Loading...

Loading...
کتب
۱۹۳ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ ”اسے ( عطیہ ) دو“، انہوں نے کہا: میرے پاس نہیں ہے، آپ نے فرمایا: ”تمہاری حطمی زرہ کہاں ہے ( وہی دے دو ) “۔
اخبرنا هارون بن اسحاق، عن عبدة، عن سعيد، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال لما تزوج علي رضى الله عنه فاطمة رضى الله عنها قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " اعطها شييا " . قال ما عندي . قال " فاين درعك الحطمية
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شوال کے مہینے میں شادی کی اور شوال کے مہینے ہی میں میری رخصتی ہوئی، ( لوگ اس مہینے میں شادی بیاہ کو برا سمجھتے ہیں ) لیکن میں پوچھتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں مجھ سے زیادہ کون بیوی آپ کو محبوب اور پسندیدہ تھی۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا وكيع، قال حدثنا سفيان، عن اسماعيل بن امية، عن عبد الله بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت تزوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم في شوال وادخلت عليه في شوال فاى نسايه كان احظى عنده مني
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی اس وقت میں چھ برس کی تھی اور جب میری رخصتی ہوئی تو اس وقت میں نو برس کی ہو چکی تھی اور بچیوں ( گڑیوں ) کے ساتھ کھیلا کرتی تھی۔
اخبرنا محمد بن ادم، عن عبدة، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، قالت تزوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا بنت ست ودخل على وانا بنت تسع سنين وكنت العب بالبنات
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ سال کی عمر میں مجھ سے شادی کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ان کی رخصتی نو سال کی عمر میں ہوئی۔
اخبرنا احمد بن سعد بن الحكم بن ابي مريم، قال حدثنا عمي، قال حدثنا يحيى بن ايوب، قال اخبرني عمارة بن غزية، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عايشة، قالت تزوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي بنت ست سنين وبنى بها وهي بنت تسع
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر فتح کرنے کے ارادے سے نکلے، ہم نے نماز فجر خیبر کے قریب اندھیرے ہی میں پڑھی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بھی سوار ہوئے اور میں ابوطلحہ کی سواری پر ان کے پیچھے بیٹھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کے تنگ راستے سے گزرنے لگے تو میرا گھٹنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے چھونے اور ٹکرانے لگا، ( اور یہ واقعہ میری نظروں میں اس طرح تازہ ہے گویا کہ ) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کی سفیدی ( و چمک ) دیکھ رہا ہوں، جب آپ بستی میں داخل ہوئے تو تین بار کہا: «اللہ أكبر خربت خيبر إنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين» ”اللہ بہت بڑا ہے، خیبر کی بربادی آئی، جب ہم کسی قوم کی آبادی ( و حدود ) میں داخل ہو جاتے ہیں تو اس پر ڈرائی گئی قوم کی بدبختی کی صبح نمودار ہو جاتی ہے ۱؎۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ( جب ہم خیبر میں داخل ہوئے ) لوگ اپنے کاموں پر جانے کے لیے نکل رہے تھے۔ ( عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں: ) لوگ کہنے لگے: محمد ( آ گئے ) ہیں ( اور بعض کی روایت میں «الخمیس» ۲؎ کا لفظ آیا ہے ) یعنی لشکر آ گیا ہے۔ ( بہرحال ) ہم نے خیبر طاقت کے زور پر فتح کر لیا، قیدی اکٹھا کئے گئے، دحیہ کلبی نے آ کر کہا: اللہ کے نبی! ایک قیدی لونڈی مجھے دے دیجئیے؟ آپ نے فرمایا: جاؤ ایک لونڈی لے لو، تو انہوں نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو لے لیا۔ ( ان کے لے لینے کے بعد ) ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے نبی! آپ نے دحیہ کو صفیہ بنت حیی کو دے دیا، وہ بنو قریظہ اور بنو نضیر گھرانے کی سیدہ ( شہزادی ) ہے، وہ تو صرف آپ کے لیے موزوں و مناسب ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے ( دحیہ کو ) بلاؤ، اسے ( صفیہ کو ) لے کر آئیں“، جب وہ انہیں لے کر آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک نظر دیکھا تو فرمایا: ”تم انہیں چھوڑ کر کوئی دوسری باندی لے لو“۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے ان سے شادی کر لی، ثابت نے ان سے ( یعنی انس سے ) پوچھا: اے ابوحمزہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کتنا مہر دیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ نے انہیں آزاد کر دیا اور ان سے شادی کر لی ( یہی آزادی ان کا مہر تھا ) ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ راستے ہی میں تھے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے صفیہ کو آراستہ و پیراستہ کر کے رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا دیا۔ آپ نے صبح ایک دولہے کی حیثیت سے کی اور فرمایا: ”جس کے پاس جو کچھ ( کھانے کی چیز ) ہو وہ لے آئے“، چمڑا ( دستر خوان ) بچھا یا گیا۔ کوئی پنیر لایا، کوئی کھجور اور کوئی گھی لایا اور لوگوں نے سب کو ملا کر ایک کر دیا ( اور سب نے مل کر کھایا ) یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔
اخبرنا زياد بن ايوب، قال حدثنا اسماعيل ابن علية، قال حدثنا عبد العزيز بن صهيب، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم غزا خيبر فصلينا عندها الغداة بغلس فركب النبي صلى الله عليه وسلم وركب ابو طلحة وانا رديف ابي طلحة فاخذ نبي الله صلى الله عليه وسلم في زقاق خيبر وان ركبتي لتمس فخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم واني لارى بياض فخذ نبي الله صلى الله عليه وسلم فلما دخل القرية قال " الله اكبر خربت خيبر انا اذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين " . قالها ثلاث مرات قال وخرج القوم الى اعمالهم - قال عبد العزيز - فقالوا محمد - قال عبد العزيز وقال بعض اصحابنا والخميس - واصبناها عنوة فجمع السبى فجاء دحية فقال يا نبي الله اعطني جارية من السبى . قال " اذهب فخذ جارية " . فاخذ صفية بنت حيى فجاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا نبي الله اعطيت دحية صفية بنت حيى سيدة قريظة والنضير ما تصلح الا لك . قال " ادعوه بها " . فجاء بها فلما نظر اليها النبي صلى الله عليه وسلم قال " خذ جارية من السبى غيرها " . قال وان نبي الله صلى الله عليه وسلم اعتقها وتزوجها . فقال له ثابت يا ابا حمزة ما اصدقها قال نفسها اعتقها وتزوجها - قال - حتى اذا كان بالطريق جهزتها له ام سليم فاهدتها اليه من الليل فاصبح عروسا قال " من كان عنده شىء فليجي به " . قال وبسط نطعا فجعل الرجل يجيء بالاقط وجعل الرجل يجيء بالتمر وجعل الرجل يجيء بالسمن فحاسوا حيسة فكانت وليمة رسول الله صلى الله عليه وسلم
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا کے ساتھ خیبر کے راستے میں تین دن گزارے، پھر ان کا شمار ان عورتوں میں ہو گیا جن پر پردہ فرض ہو گیا یعنی صفیہ آپ کی ازواج مطہرات میں ہو گئیں۔
اخبرنا محمد بن نصر، قال حدثنا ايوب بن سليمان، قال حدثني ابو بكر بن ابي اويس، عن سليمان بن بلال، عن يحيى، عن حميد، انه سمع انسا، يقول ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اقام على صفية بنت حيى بن اخطب بطريق خيبر ثلاثة ايام حين عرس بها ثم كانت فيمن ضرب عليها الحجاب
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ طیبہ کے درمیان صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کے ساتھ تین ( عروسی ) دن گزارے، میں نے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمے کے لیے بلایا، اس ولیمے میں روٹی گوشت نہیں تھا، آپ نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور اس ( چمڑے کے ) دستر خوان پر کھجوریں، پنیر اور گھی ڈالے گئے ( اور انہیں ملا کر پیش کر دیا گیا ) یہی آپ کا ولیمہ تھا۔ لوگوں نے کہا: صفیہ امہات المؤمنین میں سے ایک ہو گئیں یا ابھی آپ کی لونڈی ہی رہیں؟ پھر لوگ کہنے لگے: اگر آپ نے انہیں پردے میں رکھا تو سمجھو کہ یہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر آپ نے انہیں پردے میں نہ بٹھایا تو سمجھو کہ یہ آپ کی باندی ہیں۔ پھر جب آپ نے کوچ فرمایا تو ان کے لیے کجاوے پر آپ کے پیچھے بچھونا بچھایا گیا اور ان کے اور لوگوں کے درمیان پردہ تان دیا گیا ( کہ دوسرے لوگ انہیں نہ دیکھ سکیں ) ۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل، قال حدثنا حميد، عن انس، قال اقام النبي صلى الله عليه وسلم بين خيبر والمدينة ثلاثا يبني بصفية بنت حيى فدعوت المسلمين الى وليمته فما كان فيها من خبز ولا لحم امر بالانطاع والقى عليها من التمر والاقط والسمن فكانت وليمته فقال المسلمون احدى امهات المومنين او مما ملكت يمينه فقالوا ان حجبها فهي من امهات المومنين وان لم يحجبها فهي مما ملكت يمينه فلما ارتحل وطا لها خلفه ومد الحجاب بينها وبين الناس
عامر بن سعد ابی وقاص کہتے ہیں کہ میں ایک شادی میں قرظہ بن کعب اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچا، اتفاق سے وہاں لڑکیاں گا رہی تھیں۔ میں نے ان سے کہا: آپ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور بدری بھی ہیں، آپ کے سامنے یہ سب کیا جا رہا ہے ( اور آپ لوگ روکتے نہیں ہیں ) ؟ انہوں نے ( جواب میں ) کہا: آپ چاہیں تو بیٹھیں جیسے ہم سن رہے ہیں آپ بھی سنیں اور چاہیں تو یہاں سے ڈول جائیں، شادی کے موقع پر ہمیں گانے بجانے کی اجازت دی گئی ہے ۱؎۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا شريك، عن ابي اسحاق، عن عامر بن سعد، قال دخلت على قرظة بن كعب وابي مسعود الانصاري في عرس واذا جوار يغنين فقلت انتما صاحبا رسول الله صلى الله عليه وسلم ومن اهل بدر يفعل هذا عندكم . فقالا اجلس ان شيت فاسمع معنا وان شيت اذهب قد رخص لنا في اللهو عند العرس
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز میں روئیں دار چادر، مشک، اذخر ( گھاس ) بھری ہوئی تکیہ دیا ۱؎۔
اخبرنا نصير بن الفرج، قال حدثنا ابو اسامة، عن زايدة، قال حدثنا عطاء بن السايب، عن ابيه، عن علي، رضى الله عنه قال جهز رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة في خميل وقربة ووسادة حشوها اذخر
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بچھونا مرد کے لیے ہو، ایک بیوی کے لیے ہو اور تیسرا مہمان کے لیے اور ( اگر چوتھا ہو گا تو ) چوتھا شیطان کے لیے ہو گا“ ۱؎۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، قال انبانا ابن وهب، قال اخبرني ابو هاني الخولاني، انه سمع ابا عبد الرحمن الحبلي، يقول عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " فراش للرجل وفراش لاهله والثالث للضيف والرابع للشيطان
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: کیا تم نے شادی کی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے گدے و غالیچے بھی بنائے ہیں؟“ میں نے کہا: ہمیں کہاں یہ گدے اور غالیچے میسر ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”عنقریب تمہارے پاس یہ ہوں گے“ ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن ابن المنكدر، عن جابر، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل تزوجت " . قلت نعم . قال " هل اتخذتم انماطا " . قلت وانى لنا انماط قال " انها ستكون
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا اور اپنی بیوی کے پاس گئے اور میری ماں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے حیس بنایا، میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ سے عرض کیا: میری والدہ ماجدہ آپ کو سلام پیش کرتی ہیں اور کہتی ہیں: یہ ہماری طرف سے آپ کے لیے تھوڑا سا تحفہ ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے رکھ دو اور جاؤ فلاں فلاں کو بلا لاؤ، آپ نے ان کے نام لیے اور ( راستے میں ) جو بھی ملے اسے بھی بلا لو“۔ راوی جعد کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: وہ لوگ کتنے رہے ہوں گے؟ کہا: تقریباً تین سو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس آدمیوں کا حلقہ ( دائرہ ) بنا کر کھاؤ، اور ہر شخص اپنے قریب ( یعنی سامنے ) سے کھائے“، تو ان لوگوں نے ( ایسے ہی کر کے ) کھایا اور سب آسودہ ہو گئے، ( دس آدمیوں کی ) ایک جماعت کھا کر نکلی تو ( دس آدمیوں کی ) دوسری جماعت آئی ( اور اس نے کھایا اور وہ آسودہ ہوئی، اس طرح لوگ آتے گئے اور پیٹ بھر کر کھاتے اور نکلتے گئے، جب سب کھا چکے تو ) مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انس! اٹھا لو ( وہ کھانا جو لائے تھے ) تو میں نے اٹھا لیا۔ مگر میں کہہ نہیں سکتا کہ جب میں نے لا کر رکھا تھا تب زیادہ تھا یا جب اٹھایا تب ( زیادہ تھا ) ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا جعفر، - وهو ابن سليمان - عن الجعد ابي عثمان، عن انس بن مالك، قال تزوج رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل باهله - قال - وصنعت امي ام سليم حيسا - قال - فذهبت به الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت ان امي تقريك السلام وتقول لك ان هذا لك منا قليل . قال " ضعه - ثم قال - اذهب فادع فلانا وفلانا ومن لقيت " . وسمى رجالا فدعوت من سمى ومن لقيته قلت لانس عدة كم كانوا قال يعني زهاء ثلاثماية . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليتحلق عشرة عشرة فلياكل كل انسان مما يليه " . فاكلوا حتى شبعوا فخرجت طايفة ودخلت طايفة قال لي " يا انس ارفع " . فرفعت فما ادري حين رفعت كان اكثر ام حين وضعت
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور انصار کے درمیان مواخات یعنی بھائی چارہ قائم کر دیا، تو سعد بن ربیع اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا۔ سعد ( انصاری ) رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرے پاس مال ہے اس کا آدھا تمہارا ہے اور آدھا میرا اور میری دو بیویاں ہیں تو دیکھو ان میں سے جو تمہیں زیادہ اچھی لگے اسے میں طلاق دے دیتا ہوں، جب وہ عدت گزار کر پاک و صاف ہو جائے تو تم اس سے شادی کر لو۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: اللہ تمہاری بیویوں اور تمہارے مال میں تمہیں برکت عطا کرے۔ مجھے تو تم بازار کی راہ دکھا دو، ( پھر وہ بازار گئے ) اور گھی اور پنیر نفع میں کما کر لائے بغیر نہ لوٹے۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر زردی کا نشان دیکھا تو کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میں نے ایک انصاری لڑکی سے شادی کی ہے تو آپ نے فرمایا: ”ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کا سہی“۔
اخبرنا احمد بن يحيى بن الوزير، قال حدثنا سعيد بن كثير بن عفير، قال اخبرني سليمان بن بلال، عن يحيى بن سعيد، عن حميد الطويل، عن انس، انه سمعه يقول اخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بين قريش والانصار فاخى بين سعد بن الربيع وعبد الرحمن بن عوف فقال له سعد ان لي مالا فهو بيني وبينك شطران ولي امراتان فانظر ايهما احب اليك فانا اطلقها فاذا حلت فتزوجها . قال بارك الله لك في اهلك ومالك دلوني - اى - على السوق . فلم يرجع حتى رجع بسمن واقط قد افضله . قال وراى رسول الله صلى الله عليه وسلم على اثر صفرة فقال " مهيم " . فقلت تزوجت امراة من الانصار . فقال " اولم ولو بشاة