Loading...

Loading...
کتب
۱۱۱ احادیث
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ اور اس میں بھول چوک اور کمی و بیشی کا شائبہ تک نہ ہو۔ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا، دشمن کے قریب پہنچا، قطع نظر اس کے کہ تیر دشمن کو لگایا نشانہ خطا کر گیا، تو اسے ایک غلام آزاد کرنے کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا، اور جس نے ایک مسلمان غلام آزاد کیا تو غلام کا ہر عضو ( آزاد کرنے والے کے ) ہر عضو کے لیے جہنم کی آگ سے نجات کا فدیہ بن جائے گا، اور جو شخص اللہ کی راہ میں ( لڑتے لڑتے ) بوڑھا ہو گیا، تو یہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لیے نور بن جائے گا“۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا المعتمر، قال سمعت خالدا، - يعني ابن زيد ابا عبد الرحمن الشامي - يحدث عن شرحبيل بن السمط، عن عمرو بن عبسة، قال قلت يا عمرو بن عبسة حدثنا حديثا، سمعته من، رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس فيه نسيان ولا تنقص . قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من رمى بسهم في سبيل الله فبلغ العدو اخطا او اصاب كان له كعدل رقبة ومن اعتق رقبة مسلمة كان فداء كل عضو منه عضوا منه من نار جهنم ومن شاب شيبة في سبيل الله كانت له نورا يوم القيامة
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ایک تیر کے ذریعہ تین طرح کے لوگوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ ( پہلا ) تیر کا بنانے والا جس نے اچھی نیت سے تیر تیار کیا ہو، ( دوسرا ) تیر کا چلانے والا ( تیسرا ) تیر اٹھا اٹھا کر پکڑانے اور چلانے کے لیے دینے والا ( تینوں ہی جنت میں جائیں گے ) “۔
اخبرنا عمرو بن عثمان بن سعيد، عن الوليد، عن ابن جابر، عن ابي سلام الاسود، عن خالد بن يزيد، عن عقبة بن عامر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله عز وجل يدخل ثلاثة نفر الجنة بالسهم الواحد صانعه يحتسب في صنعه الخير والرامي به ومنبله
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی اللہ کے راستے میں گھائل ہو گا، اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہوا ۱؎ تو قیامت کے دن ( اس طرح ) آئے گا کہ اس کے زخم سے خون ٹپک رہا ہو گا۔ رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی“۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يكلم احد في سبيل الله - والله اعلم بمن يكلم في سبيله - الا جاء يوم القيامة وجرحه يثعب دما اللون لون دم والريح ريح المسك
عبداللہ بن ثعلبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں ( یعنی شہداء کو ) ان کے خون میں لت پت ڈھانپ دو، کیونکہ کوئی بھی زخم جو اللہ کے راستے میں کسی کو پہنچا ہو وہ قیامت کے دن ( اس طرح ) آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہو گا، رنگ خون کا ہو گا، اور خوشبو اس کی مشک کی ہو گی ۱؎“۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابن المبارك، عن معمر، عن الزهري، عن عبد الله بن ثعلبة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " زملوهم بدمايهم فانه ليس كلم يكلم في الله الا اتى يوم القيامة جرحه يدمى لونه لون دم وريحه ريح المسك
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے، ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارہ انصاری صحابہ کے ساتھ ایک طرف موجود تھے انہیں میں ایک طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ۱؎۔ مشرکین نے انہیں ( تھوڑا دیکھ کر ) گھیر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”ہماری طرف سے کون لڑے گا“؟ طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں ( آپ کا دفاع کروں گا ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جیسے ہو ویسے ہی رہو“ تو ایک دوسرے انصاری صحابی نے کہا: اللہ کے رسول! میں ( دفاع کیلئے تیار ہوں ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ( لڑو ان سے ) تو وہ لڑے یہاں تک کہ شہید کر دیئے گئے“۔ پھر آپ نے مڑ کر ( سب پر ) ایک نظر ڈالی تو مشرکین موجود تھے آپ نے پھر آواز لگائی: ”قوم کی کون حفاظت کرے گا“؟ طلحہ رضی اللہ عنہ ( پھر ) بولے: میں حفاظت کروں گا، آپ نے فرمایا: ” ( تم ٹھہرو ) تم جیسے ہو ویسے ہی رہو“، تو دوسرے انصاری صحابی نے کہا: اللہ کے رسول! میں قوم کی حفاظت کروں گا، آپ نے فرمایا: ”تم ( لڑو ان سے ) “ پھر وہ صحابی ( مشرکین سے ) لڑے اور شہید ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر ایسے ہی پکارتے رہے اور کوئی نہ کوئی انصاری صحابی ان مشرکین کے مقابلے کے لیے میدان میں اترتا اور نکلتا رہا اور اپنے پہلوں کی طرح لڑ لڑ کر شہید ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور طلحہ بن عبیداللہ ہی باقی رہ گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز لگائی۔ ”قوم کی کون حفاظت کرے گا“؟ طلحہ رضی اللہ عنہ نے ( پھر ) کہا: میں کروں گا ( یہ کہہ کر ) پہلے گیارہ ( شہید ساتھیوں ) کی طرح مشرکین سے جنگ کرنے لگ گئے۔ ( اور لڑتے رہے ) یہاں تک کہ ہاتھ پر ایک کاری ضرب لگی اور انگلیاں کٹ کر گر گئیں۔ انہوں نے کہا: «حس» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ( «حس» کے بجائے ) «بسم اللہ» کہتے تو فرشتے تمہیں اٹھا لیتے اور لوگ دیکھ رہے ہوتے“، پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو واپس کر دیا ( یعنی وہ مکہ لوٹ گئے ) ۔
اخبرنا عمرو بن سواد، قال انبانا ابن وهب، قال اخبرني يحيى بن ايوب، وذكر، اخر قبله عن عمارة بن غزية، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال لما كان يوم احد وولى الناس كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في ناحية في اثنى عشر رجلا من الانصار وفيهم طلحة بن عبيد الله فادركهم المشركون فالتفت رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " من للقوم " . فقال طلحة انا . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كما انت " . فقال رجل من الانصار انا يا رسول الله . فقال " انت " . فقاتل حتى قتل ثم التفت فاذا المشركون فقال " من للقوم " . فقال طلحة انا . قال " كما انت " . فقال رجل من الانصار انا . فقال " انت " . فقاتل حتى قتل ثم لم يزل يقول ذلك ويخرج اليهم رجل من الانصار فيقاتل قتال من قبله حتى يقتل حتى بقي رسول الله صلى الله عليه وسلم وطلحة بن عبيد الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من للقوم " . فقال طلحة انا . فقاتل طلحة قتال الاحد عشر حتى ضربت يده فقطعت اصابعه فقال حس . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو قلت بسم الله لرفعتك الملايكة والناس ينظرون " . ثم رد الله المشركين
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ خیبر کی جنگ میں میرا بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں بہت بہادری سے لڑا، اتفاق ایسا ہوا کہ اس کی تلوار پلٹ کر خود اسی کو لگ گئی، اور اسے ہلاک کر دیا۔ تو اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب چہ میگوئیاں کرنے لگے اور شک میں پڑ گئے کہ وہ اپنے ہتھیار سے مرا ہے ۱؎ سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے لوٹ کر آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے اپنے سامنے رجز یہ کلام ( یعنی جوش و خروش والا کلام ) پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خوب سمجھ بوجھ کر کہنا ۲؎ میں نے کہا: قسم اللہ کی اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے ـ نہ ہم صدقہ و خیرات کرتے، نہ نمازیں پڑھتے ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے سچی بات کہی ہے“۔ ( دوسرے رجزیہ شعر کا ترجمہ ) : اے اللہ ہم سب پر سکینت ( اطمینان قلب ) نازل فرما – اور جب میدان جنگ میں دشمن سے ہمارا سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ مشرکین نے ہم پر ظلم و زیادتی کی ہے ( تو ہماری ان کے مقابلے میں مدد فرما ) ۔ جب میں اپنا رجزیہ کلام پڑھ چکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رجزیہ ( اشعار ) کس نے کہے ہیں؟“ میں نے کہا: میرے بھائی نے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان پر رحم فرمائے“ ( بہت اچھے رجزیہ اشعار کہے ہیں ) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! لوگ تو ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے بچ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ شخص خود اپنے ہتھیار سے مرا ہے۔ ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لڑتا ہوا مجاہد بن کر مرا ہے“ ۱؎۔ ابن شہاب زہری ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں: میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے اپنے باپ سے یہ حدیث اسی طرح بیان کیا سوائے اس ذرا سے فرق کے کہ جب میں نے عرض کیا کہ کچھ لوگ ان کی نماز پڑھنے سے خوف کھا رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ غلط کہتے ہیں ( بدگمانی نہیں کرنی چاہیئے ) وہ جہاد کرتا ہوا بحیثیت ایک مجاہد کے مرا ہے“، آپ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”اسے دو اجر ملیں گے“۔
اخبرنا عمرو بن سواد، قال انبانا ابن وهب، قال اخبرنا يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني عبد الرحمن، وعبد الله، ابنا كعب بن مالك ان سلمة بن الاكوع، قال لما كان يوم خيبر قاتل اخي قتالا شديدا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فارتد عليه سيفه فقتله فقال اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك وشكوا فيه رجل مات بسلاحه قال سلمة فقفل رسول الله صلى الله عليه وسلم من خيبر فقلت يا رسول الله اتاذن لي ان ارتجز بك فاذن له رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال عمر بن الخطاب رضى الله عنه اعلم ما تقول فقلت والله لولا الله ما اهتدينا ولا تصدقنا ولا صلينا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صدقت " . فانزلن سكينة علينا وثبت الاقدام ان لاقينا والمشركون قد بغوا علينا فلما قضيت رجزي قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قال هذا " . قلت اخي . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يرحمه الله " . فقلت يا رسول الله والله ان ناسا ليهابون الصلاة عليه يقولون رجل مات بسلاحه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مات جاهدا مجاهدا " . قال ابن شهاب ثم سالت ابنا لسلمة بن الاكوع فحدثني عن ابيه مثل ذلك غير انه قال حين قلت ان ناسا ليهابون الصلاة عليه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كذبوا مات جاهدا مجاهدا فله اجره مرتين " . واشار باصبعيه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میری امت کے لیے یہ بات باعث تکلیف و مشقت نہ ہوتی تو میں کسی بھی فوجی ٹولی و جماعت کے ساتھ نکلنے میں پیچھے نہ رہتا، لیکن لوگوں کے پاس سواریوں کا انتظام نہیں، اور نہ ہی ہمارے پاس وافر سواریاں ہیں کہ میں انہیں ان پر بٹھا کر لے جا سکوں؟ اور وہ لوگ میرا ساتھ چھوڑ کر رہنا نہیں چاہتے۔ ( اس لیے میں ہر سریہ ( فوجی دستہ ) کے ساتھ نہیں جاتا ) مجھے تو پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں“، آپ نے ایسا تین بار فرمایا۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، - يعني ابن سعيد القطان - عن يحيى، - يعني ابن سعيد الانصاري - قال حدثني ذكوان ابو صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لولا ان اشق على امتي لم اتخلف عن سرية ولكن لا يجدون حمولة ولا اجد ما احملهم عليه ويشق عليهم ان يتخلفوا عني ولوددت اني قتلت في سبيل الله ثم احييت ثم قتلت ثم احييت ثم قتلت " . ثلاثا
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر بہت سے مسلمانوں کے لیے یہ بات ناگواری اور تکلیف کی نہ ہوتی کہ وہ ہم سے پیچھے رہیں۔ ( ہمارا ان کا ساتھ چھوٹ جائے ) اور ہمارے ساتھ یہ دقت بھی نہ ہوتی کہ ہمارے پاس سواریاں نہیں ہیں جن پر ہم انہیں سوار کرا کے لے جائیں تو میں اللہ کے راستے میں جنگ کرنے کے لیے نکلنے والے کسی بھی فوجی دستہ سے پیچھے نہ رہتا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں“۔
اخبرنا عمرو بن عثمان بن سعيد، قال حدثنا ابي، عن شعيب، عن الزهري، قال حدثني سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " والذي نفسي بيده لولا ان رجالا من المومنين لا تطيب انفسهم بان يتخلفوا عني ولا اجد ما احملهم عليه ما تخلفت عن سرية تغزو في سبيل الله والذي نفسي بيده لوددت اني اقتل في سبيل الله ثم احيا ثم اقتل ثم احيا ثم اقتل
ابن ابی عمیرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی مسلمان شخص جو اپنی زندگی کے دن پورے کر کے اس دنیا سے جا چکا ہو یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ پھر لوٹ کر تمہارے پاس اس دنیا میں آئے اگرچہ اسے دنیا اور دنیا کی ساری چیزیں دے دی جائیں سوائے شہید کے ۱؎، مجھے اپنا اللہ کے راستے میں قتل کر دیا جانا اس سے زیادہ پسند ہے کہ میری ملکیت میں دیہات، شہر و قصبات کے لوگ ہوں“ ۲؎۔
اخبرنا عمرو بن عثمان، قال حدثنا بقية، عن بحير بن سعد، عن خالد بن معدان، عن جبير بن نفير، عن ابن ابي عميرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما من الناس من نفس مسلمة يقبضها ربها تحب ان ترجع اليكم وان لها الدنيا وما فيها غير الشهيد " . قال ابن ابي عميرة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ولان اقتل في سبيل الله احب الى من ان يكون لي اهل الوبر والمدر
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن ایک شخص نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے کہا: آپ بتائیں اگر میں اللہ کے راستے میں شہید ہو گیا تو میں کہاں ہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ہو گے“، ( یہ سنتے ہی ) اس نے اپنے ہاتھ میں لی ہوئی کھجوریں پھینک دیں، ( میدان جنگ میں اتر گیا ) جنگ کی اور شہید ہو گیا۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن عمرو، قال سمعت جابرا، يقول قال رجل يوم احد ارايت ان قتلت في سبيل الله فاين انا قال " في الجنة " . فالقى تمرات في يده ثم قاتل حتى قتل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اگر میں اللہ کے راستے میں ثواب کی نیت رکھتے ہوئے جنگ کروں، اور جم کر لڑوں، آگے بڑھتا رہوں پیٹھ دکھا کر نہ بھاگوں، تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہ مٹا دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پھر ایک لمحہ خاموشی کے بعد آپ نے پوچھا: ”سائل اب کہاں ہے“؟ وہ آدمی بولا: ہاں ( جی ) میں حاضر ہوں، ( یا رسول اللہ! ) آپ نے فرمایا: ”تم نے کیا کہا تھا؟“ اس نے کہا: آپ بتائیں اگر میں اللہ کے راستے میں جم کر اجر و ثواب کی نیت سے آگے بڑھتے ہوئے، پیٹھ نہ دکھاتے ہوئے لڑتا ہوا مارا جاؤں تو کیا اللہ میرے گناہ بخش دے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں ( بخش دے گا ) سوائے قرض کے، جبرائیل علیہ السلام نے آ کر ابھی ابھی مجھے چپکے سے یہی بتایا ہے“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا ابو عاصم، قال حدثنا محمد بن عجلان، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم وهو يخطب على المنبر فقال ارايت ان قاتلت في سبيل الله صابرا محتسبا مقبلا غير مدبر ايكفر الله عني سيياتي قال " نعم " . ثم سكت ساعة قال " اين السايل انفا " . فقال الرجل ها انا ذا . قال " ما قلت " . قال ارايت ان قتلت في سبيل الله صابرا محتسبا مقبلا غير مدبر ايكفر الله عني سيياتي قال " نعم الا الدين سارني به جبريل انفا
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اس بارے میں کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کر دیا جاؤں، اور حال یہ ہو کہ میں نے ثواب کی نیت سے جم کر جنگ لڑی ہو، آگے بڑھتے ہوئے نہ کہ پیٹھ دکھاتے ہوئے، تو کیا اللہ میرے گناہوں کو معاف کر دے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“ پھر جب وہ پیٹھ موڑ کر چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دے کر اسے بلایا۔ ( راوی کو شبہ ہو گیا بلایا ) یا آپ نے اسے بلانے کے لیے کسی کو حکم دیا۔ تو اسے بلایا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس سے ) کہا: ”تم نے کیسے کہا تھا“؟ تو اس نے آپ کے سامنے اپنی بات دہرا دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، سوائے قرض کے سب معاف کر دے گا، جبرائیل علیہ السلام نے مجھے ایسا ہی بتایا ہے“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن يحيى بن سعيد، عن سعيد بن ابي سعيد، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ارايت ان قتلت في سبيل الله صابرا محتسبا مقبلا غير مدبر ايكفر الله عني خطاياى قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم " . فلما ولى الرجل ناداه رسول الله صلى الله عليه وسلم او امر به فنودي له فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كيف قلت " . فاعاد عليه قوله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم الا الدين كذلك قال لي جبريل عليه السلام
ابوقتادہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے لوگوں کو ( ایک دن ) خطاب فرمایا: ”اور انہیں بتایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد اور اللہ پر ایمان سب سے بہتر اعمال میں سے ہیں“، ( یہ سن کر ) ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے، اگر میں اللہ کے راستے میں قتل کر دیا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کو بخش دے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اگر تم اللہ کے راستے میں قتل کر دیئے گئے، اور تم نے لڑائی ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے ثواب کی نیت سے لڑی ہے پیٹھ دکھا کر بھاگے نہیں ہو تو قرض ( حقوق العباد ) کے سوا سب کچھ معاف ہو جائے گا۔ کیونکہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے ایسا ہی بتایا ہے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن سعيد بن ابي سعيد، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابي قتادة، انه سمعه يحدث، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قام فيهم فذكر لهم " ان الجهاد في سبيل الله والايمان بالله افضل الاعمال " . فقام رجل فقال يا رسول الله ارايت ان قتلت في سبيل الله ايكفر الله عني خطاياى فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم ان قتلت في سبيل الله وانت صابر محتسب مقبل غير مدبر الا الدين فان جبريل عليه السلام قال لي ذلك
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ منبر پر ( کھڑے خطاب فرما رہے ) تھے، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اگر میں اپنی تلوار اللہ کے راستے میں چلاؤں، ثابت قدمی کے ساتھ، بہ نیت ثواب، سینہ سپر رہوں پیچھے نہ ہٹوں یہاں تک کہ قتل کر دیا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میرے سبھی گناہوں کو مٹا دے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، پھر جب وہ جانے کے لیے مڑا، آپ نے اسے بلایا اور کہا: ”یہ جبرائیل ہیں، کہتے ہیں: مگر یہ کہ تم پر قرض ہو“ ( تو قرض معاف نہیں ہو گا ) ۔
اخبرنا عبد الجبار بن العلاء، قال حدثنا سفيان، عن عمرو، سمع محمد بن قيس، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم وهو على المنبر فقال يا رسول الله ارايت ان ضربت بسيفي في سبيل الله صابرا محتسبا مقبلا غير مدبر حتى اقتل ايكفر الله عني خطاياى قال " نعم " . فلما ادبر دعاه فقال " هذا جبريل يقول الا ان يكون عليك دين
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شہید کے سوا دنیا میں کوئی بھی فرد ایسا نہیں ہے جسے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے یہاں خیر ملا ہوا ہو ( اچھا مقام و مرتبہ حاصل ہو ) پھر وہ لوٹ کر تم میں آنے کے لیے تیار ہو اگرچہ اسے پوری دنیا مل رہی ہو۔ ( صرف شہید ہے ) جو لوٹ کر دنیا میں آنا اور دوبارہ قتل ہو کر اللہ تعالیٰ کے پاس جانا پسند کرتا ہے“ ۱؎۔
اخبرنا هارون بن محمد بن بكار، قال حدثنا محمد بن عيسى، - وهو ابن القاسم بن سميع - قال حدثنا زيد بن واقد، عن كثير بن مرة، ان عبادة بن الصامت، حدثهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما على الارض من نفس تموت ولها عند الله خير تحب ان ترجع اليكم ولها الدنيا الا القتيل فانه يحب ان يرجع فيقتل مرة اخرى
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت والوں میں سے ایک شخص اللہ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اللہ اس سے کہے گا: آدم کے بیٹے! تم نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے تو بہترین ٹھکانہ ملا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کہے گا تمہاری کوئی طلب اور کوئی تمنا ہو تو مانگو اور ظاہر کرو۔ وہ کہے گا: میری تجھ سے یہی تمنا و طلب ہے کہ تو مجھے دنیا میں دسیوں بار بھیج تاکہ ( میں جاؤں ) پھر تیری راہ میں مارا جاؤں۔ اس کی یہ تمنا شہادت کی فضیلت دیکھنے کی وجہ سے ہو گی“۔
اخبرنا ابو بكر بن نافع، قال حدثنا بهز، قال حدثنا حماد، عن ثابت، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يوتى بالرجل من اهل الجنة فيقول الله عز وجل يا ابن ادم كيف وجدت منزلك فيقول اى رب خير منزل . فيقول سل وتمن فيقول اسالك ان تردني الى الدنيا فاقتل في سبيلك عشر مرات لما يرى من فضل الشهادة
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہید کو قتل کے وار سے بس اتنی ہی تکلیف محسوس ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے محسوس ہوتی ہے ( پھر اس کے بعد تو آرام ہی آرام ہے ) “۔
اخبرنا عمران بن يزيد، قال حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن محمد بن عجلان، عن القعقاع بن حكيم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الشهيد لا يجد مس القتل الا كما يجد احدكم القرصة يقرصها
سہل بن حنیف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سچے دل سے شہادت کی طلب کرے تو وہ چاہے اپنے بستر پر ہی کیوں نہ مرے اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے مقام پر پہنچا دے گا“ ۱؎۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، قال حدثنا ابن وهب، قال حدثني عبد الرحمن بن شريح، ان سهل بن ابي امامة بن سهل بن حنيف، حدثه عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من سال الله عز وجل الشهادة بصدق بلغه الله منازل الشهداء وان مات على فراشه
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ حالتیں ہیں ان میں سے کسی بھی ایک حالت پر مرنے والا شہید ہو گا، اللہ کے راستے ( جہاد ) میں نکلا اور قتل ہو گیا تو وہ شہید ہے، جہاد میں نکلا اور ڈوب کر مر گیا تو وہ شہید ہے، جہاد میں نکلا اور دست میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو گیا تو وہ بھی شہید ہے، جہاد میں نکلا اور طاعون میں مبتلا ہو کر مر گیا وہ بھی شہید ہے، عورت ( شوہر کے ساتھ جہاد میں نکلی ہے ) حالت نفاس میں مر گئی تو وہ بھی شہید ہے“۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، قال حدثنا ابن وهب، قال حدثني عبد الرحمن بن شريح، عن عبد الله بن ثعلبة الحضرمي، انه سمع ابن حجيرة، يخبر عن عقبة بن عامر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " خمس من قبض في شىء منهن فهو شهيد المقتول في سبيل الله شهيد والغرق في سبيل الله شهيد والمبطون في سبيل الله شهيد والمطعون في سبيل الله شهيد والنفساء في سبيل الله شهيد
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون میں مرنے والوں کے بارے میں شہدا اور اپنے بستروں پر مرنے والے اللہ کے حضور اپنا جھگڑا ( مقدمہ ) پیش کریں گے، شہید لوگ کہیں گے: یہ ہمارے بھائی ہیں، جیسے ہم مارے گئے ہیں یہ لوگ بھی مارے گئے ہیں، اور جو لوگ اپنے بستروں پر وفات پائے ہیں وہ کہیں گے یہ ہمارے بھائی ہیں یہ لوگ اپنے بستروں پر مرے ہیں جیسے ہم لوگ اپنے بستروں پر پڑے پڑے مرے ہیں۔ تو میرا رب کہے گا: ان کے زخموں کو دیکھو اگر ان کے زخم شہیدوں کے زخم سے ملتے ہیں تو یہ لوگ شہیدوں میں سے ہیں اور شہیدوں کے ساتھ رہیں گے، تو جب دیکھا گیا تو ان کے زخم شہیدوں کی طرح نکلے“ ۱؎۔
اخبرني عمرو بن عثمان، قال حدثنا بقية، قال حدثنا بحير، عن خالد، عن ابن ابي بلال، عن العرباض بن سارية، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يختصم الشهداء والمتوفون على فرشهم الى ربنا في الذين يتوفون من الطاعون فيقول الشهداء اخواننا قتلوا كما قتلنا . ويقول المتوفون على فرشهم اخواننا ماتوا على فرشهم كما متنا فيقول ربنا انظروا الى جراحهم فان اشبه جراحهم جراح المقتولين فانهم منهم ومعهم فاذا جراحهم قد اشبهت جراحهم