Loading...

Loading...
کتب
۱۱۱ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ دو آدمیوں پر تعجب کرتا ہے کہ ایک ان میں کا ساتھی کو قتل کرتا ہے“، اور دوسری بار آپ نے یوں فرمایا: ”اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کو دیکھ کر ہنستا ہے جن میں کا ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے، پھر بھی دونوں جنت میں داخل ہوئے“۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله عز وجل يعجب من رجلين يقتل احدهما صاحبه - وقال مرة اخرى ليضحك من رجلين يقتل احدهما صاحبه - ثم يدخلان الجنة
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کو دیکھ کر ہنستا ہے۔ ( دونوں لڑتے ہیں ) ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے۔ لیکن دونوں جنت میں جاتے ہیں، ایک اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، تو وہ قتل ہو جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ مارنے والے کو توبہ کی توفیق دیتا ہے اور اس کی توبہ کو قبول کر لیتا ہے۔ پھر وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور شہادت پا جاتا ہے“۔ ( اس طرح دونوں جنت کے مستحق ہو جاتے ہیں ) ۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يضحك الله الى رجلين يقتل احدهما الاخر كلاهما يدخل الجنة يقاتل هذا في سبيل الله فيقتل ثم يتوب الله على القاتل فيقاتل فيستشهد
سلمان الخیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے میں ایک دن ایک رات پہرہ دیا اسے ایک مہینے کے روزے و نماز کا ثواب ملے گا، اور جو پہرہ دینے کی حالت میں مر گیا اسے اسی طرح کا اجر برابر ملتا رہے گا، اور اس کا رزق بھی جاری کر دیا جائے گا، اور وہ فتنوں سے محفوظ ہو جائے گا“ ۱؎۔
قال الحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن وهب، اخبرني عبد الرحمن بن شريح، عن عبد الكريم بن الحارث، عن ابي عبيدة بن عقبة، عن شرحبيل بن السمط، عن سلمان الخير، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من رابط يوما وليلة في سبيل الله كان له كاجر صيام شهر وقيامه ومن مات مرابطا اجري له مثل ذلك من الاجر واجري عليه الرزق وامن من الفتان
سلمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے اللہ کے راستے میں ایک دن ایک رات پہرہ دیا اسے ایک ماہ کے روزے رکھنے اور نماز پڑھنے کا ثواب ملے گا، اور اگر وہ ( اس دوران ) مر گیا تو وہ جو کام کر رہا تھا اس کا وہ کام جاری تصور کیا جائے گا۔ اور ( منکر و نکیر کے ) فتنوں سے محفوظ ہو جائے گا، ( یعنی وہ اس سے سوال و جواب کرنے کے لیے اس کے پاس حاضر نہ ہوں گے ) اور اس کے لیے اس کا رزق ( جو شہداء کا رزق ہے ) جاری کر دیا جائے گا“۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا عبد الله بن يوسف، قال حدثنا الليث، قال حدثني ايوب بن موسى، عن مكحول، عن شرحبيل بن السمط، عن سلمان، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من رابط في سبيل الله يوما وليلة كانت له كصيام شهر وقيامه فان مات جرى عليه عمله الذي كان يعمل وامن الفتان واجري عليه رزقه
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ” ( جہاد کے دنوں میں ) اللہ کے راستے کی ایک دن کی پہرہ داری دوسری جگہوں کی ہزار دنوں کی پہرہ داری سے بہتر ہے“۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا عبد الله بن يوسف، قال حدثنا الليث، عن زهرة بن معبد، قال حدثني ابو صالح، مولى عثمان قال سمعت عثمان بن عفان، رضى الله عنه يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " رباط يوم في سبيل الله خير من الف يوم فيما سواه من المنازل
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ کے راستے ( جہاد ) کا ایک دن اس کے سوا کے ہزار دن سے بہتر ہے“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا ابن المبارك، قال حدثنا ابو معن، قال حدثنا زهرة بن معبد، عن ابي صالح، مولى عثمان قال قال عثمان بن عفان رضي الله عنه سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " يوم في سبيل الله خير من الف يوم فيما سواه
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قباء جاتے تو ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے یہاں بھی جاتے، وہ آپ کو کھانا کھلاتیں۔ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور آپ کے سر کی جوئیں دیکھنے بیٹھ گئیں۔ آپ سو گئے، پھر جب اٹھے تو ہنستے ہوئے اٹھے، کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ آپ نے فرمایا: ” ( خواب میں ) مجھے میری امت کے کچھ مجاہدین دکھائے گئے وہ اس سمندر کے سینے پر سوار تھے، تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہ لگتے تھے“، یا تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں جیسے لگتے تھے۔ ( اس جگہ اسحاق راوی کو شک ہو گیا ہے ( کہ ان کے استاد نے «ملوك على الأسرة» کہا، یا «مثل الملوك على الأسرة» کہا ) ۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی انہیں لوگوں میں سے کر دے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرما دی، پھر آپ سو گئے۔ ( اور حارث کی روایت میں یوں ہے۔ آپ سوئے ) پھر جاگے، پھر ہنسے پھر میں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! آپ کے ہنسنے کی وجہ کیا ہے؟ آپ نے ( جیسے اس سے پہلے فرمایا تھا ) فرمایا: ”مجھے میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے دکھائے گئے وہ تختوں پر بیٹھے بادشاہ تھے، یا تختوں پر بیٹھے بادشاہوں جیسے لگتے تھے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! دعا فرمائیے کہ اللہ مجھے بھی انہیں لوگوں میں شامل فرمائے، آپ نے فرمایا: تم ( سمندر میں جہاد کرنے والوں کے ) پہلے گروپ میں ہو گی۔ ( انس بن مالک راوی حدیث فرماتے ہیں ) پھر وہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں سمندری سفر پر جہاد کے لیے نکلیں تو وہ سمندر سے نکلتے وقت اپنی سواری سے گر کر ہلاک ہو گئیں“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا ذهب الى قباء يدخل على ام حرام بنت ملحان فتطعمه وكانت ام حرام بنت ملحان تحت عبادة بن الصامت فدخل عليها رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فاطعمته وجلست تفلي راسه فنام رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم استيقظ وهو يضحك قالت فقلت ما يضحكك يا رسول الله قال " ناس من امتي عرضوا على غزاة في سبيل الله يركبون ثبج هذا البحر ملوك على الاسرة او مثل الملوك على الاسرة " . شك اسحاق . فقلت يا رسول الله ادع الله ان يجعلني منهم فدعا لها رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم نام - وقال الحارث فنام - ثم استيقظ فضحك فقلت له ما يضحكك يا رسول الله قال " ناس من امتي عرضوا على غزاة في سبيل الله ملوك على الاسرة او مثل الملوك على الاسرة " . كما قال في الاول فقلت يا رسول الله ادع الله ان يجعلني منهم . قال " انت من الاولين " . فركبت البحر في زمان معاوية فصرعت عن دابتها حين خرجت من البحر فهلكت
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں آئے اور سو گئے پھر ہنستے ہوئے اٹھے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کس چیز نے آپ کو ہنسایا؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے اپنی امت میں سے ایک جماعت دیکھی جو اس سمندری ( جہاز ) پر سوار تھے، ایسے لگ رہے تھے جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ہوں“، میں نے کہا: اللہ سے دعا فرما دیجئیے کہ اللہ مجھے بھی انہیں لوگوں میں سے کر دے، آپ نے فرمایا: ”تم اپنے کو انہیں میں سے سمجھو“، پھر آپ سو گئے پھر ہنستے ہوئے اٹھے، پھر میں نے آپ سے پوچھا تو آپ نے اپنی پہلی ہی بات دہرائی، میں نے پھر دعا کی درخواست کی کہ آپ دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے انہیں لوگوں میں کر دے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ( سوار ہونے والوں کے ) پہلے دستے میں ہو گی“۔ پھر ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے شادی کی ۱؎، اور وہ سمندری جہاد پر نکلے تو وہ بھی انہیں کے ساتھ سمندری سفر پر نکلیں، پھر جب وہ جہاز سے نکلیں تو سواری کے لیے انہیں ایک خچر پیش کیا گیا، وہ اس پر سوار ہوئیں تو اس نے انہیں گرا دیا جس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی ( اور ان کا انتقال ہو گیا ) ۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، قال حدثنا حماد، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن انس بن مالك، عن ام حرام بنت ملحان، قالت اتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال عندنا فاستيقظ وهو يضحك فقلت يا رسول الله بابي وامي ما اضحكك قال " رايت قوما من امتي يركبون هذا البحر كالملوك على الاسرة " . قلت ادع الله ان يجعلني منهم . قال " فانك منهم " . ثم نام ثم استيقظ وهو يضحك فسالته فقال يعني مثل مقالته قلت ادع الله ان يجعلني منهم . قال " انت من الاولين " . فتزوجها عبادة بن الصامت فركب البحر وركبت معه فلما خرجت قدمت لها بغلة فركبتها فصرعتها فاندقت عنقها
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم ( مسلمانوں ) سے ہندوستان پر لشکر کشی کا وعدہ فرمایا، یعنی پیش گوئی کی، تو اگر ہند پر لشکر کشی میری زندگی میں ہوئی تو میں جان و مال کے ساتھ اس میں شریک ہوں گا۔ اگر میں قتل کر دیا گیا تو بہترین شہداء میں سے ہوں گا، اور اگر زندہ واپس آ گیا تو میں ( جہنم سے ) نجات یافتہ ابوہریرہ کہلاؤں گا۔
اخبرني احمد بن عثمان بن حكيم، قال حدثنا زكريا بن عدي، قال حدثنا عبيد الله بن عمرو، عن زيد بن ابي انيسة، عن سيار، ح قال وانبانا هشيم، عن سيار، عن جبر بن عبيدة، - وقال عبيد الله عن جبير، - عن ابي هريرة، قال وعدنا رسول الله صلى الله عليه وسلم غزوة الهند فان ادركتها انفق فيها نفسي ومالي فان اقتل كنت من افضل الشهداء وان ارجع فانا ابو هريرة المحرر
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ہندوستان کے غزوے کا وعدہ فرمایا یعنی پیش گوئی کی تو میں نے اگر اسے پا لیا، یعنی میری زندگی ہی میں ہند میں جہاد کا وقت آ گیا تو میں اپنی جان و مال سب اس میں لگا دوں گا۔ اگر میں اس میں شہید ہو گیا تو برتر شہداء میں شامل ہوں گا اور اگر ( شہادت نصیب نہ ہوئی ) زندہ بچ کر واپس آ گیا تو ابوہریرہ «محرر» ہوں گا، یعنی وہ ابوہریرہ ہوں گا جو جہنم کے عذاب سے آزاد کر دیا گیا ہو گا۔
حدثني محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا يزيد، قال انبانا هشيم، قال حدثنا سيار ابو الحكم، عن جبر بن عبيدة، عن ابي هريرة، قال وعدنا رسول الله صلى الله عليه وسلم غزوة الهند فان ادركتها انفق فيها نفسي ومالي وان قتلت كنت افضل الشهداء وان رجعت فانا ابو هريرة المحرر
ثوبان رضی الله عنہ مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے جہنم سے محفوظ کر دیا ہے۔ ایک گروہ وہ ہو گا جو ہند پر لشکر کشی کرے گا اور ایک گروہ وہ ہو گا جو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہو گا“۔
اخبرني محمد بن عبد الله بن عبد الرحيم، قال حدثنا اسد بن موسى، قال حدثنا بقية، قال حدثني ابو بكر الزبيدي، عن اخيه، محمد بن الوليد عن لقمان بن عامر، عن عبد الاعلى بن عدي البهراني، عن ثوبان، مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عصابتان من امتي احرزهما الله من النار عصابة تغزو الهند وعصابة تكون مع عيسى ابن مريم عليهما السلام
ایک صحابی رسول رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خندق کھودنے کا حکم دیا تو ایک چٹان نمودار ہوئی جو ان کی کھدائی میں رکاوٹ بن گئی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، کدال پکڑی اپنی چادر خندق کے ایک کنارے رکھی، اور آیت «تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم» پڑھ کر کدال چلائی تو ایک تہائی پتھر ٹوٹ کر گر گیا، سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کھڑے دیکھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کدال چلائی، ایک چمک پیدا ہوئی پھر آپ نے آیت: «تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم» پڑھ کر دوبارہ کدال چلائی تو دوسرا تہائی حصہ ٹوٹ کر الگ ہو گیا پھر دوبارہ چمک پیدا ہوئی، سلمان نے پھر اسے دیکھا۔ پھر آپ نے آیت: «تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم» پڑھ کر تیسری ضرب لگائی تو باقی تیسرا تہائی حصہ بھی الگ ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے نکل آئے، اپنی چادر لی اور تشریف فرما ہوئے، سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب آپ نے ضرب لگائی تو میں نے آپ کو دیکھا، جب بھی آپ نے ضرب لگائی آپ کی ضرب کے ساتھ ایک چمک پیدا ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: سلمان! تم نے یہ دیکھا؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول جی ہاں! قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ( میں نے ایسا ہی دیکھا ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں نے پہلی ضرب لگائی تو مجھے ( پردے اٹھا کر ) فارس کے شہر اور اس کے اطراف کے دیہات اور دوسرے بہت سے شہر دکھائے گئے میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے خود دیکھا“، اس وقت آپ کے جو صحابہ وہاں موجود تھے انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اللہ سے دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر ہمیں فتح نصیب فرمائے اور ان کا ملک ہمیں بطور غنیمت عطا کرے، اور ان کے شہر ہمارے ہاتھوں ویران و برباد کرے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دعا فرما دی، پھر جب میں نے دوسری ضرب لگائی تو پردے اٹھا کر مجھے قیصر کے شہر اور اس کے اطراف ( کے قصبات و دیہات ) دکھائے گئے ( کہ یہ سب تمہیں ملنے والے ہیں ) میں نے اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھا ہے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیں کہ ان ممالک کو فتح کرنے میں وہ ہماری مدد فرمائے اور وہ علاقے ہمیں غنیمت میں ملیں اور ان کے شہر ہمارے ہاتھوں تباہ و برباد ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بھی دعا فرمائی، پھر جب میں نے تیسری ضرب لگائی، تو مجھے ملک حبشہ کے شہر اور گاؤں دکھائے گئے، میں نے فی الحقیقت انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس موقع پر آپ نے یوں فرمایا: ”حبشہ کو چھوڑ دو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھیں اور ترک کو چھوڑ دو جب تک کہ وہ تمہیں چھوڑے رہیں“ ( لیکن اگر وہ تم سے ٹکرائیں تو تم بھی ان سے ٹکراؤ اور انہیں شکست دو ) ۔
اخبرنا عيسى بن يونس، قال حدثنا ضمرة، عن ابي زرعة السيباني، عن ابي سكينة، - رجل من المحررين - عن رجل، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال لما امر النبي صلى الله عليه وسلم بحفر الخندق عرضت لهم صخرة حالت بينهم وبين الحفر فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم واخذ المعول ووضع رداءه ناحية الخندق وقال " { تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم } " . فندر ثلث الحجر وسلمان الفارسي قايم ينظر فبرق مع ضربة رسول الله صلى الله عليه وسلم برقة ثم ضرب الثانية وقال " { تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم } " . فندر الثلث الاخر فبرقت برقة فراها سلمان ثم ضرب الثالثة وقال " { تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم } " . فندر الثلث الباقي وخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخذ رداءه وجلس . قال سلمان يا رسول الله رايتك حين ضربت ما تضرب ضربة الا كانت معها برقة . قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا سلمان رايت ذلك " . فقال اي والذي بعثك بالحق يا رسول الله . قال " فاني حين ضربت الضربة الاولى رفعت لي مداين كسرى وما حولها ومداين كثيرة حتى رايتها بعينى " . قال له من حضره من اصحابه يا رسول الله ادع الله ان يفتحها علينا ويغنمنا ديارهم ويخرب بايدينا بلادهم . فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بذلك " ثم ضربت الضربة الثانية فرفعت لي مداين قيصر وما حولها حتى رايتها بعينى " . قالوا يا رسول الله ادع الله ان يفتحها علينا ويغنمنا ديارهم ويخرب بايدينا بلادهم . فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بذلك " ثم ضربت الثالثة فرفعت لي مداين الحبشة . وما حولها من القرى حتى رايتها بعينى " . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك " دعوا الحبشة ما ودعوكم واتركوا الترك ما تركوكم
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک مسلمان ترکوں سے نہ لڑیں گے جن کے چہرے تہہ بتہہ ڈھالوں کی طرح گول مٹول ہوں گے، بالوں کے لباس پہنیں گے ۱؎ اور بالوں میں چلیں گے“ ۲؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا يعقوب، عن سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تقوم الساعة حتى يقاتل المسلمون الترك قوما وجوههم كالمجان المطرقة يلبسون الشعر ويمشون في الشعر
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہیں خیال ہوا کہ انہیں اپنے سوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر صحابہ پر فضیلت و برتری حاصل ہے ۱؎، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، صلاۃ اور اخلاص کی بدولت فرماتا ہے“ ۲؎۔
اخبرنا محمد بن ادريس، قال حدثنا عمر بن حفص بن غياث، عن ابيه، عن مسعر، عن طلحة بن مصرف، عن مصعب بن سعد، عن ابيه، انه ظن ان له، فضلا على من دونه من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم " انما ينصر الله هذه الامة بضعيفها بدعوتهم وصلاتهم واخلاصهم
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میرے لیے کمزور کو ڈھونڈو، کیونکہ تمہیں تمہارے کمزوروں کی دعاؤں کی وجہ سے روزی ملتی ہے، اور تمہاری مدد کی جاتی ہے“ ۱؎۔
اخبرنا يحيى بن عثمان، قال حدثنا عمر بن عبد الواحد، قال حدثنا ابن جابر، قال حدثني زيد بن ارطاة الفزاري، عن جبير بن نفير الحضرمي، انه سمع ابا الدرداء، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ابغوني الضعيف فانكم انما ترزقون وتنصرون بضعفايكم
زید بن خالد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے میں کسی لڑنے والے کو اسلحہ اور دیگر سامان جنگ سے لیس کیا۔ اس نے ( گویا کہ ) خود جنگ میں شرکت کی، اور جس نے مجاہد کے جہاد پر نکلنے کے بعد اس کے گھر والوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کی ۱؎ تو وہ بھی ( گویا کہ ) جنگ میں شریک ہوا“۔
اخبرنا سليمان بن داود، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن وهب، قال اخبرني عمرو بن الحارث، عن بكير بن الاشج، عن بسر بن سعيد، عن زيد بن خالد، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من جهز غازيا في سبيل الله فقد غزا ومن خلفه في اهله بخير فقد غزا
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مجاہد کو مسلح کر کے بھیجا، تو گویا اس نے خود جہاد کیا۔ اور جس نے مجاہد کے پیچھے ( یعنی اس کی غیر موجودگی میں ) اس کے گھر والوں کی حفاظت و نگہداشت کی تو اس نے ( گویا ) خود جہاد کیا“۔
اخبرنا محمد بن المثنى، عن عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا حرب بن شداد، عن يحيى، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن بسر بن سعيد، عن زيد بن خالد الجهني، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من جهز غازيا فقد غزا ومن خلف غازيا في اهله بخير فقد غزا
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ ہم حاجی لوگ نکلے، اور مدینہ پہنچے، ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا ہم ابھی اپنا سامان اتار کر اپنے ڈیروں میں رکھ ہی رہے تھے کہ ایک آنے والا ہمارے پاس آیا اور اس نے بتایا کہ لوگ مسجد میں اکٹھا ہو رہے ہیں، اور گھبرائے ہوئے ہیں، ہم بھی وہاں پہنچے دیکھا کہ لوگ بیچ مسجد میں کچھ ( اکابر ) صحابہ کو گھیرے ہوئے ہیں، ان میں علی، زبیر، طلحہ اور سعد بن ابی وقاص ( رضی اللہ عنہم ) ہیں، ہم ابھی یہ دیکھ ہی رہے تھے کہ اتنے میں عثمان رضی اللہ عنہ پیلی چادر پہنے ہوئے اور اسی سے اپنا سر ڈھانپے ہوئے تشریف لائے ۱؎، اور کہا: کیا یہاں طلحہ ہیں؟ کیا یہاں زبیر ہیں؟ کیا یہاں سعد ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں ہیں، تو انہوں نے کہا: میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص بنی فلاں کا کھلیان ( مسجد نبوی کے قریب کی زمین ) خرید کر مسجد کے لیے وقف کر دے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا“ تو میں نے اسے بیس ہزار یا پچیس ہزار میں خرید لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: ”اسے ہماری مسجد میں شامل کر دو، اس کا ثواب تمہیں ملے گا“ ( چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا ) لوگوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہاں یہ سچ ہے۔ انہوں نے ( پھر ) کہا: میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رومہ کا کنواں خریدے گا، اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا“، تو میں نے اسے اتنے اور اتنے میں خریدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا کہ میں نے اتنے اور اتنے میں اسے خرید لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے ( وقف ) کر دو، اس کا اجر تمہیں ملے گا“، ( تو میں نے اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے عام کر دیا ) ، لوگوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہاں ( یہ سچ ہے ) ، انہوں نے پھر کہا: میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے چہروں پر نگاہ ڈال کر کہا تھا جو کوئی انہیں ( تنگی و محتاجی والی فوج کو ) ضروریات جنگ سے مسلح کر دے گا اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا، میں نے اس لشکر کو ہر طرح سے مسلح کر دیا یہاں تک کہ رسی اور نکیل کی بھی انہیں ضرورت نہ رہی۔ لوگوں نے کہا اے ہمارے رب! ہاں ( یہ سچ ہے ) ۔ انہوں نے کہا: اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا عبد الله بن ادريس، قال سمعت حصين بن عبد الرحمن، يحدث عن عمرو بن جاوان، عن الاحنف بن قيس، قال خرجنا حجاجا فقدمنا المدينة ونحن نريد الحج فبينا نحن في منازلنا نضع رحالنا اذ اتانا ات فقال ان الناس قد اجتمعوا في المسجد وفزعوا . فانطلقنا فاذا الناس مجتمعون على نفر في وسط المسجد وفيهم علي والزبير وطلحة وسعد بن ابي وقاص فانا لكذلك اذ جاء عثمان رضى الله عنه عليه ملاءة صفراء قد قنع بها راسه فقال اها هنا طلحة اها هنا الزبير اها هنا سعد قالوا نعم . قال فاني انشدكم بالله الذي لا اله الا هو اتعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من يبتاع مربد بني فلان غفر الله له " . فابتعته بعشرين الفا او بخمسة وعشرين الفا فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبرته فقال " اجعله في مسجدنا واجره لك " . قالوا اللهم نعم . قال انشدكم بالله الذي لا اله الا هو اتعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من ابتاع بير رومة غفر الله له فابتعتها بكذا وكذا فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت قد ابتعتها بكذا وكذا قال " اجعلها سقاية للمسلمين واجرها لك " . قالوا اللهم نعم . قال انشدكم بالله الذي لا اله الا هو اتعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نظر في وجوه القوم فقال " من يجهز هولاء غفر الله له " . يعني جيش العسرة فجهزتهم حتى لم يفقدوا عقالا ولا خطاما . فقالوا اللهم نعم . قال اللهم اشهد اللهم اشهد اللهم اشهد
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اللہ کے راستے ( جہاد ) میں جوڑا جوڑا دیا ۱؎ جنت میں اس سے کہا جائے گا: اللہ کے بندے یہ ہے ( تیری ) بہتر چیز، تو جو کوئی نمازی ہو گا اسے باب صلاۃ ( صلاۃ کے دروازہ ) سے بلایا جائے گا اور جو کوئی مجاہد ہو گا اسے باب جہاد ( جہاد کے دروازہ ) سے بلایا جائے گا، اور جو کوئی خیرات دینے والا ہو گا اسے باب صدقہ ( صدقہ و خیرات والے دروازہ ) سے پکارا جائے گا، اور جو کوئی اہل صیام میں سے ہو گا اسے باب ریان ( سیراب و شاداب دروازے ) سے بلایا جائے گا“، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ( اللہ کے نبی! ) اس کی کوئی ضرورت و حاجت تو نہیں کہ کسی کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے ۲؎ کیا کوئی ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہو گے“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من انفق زوجين في سبيل الله عز وجل نودي في الجنة يا عبد الله هذا خير فمن كان من اهل الصلاة دعي من باب الصلاة ومن كان من اهل الجهاد دعي من باب الجهاد ومن كان من اهل الصدقة دعي من باب الصدقة ومن كان من اهل الصيام دعي من باب الريان " . فقال ابو بكر رضى الله عنه هل على من دعي من هذه الابواب من ضرورة فهل يدعى احد من هذه الابواب كلها قال " نعم ��ارجو ان تكون منهم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اللہ کے راستے میں جوڑا جوڑا صدقہ دیا اسے جنت کے سبھی دروازوں کے دربان بلائیں گے: اے فلاں ادھر آؤ ( ادھر سے ) جنت میں داخل ہو“، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اس میں آپ اس شخص کا کوئی نقصان تو نہیں سمجھتے ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( نہیں ) میں تو توقع رکھتا ہوں کہ تم ان ہی ( خوش نصیب لوگوں ) میں سے ہو گے“ ( جنہیں جنت کے سبھی دروازوں سے جنت میں داخل ہونے کے لیے بلایا جائے گا ) ۔
اخبرنا عمرو بن عثمان، قال حدثنا بقية، عن الاوزاعي، قال حدثني يحيى، عن محمد بن ابراهيم، قال انبانا ابو سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من انفق زوجين في سبيل الله دعته خزنة الجنة من ابواب الجنة يا فلان هلم فادخل " . فقال ابو بكر يا رسول الله ذاك الذي لا توى عليه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لارجو ان تكون منهم