
سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آئی ہوں کہ اپنے آپ کو آپ کے حوالے کر دوں، ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور نیچے سے اوپر تک دھیان سے دیکھا۔ پھر آپ نے اپنا سر جھکا لیا ( غور فرمانے لگے کہ کیا کریں ) ، عورت نے جب دیکھا کہ آپ نے اس کے متعلق ( بروقت ) کچھ نہیں فیصلہ فرمایا تو وہ ( انتظار میں ) بیٹھ گئی، اتنے میں آپ کے ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ اپنے لیے اس عورت کی ضرورت نہیں پاتے تو آپ اس عورت سے میری شادی کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس ( بطور مہر دینے کے لیے ) کوئی چیز ہے؟“ اس نے کہا نہیں، قسم اللہ کی! میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: ”دیکھو ( تلاش کرو ) لوہے کی انگوٹھی ۱؎ ہی مل جائے تو لے کر آؤ“، تو وہ آدمی ( تلاش میں ) نکلا، پھر لوٹ کر آیا اور کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! کوئی چیز نہیں ملی حتیٰ کہ لوہے کہ انگوٹھی بھی نہیں ملی، میرے پاس بس میرا یہی تہبند ہے، میں آدھی تہبند اس کو دے سکتا ہوں، سہل ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں: اس کے پاس چادر نہیں تھی ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے تہبند سے کیا کر سکتے ہو؟ تم پہنو گے تو وہ نہیں پہن سکتی اور وہ پہنے گی تو تم نہیں پہن سکتے“، وہ آدمی بیٹھ گیا اور دیر تک بیٹھا رہا، پھر ( مایوس ہو کر ) اٹھ کر چلا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے دیکھا تو اسے حکم دے کر بلا لیا، جب وہ آیا تو آپ نے اس سے پوچھا: ”تمہیں قرآن کتنا یاد ہے؟“ انہوں نے کہا: فلاں فلاں سورت، اس نے گن کر بتایا۔ آپ نے کہا: ”کیا تم اسے زبانی ( روانی سے ) پڑھ سکتے ہو“، اس نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ” ( جاؤ ) جو تمہیں قرآن یاد ہے اسے یاد کرا دو اس کے عوض میں نے تمہیں اس کا مالک بنا دیا“ ( یعنی میں نے اس سے تمہاری شادی کر دی ) ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا يعقوب، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، ان امراة، جاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله جيت لاهب نفسي لك . فنظر اليها رسول الله صلى الله عليه وسلم فصعد النظر اليها وصوبه ثم طاطا راسه فلما رات المراة انه لم يقض فيها شييا جلست فقام رجل من اصحابه فقال اى رسول الله ان لم يكن لك بها حاجة فزوجنيها . قال " هل عندك من شىء " . فقال لا والله ما وجدت شييا . فقال " انظر ولو خاتما من حديد " . فذهب ثم رجع فقال لا والله يا رسول الله ولا خاتما من حديد ولكن هذا ازاري - قال سهل ما له رداء - فلها نصفه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما تصنع بازارك ان لبسته لم يكن عليها منه شىء وان لبسته لم يكن عليك منه شىء " . فجلس الرجل حتى طال مجلسه ثم قام فراه رسول الله صلى الله عليه وسلم موليا فامر به فدعي فلما جاء قال " ماذا معك من القران " . قال معي سورة كذا وسورة كذا . عددها . فقال " هل تقروهن عن ظهر قلب " . قال نعم . قال " ملكتكها بما معك من القران
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، تو ان کے درمیان مہر ( ابوطلحہ کا ) اسلام قبول کر لینا طے پایا تھا، ام سلیم ابوطلحہ سے پہلے ایمان لائیں، ابوطلحہ نے انہیں شادی کا پیغام دیا، تو انہوں نے کہا: میں اسلام لے آئی ہوں ( میں غیر مسلم سے شادی نہیں کر سکتی ) ، آپ اگر اسلام قبول کر لیں تو میں آپ سے شادی کر سکتی ہوں، تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا، اور یہی اسلام ان دونوں کے درمیان مہر قرار پایا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا محمد بن موسى، عن عبد الله بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس، قال تزوج ابو طلحة ام سليم فكان صداق ما بينهما الاسلام اسلمت ام سليم قبل ابي طلحة فخطبها فقالت اني قد اسلمت فان اسلمت نكحتك . فاسلم فكان صداق ما بينهما
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ( ان کی والدہ ) ام سلیم رضی اللہ عنہا کو شادی کا پیغام دیا تو انہوں نے انہیں جواب دیا: قسم اللہ کی، ابوطلحہ! آپ جیسوں کا پیغام لوٹایا نہیں جا سکتا، لیکن آپ ایک کافر شخص ہیں اور میں ایک مسلمان عورت ہوں، میرے لیے حلال نہیں کہ میں آپ سے شادی کروں، لیکن اگر آپ اسلام قبول کر لیں، تو یہی آپ کا اسلام قبول کر لینا ہی میرا مہر ہو گا اس کے سوا مجھے کچھ اور نہیں چاہیئے ۱؎ تو وہ اسلام لے آئے اور یہی چیز ان کی مہر قرار پائی۔ ثابت کہتے ہیں: میں نے کسی عورت کے متعلق کبھی نہیں سنا جس کی مہر ام سلیم رضی اللہ عنہا کی مہر اسلام سے بڑھ کر اور باعزت رہی ہو۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے صحبت و قربت اختیار کی اور انہوں نے ان سے بچے جنے۔
اخبرنا محمد بن النضر بن مساور، قال انبانا جعفر بن سليمان، عن ثابت، عن انس، قال خطب ابو طلحة ام سليم فقالت والله ما مثلك يا ابا طلحة يرد ولكنك رجل كافر وانا امراة مسلمة ولا يحل لي ان اتزوجك فان تسلم فذاك مهري وما اسالك غيره . فاسلم فكان ذلك مهرها - قال ثابت فما سمعت بامراة قط كانت اكرم مهرا من ام سليم الاسلام - فدخل بها فولدت له
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، وعبد العزيز، - يعني ابن صهيب - عن انس بن مالك، ح وانبانا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن ثابت، وشعيب، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتق صفية وجعله صداقها
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( غزوہ خیبر کے موقع پر قید ہو کر آنے والی یہودی سردار حي بن اخطب کی بیٹی ) صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا، اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا، حدیث کے الفاظ راوی حدیث محمد کے ہیں۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا سفيان، ح وانبانا عمرو بن منصور، قال حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا سفيان، عن يونس، عن ابن الحبحاب، عن انس، اعتق رسول الله صلى الله عليه وسلم صفية وجعل عتقها مهرها . واللفظ لمحمد
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین لوگ ایسے ہیں جنہیں دوہرا اجر و ثواب ملے گا ۱؎، ایک وہ آدمی جس کے پاس لونڈی تھی اس نے اسے ادب و تمیز سکھائی اور بہترین طور و طریقہ بتایا، اسے تعلیم دی اور اچھی تعلیم دی پھر اسے آزاد کر دیا، اور اس سے شادی کر لی۔ دوسرا وہ غلام جو اپنے آقاؤں کا صحیح صحیح حق الخدمت ادا کرے، اور تیسرا وہ جو اہل کتاب میں سے ہو اور ایمان لے آئے“ ( ایسے لوگوں کو دوگنا ثواب ملے گا ) ۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا ابن ابي زايدة، قال حدثني صالح بن صالح، عن عامر، عن ابي بردة بن ابي موسى، عن ابي موسى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاثة يوتون اجرهم مرتين رجل كانت له امة فادبها فاحسن ادبها وعلمها فاحسن تعليمها ثم اعتقها وتزوجها وعبد يودي حق الله وحق مواليه ومومن اهل الكتاب
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنی باندی کو آزاد کیا اور پھر اس سے شادی کر لی، اسے دوہرا اجر ملے گا“۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابي زبيد، عبثر بن القاسم عن مطرف، عن عامر، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اعتق جاريته ثم تزوجها فله اجران
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے ( ام المؤمنین ) عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء» ”اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کر کے تم انصاف نہ رکھ سکو گے، تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو ( النساء: ۳ ) کے بارے میں سوال کیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بھانجے! اس سے وہ یتیم لڑکی مراد ہے جو اپنے ایسے ولی کی پرورش میں ہو جس کے مال میں وہ ساجھی ہو اور اس کی خوبصورتی اور اس کا مال اسے بھلا لگتا ہو، اس کی وجہ سے وہ اس سے بغیر مناسب مہر ادا کیے نکاح کرنا چاہتا ہو یعنی جتنا مہر اس کو اور کوئی دیتا اتنا بھی نہ دے رہا ہو، چنانچہ انہیں ان سے نکاح کرنے سے روک دیا گیا۔ اگر وہ انصاف سے کام لیں اور انہیں اونچے سے اونچا مہر ادا کریں تو نکاح کر سکتے ہیں ورنہ فرمان رسول ہے کہ ان کے علاوہ جو عورتیں انہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لیں۔ عروہ کہتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان یتیم بچیوں کے متعلق مسئلہ پوچھا تو اللہ نے آیت «ويستفتونك في النساء قل اللہ يفتيكم فيهن» سے لے کر «وترغبون أن تنكحوهن» ”آپ سے عورتوں کے بارے میں حکم پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجئیے کہ خود اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں حکم دے رہا ہے، اور قرآن کی وہ آیتیں جو تم پر ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھی جاتی ہیں جنہیں ان کا مقرر حق تم نہیں دیتے، اور انہیں اپنے نکاح میں لانے کی رغبت رکھتے ہو ( النساء: ۱۲۷ ) تک نازل فرمائی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے «وما يتلى عليك في الكتاب» جو فرمایا ہے اس سے پہلی آیت: «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء» مراد ہے۔ اور دوسری آیت میں فرمایا: «وترغبون أن تنكحوهن» تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو یتیم لڑکی تمہاری نگہداشت و پرورش میں ہوتی ہے اور کم مال والی اور کم خوبصورتی والی ہوتی ہے اسے تو تم نہیں چاہتے تو اس کی بنا پر تمہیں ان یتیم لڑکیوں سے بھی شادی کرنے سے روک دیا گیا ہے جن کا مال پانے کی خاطر تم ان سے شادی کرنے کی خواہش رکھتے ہو۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، وسليمان بن داود، عن ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة بن الزبير، انه سال عايشة عن قول الله، عز وجل { وان خفتم ان لا تقسطوا في اليتامى فانكحوا ما طاب لكم من النساء } قالت يا ابن اختي هي اليتيمة تكون في حجر وليها فتشاركه في ماله فيعجبه مالها وجمالها فيريد وليها ان يتزوجها بغير ان يقسط في صداقها فيعطيها مثل ما يعطيها غيره فنهوا ان ينكحوهن الا ان يقسطوا لهن ويبلغوا بهن اعلى سنتهن من الصداق فامروا ان ينكحوا ما طاب لهم من النساء سواهن قال عروة قالت عايشة ثم ان الناس استفتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد فيهن فانزل الله عز وجل { ويستفتونك في النساء قل الله يفتيكم فيهن } الى قوله { وترغبون ان تنكحوهن } قالت عايشة والذي ذكر الله تعالى انه يتلى في الكتاب الاية الاولى التي فيها { وان خفتم ان لا تقسطوا في اليتامى فانكحوا ما طاب لكم من النساء } قالت عايشة وقول الله في الاية الاخرى { وترغبون ان تنكحوهن } رغبة احدكم عن يتيمته التي تكون في حجره حين تكون قليلة المال والجمال فنهوا ان ينكحوا ما رغبوا فى مالها من يتامى النساء الا بالقسط من اجل رغبتهم عنهن
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس ( یعنی مہر ) کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہ اوقیہ اور ایک نش ۱؎ کا مہر باندھا جس کے پانچ سو درہم ہوئے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن يزيد بن عبد الله بن الهاد، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، قال سالت عايشة عن ذلك، فقالت فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم على اثنتى عشرة اوقية ونش وذلك خمسماية درهم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں باحیات تھے اس وقت مہر دس اوقیہ ۱؎ ہوتا تھا۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا داود بن قيس، عن موسى بن يسار، عن ابي هريرة، قال كان الصداق اذ كان فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم عشرة اواق
ابوالعجفاء کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگو سن لو عورتوں کے مہروں میں غلو نہ کرو کیونکہ اگر یہ زیادتی دنیا میں عزت کا باعث اور اللہ کے نزدیک پرہیزگاری کا سبب ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سب سے زیادہ حقدار تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اپنی کسی بیوی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ رکھا اور نہ ہی آپ کی کسی بیٹی کا اس سے زیادہ رکھا گیا، آدمی اپنی بیوی کا مہر زیادہ ادا کرتا ہے جس سے اس کے دل میں نفرت و عداوت پیدا ہو جاتی ہے یہاں تک کہ وہ کہنے لگتا ہے کہ میں تو تمہاری وجہ سے مصیبت میں پھنس گیا۔ ابوالعجفاء کہتے ہیں میں خالص عربی النسل لڑکا نہ تھا اس لیے میں «عرق القربہ» کا محاورہ سمجھ نہ سکا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے دوسری بات یہ بتائی کہ جب کوئی شخص تمہاری لڑائیوں میں مارا جاتا ہے یا مر جاتا ہے تو لوگ کہتے ہیں: وہ شہید کی حیثیت سے قتل ہوا یا شہادت کی موت مرا، جب کہ اس کا امکان موجود ہے کہ اس نے اپنی سواری کے پیچھے یا پہلو میں سونا چاندی لاد رکھا ہے اور مجاہدین کے ساتھ نکلنے سے اس کا مقصود تجارت ہو۔ تو تم ایسا نہ کہو بلکہ اس طرح کہو جس طرح کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے: جو شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے یا مر جائے تو وہ جنت میں جائے گا۔
اخبرنا علي بن حجر بن اياس بن مقاتل بن مشمرخ بن خالد، قال حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن ايوب، وابن، عون وسلمة بن علقمة وهشام بن حسان - دخل حديث بعضهم في بعض - عن محمد بن سيرين، قال سلمة عن ابن سيرين، نبيت عن ابي العجفاء، - وقال الاخرون عن محمد بن سيرين، عن ابي العجفاء، - قال قال عمر بن الخطاب الا لا تغلوا صدق النساء فانه لو كان مكرمة في الدنيا او تقوى عند الله عز وجل كان اولاكم به النبي صلى الله عليه وسلم ما اصدق رسول الله صلى الله عليه وسلم امراة من نسايه ولا اصدقت امراة من بناته اكثر من ثنتى عشرة اوقية وان الرجل ليغلي بصدقة امراته حتى يكون لها عداوة في نفسه وحتى يقول كلفت لكم علق القربة وكنت غلاما عربيا مولدا فلم ادر ما علق القربة قال واخرى يقولونها لمن قتل في مغازيكم او مات قتل فلان شهيدا او مات فلان شهيدا ولعله ان يكون قد اوقر عجز دابته او دف راحلته ذهبا او ورقا يطلب التجارة فلا تقولوا ذاكم ولكن قولوا كما قال النبي صلى الله عليه وسلم " من قتل في سبيل الله او مات فهو في الجنة
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس وقت نکاح کیا جب وہ سر زمین حبشہ میں تھیں، ان کی شادی نجاشی بادشاہ نے کرائی اور ان کا مہر چار ہزار ( درہم ) مقرر کیا۔ اور اپنے پاس سے تیار کر کے انہیں شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) بھیج دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس ( حبشہ میں ) کوئی چیز نہ بھیجی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( دوسری ) بیویوں کا مہر چار سو درہم تھا۔
اخبرنا العباس بن محمد الدوري، قال حدثنا علي بن الحسن بن شقيق، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن معمر، عن الزهري، عن عروة بن الزبير، عن ام حبيبة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوجها وهي بارض الحبشة زوجها النجاشي وامهرها اربعة الاف وجهزها من عنده وبعث بها مع شرحبيل ابن حسنة ولم يبعث اليها رسول الله صلى الله عليه وسلم بشىء وكان مهر نسايه اربعماية درهم
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان پر زردی کا اثر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے آپ کو بتایا کہ انہوں نے ایک انصاری عورت سے شادی کر لی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کتنا مہر دیا ہے اسے؟ انہوں نے کہا: ایک «نواۃ» ( کھجور کی گٹھلی ) برابر سونا ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ ۲؎ کرو چاہے ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ لمحمد - عن ابن القاسم، عن مالك، عن حميد الطويل، عن انس بن مالك، ان عبد الرحمن بن عوف، جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم وبه اثر الصفرة فساله رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبره انه تزوج امراة من الانصار فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كم سقت اليها " . قال زنة نواة من ذهب . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اولم ولو بشاة
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اس وقت میرے چہرے سے شادی کی بشاشت و خوشی ظاہر تھی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے، آپ نے پوچھا: اسے تم نے کتنا مہر دیا ہے؟ میں نے کہا «نواۃ» ( کھجور کی گٹھلی ) کے وزن برابر سونا۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا النضر بن شميل، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا عبد العزيز بن صهيب، قال سمعت انسا، يقول قال عبد الرحمن بن عوف راني رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلى بشاشة العرس فقلت تزوجت امراة من الانصار . قال " كم اصدقتها " . قال زنة نواة من ذهب
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت سے نکاح مہر پر کیا گیا ہو یا ( مہر کے علاوہ ) اسے عطیہ دیا گیا ہو یا نکاح سے پہلے عورت کو کسی چیز کے دینے کا وعدہ کیا گیا ہو تو یہ سب چیزیں عورت کا حق ہوں گی ( اور وہ پائے گی ) ۔ اور جو چیزیں نکاح منعقد ہو جانے کے بعد ہوں گی تو وہ جسے دے گا چیز اس کی ہو گی۔ اور آدمی اپنی بیٹی اور بہن کے سبب عزت و اکرام کا مستحق ہے“، ( حدیث کے ) الفاظ ( راوی حدیث ) عبداللہ بن محمد بن تمیم کے ہیں۔
اخبرنا هلال بن العلاء، قال حدثنا حجاج، قال ابن جريج حدثني عمرو بن شعيب، ح واخبرني عبد الله بن محمد بن تميم، قال سمعت حجاجا، يقول قال ابن جريج عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ايما امراة نكحت على صداق او حباء او عدة قبل عصمة النكاح فهو لها وما كان بعد عصمة النكاح فهو لمن اعطيه واحق ما اكرم عليه الرجل ابنته او اخته " . اللفظ لعبد الله
علقمہ اور اسود کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک ایسے شخص کا معاملہ پیش کیا گیا جس نے ایک عورت سے شادی تو کی لیکن اس کا مہر متعین نہ کیا اور اس سے خلوت سے پہلے مر گیا؟ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں سے پوچھو کہ کیا تم لوگوں کے سامنے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ) ایسا کوئی معاملہ پیش آیا ہے؟ لوگوں نے کہا: عبداللہ! ہم کوئی ایسی نظیر نہیں پاتے۔ تو انہوں نے کہا: میں اپنی عقل و رائے سے کہتا ہوں اگر درست ہو تو سمجھو کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔ اسے مہر مثل دیا جائے گا ۱؎، نہ کم اور نہ زیادہ، اسے میراث میں اس کا حق و حصہ دیا جائے گا اور اسے عدت بھی گزارنی ہو گی۔ ( یہ سن کر ) اشجع ( قبیلے کا ) ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: ہمارے یہاں کی ایک عورت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فیصلہ دیا تھا، اس عورت نے ایک شخص سے نکاح کیا، وہ شخص اس کے پاس ( خلوت میں ) جانے سے پہلے مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خاندان کی عورتوں کی مہر کے مطابق اس کی مہر کا فیصلہ کیا اور ( بتایا کہ ) اسے میراث بھی ملے گی اور عدت بھی گزارے گی۔ ( یہ سن کر ) عبداللہ بن مسعود نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا دیئے ( اور خوش ہو کر اللہ کا شکر ادا کیا کہ ان کا فیصلہ صحیح ہوا ) اور اللہ اکبر کہا ( یعنی اللہ کی بڑائی بیان کی ) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں کہ اس حدیث میں اسود کا ذکر زائدہ کے سوا کسی نے نہیں کیا ہے۔
اخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن، قال حدثنا ابو سعيد عبد الرحمن بن عبد الله، عن زايدة بن قدامة، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، والاسود، قالا اتي عبد الله في رجل تزوج امراة ولم يفرض لها فتوفي قبل ان يدخل بها فقال عبد الله سلوا هل تجدون فيها اثرا قالوا يا ابا عبد الرحمن ما نجد فيها يعني اثرا . قال اقول برايي فان كان صوابا فمن الله لها كمهر نسايها لا وكس ولا شطط ولها الميراث وعليها العدة فقام رجل من اشجع فقال في مثل هذا قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم فينا في امراة يقال لها بروع بنت واشق تزوجت رجلا فمات قبل ان يدخل بها فقضى لها رسول الله صلى الله عليه وسلم بمثل صداق نسايها ولها الميراث وعليها العدة . فرفع عبد الله يديه وكبر . قال ابو عبد الرحمن لا اعلم احدا قال في هذا الحديث الاسود غير زايدة
علقمہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے سامنے ایک ایسی عورت کا معاملہ پیش کیا گیا جس سے ایک شخص نے شادی کی اور اس سے خلوت سے پہلے مر گیا، اور اس کی مہر بھی متعین نہ کی تھی ( تو اس کے بارے میں کیا فیصلہ ہو گا؟ ) لوگ ان کے پاس اس مسئلہ کو پوچھنے کے لیے تقریباً مہینہ بھر سے آتے جاتے رہے، مگر وہ انہیں فتویٰ نہ دیتے۔ پھر ایک دن فرمایا: میری سمجھ میں آتا ہے کہ اس عورت کا مہر اسی کے گھر و خاندان کی عورتوں جیسا ہو گا، نہ کم ہو گا، اور نہ ہی زیادہ، اسے میراث بھی ملے گی اور اسے عدت میں بھی بیٹھنا ہو گا، ( یہ سن کر ) معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے معاملے میں ایسا ہی فیصلہ دیا تھا جیسا آپ نے دیا ہے۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا يزيد، قال حدثنا سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، انه اتي في امراة تزوجها رجل فمات عنها ولم يفرض لها صداقا ولم يدخل بها فاختلفوا اليه قريبا من شهر لا يفتيهم ثم قال ارى لها صداق نسايها لا وكس ولا شطط ولها الميراث وعليها العدة . فشهد معقل بن سنان الاشجعي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى في بروع بنت واشق بمثل ما قضيت