Loading...

Loading...
کتب
۱۹۳ احادیث
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک ایسا شخص جس نے ایک عورت سے شادی کی پھر مر گیا نہ اس سے خلوت کی تھی اور نہ ہی اس کا مہر مقرر کیا تھا۔ تو اس کے بارے میں انہوں نے فرمایا: اس عورت کا مہر ( مہر مثل ) ہو گا۔ اسے عدت گزارنی ہو گی اور اسے میراث ملے گی۔ ( یہ سن کر ) معقل بن سنان نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بروع بنت واشق کے معاملہ میں ایسا ہی فیصلہ کرتے سنا ہے۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن فراس، عن الشعبي، عن مسروق، عن عبد الله، في رجل تزوج امراة فمات ولم يدخل بها ولم يفرض لها قال لها الصداق وعليها العدة ولها الميراث . فقال معقل بن سنان فقد سمعت النبي صلى الله عليه وسلم قضى به في بروع بنت واشق
علقمہ نے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، مثله
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس کچھ لوگ آئے اور انہوں نے کہا: ہم میں سے ایک شخص نے ایک عورت سے شادی کی، نہ اس کا مہر مقرر کیا، نہ اس سے خلوت کی اور مر گیا ( اس معاملے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ ) ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑا ہے ( یعنی آپ کے انتقال کے بعد ) اس سے زیادہ ٹیڑھا اور مشکل سوال مجھ سے نہیں کیا گیا ہے۔ تو تم لوگ میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ ( اور اس سے فتویٰ پوچھ لو ) ، لیکن وہ لوگ اس مسئلہ کے سلسلے میں مہینہ بھر ان کا پیچھا کرتے رہے بالآخر انہوں نے ان سے کہا: اگر آپ سے نہ پوچھیں تو پھر کس سے پوچھیں! آپ اس شہر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے اور جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں، آپ کے سوا ہم کسی اور کو نہیں پاتے۔ انہوں نے کہا: ( جب ایسی بات ہے ) تو میں اپنی عقل و رائے سے اس بارے میں بتاتا ہوں، اگر میری بات درست ہو تو سمجھو یہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کی جانب سے ہے اور اگر غلط ہو تو سمجھو کہ وہ میری اور شیطان کی جانب سے ہے، اللہ اور اس کے رسول اس سے بری ہیں، میں اس کے لیے مہر مثل کا فتویٰ دیتا ہوں نہ کم اور نہ زیادہ، اسے میراث ملے گی اور وہ چار مہینہ دس دن کی عدت گزارے گی۔ یہ مسئلہ اشجع قبیلہ کے چند لوگوں نے سنا تو کھڑے ہو کر کہنے لگے: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے ویسا ہی فیصلہ کیا ہے جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری قوم کی ایک عورت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے معاملے میں کیا تھا۔ ( یہ سن کر ) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ( اپنا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے موافق ہو جانے کے باعث ) اتنا زیادہ خوش ہوئے کہ اسلام لانے کے وقت کی خوشی کے سوا اس سے زیادہ خوش کبھی نہ دیکھے گئے تھے۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا علي بن مسهر، عن داود بن ابي هند، عن الشعبي، عن علقمة، عن عبد الله، انه اتاه قوم فقالوا ان رجلا منا تزوج امراة ولم يفرض لها صداقا ولم يجمعها اليه حتى مات . فقال عبد الله ما سيلت منذ فارقت رسول الله صلى الله عليه وسلم اشد على من هذه فاتوا غيري . فاختلفوا اليه فيها شهرا ثم قالوا له في اخر ذلك من نسال ان لم نسالك وانت من جلة اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم بهذا البلد ولا نجد غيرك . قال ساقول فيها بجهد رايي فان كان صوابا فمن الله وحده لا شريك له وان كان خطا فمني ومن الشيطان والله ورسوله منه براء ارى ان اجعل لها صداق نسايها لا وكس ولا شطط ولها الميراث وعليها العدة اربعة اشهر وعشرا . قال وذلك بسمع اناس من اشجع فقاموا فقالوا نشهد انك قضيت بما قضى به رسول الله صلى الله عليه وسلم في امراة منا يقال لها بروع بنت واشق . قال فما ريي عبد الله فرح فرحة يوميذ الا باسلامه
سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے کہنے لگی: اللہ کے رسول! میں نے اپنی ذات کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے ( یہ کہہ کر ) وہ کافی دیر کھڑی رہی تو ایک شخص اٹھا اور آپ سے عرض کیا ( اللہ کے رسول! ) اگر آپ کو اسے رکھنے کی ضرورت نہ ہو تو آپ میری شادی اس سے کرا دیجئیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس ( بطور مہر دینے کے لیے ) کچھ ہے؟“ اس نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں ہے، آپ نے فرمایا: ”جاؤ ڈھونڈو اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہو ( پاؤ تو اسے لے آؤ ) ، اس نے ( جا کر ) ڈھونڈا، اسے کچھ بھی نہ ملا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: کیا تمہارے پاس قرآن کا بھی کچھ علم ہے؟ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، اس نے ان سورتوں کا نام لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( جاؤ ) میں نے تمہارا نکاح اس عورت کے ساتھ اس قرآن کے عوض کر دیا جو تمہیں یاد ہے“ ( تم اسے قرآن پڑھا دو اور یاد کرا دو ) ۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جاءته امراة فقالت يا رسول الله اني قد وهبت نفسي لك . فقامت قياما طويلا فقام رجل فقال زوجنيها ان لم يكن لك بها حاجة . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل عندك شىء " . قال ما اجد شييا . قال " التمس ولو خاتما من حديد " . فالتمس فلم يجد شييا فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل معك من القران شىء " . قال نعم سورة كذا وسورة كذا . لسور سماها . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد زوجتكها على ما معك من القران
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا فرمایا: اگر اس کی بیوی نے لونڈی کو اس کے لیے حلال کیا تھا تو میں اسے ( آدمی کو ) سو کوڑے ماروں گا ۱؎، اور اگر اس ( کی بیوی ) نے حلال نہیں کیا تھا تو میں اسے سنگسار کر دوں گا ۲؎۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن ابي بشر، عن خالد بن عرفطة، عن حبيب بن سالم، عن النعمان بن بشير، عن النبي صلى الله عليه وسلم في الرجل ياتي جارية امراته قال " ان كانت احلتها له جلدته ماية وان لم تكن احلتها له رجمته
حبیب بن سالم کہتے ہیں کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے سامنے ایک ایسے شخص کا مقدمہ پیش ہوا جس کا نام عبدالرحمٰن بن حنین تھا اور لوگ اسے ( برے لقب ) «قرقور» ۱؎ کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت ( زنا ) کر بیٹھا، یہ معاملہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: میں اس معاملے میں ویسا ہی فیصلہ دوں گا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا تھا، اگر بیوی نے اپنی باندی کو تیرے لیے حلال کر دیا تھا تب تو ( تعزیراً ) تجھے کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اسے تیرے لیے حلال نہیں کیا تھا تو تجھے سنگسار کر دوں گا۔ ( پوچھنے پر پتہ لگا کہ ) بیوی نے وہ لونڈی اس کے لیے حلال کر دی تھی تو اسے سو کوڑے مارے گئے۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے حبیب بن سالم کو ( خط ) لکھا تو انہوں نے مجھے یہی حدیث لکھ کر بھیجی۔
اخبرنا محمد بن معمر، قال حدثنا حبان، قال حدثنا ابان، عن قتادة، عن خالد بن عرفطة، عن حبيب بن سالم، عن النعمان بن بشير، ان رجلا، يقال له عبد الرحمن بن حنين وينبز قرقورا انه وقع بجارية امراته فرفع الى النعمان بن بشير فقال لاقضين فيها بقضية رسول الله صلى الله عليه وسلم ان كانت احلتها لك جلدتك وان لم تكن احلتها لك رجمتك بالحجارة فكانت احلتها له فجلد ماية . قال قتادة فكتبت الى حبيب بن سالم فكتب الى بهذا
حبیب بن سالم سے روایت ہے کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا تھا فرمایا: ”اگر اس کی بیوی نے اسے اس کی اجازت دے دی تھی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر اس نے اس کے لیے اسے حلال نہ کیا ہو گا تو میں اسے ( یعنی شوہر کو ) سنگسار کر دوں گا“۔
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا عارم، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن حبيب بن سالم، عن النعمان بن بشير، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في رجل وقع بجارية امراته " ان كانت احلتها له فاجلده ماية وان لم تكن احلتها له فارجمه
سلمہ بن محبق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا فیصلہ جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا تھا ( اس طرح ) فرمایا: اگر اس نے اس کے ساتھ زبردستی زنا کی ہے تو وہ لونڈی آزاد ہو جائے گی اور اس شخص کو اس لونڈی کی مالکہ کو اس جیسی لونڈی دینی ہو گی اور اگر ( مرد نے زبردستی نہیں کی بلکہ ) لونڈی کی رضا مندی سے یہ کام ہوا تو یہ لونڈی اس ( مرد ) کی ہو جائے گی اور اس مرد کو لونڈی کی مالکہ کو اس جیسی لونڈی دینی ہو گی۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا عبد الرزاق، قال حدثنا معمر، عن قتادة، عن الحسن، عن قبيصة بن حريث، عن سلمة بن المحبق، قال قضى النبي صلى الله عليه وسلم في رجل وطي جارية امراته " ان كان استكرهها فهي حرة وعليه لسيدتها مثلها وان كانت طاوعته فهي له وعليه لسيدتها مثلها
سلمہ بن محبق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا، یہ قضیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اگر اس نے اس لونڈی کے ساتھ زنا بالجبر ( زبردستی زنا ) کیا ہے تو یہ لونڈی اس کے مال سے آزاد ہو گی اور اسے اس جیسی دوسری لونڈی اس کی مالکہ کو دینی ہو گی اور اگر لونڈی نے اس کام میں مرد کا ساتھ دیا ہے ( اور اس کی خوشی و رضا مندی سے یہ کام ہوا ہے ) تو یہ لونڈی اپنی مالکہ ( یعنی بیوی ) ہی کی رہے گی اور اس ( شوہر ) کے مال سے اس جیسی دوسری لونڈی ( خرید کر ) اس کی مالکہ کو ملے گی“ ( گویا یہ پرائی عورت سے جماع کرنے کا جرمانہ ہے ) ۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن بزيع، قال حدثنا يزيد، قال حدثنا سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن سلمة بن المحبق، ان رجلا، غشي جارية لامراته فرفع ذلك الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ان كان استكرهها فهي حرة من ماله وعليه الشروى لسيدتها وان كانت طاوعته فهي لسيدتها ومثلها من ماله
علی رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان کو اطلاع ملی کہ ایک شخص ۱؎ ہے جو متعہ میں کچھ حرج اور قباحت نہیں سمجھتا۔ علی رضی اللہ عنہ نے ( اس سے ) کہا تم گمراہ ہو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن متعہ اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا ہے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، عن عبيد الله بن عمر، قال حدثني الزهري، عن الحسن، وعبد الله، ابنى محمد عن ابيهما، ان عليا، بلغه ان رجلا، لا يرى بالمتعة باسا فقال انك تايه انه نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عنها وعن لحوم الحمر الاهلية يوم خيبر
علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے روک دیا ہے۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - قال انبانا ابن القاسم، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عبد الله، والحسن، ابنى محمد بن علي عن ابيهما، عن علي بن ابي طالب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن متعة النساء يوم خيبر وعن لحوم الحمر الانسية
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں سے متعہ کرنے سے روک دیا ہے، ابن المثنی کہتے ہیں: حنین کے دن منع کیا ہے اور کہتے ہیں: عبدالوہاب نے اپنی کتاب سے ایسا ہی مجھ سے بیان کیا ہے۔
اخبرنا عمرو بن علي، ومحمد بن بشار، ومحمد بن المثنى، قالوا انبانا عبد الوهاب، قال سمعت يحيى بن سعيد، يقول اخبرني مالك بن انس، ان ابن شهاب، اخبره ان عبد الله والحسن ابنى محمد بن علي اخبراه ان اباهما محمد بن علي اخبرهما ان علي بن ابي طالب رضى الله عنه قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم خيبر عن متعة النساء . قال ابن المثنى يوم حنين وقال هكذا حدثنا عبد الوهاب من كتابه
سبرہ جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کرنے کی اجازت دی تو میں اور ایک اور شخص ( دونوں ) بنی عامر قبیلے کی ایک عورت کے پاس گئے اور ہم اپنے آپ کو اس پر پیش کیا اس نے کہا: تم مجھے کیا دو گے؟ میں نے کہا: میں تم کو اپنی چادر دے دوں گا، میرے ساتھی نے بھی یہی کہا اور میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے اچھی تھی، ( لیکن ) میں اس سے زیادہ جوان ( تگڑا ) تھا، وہ جب میرے ساتھی کی چادر دیکھتی تو وہ اسے بڑی اچھی لگتی ( اس کی طرف لپکتی ) اور جب مجھے دیکھتی تو میں اسے بہت پسند آتا تھا۔ پھر اس نے ( مجھ سے ) کہا: تم اور تمہاری چادر میرے لیے کافی ہے۔ تو میں اس کے ساتھ تین دن رہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس متعہ والی عورتوں میں سے کوئی عورت ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اسے چھوڑ دے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن الربيع بن سبرة الجهني، عن ابيه، قال اذن رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمتعة فانطلقت انا ورجل الى امراة من بني عامر فعرضنا عليها انفسنا فقالت ما تعطيني فقلت ردايي . وقال صاحبي ردايي . وكان رداء صاحبي اجود من ردايي وكنت اشب منه فاذا نظرت الى رداء صاحبي اعجبها واذا نظرت الى اعجبتها ثم قالت انت ورداوك يكفيني . فمكثت معها ثلاثا ثم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من كان عنده من هذه النساء اللاتي يتمتع فليخل سبيلها
محمد بن حاطب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال اور حرام میں فرق یہ ہے کہ نکاح میں دف بجایا جائے اور اس کا اعلان کیا جائے ۱؎“۔
اخبرنا مجاهد بن موسى، قال حدثنا هشيم، عن ابي بلج، عن محمد بن حاطب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فصل ما بين الحلال والحرام الدف والصوت في النكاح
محمد بن حاطب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال و حرام ( نکاح ) میں تمیز پیدا کرنے والی چیز آواز ہے“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، عن شعبة، عن ابي بلج، قال سمعت محمد بن حاطب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان فصل ما بين الحلال والحرام الصوت
حسن رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عقیل بن ابی طالب نے بنو جثم کی ایک عورت سے شادی کی تو انہیں «بالرفاء والبنين» میل ملاپ سے رہنے اور صاحب اولاد ہونے کی دعا دی گئی۔ تو انہوں نے کہا: جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس موقع پر ) کہا ہے اسی طرح تم بھی کہو، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ) «بارك اللہ فيكم وبارك لكم» ”اللہ تعالیٰ تمہاری ہر چیز میں برکت دے اور تمہیں برکت والا کرے“۔
حدثنا عمرو بن علي، ومحمد بن عبد الاعلى، قالا حدثنا خالد، عن اشعث، عن الحسن، قال تزوج عقيل بن ابي طالب امراة من بني جشم فقيل له بالرفاء والبنين . قال قولوا كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بارك الله فيكم وبارك لكم
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن ( عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ) کے کپڑے پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: کھجور کی گٹھلی کے وزن برابر سونا دے کر میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے۔ آپ نے فرمایا: «بارك اللہ لك» ”اللہ تمہیں اس نکاح میں برکت دے“ ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی ہو۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى على عبد الرحمن اثر صفرة فقال " ما هذا " . قال تزوجت امراة على وزن نواة من ذهب . فقال " بارك الله لك اولم ولو بشاة
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے اور ان پر زعفران کے رنگ کا اثر تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے ( یہ اسی کا اثر و نشان ہے ) ۔ آپ نے پوچھا؟ مہر کتنا دیا؟ کہا: کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونا، آپ نے فرمایا: ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔
اخبرنا ابو بكر بن نافع، قال حدثنا بهز بن اسد، قال حدثنا حماد، قال حدثنا ثابت، عن انس، ان عبد الرحمن بن عوف، جاء وعليه ردع من زعفران فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مهيم " . قال تزوجت امراة . قال " وما اصدقت " . قال وزن نواة من ذهب . قال " اولم ولو بشاة
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر زردی کا اثر دیکھا ( مجھ سے مراد عبدالرحمٰن بن عوف ہیں ) پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے ( یہ اسی کا نشان ہے ) ، آپ نے فرمایا: ”ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہو“۔
اخبرني احمد بن يحيى بن الوزير بن سليمان، قال حدثنا سعيد بن كثير بن عفير، قال انبانا سليمان بن بلال، عن يحيى بن سعيد، عن حميد الطويل، عن انس، قال راى رسول الله صلى الله عليه وسلم على - كانه يعني عبد الرحمن بن عوف - اثر صفرة فقال " مهيم " . قال تزوجت امراة من الانصار . فقال " اولم ولو بشاة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مجھے ملنے کا موقع عنایت فرمائیے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے کچھ ( تحفہ ) دو“، میں نے کہا: میرے پاس تو کچھ ہے نہیں، آپ نے فرمایا: ”تیری حطمی زرہ کہاں ہے؟“ میں نے کہا: یہ تو میرے پاس ہے، آپ نے فرمایا: ”وہی اسے دے دو“۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا هشام بن عبد الملك، قال حدثنا حماد، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان عليا، قال تزوجت فاطمة رضى الله عنها فقلت يا رسول الله ابن بي . قال " اعطها شييا " . قلت ما عندي من شىء . قال " فاين درعك الحطمية " . قلت هي عندي . قال " فاعطها اياه